یورپی ملک یونان کے وزیرِ اعظم ایلکسس تسیپراس منگل کو یورپی رہنماؤں کے سامنے قرضوں کے بحران کے حوالے سے نئی تجاویز پیش کر رہے ہیں۔
اطلاعات کے مطابق ان تجاویز میں یونان کے موجود قرضوں میں سے 30 فیصد کی معافی کا مطالبہ بھی شامل ہے۔
منگل کو یونان کے بحران پر یورو زون کے رکن ممالک کا اجلاس برسلز میں منعقد ہو رہا ہے
اس اجلاس سے قبل جرمنی اور فرانس نے یونان پر زور دیا ہے کہ وہ یورو زون سے اخراج سے بچنے کے لیے سنجیدہ اور ٹھوس تجاویز دے۔
یونانی عوام نے اتوار کو منعقدہ ریفرینڈم میں عالمی قرض دہندگان کی جانب سے مزید قرض کے لیے عائد کفایت شعاری کی شرائط کو بھاری اکثریت سے رد کر دیا تھا۔
قرض دہندگان کی تجاویز مسترد کیے جانے کے بعد یورو زون کے وزرائے خزانہ نے کہا تھا کہ انھیں توقع ہے کہ اب یونان قرضے کی ادائیگی کے حوالے سے نئی تجاویز پیش کرے گا۔
یونانی وزیرِ اعظم تسیپراس ایسا معاہدہ چاہتے ہیں جس میں قرضوں کی معافی کی آپشن ہو۔
وہ اس سلسلے میں آئی ایم ایف کے اس جائزے کا حوالہ دیتے ہیں جس میں کہا گیا ہے کہ یونان کے 300 ارب یورو سے زیادہ کے قرضے کی ’ری سٹرکچرنگ‘ ضروری ہے۔
تاہم جرمنی کے نائب چانسلر اور وزیرِ معیشت سگمار گیبریئل نے متنبہ کیا ہے کہ قرضوں کی غیر مشروط معافی یورو کے لیے تباہ کن ثابت ہوگی۔
ان کا کہنا تھا کہ ’میں پرامید ہوں کہ یونانی حکومت اگر دوبارہ مذاکرات چاہتی ہے تو وہ یہ قبول کرے گی کہ یورو کے 18 رکن ممالک غیرمشروط معافی کے خیال پر عمل نہیں کر سکتیں۔‘
انھوں نے سوال کیا کہ اگر ایک ملک کو یہ موقع دیا گیا تو باقیوں کو کیسے انکار کیا جا سکے گا اور یہ فیصلہ یورو زون کو توڑ کر رکھ دے گا۔
یونانی بینکوں کی بندش جاری
ادھر یونان کے بینکوں کے پاس سرمایہ ختم ہو رہا ہے اور وہ دیوالیہ ہونے کے قریب ہیں۔
حکام نے انھیں مزید دو دن یعنی بدھ تک بند رکھنے کا اعلان کیا گیا ہے جبکہ عوام پر رقوم نکالنے کے سلسلے میں عائد پابندیاں بھی نافذ رہیں گی۔
یونان میں ایک ہفتے سے زیادہ عرصے سے بند بینکوں کو ابتدائی طور پر منگل کو بینک کھولنے کا اعلان کیا گیا تھا لیکن اب یونانی بینکنگ ایسوسی ایشن کے سربراہ لوکا کاتسیلی نے کہا ہے کہ پیر کو ہونے والی بات چیت کے بعد اس مدت میں اضافہ کر دیا گیا ہے۔
ادھر یورپی مرکزی بینک (ای سی بی) نے یونانی بینکوں کے لیے مختص ہنگامی رقم بڑھانے سے انکار کر دیا ہے اور کہا ہے کہ انھیں موجودہ 89 ارب یورو کے ہنگامی قرضوں کے لیے بھی مزید ضمانتیں فراہم کرنا ہوں گی۔
ایسا کرنے کی صورت میں یونانی بینکوں کے پاس موجود اضافی نقدی میں کمی آئے گی۔
بی بی سی کے معاشی مدیر رابرٹ پیٹسن کا کہنا ہے کہ اس فیصلے سے وہ وقت آ گیا ہے کہ جب یونان کی بینکاری کا نظام ٹھپ ہو کر رہ جائے گا۔
یورپی مرکزی بینک کے فیصلے سے قبل یونان کے وزیرِ اقتصادیات جیورجیوس ستاتھاکس نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ ای سی بی کو آئندہ سات سے دس دن تک یونانی بینکوں کو رقوم فراہم کرنی چاہییں تاکہ اس دوران بات چیت جاری رہ سکے۔
خیال رہے کہ یورپی کمیشن کے صدر ژاں کلود یُنکر نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ ’یونان کی معیشت میں بہتری کے لیے سخت شرائط اور اصلاحات ناگزیر ہیں۔ اب ہم یونانی حکام کی جانب سے پہل کے منتظر ہیں۔‘
ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ یونانی حکومت کو اپنے عوام کو ممکنہ نتائج سے آگاہ کرنے کے لیے ’ذمہ داری اور ایمان داری‘ کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔
جرمنی کی چانسلر انگیلا میرکل کے ترجمان کا کہنا ہے کہ فی الوقت کسی نئے بیل آؤٹ پیکیج پر بات کرنے کا کوئی ’جواز‘ نہیں بنتا اور اس بارے میں فیصلہ یونان کو کرنا ہے۔
جرمن چانسلر کے ترجمان نے کہا کہ ’یہ اب یونان پر منحصر ہے کہ وہ کیا کرتا ہے۔ ہم انتظار کر رہے ہیں کہ یونانی حکومت اپنی یورپی ساتھیوں کے سامنے کیا تجاویز پیش کرتی ہیں۔‘
یونان گذشتہ ہفتے آئی ایم ایف سے لیے گئے قرض کی ایک ارب 60 کروڑ ڈالر کی قسط ادا کرنے میں ناکام رہا تھا جبکہ یورپی سینٹرل بینک کی ہنگامی فنڈنگ بند ہونے کے بعد زیادہ تر یونانی بینک گذشتہ پیر کو بند کر دیے گئے تھے۔
اس کے علاوہ کیش مشینوں سے ایک دن میں صرف 60 یورو تک ہی نکالے جا سکتے ہیں، البتہ پینشنر 120 یورو تک نکال سکتے ہیں۔


Post A Comment:
0 comments so far,add yours