ڈیڑھ برس قبل قومی اسمبلی میں پیش کیےگئے ہندو میرج بل کو صوبائی حکومتوں کی عدم دلچسپی کے باعث ابھی تک منظور نہیں کیاجا سکا ہے۔

پیر کو قومی اسمبلی کی کمیٹی برائے قانون و انصاف کا اس سلسلے میں اجلاس ہوا، جس میں بلوچستان اور خیبر پختونخوا نے اس ماہ کے آخر میں ہندوؤں کی شادیوں کے اندراج کے لیے اپنی اپنی اسمبلیوں میں قرارداد منظور کرنے کا وعدہ کیا ہے۔ تاہم، حتمی فیصلہ مؤخر کیا گیا ہے۔ اس سلسلے میں کمیٹی کا آئندہ اجلاس 13 جولائی کو ہو گا۔

ہندو برادری کا کئی دہائیوں سے مطالبہ ہے کہ پاکستان میں ہندوؤں کی شادیوں اور طلاق کے اندراج کا نظام قائم کیا جائے۔

پاکستان میں ہندووں کی شادیوں کو قانونی طور پر تسلیم نہیں کیا جاتا جس کی وجہ سے ہندو برادری کو نہ صرف جبری شادیوں اور مذہب تبدیل کرنے کے مسائل کا سامنا ہے بلکہ طلاق اور قومی شناختی کارڈ کے حصول میں بھی مشکلات درپیش ہیں۔

اسی وجہ سے گذشتہ برس قومی اسمبلی میں اقلیتی برادری سے تعلق رکھنے والے دو رکنِ پارلمیان نے نجی طور پر پارلیمان میں ہندو میرج بل کے نام سے ایک مسودۂ قانون متعارف کرایا تھا۔ اس بل کے بعد، حکومت کی جانب سے بھی اس سال مارچ میں ہندوؤں کی شادیوں کے لیے ایک اور بل پیش کیا گیا۔

پاکستان مسلم لیگ نون کے رکن چوھدری محمد بشیر ورک کی سربراہی میں پیر کو قومی اسمبلی کی کمیٹی برائے قانون و انصاف نے دونوں بلوں پر غور کے لیے اجلاس منعقد کیا۔ تاہم، صوبائی حکومتوں کی عدم دلچسپی کے باعث اس پر 13 جولائی کو مزید بات چیت ہو گی۔

پاکستان مسلم لیگ نون کے رکنِ پارلیمان ڈاکٹر رمیش وانکوانی ان رکنِ پارلیمان میں سے ایک ہیں جنہوں نے ہندو میرچ بل کو گذشتہ برس قومی اسمبلی میں پیش کیا تھا اور وہ قائمہ کمٹی کے اجلاس میں آج موجود تھے۔ ان کا کہنا ہے کہ اجلاس میں پیش رفت نہیں ہوئی۔

انھوں نے بتایا کہ اسلامی نظریاتی کونسل کے سربراہ مولانا شیرانی بھی قائمہ کمٹی کے رکن ہیں اور انھوں نے آج کے اجلاس میں ایسی بات کی جس سے رویوں کی نشاندہی کی جا سکتی ہے۔

’مولانا شیرانی صاحب نے کہا کہ اگر ہندو میاں بیوی میں جھگڑا ہو جائے اور ان کا ایک بچہ یا بچی مسلمان ہو جائے تو وہاں پر شادی ختم ہو جاتی ہے۔ میں نے ان کو جواب دیا کہ جب ایک بچی کی شادی ہو جائے تو اس کی دوبارہ شادی کیسے ہو سکتی ہے؟‘ اس سال اپریل میں سپریم کورٹ نے حکم دیا تھا کہ پاکستان کے آئین کے آرٹیکل 144 کے تحت ہندوؤں کی شادی کے لیے ایک قومی قانون کے لیے ضروری ہے کہ چاروں صوبوں کی اسمبلیوں میں اس سلسلے میں قراردادیں منظور ہوں۔ اٹھارویں ترمیم کے بعد ہندوؤں کی شادی کے معاملے کا اختیار صوبوں کے پاس ہے، اور ہندوؤں کے شادیوں کے اندراج کے لیے ایک قومی ادارہ قائم کرنے لیے صوبائی اسمبلیوں کو عمل میں شامل کرنا ہو گا۔

ڈاکٹر رمیش نے مزید کہا کہ ’صرف بلوچستان اور خیبر پختونخوا نے مہینے کے آخر تک منظور کرنے کا وعدہ کیا۔ سندھ نہ خود کرتا ہے اور نہ ہی کرنے دیتا ہے۔‘

پاکستان کے قائم ہونے کے اڑسٹھ برسوں میں ہندوؤں کی شادی اور طلاق کا طریقہ کار وضح نہیں ہے، جس کی وجہ سے ہندو برادری کو کئی مسائل کا سامنا ہے، جیسے کہ جبری شادیاں، مذہب کی تبدیلی، شوہر کے نام کا قومی شناختی کارڈ، طلاق، اور وراثت کےمسائل۔
Share To:

S Farooq

Post A Comment:

0 comments so far,add yours