Articles by "دلچسپ و عجیب"
‏دلچسپ و عجیب لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

کروشیا کی خاتون صدر کی موجودگی میں انسانی حقوق کی ایک مقامی کمیٹی کے چیئر مین ایفن زفونومیر سیشاک کی پتلون اس وقت اترکرٹخنوں پر آگری جب صدر کولینڈا گرابار کیٹارو فیٹچ اسی کمیٹی کے عہدیداروں میں حُسن کارکردگی کے اعزازات تقسیم کر رہی تھیں۔

سیشاک کی پتلون گرنے کا منظر نہ صرف خاتون صدر نے دیکھا بلکہ کمیٹی کے دیگر ارکان ن میں خواتین اور مرد سب شامل تھے بھی حیرت واستعجاب کے ساتھ شرمسار ہوگئے۔ کچھ شرمندہ اور کچھ زیر لب مسکراتے ہوئے اس سارے منظر کو دیکھنے پر مجبور تھے۔

سیشاک پتلون کھلنے کے واقعے پرایک لمحے کو مبہوت ہوئے مگر شرمندگی میں غرق ہونے کے باوجود انہوں نے جھک کراپنی پتلون دوبارہ سے درست کرنے کی کوشش کی۔ 'صاحب بہادر' کے لیے ایک مشکل یہ تھی کہ ان کے دونوں ہاتھ مصروف تھے۔ ایک میں لاٹھی اور دوسرے میں صدر کی جانب سے حسن کارکردگی کا سرٹیکفیٹ تھام رکھا تھا۔ اس لیے ان کے لیے پتلون کو دوبارہ سے تھامنا بھی کسی پریشانی سے کم نہ تھا۔

خاتون صدر نے بھی کنکھیوں سے سیشاک کی طرف دیکھا اور زیرلب مسکرا کریہ تاثر دیا گویا انہوں نے پتلون گرنے کا منظر نہیں دیکھا۔ سیشاک کے پیچھے انسانی حقوق کمیٹی کے 10 ارکان کھڑے تھے جو سب اپنی جگہ شرمسار تھے.
آج تک آپ لوگوں نے کالے کوے ہی اڑتے اور کائیں کائیں کرتے دیکھے ہوں گے لیکن آج ہم آپ کو ملوا رہے ہیں ایسے کوے سے جو رنگت میں بھی دوسرے کوؤں سے مختلف ہے اور اس کی خوراک مرغی کا قیمہ اور دیسی گھی کی چوری ہے۔

سفید کوا سرگودھا کے ایک شہری نے پال رکھا ہے، ظفراللہ چوک کے قریب رہنے والے محمد ارشد نے نایاب کوے کو پالتوے پرندے کے طور پر رکھا ہوا ہے۔ محمد ارشد کا کہنا ہے کہ انھیں سرگودھا کے قریبی جنگل سے سفید کوے کا بچہ ملا تاہم اب اس کی عمر 5 ماہ ہوچکی ہے مگراس کی رنگت نہیں بدلی۔ کوے کے پر، ٹانگیں اور گردن سفید جب کہ چونچ گلابی ہے لیکن یہ آواز کالے کوے جیسی ہی نکالتا ہے۔

ظفراللہ نے اپنے پالتو سفید کوے کو ٹام کروز کا نام دیا ہے جب کہ وہ اسے مرغیوں کا قیمہ اور دیسی گھی کی چوری کھلاتا ہے اور تو اور سفید کوے کا دل بہلانے کے لئے اس کےساتھ ایک کالا کوا بھی رکھا ہوا ہے۔
امریکی ٹین ایجرز بھی اب دل لگی کے لیے آن لائن ہونے لگے ہیں۔ ایک مطالعے کے نتائج کے مطابق امریکا کے نوعمر بھی اپنے پارٹنرز کی تلاش کے لیے سماجی رابطوں کی ویب سائٹس کا استعمال کچھ زیادہ ہی کرنے لگے ہیں۔آج کل کے جدید دور میں جہاں ٹیکنالوجی نے انسانی زندگی کو بدل کر رکھ دیا ہے، وہاں دوستی، دل لگی اور جیون ساتھی کی تلاش میں بھی یہ اہم ہوتی جا رہی ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ اس کے نقصانات سے انکار ممکن نہیں ہے۔ سمارٹ فونز، آئی پیڈز اور دیگر ٹیبلٹس کی بہتات نے اب امریکی ٹین ایجرز کو بھی ایسے مواقع فراہم کر دیے ہیں کہ وہ ان کے استعمال سے دلگی میں دلچسپی لینے لگے ہیں۔

Pew ریسرچ سینٹر کے ایک تازہ مطالعے کے نتائج کے مطابق امریکا کے نو عمروں میں ممکنہ دوست یا جیون ساتھی کی تلاش کے لیے بھی سماجی رابطوں کی ویب سائٹس زیادہ ہی کردار ادا کرنے لگی ہیں۔ اگرچہ محبت اور دلگی کے لیے روایتی طریقے بھی عام ہیں لیکن ٹیکنالوجی نے اس کی رفتار میں کچھ زیادہ تیزی پیدا کر دی ہے۔

اس مطالعے میں تیرہ تا سترہ برس کے بچوں کا ایک گروپ منتخب کیا گیا۔ ایک ہزار ساٹھ ٹین ایجرز سے ٹیکنالوجی کے حوالے سے ایک سروے کیا گیا۔ ان میں سے صرف 35 فیصد ہی عشق و محبت جیسے تعلقات میں بندھے دیکھے گئے جبکہ 55 فیصد ٹین ایجرز کا کہنا تھا کہ وہ اس سماجی رابطوں کی ویب سائٹس کے استعمال سے صرف دلگی پر اکتفا کرتے ہیں۔

اس مطالعے کے نتائج کے مطابق اکتیس فیصد ٹین ایجرز نے دوسروں کو دلگی سے بھرے پیغامات ارسال کیے، دس فیصد نے دلگی کی خاطر تصاویر روانہ کیں جبکہ سات فیصد نے اپنی اپنی ویڈیوز بھی شیئر کیں۔ Pew ریسرچ سینٹر سے وابستہ محقق آماندہ لینہارٹ کے مطابق، ’’ڈیجیٹل پلیٹ فارمز ایک ایسا طاقتور آلہ بن چکے ہیں، جن کی مدد سے ٹین ایجرز دل لگی کرتے ہیں، محبت بھرے وعدے کرتے ہیں اور یہاں تک کے اپنے ممکنہ جیون ساتھی کو تلاش کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔‘‘

اس مطالعے کی مصنف اماندہ لینہارٹ نے البتہ خبردار بھی کیا ہے کہ دو انجان افراد کو ملانے والے اس طریقہ کار سے مشکلات بھی پیدا ہو سکتی ہیں۔ ان کے مطابق یوں مختلف افراد میں حسد، مداخلت اور نازیبا رویوں کی شکایات بھی پیدا ہو جاتی ہیں۔ اس سروے کے مطابق 35 فیصد لڑکیوں نے غلط رویوں کی وجہ سے دوستوں کو بلاک یا unfreind کر دیا۔ ان لڑکیوں کے مطابق لڑکوں نے ان کے ساتھ فلرٹ کرنے کی کوشش کی، جو ان کے لیے سکون کا باعث نہیں تھا۔ اسی طرح سولہ فیصد لڑکوں نے بھی ایسے رویے کی وجہ سے لڑکیوں کے ساتھ پیدا رابطے کو بلاک کر دیا۔

اس مطالعے کے نتائج کے مطابق ’ڈیٹ‘ پر جانے والے گیارہ فیصد ٹین ایجرز نے اپنے ساتھیوں کے انٹرنیٹ اکاونٹس اور موبائل فون تک بھی رسائی حاصل کر لی۔ کچھ واقعات میں آن لائن دوست بننے والے ٹین ایجرز نے اپنے ساتھیوں کو نازیبا پیغامات اور تصاویر بھی ارسال کیں۔ اسی طرح کچھ واقعات میں اپنے دوست کے علم میں لائے بغیر ہی ان کی ڈیوائسز میں ٹریکنگ پروگرام ڈاؤن لوڈ کر دیے گئے۔

اس مطالعے کے نتائج سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ اس طرح بچوں میں آن لائن دوستیاں کرنے کا رحجان زیادہ خطرناک بھی ثابت ہو سکتا ہے۔ تیرہ سے سترہ سال کے درمیانی عمر کے لڑکے یا لڑکیاں اپنی پرائیوسی کو خطرے میں ڈالتے ہوئے کسی حقیقی خطرے کا شکار بھی ہو سکتے ہیں۔ یوں کچھ افراد ان کے آن لائن مواد کو ہیک کر کے انہیں بلیک میل کا نشانہ بھی بنا سکتے ہیں۔
ایک امریکی تحقیق کے مطابق نوجوانی میں رومانوی تعلقات کی استواری اور اُن کے ختم ہونے میں ٹیکنالوجی ایک اہم کردار ادا کر رہی ہے۔

امریکی تھنک ٹینک پیو ریسرچ سینٹر کا کہنا ہے کہ نوجوان آن لائن شاذ ونادر ہی ملاقات کرتے ہیں لیکن وہ فلرٹ، بات چیت، آپس میں ملاقات اور تفریح کے لیے ٹیکنالوجی کا استعمال کرتے ہیں۔

13 سے 17 سال کی عمر کے ایک ہزار 60 نوعمر افراد پر کیے گئے امریکی سروے میں یہ انکشاف ہوا ہے کہ ٹیکنالوجی ان کو قریب تو لاتی ہے لیکن اس سے حسد کا عنصر بھی پروان چڑھتا ہے۔پیو کی تحقیق کی مصنفہ آماندہ لین ہارٹ کے مطابق ’ڈیجیٹل پلیٹ فارم نوجوانوں کے لیے طاقتور ہتھیار ہیں۔لیکن اس کی وجہ سے جہاں ایک طرف نوجوان اپنے ساتھی کے ساتھ قربت پیدا ہونے سے بہت زیادہ لُطف اندوز ہوتے ہیں اور اُن کے پاس اپنا تعلق دوسروں کے سامنے ظاہر کرنے کا موقع ہوتا ہے تو وہیں موبائل اور سماجی میڈیا حسد کے ہتھیار بھی ثابت ہوسکتے ہیں۔ نوجوانوں کو دوسروں کی دخل اندازی اور حتیٰ کہ پریشان کُن رویے کا سامنا بھی کرنا پڑسکتا ہے۔‘
ڈیجیٹل رومانس، ٹوٹ پھوٹ

ایک ہزار 60 نوعمر افراد کے سروے کے مطابق:

35 فیصد کا کہنا تھا کہ وہ ان دنوں ڈیٹنگ کر رہے ہیں جبکہ اسی گروپ میں سے 59 فیصد کا کہنا تھا کہ ٹیکنالوجی کی بدولت وہ اپنے ساتھی سے قربت محسوس کرتے ہیں۔ڈیٹنگ کرنے والے نوعمر لڑکوں میں سے 65 فیصد کا کہناتھا کہ سماجی میڈیا کے ذریعے ہم اہم لوگوں سے زیادہ رابطے میں رہتے ہیں جبکہ 52 فیصد نوعمر لڑکیاں بھی کچھ ایسا ہی محسوس کرتی ہیں۔

27 فیصد ڈیٹنگ کرنے والے نوجوانوں کا خیال تھا کہ سوشل میڈیا کی وجہ سے اُن میں حسد کا مادہ پیدا ہوا ہے یا وہ اپنے تعلقات کو غیرمحفوظ محسوس کرتے ہیں۔ ڈیٹنگ کرنے یا نہ کرنے والے 50 فیصد نوجوان کا کہنا تھا کہ وہ فیس بُک یا سماجی رابطے کی کسی اور ویب سائٹ پر کسی کو اپنا دوست بناکر (فرینڈ لسٹ میں شامل کرکے) اُس سے اپنی دلچسپی کا اظہارکرتے ہیں جبکہ 47 فیصد کا کہنا تھا کہ وہ لائیکس اور کمنٹس کے ذریعے اپنی پسندیدگی ظاہر کرتے ہیں۔

ٹیکسٹنگ ان سب کا بادشاہ ہے۔ ڈیٹنگ کرنے والے 92 فیصد نوجوانوں کا کہنا تھا کہ وہ اپنے ساتھی کو اس خیال کے ساتھ ٹیکسٹ کرتے ہیں کہ وہ’بالکل باقاعدگی‘ سے اُن کے پیغامات کو دیکھےگا۔حسد موجود ہے لیکن اتنا زیادہ نہیں جتنی زیادہ ڈیٹنگ کی جاتی ہے۔ 11 فیصد نوعمر اپنے ساتھی کے آن لائن اکاؤنٹس تک رسائی حاصل کرتے ہیں جبکہ 16 فیصد ایسے ہیں جو اپنے ساتھی کوکسی دوسرے آن لائن دوست سے دوستی ختم کرنے کو کہتے ہیں۔مسلسل سوشل میڈیا ویب سائٹس پر ’چیک ان‘ کرنے والوں کے درمیان کن باتوں پر تبادلہ خیال کیا جاتا ہے؟

سروے کے مطابق اس میں زیادہ تر’مزاحیہ چیزیں‘ شامل ہیں جیسے کہ’وہ باتیں یا چیزیں جن کے متعلق آپ سوچ رہے ہیں‘ اسی طرح دوسری معلومات جیسے وہ اس وقت کہاں ہیں اور اُن کے دوست کیا کررہے ہیں۔

وہ کسی جھگڑے کو ملاقات کے ذریعے حل کرنا بھُول گئے ہیں۔48 فیصد ڈیٹنگ کرنے والے نوجوانوں کا کہنا تھا کہ جھگڑے ٹیکسٹنگ یا آن لائن بات چیت کے ذریعے حل کیے جاسکتے ہیں۔

ان آن لائن اوزاروں تک رسائی اور استعمال میں آسانی کے ساتھ ان کی بدولت نوجوان طبقے کے تعلقات میں پریشانی یا اضطرابی کیفیت پیدا ہونے کی بھی کچھ علامات نظر آتی ہیں۔

نوجوان لڑکیاں ناپسندیدہ فلرٹنگ کا زیادہ شکار ہور رہی ہیں اور 25 فیصد نوعمر لڑکیوں کا کہنا تھا کہ وہ غیر آرام دہ فلرٹنگ کی وجہ سے کافی لوگوں کو ’ان فرینڈ‘ (آن لائن دوستی ختم کرنا) یا بلاک کرچکی ہیں۔

15 فیصد نوعمروں کے مطابق اُن کے ساتھی انٹرنیٹ کا استعمال اُن پر دباؤ ڈالنے کے لیے کرتے ہیں تاکہ وہ اُن جنسی سرگرمیوں میں حصہ لیں جنھیں وہ پسند نہیں کرتے۔

تقریباً نصف کے قریب جواب دینے والوں نے اس بات کو تسلیم کیا کہ وہ اپنے ساتھی سے ملاقات کے دوران اُس کے بجائے اپنے فون پر توجہ مرکوز رکھتے ہیں 43 فیصد ڈینٹنگ کرنے والے نوجوانوں کا کہنا ہے کہ اُن کے ساتھ بھی ایسا ہوتا ہے۔

اٹلانٹک نامی خبری سائٹ کی ایسوسی ایٹ مدیرہ جولی بیک نے سروے کے نتائج کے متعلق لکھاکہ ’میرا نہیں خیال کہ اس سروے میں کوئی نئی باتوں کا انکشاف ہوا ہو جو پہلے کسی کو معلوم نہیں تھیں۔ لیکن اس سروے سے اُن باتوں کی توثیق ہوئی ہے۔ انسان سماجی حیوان ہیں اور ہم ایک دوسرے سے رابطے کے لیے یہ سماجی ہتھیار تشکیل دیتے ہیں۔یہ اس لیے نہیں ہیں کہ ان کے ذریعے ایک دوسرے کو ہر وقت دل کی شکل کے ایموجیز بھیجے جائیں بلکہ یہ اوزار تعلقات میں ہر طرح سے سہولت کاری کے لیے ہوتے ہیں چاہے تعلقات کی نوعیت اچھی ہو یا بُری۔دوسروں کے ساتھ منسلک ہونا خوفناک، مشکل اور بعض اوقات خطرناک ہوتا ہے لیکن اُمید ہے کہ عام طور پر یہ اچھا ثابت ہوتا ہے۔ نوعمر لوگ اسے سمجھتے ہیں۔‘
بوسٹن: غیر ملکی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق امریکی ماہرین نے ایک ایسا سُپر کمپیوٹر تیار کرنے کا دعویٰ کیا ہے جو بتا دے گا کہ کسی بھی شخص کو موت کب آئے گی؟۔ یہ دعویٰ ڈاکٹر سٹیون ہورنگ اور ان کی ٹیم نے کیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ان کا سُپر کمپیوٹر موت کے بارے میں 95 فیصد درست معلومات فراہم کرتا ہے۔ اس کمپیوٹر کی تیاری میں 30 سال کا عرصہ لگا۔ ماہرین نے ڈھائی لاکھ سے زائد افراد کا ڈیٹا اس کمپیوٹر میں منتقل کیا ہے تاکہ وہ کسی بھی بیماری کی درست تشخیص کرکے بتا سکے گی کہ وہ کب تک مر سکتا ہے۔ یہ کمپیوٹر ہر تین منٹ بعد مریض کا ڈیٹا لیتا رہتا ہے جس میں آکسیجن لیول، خون کے نمونوں کا ٹیسٹ، خون کا دبائو اور دیگر معلومات جمع کرنا شامل ہے اور اس بنیاد پر ہی کمپیوٹر اپنے نتائج فراہم کرتا ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اس سُپر کمپیوٹر کی تیز رفتار تشخیص اور صلاحیت کی وجہ سے ممکنہ طور پر مریض کو بروقت بچایا جا سکے گا اور یہ بھی معلوم کیا جا سکے گا کہ آیا مریض قابل علاج ہے اور یہ بھی کہ اس کے مرنے کا وقت کیا ہو سکتا ہے۔ 




چرس صرف ایک ایک گرام کے وزن کے بند لفافوں میں فروخت کی جا سکے گی
امریکی ریاست ساؤتھ ڈکوٹا میں قبائلی باشندوں کا کہنا ہے کہ وہ علاقے میں ایک جگہ بنانے کا منصوبہ رکھتے ہیں جو امریکہ میں اپنی نوعیت کی ایسی پہلی جگہ ہو گی جہاں سیاح کھلے عام چرس کا استعمال کر سکیں گے۔

چار سو باشندوں پر مشتمل ’سانتی سیوکس‘ قبیلہ پہلے ہی ساوتھ ڈکوٹا کے مذکورہ علاقے میں ایک جواخانہ، ایک ہوٹل اور جانوروں کا ایک باڑہ چلا رہا ہے اور قبیلے کو امید ہے کہ چرسیوں کی مجوزہ آماجگاہ یا چنڈو خانے سے ان کے موجودہ کاروبار میں ایک اچھا اضافہ ہو گا جس سے وہ مزید منافع کما سکیں گے۔

اس امریکی ریاست میں میریوانا یا چرس کا استعمال غیر قانونی ہے تاہم اس سال جون میں مقامی قبیلے کو بھنگ کاشت کرنے اور اسے فروخت کرنے کی اجازت دے دی گئی تھی۔ یاد رہے کہ بھنگ سے چرس اور دوسرے نشہ آور مادے تیار کیے جاتے ہیں۔

مجوزہ چنڈو خانہ یا ’میروانا ریزورٹ‘ آئندہ سال کے پہلے دن یعنی نیو ایئر کی شام کھول دیا جائے گا اور مقامی قبیلے کے لوگوں کا کہنا ہے کہ وہ چرس صرف اسی سیرگاہ یا ریزورٹ پر فروخت کریں گے۔

قبائلی نمائندوں کا کہنا ہے وہ خود چرس اپنے کھیتوں میں اگائیں گے جسے صرف اس سیرگاہ پر آنے والے سیاحوں میں فروخت کیا جائے گا۔

اس کے علاوہ سیرگاہ پر قائم لاؤنج میں کھیلوں کی سہولت، کھانے پینے کی اشیاء اور شراب بھی دستیاب ہو گی اور پھر بعد میں یہاں جُوا کھیلنے کی مشینیں اور موسیقی کا بھی اہتمام کیا جائے گا۔قبیلے کے صدر انتھونی ریڈر کے بقول ’ہم چاہتے ہیں کہ یہ جگہ بالغوں کے کھیلوں کے لیے مختص کی جائے۔ امریکہ بھر میں ایسی اور کوئی جگہ نہیں ہے جہاں یہ تمام سہولیات مہیا کی جاتی ہیں۔‘

قبائلی نمائندوں کا اندازہ ہے کہ اس سیرگاہ سے قبیلے کو 20 لاکھ ڈالر ماہانہ تک کی آمدنی ہو گی۔

قبیلے نے اس وقت ایک فیکٹری میں بھنگ کاشت کر رکھی ہے اور لوگوں کو امید ہے کہ ان کی یہ فصل فروخت کے لیے 31 دسمبر کی رات کو نیو ایئر کے جشن کے موقع پر تیار ہو گی۔

ریاست ساؤتھ ڈکوٹا کے محکمۂ انصاف نے حال ہی میں ایک نئی پالیسی کا اعلان کیا ہے جس کے تحت قدیم مقامی قبائل کو اسی طرح چرس کاشت اور فروخت کرنے کی اجازت ہو گی جس طرح سنہ 2014 میں ریاست کولاراڈو اور کئی دیگر امریکی ریاستوں کے قبائل کو یہ اجازت دے دی گئی تھی۔

بھنگ کی کاشت اور فروخت کی اجازت کے ساتھ ساتھ مقامی قبائل پر یہ پابندی ہے کہ وہ چرس کم عمر افراد کو فروخت نہیں کر سکتے اور نہ ہی سرکاری زمین پر اسے کاشت کر سکتے ہیں۔

اس کے علاوہ چرس صرف ایک ایک گرام کے وزن کے بند لفافوں میں فروخت کی جا سکے گی اور ہر پیکٹ کی قیمت ساڑھے 12 ڈالر ہو گی، اور کوئی شخص ایک وقت میں ایک سے زیادہ لفافے نہیں خرید سکے گا۔

قبیلے کے صدر انتھونی ریڈر کے بقول ’ قبیلے کو اس طرح کے ذرائع آمدن کے موقعوں کو سنجیدگی سے لینا چاہیے کیونکہ اپنے ماضی کو محفوظ کرنے کے ساتھ ساتھ ہمیں اپنے حال کو بھی بہتر کرنا ہے۔‘


معذور کھلاڑیوں کے ایک ریسلنگ یا کشتی کے کلب پر ایک دستاویزی فلم بنائی جا رہی ہے۔ فلم کے ڈائریکٹر ہیتھ کوزین امید کرتے ہیں کہ یہ فلم معذوری کے بارے میں لوگوں کے تصورات کو چیلینج کرے گی۔

جاپان کے دارالحکومت ٹوکیو شہر کے مرکزی علاقے کے ایک روایتی ٹاؤن ہال میں ایک معذور شخص دوسرے شخص کے سر میں ٹکر مار رہے ہیں۔ دونوں مردوں کی ٹانگیں جڑی ہوئی ہیں اور وہ ریسلنگ رنگ میں لیٹے ہوئے لڑ رہے ہیں۔اگلی کُشتی 46 سالہ شنتارو یانو لڑیں گے۔ شنتارو اپنے آپ کو ’سامبو‘ کہتے ہیں۔ وہ دماغی فالج کے مریض ہیں۔

ان کے حریف یوکنوری ’اینٹی تھیسس‘ کیتاجیما ہیں جو بڑے لمنے عرصے سے ان سے مقابلہ کرتے آئے ہیں۔ لیکن کیتاجیما معذور نہیں ہیں اور شینتارو سے زیادہ طاقتور ہیں۔

خاتون میزبان دونوں کی لڑائی کے آغاز کا اعلان کرتی ہیں اور کشتی شروع ہو جاتی ہے۔

ہیتھ کوزین ایک صحافی اور دستاویزی فلم ساز ہیں جو ان ریسلرز کو کُشتی کرتے ہوئے پانچ سال سے دیکھ رہے ہیں۔وہ کہتے ہیں کہ جب انھوں نے پہلی بار معذور افراد کی کُشتی میں دیکھا کہ لڑائی کے دوران معذور لوگوں کا خون بہہ رہا تھا تو انھیں اس بات سے بہت تکلیف پہنچی تھی۔

انھوں نے کہا ’میں اتنا حیران ہوا کہ میں ہنسنے والا تھا۔ پھر مجھے معذور لوگوں پر ہنسنے کا خیال بہت برا لگا اور میں شرمندہ ہوا۔ مجھے یہ نہیں سمجھ آرہی تھی کہ یہ استحصال ہے، تفریح ہے یا پھر سچی مساوات۔‘

شروع میں انھیں لگا کہ ان لوگوں کے ساتھ بدسلوکی ہو رہی تھی خاص طور پر جب انھیں احساس ہوا کے صحت مند لوگ معذور لوگوں سے لڑ رہے تھے جن کی طاقت نسبتاً کم تھی۔ انھوں نے یہاں تک کہ یہ بھی سوچا لیا کہ وہ اس عمل کو بے نقاب کریں گے لیکن جب انھوں نے کھلاڑیوں سے بات کرنا شروع کی اور انھیں فلم کرنا شروع کیا تو ان کے خیالات بدل گئے۔ ان کی نئی دستاویزی فلم شروع بننا ہو گئی۔

فلم کا نام ’ڈاگ لیگس‘ یعنی ’کتوں کی ٹانگیں‘ ہے جو اس ریسلنگ کلب کے نام پر مبنی ہے۔ یہ فلم اس کلب کے پانچ کھلاڑیوں کی ذاتی اور کلب کی زندگی کے بارے میں ہے۔ کوزین کے لیے یہ ان کی زندگی کے حقائق اور یہ دکھانے کا موقعہ ہے کہ رنگ کے اندر اور باہر ان کی زندگی کے مناظر کتنے متضاد ہیں۔

انھوں نے کہا ’یہ وہ لوگ ہیں جو انتہائی تعصب کا شکار ہیں۔ لیکن ڈاگ لیگس انھیں موقعہ دیتا ہے کہ یہ اپنی روز مرہ کی زندگی کو تھوڑی دیر کے لیے بھلا سکیں۔‘

اس فلم کے مرکزی کردار شنتارو ہیں جنھوں نے 20 سال پہلے ڈاگس لیگس کا آغاز کیا تھا جب انھوں نے ایک خاتون کا دل جیتنے کے لیے ایک اور معذور شخص کے ساتھ لڑائی کی تھی۔ اس لڑائی کے بعد دونوں کو احساس ہوا کہ انھیں مقابلا کرنے میں اور لڑنے میں کتنامذا آیا تھا۔انھوں نے اپنے پرانے دوست اور ریسلنگ پارٹنر کیتاجیما کے ساتھ ڈاگ لیگس کلب شروع کیا جو معذور لوگوں کے لیے ان کی روز مرہ کی زندگی کے مسائل سے دور لے جتا ہے۔

آج اس کلب کے 40 ریسلر ہیں۔ سینکڑوں لوگ ان کی لڑائیاں دیکھنے کے لیے آتے ہیں جو خد بھی معذور ہوتے ہیں۔ کوزین کہتے ہیں کہ یہ ایک کمیونٹی ہے جس کا مرکز معذوری ہے۔

تکنیکی طور پر ریسلروں کو چار مختلف طبقوں میں تقسیم کیا جاتا ہے۔ لیٹ کر لڑنے والے، بیٹھ کر لرنے والے، کھڑے ہو کر لڑنے والے اور باقی سب لوگوں کے لیے ایک طبقہ۔

اس آخری طبقے کے قوانین کو اکثر نظر انداز کیا جاتا ہے۔39 کلو گرام کے وزن کے اوگا اپنی بیوی سے مقابلہ کرتے ہیں جن کا وزن 80 کلو گرام ہے۔ دونوں کی طاقت کو تھوڑا بہت برابر کرنے کے لیے ان کی بیوی کی ٹانگیں باندھ دی گئی ہیں لیکن اس کے باوجود بھی وہ کود کر اوگا پر اپنا پورا وزن گرا سکتی ہیں یا پھر انھیں اٹھا کر پھینک سکتی ہیں۔

یہ خیال کے اوگا کو اس قسم کی مار کھانے کا مزہ آتا ہوگا لگتا تو ناممکن ہے لیکن ایک ہی لڑائی کے بعد انھیں فتح مل جاتی ہے اور وہ مائیکروفون لے کر کہتے ہیں ’یہ وہ ایک جگہ ہے جہاں ہم دونوں لڑ سکتے ہیں۔ میں اس رنگ میں تب تک لڑوں گا جب تک میں زندہ ہوں۔‘

یہ واضح ہو چکا ہے کہ اوگا صرف اس رنگ میں ہی کھڑے ہو کر اپنے آپ کو کسی کے برابر سمجھتے ہیں۔ کوزین کہتے ہیں کہ یہی وہ بات ہے جس کی وجہ سے یہ ریسلر یہاں پر لڑنا چاہتے ہیں، چاہے انھیں کتنا بھی درد ملے۔کوزین یہ بھی کہتے ہیں کہ لوگ ان کی فلم دیکھ کر تکلیف محسوس کر سکتے ہیں۔ انھوں نے کہا ’کئی غیر معذور لوگ معذور لوگوں کے جسم صحیح طرح سے نہیں دیکھ پاتے ہیں۔ لیکن ڈاگس لیگس کی خاص بات یہ ہے کہ یہ معذور لوگ بنا کسی معافی مانگے کہہ سکتے ہیں کہ ’مجھے اور میرے جسم کو لڑتے ہوئے دیکھو اور اس پر غور کرو۔‘

کوزین کہتے ہیں کہ ان کی دستاویزی فلم کا بنیادی مقصد معذوری کے بارے میں لوگوں کے تصورات کو چیلنج کرنا ہے۔ جہاں تک ڈاگس لیگس اور ریسلروں کے ایک دوسرے کے ساتھ تعلقات کے ’ٹھیک‘ ہونے یا نہیں کا سوال بنتا ہے، اس کا جواب دینا وہ ناظر پر چھوڑتے ہیں۔
لندن: عام طور پر ہر معاشرے میں یہ بات عام ہے کہ انسان اپنی ماضی کی غلطیوں سے سکیھتا ہے اور آئندہ بہتر فیصلے کرتا ہے لیکن اب ایک نئی تحقیق میں سائنس دانوں نےاس سوچ کو غلط قرار دیتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ ماضی سے متعلق سوچنے سے انسان غمگین اور پریشان ہوجاتا ہے جو اسے عمل سے روک سکتا ہے۔

برطانوی وینڈربلٹ یونیورسٹی کی کنزیومر سائیکالوجی جنرل میں شائع ہونے والی تحقیق میں کہا گیا ہے کہ ماضی کی غلطیوں یا ناکامیوں کے گڑھے مردے اکھاڑنے سے انسان خود سے بیزار ہوجاتا ہے۔ تحقیق کے معاون ریسرچر کیلی ہاس کا کہنا ہے کہ ماضی سے متعلق سوچنے سے انسان غلطیوں سے سیکھنے کی بجائے ان پر نادم ہوکر پریشان ہوجاتا ہے جس کی وجہ سے وہ مستقبل کے بارے میں درست فیصلے نہیں کرپاتے اس لیے آگے کی جانب دیکھنا اور مستقبل کے بارے میں سوچنا ہی آگے بڑھنے کا زیادہ موثرطریقہ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ مثال کے طورپرآپ 700 ڈالر کے قیمتی جوتے اس لیے نہیں خریدتے کہ آپ کو یورپ کی سیر کو جانا ہے یا پھر پارٹی پر جانے کی بجائے آپ اپنی اسٹڈی کو اہمیت دیتے ہیں تاکہ ٹیسٹ میں اچھا اسکور کرسکیں۔

تحقیق کے لیے سائنس دانوں نے لوگوں کو دو گروپس میں تقسیم کیا اورایک سے پوچھا کہ وہ اپنی کامیابیوں کو یاد کریں اور دوسرے گروپ سے کہا کہ وہ اپنی ناکامیوں کو سامنے لائیں جبکہ ان سے کہا کہ وہ اس کے لیے اپنی زندگی کی مختلف کہانیاں یاد کریں پھر انہیں ایک بجٹ دیا گیا اور کہا گیا کہ وہ اس میں سے ان چیزوں پر کتنا خرچ کریں گے جسے وہ خریدنے کی قوت نہیں رکھتے مثال کے طور پر جوتے یا ویڈیو گیمز۔ نتائج سے ثابت ہوا کہ جن لوگوں نے اپنی کامیابیوں کو سامنے رکھ کر فیصلہ کیا انہوں نے اپنے بجٹ کا بہترین استعمال کیا جبکہ جنہوں نے ناکامیوں کو سامنے رکھا وہ زیادہ تر فضول خرچ ثابت ہوئے اور کامیاب فیصلہ نہ کرسکے۔

کیلی ہاس کا کہنا تھا کہ اگر آپ خود پر بہتر کنٹرول رکھنا چاہتے ہیں تو مستقبل پر نظر رکھیں نہ کہ ماضی میں جھانکیں۔
لندن: ٹویٹر نے ایک نئی سہولت فراہم کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ 140 پلس سروس کے ذریعے اب ذیادہ طویل پیغامات ٹائپ کرکے بھیجے جاسکیں گے۔

ٹویٹر کے شریک بانی جیک ڈورسی نے وال اسٹریٹ جنرل کو بتایا کہ اس نئی سروس کے ذریعے ایک شخص دوسرے شخص کو پرائیوٹ پیغامات بھی بھیج سکے گا جسے ڈائریکٹ میسج یا ’ڈی ایم ‘ کا نام دیا گیا ہے جس میں آزادانہ طور پر پیغامات بھیجے اور وصول کیے جاسکیں گے۔ اس سال جون میں ٹویٹر کے فورم پر نئ سروس کا اعلان کیا تھا لیکن ٹویٹر کے مطابق ان تبدیلیوں سے عوامی ٹویٹس متاثر نہیں ہوں گی۔

ٹیکنالوجی تجزیہ کاروں کے مطابق ٹویٹر کے صارفین 30 کروڑ اور فیس بک کے صارفین اب ڈیڑھ ارب تک پہنچ رہے ہیں اور ٹویٹر کو فیس بک، واٹس ایپ اور وی چیٹ جیسی سروسز سے شدید مقابلے کا سامنا ہے کیونکہ یہ کمپنیاں ٹیکسٹ پیغامات پر بہت سرمایہ کاری کررہی ہیں۔ دوسری جانب ٹویٹر ٹویٹس کو فیس بک کی طرح چیٹنگ سہولیات فراہم کرنے پر بھی غور کررہا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ ایموجی ( احساسات اور صورتحال کو بیان کرنے والے آئکن)، ویڈیو، آڈیو اور دیگر سہولیات کو بھی بہتر بنایا جارہا ہے۔
لکھنئو: بھارتی ریاست اترپردیش میں ایک شخص نے مغل شہنشاہ شاہ جہاں کی طرح اپنی مرحومہ بیوی کی یاد میں ایک تاج محل تعمیر کیا ہے تاکہ اس کی محبت کے جذبے کو بھی دنیا بھر میں یاد رکھا جائے۔

تاج محل کو دنیا بھر میں محبت کی علامت کے طور پر جانا جاتا ہے جسے مغل شہنشاہ شاہ جہاں نے اپنی ملکہ کی موت کے بعد اس کی یاد میں 1631ء سے 1648 ء کے درمیان بنوایا تھا اسی طرح یوپی کے ایک 80 سالہ شخص فیض الحسن قادری نے اپنی اہلیہ کی یاد میں ایک تاج محل بنوایا ہے یہ تاج محل اصل سے ذرا چھوٹا ہے اورکسی خوبصورت دریا کے کنارے بھی نہیں اور نہ اس میں کندہ کاری کا کام ہے اور نہ یہ قیمتی پتھروں سے مزین ہے البتہ جذبہ وہی ہے جو شاہ جہاں کا تھا یعنی اپنی اہلیہ سے بے پناہ محبت کا۔

آگرہ سے تقریباً 100 میل دور بلند شہر کے ایک چھوٹے سے گاؤں میں واقع اس تاج محل کی تعمیر میں 3 سال کا عرصہ لگا جس میں ریٹائرڈ پوسٹ ماسٹر فیض الحسن کی زندگی بھر کی جمع پونجی خرچ ہوچکی ہے اور یہ رقم ایک کروڑ 10 لاکھ بھارتی روپے سے زائد ہے۔ فیض الحسن کی اہلیہ 2011 میں انتقال کر گئی تھیں اور یہ تاج محل ان کی تدفین کی جگہ بنایا گیا ہے جہاں فیض الحسن نے اپنی محبوب اہلیہ کی قبر کے ساتھ اپنی قبر کے لیے بھی جگہ مختص کررکھی ہے۔

فیض الحسن نے اس تاج محل کی تعمیر کی وجہ بتاتے ہوئے کہا کہ انہوں نے اسے اپنی مرحومہ اہلیہ کی یادمیں بنایا ہے جس کے ساتھ انہوں نے زندگی کے 53 سال گزارے ان کی کوئی اولاد نہیں تھی جس کی وجہ سے ان اہلیہ کو یہ فکر رہتی تھی کہ مرنے کے بعد ہمارا کوئی ذکر بھی نہیں کرے گا، کوئی نام لینے والا نہیں ہوگا۔ اس لیے انہوں نے یہ وعدہ کیا تھا کہ اگر ان کا انتقال مجھ سے پہلے ہوگیا تو وہ ان کے لیے ایسا مقبرہ بنوائیں گے کہ لوگ برسوں یاد رکھیں۔

عمارت پر آنے والی لاگت کی وجہ سے فیض الحسن کو اب مالی مشکلات کا سامنا ہے کیونکہ ان کا تمام سرمایہ اور جمع پونجی اس کی تعمیر میں خرچ ہوچکی ہے۔ ریاستی حکومت اور بعض افراد کی جانب سے انہیں اس تاج محل کی تعمیر کے لیے امداد کی بھی پیشکش کی گئی تھی تاہم فیض الحسن نے کسی سے بھی امداد لینے سے انکار کردیا اوران کا کہنا ہے کہ یہ کسی کا مزار یا کوئی خانقاہ یا عبادت گاہ نہیں یہ ان کی اہلیہ کا مزار ہے اور اگر وہ کسی سے کوئی پیسہ لے کر اس میں لگاؤں توکہا جائے گا کہ یہ قبر چندے کی ہے اور وہ نہیں چاہتے کہ ایسا ہو البتہ انہوں نے حکومت سے درخواست کی ہے کہ وہ گاؤں میں موجود اسکول کو تعیلمی بورڈ سے منظور کروائے تاکہ یہاں کہ طالب علموں کا دیرینہ مسئلہ حل ہوسکے۔

جس طرح آگرہ کے قلعے میں قید شاہ جہاں کو تاج محل صاف نظر آتا تھا اسی طرح اپنے کمرے کی کھڑکی سے فیص الحسن بھی اپنا تاج محل دیکھ سکتے ہیں۔ جیسے جیسے اس نئے تاج محل کی خبر پھیل رہی ہے ویسے ویسے آس پاس کے دیہات سے لوگ اسے دیکھنے آنا شروع ہوگئے ہیں اور اترپردیش کے اس دوردراز گاؤں میں شاہ جہاں اور ممتاز محل کی محبت کی طرح ایک اور داستان جنم لے رہی ہے۔
تہران: کچھ لوگوں میں لوگوں کو حیران کردینے والی صلاحتیں بچپن سے ہوتی ہیں جنہیں صرف سامنے لانے کی ضرورت ہوتی ہے ایسا ہی ایک ایرانی بچہ صرف 2 سال کی عمر میں لوگوں کو حیران کردینے والے جمناسٹک کرتب دکھا رہا ہے۔

سماجی رابطوں کی ویب سائٹ فیس بک پر اس 2 سالہ ایرانی بچے کے کرتب سے بھرپور ویڈیو نے لوگوں کو اپنے سحر میں جکڑ رکھا ہے اور لوگ حیرت سے اسے دیکھ رہے ہیں۔ ایران کی سرزمین پر جنم لینے والے ایرات حسینی اپنی عمر کے 9 ماہ سے ہی یہ حیران کن کرتب دکھا رہا ہے اور اس کے لیے وہ خوب پریکٹس بھی کرتا ہے۔ ایرات کے والدین کا کہنا ہے کہ وہ اس شاندار کرتب کے لیے پروفیشنل ٹریننگ نہیں کرتا بلکہ گھر پر ہی روزانہ 10 سے 20 منٹ کی پریکٹس کرتا ہے جب کہ اس کا سب سے پسندیدہ کرتب مشکل ترین جمانسٹک ٹیکنیک سمر سالٹ ہے جسے وہ آسانی انجام دیتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ایرات یوگا بھی کرتا ہے اسی لیے وہ بیلینسگ اسلیٹس، بیک ورڈز واک اوور اور سمر سالٹ میں بڑی مہارت رکھتا ہے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ ایرات کے اکثر کرتب گھر میں ایسے جگہوں پر نظر آتے ہیں جہاں عام طور پر توازن قائم رکھنا مشکل ہوتا ہے۔ ایرات باورچی خانے کی چکنی سلیب پر پش اپ، ٹیلی ویژن اور سیڑھیوں پر توازن قائم کرتا اوردیواریں چڑھتا نظرآتا ہے جب کہ ایک ویڈیو میں تو وہ 6.5 کلو گرام وزن اپنی کمر پر رکھ کر پش اپ لگا رہا ہے جسے دیکھ کر لوگ اپنا سانس روکنے پر مجبور ہوگئے۔
موبائل فون اپلیکشن سنیپ چیٹ نے اپنے صارفین کے لیے تازہ ترین ورژن میں نئے فیچرز متعارف کرادیئے ہیں۔

سنیپ چیٹ کے متعارف کردہ فیچرز میں سے ایک لینسز ہے جو صارفین کو اپنی سیلفی تصاویر کو مختلف اینیمیٹڈ ایفکیٹس کے ساتھ شیئر کرنے میں مدد دیتی ہے۔

سنیپ چیٹ بلاگ کے مطابق اس فیچر میں صارفین کو 7 فیس فلٹرز کی سہولت فراہم کی گئی ہے جو ان کی تتصویر میں زندگی دوڑ دیتی ہے۔

یہ ساتوں فلٹرز یا لینسز اس وقت خودکار طور پر اسکرین آجاتے ہیں جب کوئی صارف اپنا کیمرہ سیلفی موڈ پر سیٹ کرتا ہے اور اپنا چہرہ اسکرین کے سامنے لاتا ہے۔

ان فلٹرز کی مدد سے آپ چہرے کو بوڑھا کرسکتے ہیں، منہ سے قوس و قزح کی نہر بہا سکتے ہیں، غصے سے کسی کارٹون کی طرح آنکھیں باہر نکال سکتے ہیں اور ایسے ہی دیگر آپشنز موجود ہیں۔

اسی طرح ایک اور فیچر ٹرافیز ہے جس میں صارفین کو سنیپ چیٹ کی جانب سے ورچوئل انعامات دیئے جاتے ہیں۔

مثال کے طور پر اگر آپ اپنے 10 تصاویر شیئر کرتے ہیں تو آپ ایک اسٹیکر کو ان لاک کرلیتے ہیں۔

سنیپ چیٹ کی جانب سے نئی ٹرافی کا نوٹیفکیشن صارف کو نہیں بھیجا جاتا تاہم صارفین ٹرافی کے چھوٹے سے آئیکون کی مدد سے اسے چیک کرسکتے ہین جو انعام ملنے کی صورت میں پیلا ہوجاتا ہے۔

تاہم سنیپ چیٹ کا سب سے اہم فیچر وہ ہے جس کو استعمال کرنے کی صورت میں صارفین کو ادائیگی کرنا ہوگی۔

سنیپ چیٹ کے فوٹو اور ویڈیو پیغامات کچھ سیکنڈ بعد غائب ہوجاتے ہیں تاہم صارفین روزانہ اپنی پسند کی ایک تصویر کے ساتھ ریپلائی کرسکتے ہیں مگر اب وہ تین تصاویر کو ریپلائی کرسکیں گے۔

تاہم ایسا کرنے کی صورت میں انہیں 0.99 ڈالر ادا کرنا ہوں گے اور کمپنی کے خیال میں یہ فیچر اتنا اہم ضرور ہے کہ لوگ ادائیگی کے لیے تیار ہوجائیں گے۔

خیال رہے کہ سنیپ چیٹ کو روزانہ استعمال کرنے والے صارفین کی تعداد دس کروڑ سے زیادہ ہے۔
اگر تو آپ میسجنگ اپلیکشن اسکائپ کو استعمال کرتے ہیں تو اچھی خبر یہ ہے کہ اس میں ایسے فیچرز متعارف کرائے گئے ہیں جن کے بارے میں مائیکروسافٹ کا دعویٰ ہے کہ صارفین ان سے متاثر ہوئے بغیر رہ ہی نہیں سکیں گے۔اسکائپ بلاگ میں جاری ایک بیان کے مطابق اسکائپ میں اب صارفین چیٹ کے دوران اپنے پسندیدہ ٹی وی یا فلمی لمحات کو بھیج سکتے ہیں۔بیان میں کہا گیا ہے کہ موجیز نامی نئے فیر کے ذریعے صارفین اپنے پسندیدہ ٹیلی ویژن شوز اور فلموں کے مختصر کلپ براہ راست چیٹ پر ڈال سکتے ہیں تاکہ اپنے جذبات کا کھل کر اظہار کرسکیں۔کمپنی کے مطابق موجیز ایسا نیا فیچر ہے جو اسکائپ کو استعمال کرنا پہلے سے بھی زیادہ بہتر تجربہ بنا دے گا۔اس فیچر کو استعمال کرنے کے لیے اموٹیکون (emoticon) بٹن پر کلک کرکے فلم یا کسی ایکسپریشن کو تلاش کریں پھر موجی کا پریویو دیکھیں اور چیٹ میں شیئر کردیں۔اسکائپ کے مطابق اس فیچر میں پرمزاح، مضحکہ خیز اور آئیکون ویڈیوز کو شامل کیا گیا ہے جس کے لیے دنیا بھر کے فلمی اداروں اور ٹی وی چینیلز سے مدد لی گئی۔یہ فیچر ونڈوز، ڈیسک ٹاپ کمپیوٹر، اینڈرائیڈ اور آئی او ایس ڈیوائسز پر اسکائپ کے تازہ ترین ورژن میں دستیاب ہے۔
سیسل نامی شیر کی ہلاکت پر الزامات کا سامنا کرنے والے زمبابوے کے پیشہ ور شکاری کو افریقی نسل کے ہرن سمگل کرنے کی مبینہ کوشش پر گرفتار کر لیا گیا ہے۔ شکاری تِھیو برونک ہارسٹ کو اس وقت حراست میں لیا گیا جب یہ پتہ چلا کہ 29 ہرن جنوبی افریقہ سمگل کیے جا رہے ہیں۔ پولیس کے مطابق وہ جنوبی شہر بلاوایو میں زیرِ حراست ہیں۔ مسٹر برونک ہورسٹ ایک دوسرے معاملے میں ضمانت پر ہیں جس میں وہ جولائی کے مہینے میں مبینہ طور پر غیر قانونی شکار کر رہے تھے۔ اس دوران دانتوں کے ایک امریکی ڈاکٹر والٹر پامر نے سِیسل نامی شیر کو شکار کرتے ہوئے ہلاک کر دیا تھا۔



اس واقعہ پر عالمی سطح پر ردِ عمل کا اظہار کیا گیا تھا اور احتجاج اتنا شدید تھا کہ امریکی ڈاکٹر کو روپوش ہونا پڑا تھا۔ شیر کی ہلاکت کے بعد سے وہ اس مہینے کے شروع میں پہلی بار کام پر واپس آئے ہیں۔ زمبابوے میں ماحولیات کا تحفظ کرنے والوں کے مطابق سِیسل کو جو سیاحوں کو بہت زیادہ پسند تھا، چارہ دکھا کر نیشنل پارک سے باہر نکالا گیا تھا جس کے بعد اسےگولی مار دی گئی تھی۔ برونک ہورسٹ کو بدھ کو سمگلنک کے الزامات کے تحت عدالت میں پیش کیا جائے گا۔ جنوبی افریقہ کےرہائشی تین افراد کو اس وقت گرفتار کر لیا گیا جب ان کی گاڑی دریا میں پھنس گئی۔ اس گاڑی کے ذریعے افریقی ہرن کہیں لے جائے جا رہے تھے۔
برطانیہ میں ایسے روبوٹس کی تیاری کے خلاف مہم شروع کی گئی ہے جو اپنے مالک کو جنسی تسکین فراہم کرنے کی غرض سے تیار کیے جا سکتے ہیں۔اس مہم کے روحِ رواں اور لیسٹر میں ڈی مونٹ فرنٹ یونیورسٹی سے تعلق رکھنے والی ڈاکٹر کیتھلین رچرڈسن کا کہنا ہے کہ ٹیکنالوجی کا یہ استعمال غیر ضروری اور ناپسندیدہ ہے۔بازار میں پہلے سے سیکس ڈولز فروخت کے لیے موجود ہیں اور اب ان کے تیار کنندگان ان میں مصنوعی ذہانت کے استعمال پر غور کر رہے ہیں۔اس میدان سے تعلق رکھنے والے افراد کے خیال میں ایسے سیکس روبوٹس وقت کی ضرورت ہیں۔تاہم ڈاکٹر رچرڈسن چاہتی ہیں کہ وہ اس معاملے میں معاشرے کو آگاہ کریں اور ایسے روبوٹس بنانے والوں کو ٹیکنالوجی کے اس استعمال پر نظرِ ثانی کرنے کے لیے قائل کریں۔ڈاکٹر رچرڈسن کے مطابق ’سیکس روبوٹ، روبوٹ تیار کرنے والی صنعت کی توجہ کا مرکز بنتے جا رہے ہیں اور یہ سوچا جا رہا ہے کہ وہ کیسے دکھائی دے سکتے ہیں اور کیا کیا کام کر سکتے ہیں۔ یہ حقیقت میں بہت پریشان کن بات ہے۔‘

ڈاکٹر رچرڈسن سمجھتی ہیں کہ اس سے اس خیال کو تقویت ملتی ہے کہ خواتین سے مرد کا تعلق صرف جسم کی حد تک ہے اور کچھ نہیں۔مردانہ اور زنانہ سیکس کھلونے فروخت کرنے والی کمپنی ابس کریئیشنز اب ان کھلونوں میں الیکٹرانکس کا استعمال شروع کرنے والی ہے۔اس کے علاوہ ’ٹرو کمپینیئن‘ یا سچا ساتھی نامی کمپنی کا دعویٰ ہے کہ وہ دنیا کا پہلا سیکس روبوٹ تیار کر رہی ہے اور رواں برس روکسی نامی اس سیکس ڈول کو متعارف کروائے گی۔کمپنی کے چیف ایگزیکٹیو ڈگلس ہائنز کے مطابق روکسی جیسے روبوٹک سیکس ٹوائز وقت کی ضرورت ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ ’ہم بیوی یا گرل فرینڈ کا متبادل پیش کرنے کی کوشش نہیں کر رہے۔ یہ ان افراد کے مسائل کا حل ہے جن کا رشتہ ٹوٹ چکا ہے یا پھر وہ اپنا جیون ساتھی کھو چکے ہیں۔‘

انھوں نے کہا کہ ’لوگ انسانوں کے علاوہ بھی کسی سے خوشی اور اطمینان حاصل کر سکتے ہیں۔‘

ڈگلس ہائنز نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ انھیں امید ہے کہ ’روکسی‘ ایک ایسا روبوٹ بنےگی جو اپنے مالک سے بات کرنے اور اس کی پسند اور ناپسند جاننے کے قابل ہو۔ان کا کہنا تھا کہ ’جسمانی طور پر جنسی عمل سیکس روبوٹ کے ساتھ گزارے جانے والے وقت کا ایک چھوٹا سا حصہ ہے۔ اکثریت وقت تو میل ملاپ اور بات چیت میں کٹے گا۔‘کچھ ماہرین ’روکسی‘ کے بارے میں کیے جانے والے ان دعووں کے بارے میں مشکوک ہیں اور اس کی وجہ ذہین مشینوں کی تیاری کی پیچیدگیاں ہیں۔ تاہم ڈگلس کا کہنا ہے کہ سات ہزار ڈالر مالیت کے اس سیکس کھلونے کے لیے اس کے بازار میں آنے سے پہلے ہی ہزاروں افراد نے بکنگ کروا لی ہے۔انسٹیٹیوٹ آف الیکٹریکل اور الیکٹرانکس انجینیئرز کے سینیئر رکن ڈاکٹر کیون کران کے خیال میں اس قسم کی مصنوعات جلد ہی مقبولِ عام ہونے والی ہیں۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ایسے روبوٹس کی طلب کو نظرانداز کرنا درست نہیں ہوگا۔ ’اگر مکینکس کا معاملہ حل کر لیا جائے تو انسانوں جیسے روبوٹ بنانا خاصا آسان ہے۔ ان روبوٹس کو پرکشش ساتھی میں بدلنے کے لیے صرف ’’جلد‘‘ درکار ہے جو مشکل نہیں۔‘ڈاکٹر کیون کے مطابق ’آج تک زیادہ تر روبوٹ کاروباری مقاصد کے لیے نہیں بلکہ تحقیق کرنے والے اداروں میں بنائے گئے ہیں لیکن اب بات آگے بڑھ رہی ہے۔‘تاہم وہ تسلیم کرتے ہیں کہ اس معاملے پر عوامی ردعمل ضرور آئے گا۔

ان کا کہنا ہے کہ ’مہلک روبوٹس کے خلاف آواز بلند کرنے والی تنظیمیں تو مہم چلا ہی رہی ہیں، لیکن میں دیکھ سکتا ہوں کہ انسان ایسے روبوٹ ساتھیوں کے خلاف آواز اٹھائیں گے۔‘’روبوٹس کے ساتھ پیار اور سیکس‘ نامی کتاب کے مصنف ڈیوڈ لیوی کے خیال میں روکسی جیسے سیکس کھلونوں کا بازار بہت بڑا ہے۔ ان کی پیشنگوئی ہے کہ 2050 تک روبوٹس اور انسانوں کے درمیان جنسی تعلق عام بات ہوگی۔’جیسے جیسے روبوٹس میں نفاست آتی جائے گی اور وہ انسانی رویوں کا اظہار کر سکیں گے، انسانوں کے ساتھ ان کے تعلقات پیچیدہ تر ہو جائیں گے۔‘تاہم ڈاکٹر کیورن کو خدشہ ہے کہ ہمارا معاشرہ ایسے زمانے کے لیے تیار نہیں جہاں روبوٹس کو ساتھی کے طور پر عام طور پر قبول کیا جا سکے۔ان کے مطابق ایسے روبوٹس کی تیاری مردوں اور خواتین اور بچوں اور بڑوں کے علاوہ مرد کے مرد اور عورت کے عورت سے باہمی تعلقات کے لیے بھی نقصان دہ ثابت ہو گی۔

بیجنگ: چین کے صوبے جیانگ سو میں دو افراد نے ایپل کمپنی کے نئے آئی فون 6 ایس خریدنے کے لیے گردہ بیچنے کی کوشش کی.

چین کے مقامی روزنامہ چائنا ڈیلی کے مطابق وو نامی ایک شخص آئی فون 6 ایس خریدنا چاہتا تھا، لیکن اُس کے پاس اتنے پیسے نہیں تھے، جس پر اس کے دوست ہوانگ نے مشورہ دیا کہ وہ دونوں اپنا ایک ایک گردہ بیچ کر یہ رقم حاصل کرلیتے ہیں.

رپورٹ کے مطابق دونوں نے انٹرنیٹ پر ایک ایجنٹ کو تلاش کیا، جس نے انھیں نانجنگ کے ایک ہسپتال میں طبی معائنہ کرانے کو کہا.

تاہم 12 ستمبر کو جب وہ دونوں ہسپتال پہنچے تو انھوں نے ایجنٹ کو وہاں موجود نہیں پایا.

دونوں نے اپنے فیصلے پر نظر ثانی کی اور وو نے اپنے دوست ہوانگ کو اس عمل سے باز رہنے کا مشورہ دیا،لیکن ہوانگ نے بات ماننے سے انکار کردیا.

رپورٹ کے مطابق وو نے بعد ازاں پولیس کو ساری صورتحال بتا دی جبکہ ہوانگ فرار ہوگیا اور اس کے بعد سے اس کا کچھ علم نہیں.
برلن: جرمنی کی خاتون فوٹوگرا فر کی جانب سے کھینچی گئی ایک تصویر دنیا بھر میں مقبول ہورہی ہے جس میں ایک برفانی ریچھنی کو بہت بری حالت میں دکھایا گیا ہے۔

لینجنبرگر کی جانب سے کھینچی گئی اس تصویر کو ہزاروں افراد شیئر کرچکے ہیں جوبحرِ آرکٹک میں واقع ناروے کے والبرڈ خطے سے لی گئی ہے اور یہاں سیاح برفانی ریچھ دیکھنےکے لیے آتے ہیں۔ لینجنبرگر کے مطابق یہ تصویر ماحولیاتی آلودگی اور آب و ہوا میں تبدیلی کے بعد برف گھلنے اور برفانی ریچھوں کے مصائب کو بیان کرتی ہے جس سے بالخصوص مادہ ریچھ ذیادہ متاثر ہوتی ہے کیونکہ بچوں کی خوراک کا انتظام بھی ان کے ذمے ہوتا ہے۔ برف کم ہونے سے برفانی ریچھوں کے رہنے کی جگہ شدید متاثر ہورہی ہے اور وہ سخت مشکلات کے شکارہیں۔

اگر انٹرنیٹ پر برفانی ریچھ کی تصاویر دیکھی جائیں تو وہ بہت فربہ اور خوبصورت نظر آتے ہیں لیکن لینجنبرگرکے مطابق انہوں نے جن ریچھوں کو دیکھا وہ بیمار اور کمزور دکھائی دیئے اور ان کی مادائیں ذیادہ کمزور تھیں۔ ان کی تصویر میں ریچھنی ہڈیوں کی ڈھانچہ دکھائی دیتی ہے جس کا ایک پیر مجروح ہوکر ناکارہ ہوچکا ہے ۔ تاہم ماہرین کہتے ہیں کہ اس تصویر کو دیکھ کر اس کی ذمے داری آب و ہوا میں تبدیلی پر عائد کرنے میں احتیاط کرنی ہوگی۔

کینیڈا کی یونیورسٹی آف البرٹا میں برفانی ریچھوں کے ماہر ایان اسٹرلنگ کے مطابق یہ ریچھنی بہت بوڑھی ہوچکی ہے اور غذائی کمی کی شکار ہے لیکن حتمی طور پر کچھ نہیں کہا جاسکتا ۔
اوساکا: جاپانی کھانوں کو عجیب وغریب روپ دینے کے ماہرہیں اور اب ایک جاپانی سائنسدان نے ایسے نوڈلز تیار کیے ہیں جو اندھیرے میں چمکتے ہیں۔

اس سے قبل جاپانی خوشبودار انڈے، میپل پتوں کو تیل میں فرائی کرنے اور دل کی شکل کی نارنجیاں اگانے کا کارنامہ بھی انجام دے چکے ہیں۔ اگرچہ ان نوڈلز کو دیکھ کر بھوک نہیں جاگتی لیکن جاپان میں خوراک پر لکھنے والے سائنسداں کورارے راکو نے اوساکا سائنسی میلے کے لیے یہ نوڈلز تیار کیے تھے ۔ فی الحال انہوں نے ٹویٹر پر چند تصاویر ہی پوسٹ کی ہیں جن میں نیون کی طرح گہرے گلابی نوڈلز دیکھے جاسکتے ہیں۔ اسی طرح سبز اور نیلے رنگ کے کھائے جانے والے ٹکڑے بھی دکھائی دے رہے ہیں جو برتن صاف کرنے والے پیڈ کے ٹکڑے معلوم ہوتےہیں۔

انہوں نے دعویٰ کیا ہے کہ نوڈلز رات میں چمکتے ہیں لیکن اس کی کوئی تصویر پوسٹ نہیں کی اور صرف اتنا بتایا ہے کہ انہوں نے عام نوڈلز کو نیون رنگ میں رنگا ہے جو الٹروائلٹ روشنی میں چمکتے دکھائی دیتے ہیں۔ ان کا دعویٰ ہے کہ کھانے میں ان کا ذائقہ عام نوڈلز سے بھی بڑھ کر ہے۔ ابھی تک یہ نوڈلز بازار میں دستیاب نہیں لیکن عجیب وغریب کھانوں میں جاپانیوں کی دلچسپی دیکھتے ہوئے کہا جاسکتا ہے کہ بہت جلد یہ نوڈلز مارکیٹ کے لیے بھی بنائے جاسکیں گے۔

آج کل جرمن شہر میونخ میں بیکری مصنوعات کا سب سے بڑا عالمی تجارتی میلہ منعقد ہو رہا ہے۔ اس بار اس میں ایسے تھری ڈی یا سہ جہتی پرنٹر بھی مرکزِ نگاہ ہیں، جن کے ذریعے کھانے کی مختلف رنگا رنگ چیزیں ’پرنٹ‘ کی جا سکتی ہیں۔

تھری ڈی پرنٹر سے عینک کا فریم بنانا یا چائے کافی کی پیالی بنانا تو اب کوئی نئی بات نہیں رہ گئی۔ نیا یہ ہے کہ اب اس طرح کے پرنٹر کے اندر سے آلو کا ملیدہ یا پھر بسکٹ بھی برآمد ہو سکتے ہیں

آلو کے ملیدے سے بنا ہوا کوئی آکٹوپس یعنی ہشت پا، کلیجی کے ساسیج سے تیار کیا ہوا کوئی پھول یا پھر چاکلیٹ سے بنی کوئی کشتی، میونخ میں جاری میلے iba کو دیکھنے کے لیے جانے والے شائقین اس طرح کی ’پرنٹ‘ کی ہوئی مصنوعات کو چکھ بھی سکتے ہیں۔

Print2Taste، یہ ہے نام میونخ کے قریب فرائزنگ میں قائم ایک نئے ادارے کا، جو کھانے ’پرنٹ‘ کرنے والے پرنٹر تیار کر رہا ہے اور اُنہیں سرِدست اس تجارتی میلے میں لوگوں کو دکھا رہا ہے۔ آئندہ سال یعنی 2016ء سے اس طرح کے پرنٹر بازار میں آ جائیں گے۔

اس ادارے میں ایک دَس رُکنی ٹیم اس طرں کے پرنٹرز تیار کرنے میں مصروف ہے۔ میلانی زینگر اس ٹیم کی ایک اکتیس سالہ رکن ہیں، جنہوں نے خوراک سے متعلقہ امور کی ماہر بھی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ جیسے ایک حلوائی اپنے ہاتھ میں پکڑی ہوئی چھوٹی سی پوٹلی کو دبا دبا کر جلیبیاں بناتا ہے، اسی طرح ایک پرنٹر سے بھی خام مادہ برآمد ہوتا ہے لیکن ایک حلوائی کے مقابلے میں ایک تھری ڈی پرنٹر سے یہ مادہ کہیں زیادہ باریکی اور نفاست کے ساتھ نکلتا ہے۔

پرنٹر سے نکلنے والے خام مادے کی مدد سے مختلف طرح کی اشکال بنائی جا سکتی ہیں، جنہیں بعد میں اوون میں رکھ کر پکایا اور پھر مزے سے کھایا جا سکتا ہے۔

ماہرین اس یقین کا اظہار کر رہے ہیں کہ اگرچہ ابھی پرنٹرز سے نکلی ہوئی خوراک ایک نئی اور انوکھی چیز معلوم ہوتی ہے لیکن آئندہ چند برسوں میں یہ بہت عام ہو جائے گی۔

چینی خاتون قیمتی ہیرا چوری کرنے کے بعد تھائی لینڈ سے فرار ہونا چاہتی تھی۔ ہیرے کو چھپانے کے لیے خاتون نے اسے نگل لیا تھا، جسے اب آپریشن کے بعد اس کی آنتوں سے نکال لیا گیا ہے۔

نیوز ایجنسی اے ایف پی کی رپورٹوں کے مطابق ایک چینی خاتون جو کہ بنکاک سے ممکنہ طور پر چوری کیا گیا قیمتی ہیرا نگلنے کے بعد تھائی لینڈ سے فرار ہونا چاہتی تھی، اس کی آنتوں سے قیمتی پتھر نکالنے کے بعد اس کو ہسپتال سے فارغ کر دیا گیا ہے۔

اس خاتون نے زیورات کے میلے میں ایک نقلی ہیرے سے ایک قیمتی دو لاکھ بہتر ہزار ڈالر کے ہیرے کو بدل دیا تھا۔

تفتیش کاروں نے اسے اس وقت پکڑا جب بنکاک کے سورنابھومی ایئر پورٹ پر ایک ایکسرے مشین میں دیکھا گیا کہ اس خاتون کی آنت میں ہیرا ہے۔ تینتیس سالہ چینی آدمی جو اس عورت کے ساتھ سفر کر رہا تھا اس کو بھی گرفتار کر لیا گیا ہے۔

خاتون کو پہلے آنتوں کی صفائی کا محلول دیا گیا لیکن جب اس سے بھی کام نہ بنا تو ڈاکٹرز سے رابطہ کیا گیا کہ کیسے اس ہیرے کو آنت سے نکال دیا جائے۔ پولیس کرنل مانا ٹین ماونگ پک نے اے ایف پی سے بات کرتے ہوئے کہا، ’’اب وہ بالکل ٹھیک ہے اور اسے ہسپتال سے فارغ کر دیا گیا ہے۔‘‘ انھوں نے مزید بتایا کہ اس خاتون کو نون تھا بوری کی صوبائی عدالت میں پیش کیا جائے گا جو یہ فیصلہ کرے گی کہ آیا مزید تفتیش کے لیے اس خاتون کو ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کیا جائے۔

پولیس جنرل ہسپتال کے ترجمان، پولیس لیفٹیننٹ کرنل انچھولی تھیرا ونگ پیسل نے بتایا کہ ڈاکٹرز نے آنت سے ہیرا نکالنے کے لیے مختلف آلات استعمال کیے۔ انھوں نے مزید بتایا، ’’ہیرا نکالنے میں صرف بارہ منٹ لگے۔ یہ ایک عام سی سرجری تھی سوائے اس کے کہ اس میں دس ملین بھات کی مالیت کا ہیرا شامل تھا۔‘‘

ستمبر 2011 میں بھی ایک چور نے اسپین میں برطانوی خاتون سے ہیرا چرا کر نگل لیا تھا۔

اسی طرح فروری 2014 میں ایک برطانوی شہری کو بھی آسٹریلیا میں اس وقت گرفتار کیا گیا جب وہ وہاں سے ایک لاکھ اسی ہزار ڈالر کی مالیت کے ہیرے کے ساتھ پرواز کی کوشش کر رہا تھا۔ تفتیش کاروں کو اس بات کا یقین تھا کہ اس شخص نے ہیرا نگلا ہوا ہے لیکن وہ ہیرا کبھی بھی برآمد نہ ہو سکا۔