Articles by "امریکہ"
‏امریکہ لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
واشنگٹن: امریکی سی آئی اے کی رپورٹ نے پاکستان کے خلاف بھارتی عزائم کا بھانڈا پھوڑدیا ہے جس کے مطابق بھارتی وزیراعظم اندراگاندھی پاکستان کو ایٹمی طاقت بننے سے روکنے کے لیے اس کے ایٹمی مراکز پر حملے کا منصوبہ رکھتی تھیں۔

امریکی سی آئی اے کی جانب سے 8 ستمبر 1981 کو جاری خفیہ دستاویز کے مطابق جب امریکا پاکستان کو ایف 16 طیارے دینے پر حتمی غور کررہا تھا عین اسی وقت اندرا گاندھی پاکستانی ایٹمی مراکز کو نشانہ بنانے پر غور کررہی تھیں۔

سی آئی اے کی 12 صفحات پر مبنی یہ رپورٹ رواں سال جون کو سی آئی اے ویب سائٹ پر جاری کی گئی تھی جس میں تحریر ہے کہ اندرا گاندھی کو یقین تھا کہ اسلام آباد ایٹمی ہتھیاروں کی تیاری کے قریب پہنچ چکا ہے اور بموں کے لیے پلوٹونیم بنارہا ہے اور اسی بنیاد پر انہوں نے بھارتی ایٹمی تجربات کی تیاری بھی شروع کرائی تھی جس کے لیے فروری 1981 میں راجستھان میں بڑے پیمانے پر انتظامات اور نقل مکانی شروع ہوئی تھی اور 40 کلوٹن کا ایٹم بم کا تجربہ تیار تھا۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اس دوران اندرا گاندھی کا خیال تھا کہ پاکستان اگر اگلے 2 سے 3 ماہ میں ایٹمی طاقت بننے کے قریب تر پہنچتا ہے تو اس پر فوجی حملے کا فیصلہ مزید پختہ کیا جائے جس میں خصوصاً ایٹمی مراکز پر حملے شامل ہوں گے۔

بھوت پریت اور جادو ٹونے کے اسیر صرف پس ماندہ ملکوں کے عوام ہی نہیں بلکہ اس لعنت میں امریکا جیسے ترقی یافتہ ملک کے عوام بھی بکثر مبتلا ہیں۔

آسکر ایوارڈ یافتہ امریکی اداکار مورگن فری مین کی سوتیلی نواسی اپنے توہم پرست بوائے فرینڈ کے ہاتھوں نے نیویارک میں ہلاک ہو گئی۔

حکام کے حوالے سے امریکی میڈیا رپورٹس کی میں بتایا گیا ہے کہ 33 سالہ ای ڈینا ہائنز اتوار کو علی الصباح شدید زخمی حالت میں مین ہٹن سٹریٹ سے ملیں۔ انہیں بعد میں ہسپتال لے جایا گیا، جہاں ان کی موت کی تصدیق ہوئی۔

واقعے کے ایک عینی شاہد جورج ہوڈیکو کے بقول "آنجہانی ہائنز کے دوست اس پر چھرا کے وار کرتے ہوئے چلا رہا تھا کہ 'شیطان جن، تمھیں مسیح علیہ السلام کا واسطہ، تم میری دوست کا پیچھا چھوڑ کر اس میں نکل کیوں نہیں جاتے۔"

پولیس نے امریکی اخبار 'نیویارک ٹائمز' کو بتایا کہ آنجہانی کے دوست بتائے جانے والے تیس سالہ شخص کو گرفتار کر کے نفسیاتی تجزیئے کے لئے ہسپتال بھجوا دیا گیا ہے۔

'دی ٹائمز' کے مطابق اگرچہ مقتولہ کی نانی کا واقعہ سے براہ راست تعلق نہیں تاہم یہ امر اپنی جگہ حقیقت ہے کہ وہ ایک وقت فری میں کی زوجیت میں رہ چکی ہیں۔

مقتولہ ہائنز اسی سال مارچ میں جاری ہونے والی فلم '5 فلائٹس اپ' میں ریسپشینسٹ کا کردار ادا کیا، اسی فلم میں مورگن فری مین نے بھی اداکاری کے جوہر دکھائے۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹ فیس بک پر اپنی ایک پوسٹ میں فری مین نے ہائنز کی وفات کو 'خوفناک اور نامعقول' قرار دیا تھا۔

فری مین کے عوامی رابطوں کے نگران کی طرف سے جاری ہونے والے بیان کے مطابق: "دنیا آنجہانی کی فنکارانہ صلاحتیوں کے بارے میں کبھی نہیں پائے گی کہ وہ کس قدر کردار ادا کر سکتی تھی۔"

فری مین ڈھیروں فلموں اور ٹی وی شوز میں اداکاری کے باعث بین الاقوامی طور پر جانے جاتے ہیں۔ انہوں نے 2005 میں ہالی وڈ کی مشہور فلم 'ملین ڈالر بےبی' میں بہترین معاون اداکار کی کیٹگری میں آسکر ایوارڈ اپنے نام کیا تھا۔

دولت سے کھیلنے والا 'کنگ' فٹ پاتھوں پرسونے پر مجبور


لندن ۔ امریکی اسٹاک مارکیٹ میں ریکارڈ سرمایہ کرنے والے کروڑ پتی بروکر کی 'لکھ پتی سے ککھ پتی' بننے کی عبرتناک کہانی ان دنوں غیر ملکی ذرائع ابلاغ کی زینت بن رہی ہے جسے پڑھ کر کے زمانے کے الٹ پھیر کا بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔

اپنے دور کے کامیاب سرمایہ کار اور اسٹاک بروکر ولیم پرسٹن کنگ چند سال پہلے تک امریکی اسٹاک مارکیٹ میں اپنے دوست گورڈن بلفورٹ کے ساتھ کروڑوں ڈالر کے شیئر ہولڈر تھے۔ ان کی یادداشتوں پر مبنی حال ہی میں فلم The Wolf of Wall Street بنائی گئی ہے۔ اسی (80) کی دہائی میں اس زیرک سرمایہ کار اور مالدار شخصیت کا طوطی بولتا تھا۔

لیکن آج وہی ولیم پرسٹن نیویارک کی سڑکوں پر پبلک مقامات، بلند و بالا عمارتوں کے تھڑوں اور پارکوں کے بنچوں پر زندگی کے دن گذارنے پر مجبور ہے۔

ماضی میں ولیم پرسٹن کنگ نیویارک کے پوش علاقے مین ہٹن میں ایک عالی شان محل کے مالک تھے۔ بنکوں اور اسٹاک مارکیٹ میں اس کے پیسے کی ریل پیل تھی اور وہ خود BMW جیسی لگژری اور دنیا کی مہنگی کاروں میں سفر کیا کرتا تھا۔


اخبار"نیوریارک پوسٹ" نے امریکی دولت مند کے 'لکھ پتی سے ککھ پتی' بننے کی روداد بیان کی ہے اور وہیں سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کو بھی اس دلچسپ اور سبق آموز داستان کا علم ہوا۔

اخبار نے اپنی میگزین رپورٹ میں فٹ پاتھوں پر سونے والے سابق امریکی کروڑ پتی کی کچھ تصاویر بھی شائع کی ہیں۔ ان میں ایک تصویر میں انہیں سڑک کے کنارے فٹ پاتھ پر چمڑے کا ایک بیگ سرہانے رکھے اور اینٹ کا تکیہ بنائے سوئے دکھایا ہے۔ دوسری تصویر میں وہ ایک پارک کے بنچ پر عالم مدہوشی میں ہے۔

فٹ پاتھوں اور پارکوں میں ایک آوارہ شخص کی طرح سونے والے اس سابقہ دولت مند کے بارے میں امریکیوں کو کم ہی خبر ہوتی ہے کہ موصوف کون ہیں۔ کیونکہ وہ پچھلے ایک سال سے اپنے خاندان کو بھی خیرباد کہہ کر روپوشی کی زندگی اختیار کر چکا ہے۔

بہن کے پیسے چوری کرکے غائب


امریکی اخبار نے 'لکھ پتی سے ککھ پتی' بننے والے امریکی بیوپاری کے اہل خانہ سے بھی رابطے کی کوشش کی۔ اس کے دوستوں اور رشتہ داروں کے ذریعے معلوم ہوا کہ ولیم پرسٹن کنگ کا زوال اس وقت شروع ہوا جب اس نے بے دریغ پیسہ فضول خرچ کرنا شروع کیا اور ساتھ ہی قسمت کی دیوی اس پر ناراض ہوئی اور اس وہ اسٹاک مارکیٹ میں مسلسل گھاٹے کے سودے کرنے لگا۔ جب اسے پے درپے کئی مواقع پر غیر معمولی نقصان اٹھانا پڑا تو اس نے منشیات کا استعمال شروع کر دیا۔ یہاں تک کہ اس کا تمام سرمایہ ڈوب گیا اور وہ کنگال ہو گیا۔ آج وہ فٹ پاتھوں پر دن رات بسر کرنے اور لوگوں کے سامنے ایک ایک لقمے کے لیے دست سوال دراز کرنے پر مجبور ہے۔

"نیویارک پوسٹ" کے نامہ نگار نے پرسٹن کی ہمیشرہ سے رابطہ کیا، جنہوں نے بتایا کہ "ایک وقت تھا کہ میرا بھائی جو چاہتا خرید سکتا تھا لیکن آج اس کے پاس کچھ بھی نہیں بچا۔ پچھلے سال جنوری میں اس نے اپنے خاندان کی کفالت سے انکار کر دیا اور گھر سے نکل گیا۔ اس نے میری بھی کچھ رقم چوری کی اور غائب ہو گیا"۔

اس کے ہم دم دیرینہ گورڈن بلفورٹ نے پرسٹن کی اس حالت پر گہرے دکھ کا اظہار کیا ہے۔ جب اس نے اپنے دوست کی فٹ پاتھ پر سوئے ہوئے تصاویر دیکھیں تو بہت رنجیدہ ہوا اور کہا کہ اس کے خاندان کو اسے اپنے ساتھ رکھنا چاہیے۔ تاہم دوست نے اس کے ماضی کے بارے میں کوئی زیادہ تفصیلی بات نہیں کی۔ صرف اتنا کہا کہ کنگ سنہ 1980ء میں وال اسٹریٹ کا مشہور بروکر ہوا کرتا تھا۔ 52 سالہ ولیم پرسٹن کنگ کی زندگی کے نشیب و فراز بہت سوں کے لیے عبرت آموز ہیں تاہم کیا وہ دوبارہ اپنےکھوئےہوئے مقام کو پا سکے گا۔ اس کا امکان کم ہی دکھائی دیتا ہے۔