شام کے شہر حلب میں ہونے والے خودکش حملے میں سرکاری فوج اور صدر بشار الاسد کی حامی ملیشیا کے کم از کم 25 ارکان ہلاک ہوگئے ہیں۔


پیر کو ہونے والے اس حملے میں القاعدہ سے منسلک تنظیم النصرہ فرنٹ کے ایک خودکش بمبار نے حکومتی زیرِ اثر علاقے میں واقع ایک فوجی چیک پوسٹ کو نشانہ بنایا۔


شام میں انسانی حقوق پر نظر رکھنے والی تنظیم سیریئن آبزرویٹری فار ہیومن رائٹس کے ڈائریکٹر رمی عبدالرحمان نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ حملہ آور ایک گاڑی میں سوار تھا اور اس نے الزہرہ کے علاقے میں ایک ایسے یتیم خانے کی عمارت کے سامنے دھماکہ کیا جسے حکومتی افواج اڈے کے طور پر استعمال کرتی ہیں۔


اس گروپ کے مطابق ِخودکش حملے کے بعد باغیوں اور سرکاری افواج میں شدید جھڑپیں بھی ہوئی ہیں جن میں درجنوں افراد زخمی ہوئے ہیں۔


النصرہ ان 13 اسلام پسند تنظیموں سے میں سے ایک ہے جنھوں نے جمعرات کو ایک مشترکہ حملے میں حلب کے شمالی حصے پر قبضہ کیا ہے۔


اس وقت حلب شہر کے مغربی علاقے پر شام کی حکومتی افواج کا کنٹرول ہے جبکہ مشرقی علاقے باغیوں کے زیرِ اثر ہیں۔


باغیوں نے گذشتہ ہفتے مغربی علاقوں پر قبضہ کرنے کے لیے کارروائی شروع کی تھی جس کے جواب میں شامی افواج کی جانب سے شدید بمباری کی گئی تھی۔


خیال رہے مارچ سنہ 2011 میں شام کے صدر بشار الاسد کے خلاف بغاوت کے آغاز کے بعد سے شام کی خانہ جنگی میں اب تک دو لاکھ 30 ہزار سے زیادہ افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔
Share To:

S Farooq

Post A Comment:

0 comments so far,add yours