Articles by "انٹرنیشنل"
‏انٹرنیشنل لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
بھارت کو پاکستان کے خلاف جارحیت بہت مہنگی پڑی ہے

لاہور: پاک فوج نے بھارتی فوج کی اشتعال انگیزی کا کرارا جواب دے کر ایل او سی پر سرجیکل اسٹرائیک کے دعوےکی قلعی کھول دی ہے۔

بھارتی فوج نے لائن آف کنٹرول پر اپنی روایتی اشتعال انگیزی کو سرجیکل اسٹرائیک کا نام دے کر اپنے میڈیا اور عوام کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کی کوشش کی۔ بھارت نے اپنے عوام کو نہ تو دعوے کے ثبوت کے طور پر اورنہ ہی مبینہ دہشت گردوں کے ٹھکانوں کی نشاندہی کی اور نا ہی اس کارروائی میں ہلاکتوں سے متعلق کوئی آگاہی دی لیکن حقیقت یہ ہے کہ بھارت کو یہ جارحیت بہت مہنگی پڑی۔

ایکسپریس نیوز کی جانب سے حاصل فوٹیج میں صاف دیکھا جاسکتا ہے کہ بھارتی فوج کی گولہ باری اور فائرنگ کے جواب میں پاکستان نے کس طرح کرارا جواب دے کر بھارتی فوجیوں کو جہنم واصل کرنے کے ساتھ ان کی چوکیوں کو کس طرح تباہ کیا جب کہ دوسری جانب بھارت اپنی شرمندگی مٹانے کے لئے لائن آف کنٹرول کے علاقے میں سرجیکل اسٹرائیک کا دعویٰ کررہا ہے۔

نئی دلی:مشیر سابق بھارتی وزیر اعظم اٹل بہاری واجپائی اور را کے سابق سربراہ اے ایس دولت کا کہنا ہے کہ نئی دلی سرکار کے پاس مسئلہ کشمیر پر پاکستان سے بات کرنےکے علاوہ کوئی چارہ ہی نہیں اور اسے ہر صورت اسلام آباد سے مذاکرات کرنا ہی پڑیں گے۔

جرمنی کے نشریاتی ادارے کو دیئے گئےانٹرویو میں اے ایس دولت کا کہنا تھا کہ بھارتی حکومت مقبوضہ کشمیر کی صورت حال کو بہت ہی خراب طریقے سے نبردآزما ہوئی ہے، جس کی وجہ سے وہاں بہت غم و غصہ پایا جاتا ہے، اس وقت مقبوضہ وادی کی صورت حال 2008 اور 2010 سے بھی زیادہ بدتر ہے، کشمیری گزشتہ برس مارچ میں مفتی محمد سعید کے وزیر اعلیٰ بننے پر خاصے برہم تھے اور برہان وانی کی ہلاکت نے اس کو باہر نکال دیا۔

اے ایس دولت کا کہنا تھا کہ مقبوضہ کشمیر کی نوجوان نسل 1990 کی دہائی میں ہونے والی صورت حال کے سائے میں پروان چڑھی ہے، نوجوانوں کو محسوس ہوتا ہے کہ ان کا کوئی مستقبل نہیں ہے، بھارتی حکومت کی سری نگر میں بے جا مداخلت نے کشمیری عوام کے غیض و غضب کو مزید بھڑکایا اور محبوبہ مفتی کو اندازہ ہی نہیں کہ کیا کرنا چاہیے، ایسی صورت حال میں حالات مزید بگڑتے جارہے ہیں۔

’’را‘‘ کے سابق سربراہ کا کہنا تھا کہ برہان وانی کی ہلاکت کے بعد کشمیری رد عمل بے ساختہ تھا اور اس سے پاکستان کےموقف کو تقویت ملی ہے، ہمیں پاکستان سے بات چیت کرنا ہی ہوگی کیونکہ اس کے سوا کوئی چارہ نہیں، اسی لیے اٹل بہاری واجپائی کے دور میں انہوں نے نواز شریف کے ساتھ معاملات کو آگے بڑھایا تھا۔

بلوچستان میں بھارتی مداخلت پر اے ایس دولت نے کہا کہ بھارتی حکومت بلوچستان کے مسئلے کے حوالے سے جو چاہے کر سکتی ہے لیکن اس سے کشمیر کا بحران حل نہیں ہوگا، البتہ اس بات کو تقویت ملے گی کہ بھارت بلوچستان میں مداخلت کر رہا ہے۔

پیرس: پاکستانی نژاد امریکی جوڑے کو غیرملکی ایئرلائن سے اس وقت اتار دیا گیا جب انہوں نے پسینہ آنے پر’’اللہ‘‘ کہہ دیا۔

فیصل علی اور نازیہ علی ڈیلٹا ایئرلائن کے ذریعے پیرس سے امریکی ریاست اوہائیو جانے کے لئے جہاز میں بیٹھے ہی تھے کہ اس دوران پسینہ آنے کی صورت میں فیصل علی نے جیسے ہی اللہ کہا تو جہاز کا عملہ مسلم جوڑے کو مشکوک نظروں سے دیکھنے لگا جس کے بعد کریو نے پائلٹ کو سارا ماجرا بتایا جس پر پائلٹ نے جوڑے کو جہاز سے اتارنے کی ہدایت کی اور جوڑے کو جہاز سے اتار دیا گیا۔

دوسری جانب پیرس میں تفتیش کے دوران مسلمان جوڑے کو کلئیر قرار دے دیا گیا تاہم تفتیشی ٹیم نے معذرت کرتے ہوئے جوڑے کو اگلی فلائٹ سے اوہائیو کے لئے روانہ کردیا جب کہ مسلم جوڑے کے ساتھ نازیبا رویہ کے خلاف کونسل آف امریکن اسلامک ریلیشن نے ایئرلائن کے خلاف درخواست جمع کرادی جس میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ مسلم جوڑے کے ساتھ متعصبانہ رویہ اختیار کرنے پر ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کی جائے۔

لندن: برطانیہ کی رہائشی مسلمان خاتون کو دوران پرواز کتاب پڑھنے پر ایئرپورٹ پر روک لیا گیا اور طویل تفتیش کی گئی۔

27 سالہ فائزہ شاہین برطانیہ میں اسلام فوبیا کی ایک اور شکار ہوئی ہیں، وہ نیشنل ہیلتھ سروسز ( این ایچ ایس) میں ملازمت کرتی ہیں اور انہیں برطانیہ میں اعلیٰ ایوارڈ سے نوازا جاچکا ہے۔

25 جولائی کو ترکی سے واپسی پر فائزہ کو جنوبی یارکشائر کے ڈونکاسٹر ایئرپورٹ پر پولیس نے روک لیا۔ فائزہ کے مطابق ان سے ان کے کام کے بارے میں پوچھا گیا جس پر انہوں نے بتایا کہ وہ این ایچ ایس میں دماغی صحت کی سروسز سے وابستہ ہیں جہاں نوعمر بچوں کی نفسیاتی صحت اور انہیں شدت پسندی کے شکار ہونے کے عمل سے بچانے کے لیے کام کرتی ہیں اس کے علاوہ انہوں نے مزید بتایا کہ وہ شدت پسندی کے خلاف بھی کام کرتی ہیں۔

فائزہ کے مطابق 2 پولیس اہلکار ان کے پاس آئے اور انہیں ایک جانب لے جا کر ان کو پاسپورٹ دکھانے کو کہا، پولیس اہلکار سے پوچھنے پر اس نے بتایا کہ آپ کے پاس ایک کتاب تھی اور اسی لیے آپ سے دہشتگردی ایکٹ کے تحت پوچھ گچھ کی جارہی ہے۔

فائزہ کے مطابق پولیس نے ان سے 15 منٹ تک مختلف سوالات کیے جو ان کے لیے ایک تکلیف دہ تجربہ تھا۔ فائزہ نے بتایا کہ وہ دوران سفر جس کتاب کا مطالعہ کررہی تھیں اس کا نام ’’سیرا اسپیکس‘‘ ہے جو آرٹ اور کلچر کے حوالے سے ہے جب کہ کتاب میں شام سے متعلق مختصر کہانیاں، نظمیں اور تصاویر شامل ہیں۔

پیٹ پر چربی بڑھنا یا توند نکل آنا ایک ایسا مسئلہ ہے جو زندگی کو خطرے میں بھی ڈال سکتا ہے۔

یہ کوئی ایسی چیز نہیں ہے جو صرف دیکھنے میں ہی خراب معلوم ہوتی ہو بلکہ یہ آپ کی صحت کے لیے بھی خطرے کا ایک اشارہ ہے۔

پسلیوں کے آس پاس کی جلد ایک انچ سے زیادہ كھچنے لگے تو ہم اسے بیلی فیٹ یا پیٹ کی چربی کہتے ہیں جو جلد کے نیچے ہی ہوتی ہے۔

یہ ہمارے اندرونی اعضا، جگر اور آنتوں کے آس پاس بھی جمع ہو جاتی ہے۔

پیٹ کے اہم اندرونی اعضا کے آس پاس جمع ہونے والی چربی صحت پر اثر انداز ہوتی ہے۔

جلد کی چربی کے مقابلے میں آنت پر چربی زیادہ تیزی سے بنتی ہے اور اسی رفتار سے کم بھی ہوتی ہے۔ جب وزن بڑھتا ہے تو یہاں سب سے پہلے چربی جمع ہوتی ہے اور وزن کم ہونے کے ساتھ اسی میں سب سے پہلے کمی بھی آتی ہے۔

لیکن صحت کے لیے یہ سب سے زیادہ خطرناک تصور کی جاتی ہے تاہم اچھی خبر یہ ہے کہ اس کو کم کرنا بھی بہت مشکل نہیں ہے۔

صحت سے متعلق ویب سائٹس اور ٹی وی اشتہارات میں چربی کم کرنے کے بہت آسان حل بتائے جاتے ہیں لیکن سوال یہ ہے کہ یہ کتنے درست ہیں؟

اس کا جواب تلاش کرنے کے لیے ’ٹرسٹ می آئی ایم اے ڈاکٹر‘ کی ایک ٹیم نے کچھ تجربات کیے ہیں۔

ٹیم نے 35 ایسے رضاکاروں کے چار گروپ بنائے، جن کو اتنا موٹاپا تھا اور انہیں ٹائپ 3 ذیابیطس اور دل کی بیماریوں کا خطرہ تھا۔

آکسفورڈ یونیورسٹی کے میٹروبولك میڈیسنز کے پروفیسر فریڈرک كارپے اور باتھ یونیورسٹی کے پروفیسر ڈیلن کے تھامپسن نے دو دو گروپوں پر دو مختلف تجربات کیے۔

تھامپسن نے دو طرح کی ورزش کرنے طریقے اپنائے جبکہ پروفیسر كارپے نے دو گروپوں کو دو مختلف طرح کی خوراک لینے کا مشورہ دیا۔

تھامسن نے پہلے گروپ کے لوگوں کو معمول کی خوراک لینے کو کہا اور انھیں روزانہ سرگرمی درج کرنے کے لیے مانیٹر دیے گئے۔ انہیں زیادہ چلنے اور صحت مند سرگرمیاں بڑھانے کے لیے کچھ تجاویز بھی دی گئیں۔

جبکہ دوسرے گروپ کو صحت سے متعلق ویب سائٹس کے طریقے آزمانے کو کہا گیا۔

پروفیسر كارپے کی نگرانی میں تیسرے گروپ کو چربی کم کرنے کا ایک اور مقبول نسخہ، ایک دن میں تین گلاس دودھ پینے کو کہا گیا۔ ایسی تحقیقات سامنے آتی رہی ہیں کہ دودھ سے بنی چیزیں چربی کم کرتی ہیں۔

جبکہ چوتھے گروپ کی خوراک پر زیادہ توجہ دی گئی۔ ان سے صرف اتنا کہا گیا کہ وہ کھانے کی مقدار کا خیال رکھیں۔ انھیں کھانے کے درمیان میں نمکین نہ کھانے کو کہا گیا۔ انہیں بھوک کے مارے اٹھنے والے درد سے نمٹنے کے طریقے بھی بتائے گئے۔

چھ ہفتے کے بعد تمام شرکا کی صحت کی دوبارہ جانچ کی گئی۔

پہلے گروپ میں پایا گیا کہ چربی تو کم نہیں ہوئی لیکن صحت میں کافی بہتری آئی ہے۔ دوسرے گروپ میں چربی تو کم ہوئی اور کمر بھی 2 سینٹی میٹر کم ہوئی لیکن صحت اور وزن میں کوئی خاص بہتری نہیں دیکھی گئی۔

دودھ پینے والے تیسرے گروپ کی صحت میں کوئی تبدیلی نہیں آئی حالانکہ انہیں 400 کیلوری اضافی لینے کو کہا گیا تھا لیکن پھر بھی ان کا وزن نہیں بڑھا۔

سب سے زیادہ بہتری کنٹرول خوراک لینے والے چوتھے گروپ میں دیکھی گئی۔ اس میں اوسطا فی شخص کا 3.7 کلو وزن کم ہوا اور کمر اوسطا 5 سینٹی میٹر کم ہوئی۔ جسم کی چربی میں 5 فیصد کی کمی آئی جبکہ اندرونی اعضا کی چربی میں 14 فیصد کی کمی آئی۔

تو آخر میں نتیجہ یہ ہے کہ اگر آپ اپنے پیٹ کی چربی کم کرنا چاہتے ہیں تو صدیوں پرانے اسی مشورے کو ماننا ہوگا یعنی خوراک اور ورزش کی مکمل تناسب۔ باقی چیزوں کو وہیں چھوڑ دیں جہاں وہ ہیں۔

انڈیا کی شمالی ریاست ہماچل پردیش میں سیاحت کے لیے آنے والی ایک اسرائیلی خاتون کو مبینہ طور پر چلتی گاڑی میں ریپ کرنے کا واقعہ پیش آیا ہے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ یہ واقعہ اتوار کو پیش آیا جب 25 سالہ سیاح منالی سے ایک قریبی قصبے کیلونگ جانا چاہتی تھیں اور غلطی سے مذکورہ کار کو ٹیکسی سمجھ کر اس میں سوار ہوگئیں۔

مقامی پولیس اہلکاروں کے مطابق کار میں چھ افراد سوار تھے جن میں سے دو نے اس خاتون سے جنسی زیادتی کی۔

پولیس سپرٹنڈنٹ پدم چند نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ اس واقعے کے بارے میں اسرائیلی سفارتخانے کو مطلع کر دیا گیا ہے اور ریپ میں ملوث افراد کی تلاش شروع کر دی گئی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ’ہم سی سی ٹی وی فوٹیج کا جائزہ لے رہے ہیں اور ملزمان کی گرفتاری کے لیے پرامید ہیں۔‘

بھارت میں غیر ملکی خواتین سیاحوں سے جنسی زیادتی کے واقعات ماضی میں بھی پیش آتے رہے ہیں۔

منالی انڈیا کا مشہور تفریحی مقام ہے جو مقامی سیاحوں اور غیرملکیوں دونوں میں بہت مقبول ہے تاہم یہاں سیاحوں کی سکیورٹی پر بھی ماضی میں سوال اٹھائے جاتے رہے ہیں۔

سنہ 2013 میں یہاں ایک امریکی خاتون سیاح کے ریپ کا واقعہ بھی پیش آیا تھا۔ اس معاملے میں ایک مقامی عدالت نے نیپال کے تین باشندوں کو 20-20 سال قید کی سزا سنائی تھی۔

انڈیا میں سنہ 2012 میں دارالحکومت دہلی میں ایک طالبہ کے چلتی بس میں ریپ کے بعد ملک بھر میں ریپ کے قوانین سخت کرنے کے بارے میں آواز اُٹھائی گئی تاہم اس کے باوجود ملک بھر میں خواتین اور بچوں کے خلاف جنسی حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔

انڈیا کی ریاست ہریانہ میں عید کی تقریبات منعقد کرنے پر ہندوؤں کی مقامی پنچایت نے ایک سکول پر لاکھوں کا جرمانہ عائد کیا اور مسلم طلبا اور اساتذہ کو سکول سے نکل جانے کا حکم دے دیا۔

معروف انگریزي اخبار ’ہندوستان ٹائمز‘ نے اپنے صفحہ اول پر یہ خبر تفصیل سے شائع کی ہے۔

اخبار کے مطابق ریاست ہریانہ کےگڑگاؤں کے تاؤرو کے علاقے میں پنچایت نے ایک سکول پر عید کی تقریب منعقد کرنے پر ساڑھے پانچ لاکھ روپے کا جرمانہ عائد کیا ہے۔

واضح رہے کہ ضلع میوات کے ایک سکول ’گرین ڈیلس‘ میں چھ جولائی کو عید کی تقریبات منائی گئی تھیں۔

اس سے علاقے کی ہندو اکثریت ناراض ہوگئی اور پھر پنچایت نےگرین ڈیلس پبلک سکول کے سامنے احتجاجی دھرنا دیا جس میں تمام مسلم طلبا اور اساتذہ کو سکول سے خارج کرنے کا مطالبہ کیا گيا۔

پنچایت نے کہا کہ طالبات کے سکرٹ پہننے پر بھی پابندی لگائی جائے اور اس کی جگہ شلوار قمیض پہننے کے قوانین بنائیں جائیں۔

سکول کی مینیجر ہیما شرما نے اخبار کو بتایا ہے کہ ’پنچایت کے مطالبے کے بعد سکول کی واحد مسلم ٹیچر ملازمت چھوڑ کر دہلی میں رہنے پر مجبور ہوئی ہیں۔‘

اطلاعات کے مطابق پنچایت کے دھرنے میں لوگ لاٹھیوں سے لیس تھے اور سب نے سکول کو گھیرے میں لے لیا تھا۔

اخبار نے اس سلسلے میں جب مقامی رکن اسمبلی سے رابطہ کیا تو ان کا کہنا تھا کہ اس علاقے میں پنچايتوں کا کوئی قانون نہیں چلتا ہے۔

پنچایت میں شامل ایک شخص نے اخبار کو بتایا کہ سکول میں ہندوؤں کو مسلم تہذبب سکھا کر یہ ان کا مذہب تبدیل کرنے کی ایک کوشش تھی اس لیے اس کے خلاف احتجاج ہوا ہے۔ جبکہ سچ یہ ہے کہ علاقے اور سکول میں مسلمانوں کی تعداد بہت کم ہے۔

سکول کی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ اس طرح کی تقریبات کے انعقاد کا مقصد تمام مذاہب کی عزت و احترام سکھانا ہے اور بعض لوگوں نے غیر ضروری طور اسے فرقہ وارانہ رنگ دینے کی کوشش کی۔

انڈیا میں یوں فرقہ وارانہ نفرتوں اور مذہبی بنیادوں پر فسادات ہوتے ہی رہے ہیں لیکن مرکز میں بھارتیہ جنتا پارٹی کی حکومت آنے کے بعد سے اس میں غیر معمولی اضافہ دیکھا گيا ہے۔
روس کے دارالحکومت ماسکو میں ایک ایسی خاتون کو گرفتار کیا گیا ہے جو ایک کٹا ہوا سر اٹھا کر جا رہی تھی۔

بتایا جا رہا ہے کہ یہ خاتون اس بچے کی آیا تھی جسے مبینہ طور پر اس نے قتل کیا اور پھر اس فلیٹ کو آگ لگا دی جہاں وہ رہتا تھا۔

سی سی ٹی وی فوٹیج کے مطابق حجاب پہنے ہوئے خاتون ایک کٹا ہوا سر ہاتھ میں اٹھائے ایک میٹرو سٹیشن کے قریب چلتے ہوئے دیکھی گئی۔

ایک پولیس آفیسر نے اسے روکا اور زمین پر گرا دیا۔

ماسکو انویسٹیگیٹو کمیٹی نے ایک بیان میں کہا ہے کہ خاتون کو نفسیاتی معائنے کے سینٹر بھیج دیا گیا ہے تاکہ یہ پتہ لگایا جا سکے کہ کیا اسے احساس ہے کہ اس نے کیا کیا ہے۔

تین سے چار سال کے بچے کی سربریدہ لاش ملنے کے بعد تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں۔

ابتدائی معلومات کے مطابق بچے کی آیا کا تعلق وسطی ایشیا سے ہے اور وہ 1977 میں پیدا ہوئی تھی۔ آیا نے پہلے بچے کے ماں باپ کے فلیٹ سے چلے جانے کا انتظار کیا اور اس کے بعد نامعلوم وجوہات کی بنا پر بچے کو قتل کر کے فلیٹ کو آگ لگا دی۔
ایران اور عالمی طاقتوں کے درمیان ہونے والے جوہری معاہدے کے بعد ایران میں ہونے والے انتخابات میں صدر روحانی کے اصلاح پسند اتحادیوں کو تہران میں بڑی کامیابی حاصل ہوئی ہے۔

جمعے کو ہونے والے پارلیمانی انتخابات کے بعد 90 فیصد ووٹوں کی گنتی مکمل ہو چکی ہے۔ابتدائی نتائج کے مطابق اصلاح پسندوں کو دارالحکومت تہران میں تمام 30 نشستوں پر کامیابی حاصل ہو ئی ہے۔

کنزرویٹو امیدوار غلام علی حدید عادل 31ویں پوزیشن پر ہیں۔

پارلیمانی انتخابات کے تحت 290 ارکان پارلیمان اور مجلسِ رہبری کے لیے علما کے انتخاب کے لیے جمعے کو لاکھوں افراد نے ووٹ ڈالے۔

مجلسِ رہبری کے 88 ارکان ایران کے رہبر اعلیٰ کا انتخاب کرتے ہیں اور امکان ہے کہ وہ آیت اللہ خامنہ ای جن کی عمر 76 سال ہو گئی ہے اور وہ بیمار بھی ہیں کے جانشین کا انتخاب بھی کر لیں گے۔

اس سے قبل ابتدائی نتائج کے مطابق صدر حسن روحانی اور سابق صدر اکبر ہاشمی رفسنجانی کو ایران کے رہبر اعلی کا انتخاب کرنے والی ماہرین کی اسمبلی میں برتری حاصل تھی۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ تہران میں پارلیمانی نتائج انتہائی اہم ہیں کیونکہ دارالحکومت میں قانون بنانے والے عام طور پر ایوان کی سیاسی سمت کا تعین کرتے ہیں۔

تاہم داراحکومت سے باہر کے علاقوں میں ایسا لگتا ہے کہ اصلاح پسندوں نے کم کامیابی حاصل کی ہے۔

عالمی طاقتوں کے ساتھ جوہری توانائی پر ہونے والے معاہدے کے بعد یہ ملک کے پہلے انتخابات ہیں۔

سامنے آنے والے نتائج سے ظاہر ہوتا ہے کہ حسن روحانی سنہ 2017 میں دوبارہ ایران کے صدر منتخب ہو سکتے ہیں۔

اس سے قبل ملک کے صدر حسن روحانی کا کہنا تھا کہ ان انتخابات کے نتائج نے حکومت کو مزید اعتبار اور اثر و رسوخ عطا کیا ہے۔

ایران کی سرکاری خبر رساں ایجنسی نے ان کے حوالے سے لکھا ہے کہ ’اب مقابلہ ختم ہو گیا ہے۔ اب ایران کی اندرونی صلاحیتوں اور مواقع کے مطابق اقتصادی ترقی میں نیا باب شروع کرنے کا وقت ہے۔ ‘

’لوگوں نے ایک بار پھر اپنی طاقت ظاہر کی ہے اور اپنی منتخب حکومت کو مزید طاقت اور اعتبار دیا ہے۔‘

اصلاح پسند اور اعتدال پسندوں کا کہنا ہے کہ وہ ملک میں سرمایہ کاری کو فروغ دینے پر توجہ دے رہے ہیں جس سے روزگار بڑھنے کے امکانات پیدا ہوں گے۔

لیکن قدامت پسند خیالات کے حامیوں کا کہنا ہے کہ معاشی ترقی اندرونی طور پر پیداوار بڑھانے سے ہوگی۔
امریکی ریاست ورجینیا میں ایک خاتون پولیس اہلکار کو ملازمت کے پہلے دن ہی گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا ہے۔

ایشلے گوئنڈن نامی خاتون پولیس اہلکار کو اس وقت گولی ماری گئی جب وہ امریکی ریاست ورجینیا میں ووڈ برج نامی علاقے میں ایک مقامی تنازع کی اطلاعات ملنے پر وہاں پہنچیں۔

ان کے علاوہ دو دیگر پولیس اہلکار زخمی بھی ہوئے جو اس وقت ہسپتال میں ہیں۔ ان کی حالت کے بارے میں ابھی تک کوئی تفصیلات موصول نہیں ہوئی ہیں۔

مشتبہ شخص جو کے فوج کے سروس مین ہیں کو کوئی نقصان نہیں ہوا اور وہ اس وقت پولیس کی حراست میں ہیں۔

پولیس حکام نے خبر رساں ادارے اے پی کو بتایا کہ مشتبہ شخص نے پہلے اپنی اہلیہ کو قتل کیا اور پھر پولیس کے وہاں پہنچنے پر اہلکاروں پر فارئرنگ کر دی۔

ان کے مطابق جس وقت یہ واقعہ پیش آیا اس وقت گھر میں ایک بچہ بھی موجود تھا۔

ایشلے گوئنڈن کے محکمے کی جانب سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ’ہمیں انتہائی افسوس کے ساتھ یہ کہنا پڑ رہا ہے کہ پرنس ولیم کاؤنٹی پولیس کی خاتون اہلکار ایشلے گوئنڈن جو کہ آج شام فائرنگ کے واقعے میں زخمی ہونے کے بعد دم توڑ گئی ہیں۔‘

اس سے قبل پرنس ولیم کاؤنٹی پولیس نے گوئنڈن کے پولیس میں شامل ہونے کی تصویر ٹوئٹر ہر شائع کی تھی۔ اس موقع پر ان کی اور ان کے ساتھ بھرتی ہونے والے نئے ساتھیوں کی حفاظت پر زور دیا گیا تھا۔
ازمیر، ترکی: ملک سے وفاداری کی ایک عجیب اور نئی مثال قائم کرتے ہوئے ترکی کے شوہر نے ملک کے صدر کی توہین کرنے پر اپنی ہی اہلیہ کے خلاف مقدمہ درج کرادیا۔

ترکی کے رہائشی ٹرک ڈرائیورعلی دنکے نے بتایا کہ جب بھی ٹی وی پر صدر طیب اوردوان کی تصویر نمودار ہوتی تو ان کی اہلیہ گوئلکن انہین برا بھلا کہنا شروع کردیتی جب کہ ان کی اہلیہ جانتی تھی کہ وہ صدر سے عقیدت رکھتے ہیں اور ان کی برائی سے انہیں غصہ آتا ہے لیکن اس کے باوجود انہوں نے زبان بند نہ کی۔

مقدمے سے چند روز قبل علی کی بیگم نے ٹی وی پر تقریر کرنے والے صدر اردوان کا دوبارہ مذاق اڑایا اور چینل بدلنے کی کوشش کی جس پر علی کو شدید طیش آگیا۔ اس کے بعد جب اگلی دفعہ اس کی اہلیہ نے ترک صدر کو گالیاں دیں تو شوہر نے اسےریکارڈ کرکے عدالت میں اس کی شکایت کردی۔

شوہر نے عدالت میں کہا کہ اگر اس کے والد بھی ترک صدر کے خلاف ہوتے تووہ اسے بھی معاف نہیں کرتے اور اس کی شکایت ضرور کرتے۔ انہوں نے کہا کہ وہ اپنی اہلیہ سے محبت کرتے ہیں اور اپنی بے عزتی بھی برداشت کرسکتے ہیں لیکن اپنے صدر کی توہین برداشت نہیں کیونکہ ان کے صدر اچھے آدمی ہیں جنہوں نے ترکی کے لیے بہت اچھے کام کیے جب کہ شوہر کی جانب سے مقدمے پر اس کے جواب میں اہلیہ نے طلاق کی درخواست دائر کردی۔
افغان خاتون رضا گل جس کے شوہر نے گزشتہ ماہ اس کا ناک کاٹ دیا تھا، ترکی میں آپریشن کے بعد صحت یاب ہو رہی ہے۔ اس واقعے کے بعد افغانستان میں گھریلو تشدد نے عالمی سطح پر توجہ حاصل کی تھی۔

بیس سالہ رضا گل اور اس کا شوہر شمالی صوبہ فریاب کے ضلع غورماچ میں رہتے تھے۔

رضا گل نے نامہ نگاروں کو بتایا کہ اس کی کم عمری میں زبردستی شادی ہوئی اور اسے چھ سال تک گھریلو تشدد کا سامنا کرنا پڑا۔

’’وہ سارا دن مجھے مارتا تھا۔ کوئی مجھے نہیں بچاتا تھا۔‘‘

جنوری میں رضا گل کی اس کے شوہر سے اس وقت لڑائی ہوئی جب شوہر نے یہ اعلان کیا کہ اس نے اپنے ایک چچا کی سات سالہ بیٹی سے منگنی کر لی ہے۔

رضا گل کا کہنا ہے کہ وہ اپنی چھوٹی بچی کے ساتھ رات کو گھر چھوڑ کر اپنے والد کے ہاں چلی گئی۔

رضا گل بادلنخواستہ اس وقت شوہر کے گھر واپس جانے پر راضی ہو گئی جب اس کے سسرال نے اس کے اہل خانہ اور گاؤں کے بڑوں سے رابطہ کیا اور ان سے ثالثی کا کہا۔ جب وہ اپنے گھر واپس جارہی تھی تو اس کے شوہر نے اس کا ناک کاٹ دیا۔

رضا گل کے بقول اس کے شوہر نے چھری ہاتھ میں لے کر اس سے پوچھا کہ ’’میں تمہیں قتل کروں یا تمہارا ناک کاٹوں؟‘‘

رضا گل نے جواب دیا کہ ’’میرا ناک کاٹنے کی بجائے مجھے قتل کر دو۔‘‘

مبینہ طور پر اس کے شوہر نے اسے گولی مارنے کی کوشش کی مگر اس کا پستول نہیں چلا جس کے بعد اس نے رضا گل کا ناک کاٹ دیا۔

اس واقعے کے بعد، رضا گل کو غورماچ میں مقامی صحت کے مرکز لے جایا گیا اور بعد میں فریاب کے پبلک اسپتال میں داخل کرا دیا گیا جہاں ڈاکٹروں کا کہنا تھا کہ زیادہ خون بہنے سے اس کی حالت بہت نازک ہے۔ بعد میں اسے کابل کے اسپتال لے جایا گیا جہاں سے علاج کے لیے ترکی بھیج دیا گیا۔

رضا کا کہنا تھا کہ وہ ترکی میں اپنے علاج سے مطمئین ہے جہاں اس کے کئی آپریشن ہوئے۔

اس نے اپنے شوہر سے صلح کے امکان کو مسترد کر دیا ہے اور اس کا شوہر اب بھی مفرور ہے۔

رضا نے تمام افغان عوام سے کہا ہے کہ وہ اس کی صحت کے لیے دعا کریں۔

اسے امید ہے کہ وہ اپنی بیٹی کی اچھی پرورش کرے گی اور دوبارہ شادی کر سکے گی۔
افغانستان کے ایک لڑکے کو آن لائن پر لفافے کی بنی ہوئی ارجنٹائن کے فٹبالر لیونل میسی کی مشہور نمبر 10 شرٹ پہننے کے بعد بالاآخر میسی کی اصل شرٹ ملی ہی گئی۔

افغانستان کے مرتضیٰ احمدی کو یہ شرٹ لیونل میسی نے خود بھیجی ہے۔

بی بی سی ٹرینڈنگ نے پانچ سالہ مرتضیٰ احمدی جسے ’میسی کا سب سے بڑا مداح‘ بھی کہا جاتا ہے کو ڈھونڈنے میں مدد کی۔

مرتضیٰ احمدی کا تعلق افغانستان کے صوبے غزنی کے مشرقی ضلع جگہوری سے ہے۔

ارجنٹائن کے معروف فٹبالر میسی کی مینیجمنٹ ٹیم نے جمعرات کو اس بات کی تصدیق کی ہے کہ میسی نے سائن کی ہوئی شرٹ مرتضیٰ احمدی کو بھیجی ہے۔

افغانستان سے تعلق رکھنے والے مرتضیٰ احمدی کا اس بارے میں کہنا ہے ’میں میسی کو پیار کرتا ہوں اور میری شرٹ کہتی ہے کہ میسی مجھ سے پیار کرتے ہیں۔‘

مرتضیٰ احمدی کو آن لائن کے ذریعے ڈھونڈنے کی کوشش اس وقت وائرل ہو گئی جب انھوں نے پلاسٹک کی بنی نیلے رنگ کی میسی کی شرٹ نمبر 10 پہنی تھی۔

اس شرٹ کو پہننے والے لڑکے کے بارے میں ابتدائی طور پر کہا گیا تھا کہ وہ ایک عراقی کرد ہیں اور جب انٹرنیٹ پر ان کی تصویر وائرل ہوئی تو لیونل میسی نے انھیں ڈھونڈنے اور اپنے نوجوان مداح کو اپنی اصلی شرٹ دینے کی خواہش کا اظہار کیا۔

مرتضیٰ احمدی کو آسٹریلیا میں مقیم ان کے چچا عظیم احمدی نے پہچانا جس کے بعد بی بی سی ٹرینڈنگ نے مرتضیٰ احمدی کے بھائی عارف سے رابطہ کیا۔

غزنی کے رہائشی مرتضیٰ احمدی کے والد ایک کسان ہیں اور انھوں نے اس بات کی تصدیق کی کہ میسی کی شرٹ پہن کر دنیا کی توجہ حاصل کرنے والے ان کے بیٹے مرتضیٰ احمدی ہیں۔

مرتضیٰ کے والد کا اس بارے میں کہنا ہے کہ میسی کی اصل شرٹ حاصل کرنے کے بعد ان کے بیٹے ’بہت زیادہ خوش ہیں۔‘

خیال رہے کہ لیونل میسی اقوامِ متحدہ کے ادارے برائے اطفال کے ایمرجنسی فنڈ کے خیر سگالی وزیر ہیں اور اس ادارے نے فیس بک کے صفحے پر مرتضیٰ احمدی کی شرٹ پوسٹ کی تھی۔
کھٹمنڈو: نیپال میں نجی کمپنی کا چھوٹا مسافر بردار طیارہ گر کر تباہ ہو گیا جس کے نتیجے میں جہاز میں سوار 21 ہلاک ہو گئے۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق تارا ایئر لائنز کا چھوٹا مسافر بردار طیارہ 21 مسافروں کے ہمراہ نیپال کے دارالحکومت کھٹمنڈو کے مغرب میں واقع سیاحتی مقام پوکھرا سے جومسوم کی جانب سفر کر رہا تھا کہ لینڈ کرنے سے قبل ہمالیہ کے بلند و بالا پہاڑی علاقے میں پہنچنے پر طیارے کا رابطہ کنٹرول ٹاور سے منقطع ہو گیا۔

نیپالی حکام کا کہنا ہے کہ لاپتہ طیارے کی تلاش کے دوران طیارے کا ملبہ ملا ہے جس کے بعد خدشہ ہے کہ طیارے میں سوار تمام مسافر ہلاک ہو گئے ہیں۔ طیارے میں 2 غیرملکی باشندے اور بچے بھی سوار تھے۔

واضح رہے کہ نیپال طیاروں کے حادثات کے حوالے سے سر فہرست ہے، نیپال میں پہلی بار 1949 میں طیارے نے لینڈ کیا تھا اور اس کے بعد سے اب تک وہاں 70 حادثات ہو چکے ہیں جن میں 700 سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔
ہریانہ کے ڈائرکٹر جنرل آف پولیس وائی پی سنگھ نے کہا کہ ریاست میں جاری تشدد میں کم از کم دس افراد ہلاک جب تقریبا ڈیڑھ سو زخمی ہوئے ہیں۔ کشیدگی کے باعث آٹھ شہروں میں کرفیو نافذ کر دیا گیا ہے۔

خبر رساں ادارے اے این آئی کے مطابق انھوں نے بتایا کہ حالات قدرے بہتر ہوئے ہیں۔ 191 افراد کے خلاف مقدمہ درج کیا گيا ہے جبکہ تقریبا 45 افراد کو گرفتار کیا گيا ہے۔


انھوں نے کہا ’ہماری ترجیحات میں آج دہلی کے لیے پانی کی سپلائی جاری کرنا ہے۔‘

دوسری جانب دہلی کے وزیر اعلی اروند کیجریوال نے کہا ہے کہ دہلی میں پینے کا پانی تقریبا ختم ہو گیا ہے کیونکہ مظاہرین نے مونک نامی نہر کو بند کر دیا ہے جہاں سے دہلی کو پینے کا پانی سپلائی ہوتاہے۔

انھوں نے کہا ’ہریانہ کی تحریک کی وجہ سے دہلی کو پانی نہیں مل رہا ہے۔ اس کی وجہ سے ٹریٹمنٹ پلانٹ میں بھی پانی تقریبا ختم ہو گیا ہے۔‘

اسی سبب پیر کو دہلی کے تمام سکول کے بند رہنے کا اعلان کیا گيا ہے۔


بھارتی ریاست ہریانہ میں یہ تشدد جاٹ برادری کی ریزرویشن تحریک سے شروع ہوا۔

ہریانہ کے ریاستی دارالحکومت چنڈی گڑھ میں موجود مقامی صحافی سنجے شرما نے ایڈیشنل چیف سیکریٹری پی کے داس کے حوالے سے بتایا ہے کہ جھجّر میں فوج اور مظاہرین کے درمیان ہونے والے تصادم میں سات افراد مارے گئے ہیں جبکہ کیتھل ضلعے میں دو گروہوں کے درمیان ہونے والے جھگڑے میں ایک شخص ہلاک ہو گیا ہے۔

اس سے قبل ایک شخص جمعے کو روہتک میں پولیس فائرنگ میں ہلاک ہو گیا تھا۔

ہریانہ میں موجود بی بی سی کےنامہ نگار سلمان روی نےبتایا کہ احتجاج کرنے والے جاٹوں نےساری ریاست کی ناکہ بندی کر رکھی ہے اور ریاست کو دوسرے ملک سے ملانے والی شاہراہوں اور ریلوے لائنوں کو بند کر دیا گیا ہے۔

تشدد سے متاثرہ علاقوں میں سنیچر کو کرفیو کے باوجود مظاہرین سڑکوں پر آ گئے جبکہ روہتک اور جند میں مظاہرین نے پولیس کی گاڑیوں، سرکاری، نجی املاک اور بسوں کو نذرِآتش کر دیا۔

بھارت کی سرکاری خبر رساں ایجنسی پی ٹی آئی نے حکام کے حوالے سے بتایا ہے کہ جھجھر میں جاٹ برادری کے مظاہروں کے دوران فائرنگ اور املاک کو آگ لگانے کی کوشش کو روکنے کے لیے مسلح افواج کی فائرنگ سے پانچ افراد ہلاک ہو گئے۔

جمعے کو روہتک میں نسلی فسادات کے بعد شہر میں کرفیو نافذ کر دیا گیا تھا جبکہ سنیچر کو کرفیو آٹھ شہروں تک بڑھا دیا گیا۔

روہتک میں فوجیوں کو ہیلی کاپٹروں کے ذریعے اتارا گیا ہے جبکہ متاثرہ علاقوں میں فوج کا فلیگ مارچ جاری ہے۔

ریاست میں پولیس کے سربراہ وائی پی سنگھل کا کہنا ہے کہ امن و قانون قائم رکھنا پولیس کی پہلی ترجیح ہے۔

جمعرات کو جاٹ برادری کی جانب سے ملازمت اور تعلیم کے شعبوں میں ریزرویشن کے مطالبات کے لیے ریلی نکالی تھی جس کے بعد صورت حال پر تشدد ہوگئی تھی۔

جاٹ برادری سرکاری ملازمتوں میں کوٹے کا مطالبہ کر رہی ہے جبکہ دیگر نسلی گروہ اس کی مخالفت کرتے ہیں۔

پولیس نے موبائل انٹرنیٹ سروسز بھی معطل کر دی ہیں اور چار سے زائد افراد کے اکٹھا ہونے پر پابندی عائد ہے۔

ریاست کے پولیس سربراہ نے لوگوں سے اپیل کی ہے کہ وہ اپنے بچوں کو اس تحریک میں حصہ لینے کے لیے نہ بھیجیں۔ انھوں نے کھاپ پنچایتوں سے بھی فی الحال میٹنگ سے باز رہنے کی اپیل کی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ تشدد میں ملوث افراد کی شناخت کے بعد ان کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔

ادھر مرکزی وزیر سنجیو کمار بالیان نے لوگوں سے امن برقرار رکھنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا ہے کہ ریاستی حکومت اس معاملے کو حل کرنے کی ہر ممکن کوشش کر رہی ہے۔

ریاست کے وزیراعلیٰ منوہر لال کٹر نے جمعرات کی شب حالات کا جائزہ لینے کے لیے ہنگامی اجلاس بلایا تھا۔

مرکزی حکومت نے بھی ریاستی حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ جاٹ برادری سے مذاکرات شروع کرے۔

فی الحال جاٹ برادری کو اعلیٰ ذات کی حیثیت حاصل ہے تاہم وہ دیگر نچلی ذاتوں کے لیے متعین کردہ حیثیت کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

جاٹ برادری کے رہنماؤں کا کہنا ہے کہ نچلی ذاتوں کے لیے مختص کوٹے کی وجہ سے ان کی برادری کو تعلیمی اداروں اور سرکاری ملازمتوں کے حصول میں ناانصافی ہوتی ہے۔
بھارت میں ایک پانچ مہینے قبل قائم ہونے والی کمپنی کا دعویٰ ہے کہ وہ بدھ کو ایک ایسا سمارٹ فون متعارف کروا رہی ہے جس کی قیمت صرف 251 روپے ہوگی۔

اگر یہ فون واقعی مارکیٹ میں آتا ہے تو ممکنہ طور پر دنیا کا سب سے سستا سمارٹ فون ہوگا۔

کمپنی کا نام رنگنگ بیلز پرائیویٹ لمیٹڈ ہے اور اس نے بدھ کو ملک کے کئی بڑے اخبارات میں اشتہارات شائع کیے ہیں جن میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ افتتاحی تقریب میں وزیر دفاع منوہر پاریکر اور بی جے پی کے سینئر لیڈر مرلی منوہر جوشی بھی شرکت کریں گے۔

ابھی یہ واضح نہیں ہے کہ کمپنی اتنی کم قیمت میں سمارٹ فون کیسے بیچے گی، یہ فون کہاں بن رہے اور کمپنی کا بزنس ماڈل کیا ہے۔

لیکن اس کے اشتہار میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ یہ فون جددید ترین ٹیکنالوجی سے آراستہ ہوں گے اور ایک سال کی وارنٹی کے ساتھ بیچے جائیں گے۔

کمپنی کے مطابق اس سمارٹ کو ’فریڈم 251‘ کا نام دیا گیا ہے اور اس میں چار انچ کی سکرین ہوگی، اینڈرائڈ کا لالی پاپ آپریٹنگ سسٹم ہوگا، دو سم کارڈ استعمال کیے جاسکیں گے اور یہ فون 3جی نیٹورک پر بھی چلے گا۔

بھارتی حکومت بڑی شدت سے ’میک ان انڈیا‘ پروگرام کو فروغ دے رہی ہے جس کے تحت وہ ملک میں صنعتی پیداوار کو فروغ دینا چاہتی ہے لیکن ابھی یہ واضح نہیں ہے کہ اس پروگرام سے رنگنگ بیلز کا کوئی تعلق ہے یا نہیں۔

کمپنی کے مطابق بکنگ جمعرات کو صبح چھ بجے شروع ہوگی اور فون صرف کمپنی کی ویب سائٹ سے آن لائن ہی بیچے جائیں گے۔

اس دعویٰ کے سامنے آنے کے بعد سے ذرائع ابلاغ اور خاص طور پر کاروبار پر نگاہ رکھنے والے اداروں میں تجسس ہے کہ ڈھائی سو روپے میں فون کیسے بیچا جاسکتا ہے؟

انگریزی کے اخبار اکنامک ایکسپریس کے مطابق کمپنی کا کہنا ہے کہ وہ وزیر اعظم نریندر مودی کے ’ڈیجیٹل انڈیا‘ پروگرام کو آگے بڑھا رہی ہے جس کے تحت حکومت ہر شہری کو انٹرنیٹ کی دنیا میں شامل کرنا چاہتی ہے۔

کمپنی کی ویب سائٹ پر جو فون نمبر دیے گئے ہیں وہ یا تو مسلسل مصروف ہیں یا فی الحال بند ہیں۔

ادھر کمپنی کا دعویٰ ہے کہ بکنگ تین دن تک جاری رہے گی اور تمام آرڈر 30 جون تک پورے کر دیے جائیں گے۔
امریکی فضائیہ مئی سن 2016 میں چھہ ایف 15 جنگی طیاروں کو فن لینڈ کے ساتھ مشترکہ مشقوں میں حصہ لینے کے لئے بھیجے گا، امریکی ٹی وی چینل سی این این نے فوجی ذرائع کے حوالے سے بتایا۔


یہ مشقیں امریکہ کی تجویز پر کی جائیں گی۔ اس سے پہلے بھی امریکہ اور فن لینڈ نے کئی بار مشترکہ مشقیں کی تھیں لیکن پہلے ان میں ایف 15 جنگی طیارے شریک نہیں تھے۔

امریکی جنگی طیارے فضائی اڈے کواپیو پر تعینات ہوں گے جو روسی سرحد سے محض 160 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ واضح رہے کہ فن لینڈ نیٹو میں شامل نہیں ہے۔ روس کے ساتھ اس کی سرحد کی لمبائی 13 سو کلومیٹر ہے۔

اس سے پہلے پینٹاگون نے "روسی جارحیت" کے خطرے کو دور کرنے کے لئے یورپی اتحادیوں کی حمایت کے لئے مختص کی جانے والی رقم چار گنا کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔
جھاڑکھنڈ: ہندوستانی ریاست جھارکھنڈ کی ایک بینائی سے محروم اسکول ٹیچر نے اپنے ہی جیسے دیگر افراد کے لیے ہندی زبان میں بریل میں قرآن کریم کا ایک نسخہ تیار کرلیا.

برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی ہندی کی ایک رپورٹ کے مطابق جھاڑ کھنڈ کے چوتھے بڑے شہر بوکارو کے ایک اسکول میں ہندی کی ایک ٹیچر نفیسہ ترین نے 965 صفحات پر مشتمل قرآن پاک کا یہ نسخہ ڈھائی سال کی محنت کے بعد تیار کیا.

نفیسہ نے بنارس کے جیون جیوتی اسکول سے انٹرمیڈیٹ کی تعلیم حاصل کی، بعدازاں بی اے، بی ایڈ کرنے کے بعد وہ بوکارو کے ایک ہائی اسکول میں بچوں کو ہندی پڑھاتی ہیں. انھوں نے دہلی کے ایک ادارے سے کمپیوٹر سائنس میں ڈپلوما بھی کررکھا ہے.

نفیسہ کو قرآن پاک پڑھنے کی بہت خواہش تھی، لیکن بینائی سے محروم ہونے کے باعث کوئی انھیں قرآن پڑھانے کے لیے تیار نہ ہوا اور پھر بالآخر محمد تسلیم نامی ایک حافظ انھیں قرآن پڑھانے کے لیے تیار ہوگئے اور ان کی نگرانی میں 2005 میں نفیسہ نے ہندی زبان میں بریل پر قرآن پاک تحریر کرنے کا آغاز کیا.

اس کام میں نفیسہ کو تقریبآ 3 سال کا عرصہ لگا اور 2008 میں یہ مکمل ہوا، جس کے بعد غلطیوں کو درست کرنے کے کام کا آغاز کیا گیا.

رپورٹ کے مطابق نفیسہ کا کہنا تھا، ’والد کی تحریک، بھائیوں کے حوصلہ افزائی اور حافظ صاحب کی تیاری سے مجھے آج یہ خوش بختی حاصل ہوئی ہے۔'

تاہم ان کا کہنا تھا کہ انھیں کسی مذہبی تنظیم یا سرکاری محکمے سے کسی قسم کی مالی معاونت نہیں ملی.

نفیسہ اس قرآن پاک کو شائع کرانے کا بھی منصوبہ رکھتی ہیں اور اس کے لیے انھیں کسی مخیر شخص یا ادارے کے آگے آنے کا انتظار ہے، لیکن ان کا کہنا ہے کہ اگر کوئی مدد نہ ملی تو وہ اسے خود ہی شائع کروائیں گی.

نفیسہ کے والد مختار کے مطابق 'قرآن لکھنے کے بعد آس پاس کے مدارس اور مساجد کے سربراہوں نے اپنے اپنے طریقے سے نفیسہ سے قرآن پڑھوا كر اس کی تصدیق کی۔'

نفیسہ کے بھائی غوث الاعظم کے مطابق ان کی بہن کا تحریر کردہ قرآن ہندی بریل میں ہندوستان کا پہلا مکمل قرآن ہے۔
کراچی سے لاہور تک ایل این جی پائپ لائن کی تعمیر دو تین ماہ میں شروع کی جائے گی۔

اس بارے میں تعمیراتی کام کرنے والی روسی کارپوریشن "روس تیک" کے سربراہ سرگئی چیمیزوو نے بتایا۔ ان کے مطابق اس وقت پائپ لائن منصوبے میں روس کے ساتھ تعاون کرنے والے ممکنہ شرکائے کار کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں۔

چیمیزوو نے کراچی سے لاہور تک ایل این جی پائپ لائن منصوبے کی مالیت بتانے سے گریز کیا اور کہا کہ حتمی مالیت حتمی اندازے لگائے جانے کے بعد ہی بتائی جا سکے گی۔

یاد رہے کہ کچھ عررصہ پہلے پاکستان کے وزیر پیٹرولیم شاہد حقان عباسی نے کہا تھا کہ پائپ لائن کی تعمیر ماہ جولائی میں شروع ہوگی۔

کراچی سے لاہور تک ایل این جی پائپ لائن منصوبہ روس پاک معاشی تعاون کی تاریخ میں سب سے بڑا مشترکہ منصوبہ ہے۔
ماحول کے تحفظ کے لیے کام کرنے والے اسٹیئو اروین کے ذاتی چڑیا گھر میں موجود شیر نے اپنے ہی رکھوالے پر حملہ کر کے اُسے زخمی کر دیا ہے۔شیر کے رکھوالے کو چہرے اور بازوں پر زخم آئے ہیں۔


اروین کی بیوہ نے ٹویٹ کی ہے کہ ’شیر نے اپنے رکھوالے پر حملہ کیا اور لیکن شیر اور اُس کا رکھوالا دونوں صحیح ہیں۔‘

ماحولیات کے لیے کام کرنے والے اروین سنہ 2006 میں اُس وقت ہلاک ہوئے تھے، جب ایک دستاویزی فلم بنانے کے دوران سمندر میں مچھلی نے اُن کے سینے پر حملہ کیا تھا۔

آسٹریلیا کے چڑیا گھر کی انتظامیہ نے بتایا ہے کہ شیر کی عمر 12 سال ہے اور اُس کا نام رینو ہے، شیر نے صبح کے اوقات میں اپنے رکھوالے پر حملہ کیا۔

چڑیا گھر کے اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ ’رینو اپنے اردگرد کے ماحول میں کچھ زیادہ دلچسپی لیتا ہے اور جب اُس کے رکھوالے نے اُسے دوسرے سمت موڑنے کے لیے پکڑا تو اُس نے رکھوالے کی بائیں پسلی، بازوں اور ماتھے پر پنجہ مارا۔‘

آسٹریلیا کی ایمولینس سروس نے بتایا کہ شیر کے 41 سالہ رکھوالے کو دو گہرے زخم آئے ہیں۔ پہلے انھیں چڑیا گھر میں ابتدائی طبی امداد دی گئی اور بعد میں انھیں ہسپتال لایا گیا۔

اروین اور اُن کے خاندان نے آسٹریلیا کے شہر کوئیز لینڈ میں ایک چڑیا گھر بنایا ہے۔ اس چڑیا گھر میں’دی ٹائیگر ٹیمپل‘ بھی ہے اور رینو نامی شیر چڑیا گھر کی خاص رونق ہے۔

چڑیا گھر کا کہنا ہے کہ اس حملے کے بعد ٹائیگر اور رکھوالا دونوں خیریت سے ہیں اور وہ جلد اپنے کام پر واپس آ جائیں گے۔

چڑیا گھر کا کہنا ہے کہ رینو کافی شرارتی شیر ہے اور وہ اپنے اردگرد کے افراد کو کوئی نہ کوئی چیلنج دیتا رہتا ہے۔

’رینو کے ساتھ موجود رکھوالے کو یہ بات دماغ میں رکھنا ہو گی کہ سب سے اہم رینو ہے اور یہ بہت ضروری ہے کہ اُس کے ساتھ رہ کر برداشت کیا جائے۔‘