Articles by "مسلم لیگ ن"
‏مسلم لیگ ن لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

اسلام آباد:اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے وزیراعظم نواز شریف کی نااہلی سے متعلق تمام ریفرنس مسترد کردیئے جب کہ عمران خان اور جہانگیر ترین کی نا اہلی سے متعلق ریفرنسز الیکشن کمیشن کو بجھوا دیئے ہیں۔

میڈیا کے مطابق اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے وزیراعظم نواز شریف کی نا اہلی سے متعلق عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید احمد، پاکستان تحریک انصاف اور سابق ایم این اے عمر فاروق کی جانب سے دائر تمام ریفرنس مسترد کر دیئے ہیں جب کہ اسپیکر نے محمود خان اچکزئی کی نا اہلی سے متعلق ریفرنس بھی مسترد کردیا ہے ۔

اسپیکر قومی اسمبلی نے مسلم لیگ(ن) کے رکن قومی اسمبلی دانیال عزیز اور طلال چوہدری کی جانب سےعمران خان کی نا اہلی سے متعلق دائر کیا گیا ریفرنس الیکشن کمیشن کو بھجوا دیا جب کہ جہانگیرترین کی بھی نااہلی سے متعلق ریفرنس الیکشن کمیشن کو بھجوادیا گیا۔

دوسری جانب اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کا کہنا تھا کہ جو درخواستیں فائل ہوئیں ان کے کاغذات دیکھ کر فیصلہ کرنا ہے، 8 ریفرنسز کے کاغذات دیکھ کر فیصلہ کیا گیا، 2 ریفرنسز میں نااہلی کا سوال پیدا ہوتا ہے اس لیے جن درخواستوں پر لگا کہ نااہلی کا سوال پیدا ہوتا ہے وہ الیکشن کمیشن کو بھجوادیں اور جن پر ایسا نہیں لگا انہیں مسترد کردیا۔ انہوں نے کہا کہ میں جج نہیں ہوں، جو کاغذات درخواستوں میں لگائے گئے انہی پر فیصلہ کرتے ہوئے دیگر ریفرنس بھی الیکشن کمیشن بھجوادیئے ہیں جن پر رولنگ کے بعد کمیشن نے 90 روز میں فیصلہ کرنا ہے۔

دریں اثنا ایڈیشنل سیکرٹری الیکشن کمیشن فدا محمد کا کہنا تھا کہ وزیراعظم نواز شریف کے خلاف 4 ریفرنس دائر کئے گئے جس میں سے 2 تحریک انصاف، ایک شیخ رشید اور ایک سابق ممبر قومی اسمبلی سردارعمر فاروق کی جانب سے دائر کیا گیا۔ فدا محمد کے مطابق عمران خان کی نااہلی کے لیے بھی ایک ریفرنس موصول ہوا۔ اس کے علاوہ جہانگیر ترین اور محمود اچکزئی کے خلاف بھی ایک ریفرنس دائر کیا گیا۔

واضح رہے کہ اسپیکر قومی اسمبلی کے پاس 30 روز کے اندر کسی بھی ریفرنس کو سماعت کے لئے منظور یا مسترد کرنے کا آئینی اختیار ہوتا ہے، اگر اسپیکر 30 روز کے اندر کسی ریفرنس کو منظور یا مسترد نہیں کرتا تو پھر وہ آئینی لحاظ سے الیکشن کمیشن کو منتقل ہو جاتا ہے۔

پاکستان تحریک انصاف کے چیرمین عمران خان کا کہنا ہے کہ این اے 122 کے ضمنی الیکشن میں نوازشریف مقابلے پر آجائیں تو خود ان کا مقابلہ کروں گا۔

پاکستان تحریک انصاف کے چیرمین عمران خان کا کہنا ہے کہ این اے 122 کی خالی ہونے والی نشست پر ضمنی الیکشن میں نواز شریف مقابلے میں آجائیں تو میں خود ان کا مقابلہ کروں گا۔ انہوں نے کہا خوشی ہے کہ (ن) لیگ والے خود چیلنج دے رہے ہیں، مسلم لیگ (ن) سمجھتی ہے کہ الیکشن میں ان کا امپائر کھڑا ہوگا لیکن مسلم لیگ (ن)الیکشن میں کسی صورت نہیں جیت سکتی۔ ان کا کہنا تھا کہ مقابلے سے پتہ چلے گا کہ لاہور تحریک انصاف کا ہے یا نہیں۔

اسلام آباد: مسلم لیگ (ن) نے این اے 122 اور این اے 154 میں بھرپور طریقے سے ضمنی انتخاب میں حصہ لینے کا اعلان کردیا ہے۔

وزیراعظم نواز شریف کی سربراہی میں مسلم لیگ (ن) کے اعلیٰ سطح کا اجلاس ہوا ، جس میں الیکشن ٹریبونل کی جانب سے این اے 122 اور این اے 154 میں انتخابی دھاندلی سے متعلق درخواستوں پر فیصلوں سے متعلق تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا، اجلاس میں الیکشن ٹریبونل کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ سے رجوع کرنے کے بجائے دونوں حلقوں پر دوبارہ ضمنی انتخابات میں بھر پور حصہ لینے کا فیصلہ کیا گیا۔

اجلاس کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے وفاقی وزیراطلاعات پرویزرشید نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) نے فیصلہ کیا ہے کہ سردار ایاز صادق اور صدیق بلوچ کے خلاف فیصلے پر عوامی عدالت میں حاضر ہوں گے اور عوام دیگر ضمنی انتخاب کی طرح اس بار بھی ہمیں قبولیت کی مہر ثبت کرے گی کیونکہ انتخابات میں جب بھی ڈبے کھلتے ہیں تو شیر ہی نکلتا ہے اور ماضی کی طرح اس بار بھی ضمنی انتخابات میں عمران خان کو شکست کا سامنا کرنا پڑے گا۔

پرویز رشید نے کہا کہ عمران خان صرف سازش اور انارکی پھیلا سکتے ہیں، جب بھی ملک ترقی کرنے لگتا ہے تو عمران خان اس میں خلل ڈالنے لگ جاتے ہیں، عمران خان ایاز صادق کے حلقے سے الیکشن سے فرار حاصل کررہےہیں اور جہانگیرترین بھی انتخاب لڑنے سے بچ رہے ہیں، ہم انتخابات کے لئے تیار ہیں اور ہم انہیں بھاگنے نہیں دیں گے، اب الیکشن کمیشن کا کوئی بہانہ نہیں چلے گا، عمران خان اور جہانگیرترین ضمنی الیکشن میں اپنی سچائی ثابت کریں، این اے 122 پر مسلم لیگ (ن) کے امیدوار سردار ایاز صادق ہی ہوں گے تاہم این اے 154 پر صدیق بلوچ کی ڈگری جعلی قرار دیئے جانے کی وجہ سے وہاں معاملہ دوسرا ہے۔ سعد رفیق اس وقت بیرون ملک ہیں اس لئے ان کی وطن واپسی پر ان کے کیس کا فیصلہ کیا جائے گا۔

اس موقع پر وفاقی وزیر احسن اقبال نے کہا کہ عمران خان پاکستان کے نوجوانوں کے مستقبل سے کھیل رہے ہیں، ان کے نجانے کتنےتھرڈ امپائر ہیں،لیکن ہمارا تھرڈ امپائر صرف عوام ہیں، انہیں ڈر ہے کہ اگر مسلم لیگ (ن) 2018 تک کامیاب ہو گئی تو انہیں 2013 سے زیادہ عبرتناک شکست ہو گی۔ ہم ملک میں شفافیت پر یقین رکھتے ہیں انتقامی کاروائیوں پر یقین نہیں رکھتے۔