Articles by "بزنس"
‏بزنس لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
اسلام آباد: اوگرا نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں رد و بدل کی سمری وزارت پیٹرولیم کو ارسال کردی جس میں پیٹرول کی فی لیٹر قیمت 8 روپے 48 پیسے کمی کی سفارش کی گئی ہے۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق اوگرا کی جانب سے وزارت پیٹرولیم کو ارسال کردہ سمری میں پیٹرول کی فی لیٹر قیمت میں 8 روپے 48 پیسے کمی کی سفارش کی گئی جس کے بعد سمری منظور ہونے کی صورت میں پیٹرول فی لیٹر 62 روپے 77 پیسے میں دستیاب ہوگا جب کہ لائیٹ ڈیزل کی قیمت میں ایک روپے97 پیسے، ہائی اوکٹین کی قیمت میں 2 روپے 98 پیسے فی لیٹر کمی کی سفارش کی گئی ہے جس کے بعد ہائی اوکٹین کی قیمت 72 روپے 68 پیسے فی لیٹر ہوجائے گی۔

اوگرا کی سمری میں ڈیزل اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 4 روپے 67 پیسے اور ایچ او بی سی 2 روپے 98 پیسے فی لیٹر سستا کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔ اوگرا کی سمری میں صرف مٹی کے تیل میں اضافے کی سفارش کی گئی جو کہ ایک روپیہ 66 پیسے فی لیٹر ہے اور سمری کی منظوری کے بعد مٹی کا تیل 44 روپے 91 پیسے فی لیٹر میں دستیاب ہوگا۔
عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمت 30 ڈالر فی بیرل سے بھی نیچے آ گئی ہے۔

ایسے میں تیل کی برآمد پر انحصار کرنے والے ممالک سعودی عرب، دوسرے خلیجی ممالک، اور روس نے اپنے اخراجات میں کمی اور کفایت شعاری کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جب کہ تیل کی دولت سے مالا مال ونیزویلا نے ملک میں اقتصادی ایمرجنسی نافذ کر دی ہے۔

لیکن پاکستان جیسے درآمدی خام تیل پر انحصار کرنے والے ممالک کے لیے قیمتوں میں کمی ایک سنہری موقع ہے کیونکہ ملک کی درآمدت کا 33 فیصد تیل کی مصنوعات پر مشتمل ہے اور قیمتوں میں کمی سے پاکستان کا درآمدی بل کم ہوا ہے۔

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق رواں مالی سال کے پہلے چھ ماہ کے دوران پاکستان نے چار ارب 35 کروڑ ڈالر مالیت کی تیل کی مصنوعات درآمد کی ہیں جبکہ گذشتہ سال اسی عرصے کے دوران ان مصنوعات کا درآمدی بل ساڑھے سات ارب ڈالر سے زائد تھا۔

ایک محتاط اندازے کے مطابق دنیا بھر میں تیل کی قیمتوں میں کمی کے بعد سے پاکستان کے درآمدی بل میں ساڑھے پانچ ارب ڈالر کی کمی ہوئی ہے۔

لیکن سوال یہ ہے کہ عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتوں میں کمی سے پاکستان مستفید ہو رہا ہے یا نہیں؟

ماہر اقتصادیات ڈاکٹر اشفاق حسن خان کا کہنا ہے کہ تیل کی مصنوعات کی قیمتوں میں کمی سے پاکستان میں افراطِ زر یعنی مہنگائی کی شرح کم ہوئی ہے اور اس کے نتیجے میں شرح سود میں کمی سے حکومتی قرضوں کا بوجھ بھی کم ہوا ہے۔

انھوں نے کہا کہ ’افسوس یہ ہے کہ اس کمی کا فائدہ عوام اور صنعتوں کو نہیں ہو رہا کیونکہ مقامی سطح پر تیل کی مصنوعات کی قیتمتوں میں کمی نہیں ہو رہی اور حکومت ٹیکس کی شرح بڑھا رہی ہے۔‘

دنیا بھر میں خام تیل کی قیمت 80 ڈالر فی بیرل سے کم ہو کر 30 ڈالر فی بیرل پر آ گئی ہے لیکن مقامی سطح پر حکومت نے ٹیکس بڑھا کر قیمتوں میں کمی کے فائدہ عوام کو منتقل نہیں کیا۔

پاکستان میں ڈیزل پر سیلز ٹیکس کی شرح 45 فیصد جبکہ پیٹرول پر 25 فیصد ہے۔

ماہر اقتصادیات خرم شہزاد کا کہنا ہے کہ پاکستان میں بجلی کی پیدوار فرنس آئل سے ہوتی ہے اور فرنس آئل سستا ہونے سے بجلی کی فی یونٹ پیداواری لاگت بھی کم ہوئی ہے، جس سے حکومت کی سبسڈی میں کمی ہو رہی ہے۔

انھوں نے کہا حکومت کو چاہیے سبسڈی میں کمی سے حاصل ہونے والی رقم سے انفراسٹرکچر کی بہتری پر خرچ کیا جائے۔

خرم شہزاد کا کہنا ہے کہ حکومت نے پیٹرولیئم مصنوعات پر ٹیکس کی شرح بڑھا کر آمدنی کا آسان ذریعہ ڈھونڈ رہی ہے۔

اُن کا کہنا ہے کہ ’درآمدی بل میں کمی سے پاکستانی کرنسی کی قدر مستحکم ہوئی ہے اور قرضے کم ہوئے ہیں۔ ان حالات میں ایسی پالیسیاں بنانے کی ضرورت ہے جس سے معیشت ترقی کرے۔‘

ماہرین اقتصادیات کا کہنا ہے کہ گذشتہ کچھ عرصے سے پاکستان میں امن و امان کی صورتِ حال قدرے بہتر ہوئی ہے اور ایسے میں ضروری ہے کہ نجی شعبے کے اعتماد کو بحال کر کے سرمایہ کاری میں اضافہ کیا جائے۔

ڈاکٹر اشفاق حسن خان نے کہا کہ ’ملک میں کاروباری لاگت کم کرنے کی ضرورت ہے تاکہ برآمدت کو بڑھایا جا سکے۔ ہماری پیدواری لاگت دنیا کے مقابلے میں زیادہ ہے۔‘

انھوں نے کہا کہ ’ایک طرف تو درآمدی بل کم ہو رہا ہے لیکن دوسری جانب برآمدت نہیں بڑھ رہیں، اور تیل کی قیمتوں میں کمی سے ہونے والا فائدہ ختم ہو رہا ہے۔‘

خرم شہزاد کے مطابق چین کی معیشت میں سست رفتاری کا نقصان پاکستان کو نہیں ہو گا۔ ’پاکستان کی چین سے برآمدات کے مقابلے میں درآمدت زیادہ ہیں اور چین کی کرنسی کی قدر میں کمی سے درآمدی مصنوعات سستی ہوں گی، جو ہمارے لیے فائدہ مند ہے۔‘


اقتصادی ماہرین کا کہنا ہے کہ عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتوں میں کمی سے پاکستان مستفید ہو سکتا ہے لیکن اُس کے لیے ضروری ہے کہ ایسی حکمتِ عملی بنائی جائے جس سے اقتصادی شرح نمو میں اضافہ ہو۔

ماہرین کے مطابق ملک میں توانائی کے بحران پر قابو پا کر صنعتوں کو بجلی فراہم کی جائے تاکہ برآمدت میں اضافہ ہو اور پیٹرولیم مصنوعات پر عائد ٹیکسوں سے حاصل ہونے والی آمدن پر انحصار کے بجائے ٹیکسوں کے دائرے کار کو وسیع کرنے پر توجہ دی جائے۔
نیویارک: مالی بحران ایک بار پھرپوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے رہا ہے جس کے باعث امریکی اور یورپی اسٹاک مارکیٹس میں شدید مندی کے بعد ایشیا میں بھی مندی دیکھی گئی ہے۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی اسٹاک مارکیٹ ڈاو جونز میں کاروبار کے آغاز سے ہی مندی کا رجحان دیکھا گیا اور مارکیٹ اپنے آغاز میں ہی 2.23 فیصد گر گئی جب کہ ناسدق کمپوزٹ انڈیکس 2.4 فیصد تک نیچے آگئی، اس کے علاوہ جاپان کی شنگھائی اسٹاک مارکیٹ بھی مندی دیکھنے میں آئی اور مارکیٹ دن کے آغاز میں ہی 3.6 فیصد گرگئی۔

یورپ کی اسٹاک مارکیٹس میں بھی کاروبار میں مندی دیکھی گئی جس کے باعث جرمنی کی فرینکفرٹ اسٹاک مارکیٹس 3 فیصد اور میلان اسٹاک مارکیٹ 3.1 فیصد گر گئی جب کہ دیگر یورپی ممالک کی اسٹاک مارکیٹس میں بھی مندی کا رجحان دیکھنے میں آیا۔ سب سے زیادہ کمی ماسکو اسٹاک مارکیٹ میں دیکھی گئی جہاں اسٹاک مارکیٹ 5 فیصد تک نیچے آگئی۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ عالمی اسٹاک مارکیٹس میں مندی کی بڑی وجہ تیل کی قیتموں میں مسلسل کمی ہے جو 12 سال کی کم ترین سطح پر آگئی ہیں جب کہ کچھ ماہرین تیل کے ساتھ ساتھ چینی ایکویٹی میں بڑے پیمانے پر کمی کو بھی اس کا ذمہ دار قرار دے رہے ہیں۔
نیویارک: خام تیل کی عالمی قیمتوں میں گزشتہ ہفتے 10 کی نمایاں کمی ہوئی اور نرخ 12 سال کی کم ترین سطح پر آگئے۔

مشرق وسطیٰ میں کشیدگی اور امریکی جاب مارکیٹ میں صورتحال بہتر ہونے کے باوجود تیل کی قیمتوں میں کمی کا سلسلہ گزشتہ ہفتے بھی رک نہ سکا بلکہ چینی معاشی خدشات اور مارکیٹ میں تیل کی بھرمار نے قیمتوں پر دباؤ برقرار رکھا۔

جمعہ کو کاروباری ہفتے کے اختتام پر نیویارک مرکنٹائل ایکس چینج میں امریکی آئل ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (ڈبلیوٹی آئی) کے آئندہ ماہ فراہمی کے لیے نرخ 33.16 ڈالر فی بیرل پر بند ہوئے جو فروری 2004 کے بعد کم ترین سطح ہے جبکہ لندن انٹرکانٹینینٹل ایکس چینج میں میں یورپی بنچ مارک برینٹ نارتھ سی خام تیل کی آئندہ ماہ ترسیل کیلیے قیمت 33.55 ڈالر فی بیرل پر بند ہوئی۔

دونوں برانڈ کی قیمتیں ایک ہفتے میں کم وبیش 10 فیصد نیچے آئیں۔ سٹی فیوچرز کے ماہر ٹم ایوانز کے مطابق پرائس ریکوری آئی بھی تو یہ مختصرمدتی ہو سکتی ہے مگر مارکیٹ کے بنیادی اشاریے تنزلی کی جانب ہیں اور اس کی تصدیق یکم جنوری کوختم ہونے والے ہفتے میں امریکی پٹرولیم ذخائر میں اضافے سے ہوئی ہے۔ تجزیہ کار جیسپرلالر کے مطابق چین سے متعلق خدشات نے کموڈیٹیز کی مستقبل میں طلب کے حوالے سے سرمایہ کاروں کو پریشان کردیا ہے۔ تیل وگیس کے کنسلٹنٹ کارل لاری نے کہاکہ مجموعی طور پر طلب بڑھتی ہوئی دکھائی نہیں دیتی، اس لیے نئی صورتحال میں سپلائی طلب کی سطح تک کم کرنا ہوگی۔
اسلام آباد: موجودہ حکومت نے اپنے ڈھائی سالہ دور اقتدار کے دوران 2759ارب روپے کے ملکی قرضے حاصل کیے جبکہ با اثر افراد کے 30 ارب سے زائد کے قرضے معاف کر دیے، اس وقت پاکستان کے ذمے مجموعی خالص بیرونی قرضہ 51.80ارب ڈالر تک پہنچ گیا۔

’’ایکسپریس‘‘ کو موصولہ دستاویزات کے مطابق موجودہ حکومت نے اپنے ڈھائی سالہ دور میں حکومتی کاروبار چلانے کے لیے 2759ارب روپے کے ملکی قرضے حاصل کیے، ان قرضوں پر سود کی مد میں 9فیصد سے 10.96فیصد کی ادائیگی کی جائے گی،یہ قرضے 1 سال کی مدت سے 10سال کی مدت کے لیے لیے گئے ہیں، موجودہ حکومت اپنے دور اقتدار کے دوران ان قرضوں کی مد میں صرف 650ارب روپے کی قرضے کی ادائیگی کرے گی جبکہ 2109ارب روپے کے قرضے بعد کی آنے والی حکومتیں ادا کریں گی۔

دستاویزات کے مطابق گزشتہ 2سال کے دوران ملک کے مختلف بینکوں سے با اثر افراد کے 30 ارب روپے کے قرضے معاف کر دیے گئے ہیں، سال 2013کے دوران 17ارب 75کروڑ سے زائد کے قرضے معاف کیے گئے ہیں جبکہ 2014کے دورا 12ارب 60کروڑ 17لاکھ روپے سے زائد کے قرضے معاف کیے گئے ہیں۔ دستاویزات کے مطابق اس وقت پاکستان کے ذمے مجموعی خالص بیرونی قرضہ 51.80ارب ڈالر ہے۔

موبائل نیٹ ورک کمپنی 'یوفون' نے بھی 'موبی لنک' کے نقش قدم پر چلتے ہوئے پاکستان کے نامور اردو اخبارات کے فرنٹ کی تشہیر کی کوشش کی ہے.


ابھی پچھلے ہفتے کی ہی تو بات ہے جب چند اردو اخبارات کے فرنٹ پیج پر ہندوستانی اداکارہ نرگس فخری کے ایک نازیبا پوز پر نہ صرف اداکارہ بلکہ اشتہاری کمپنی 'موبی لنک' کو بھی شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا تھا.


اشتہار کے شائع ہوتے ہی سوشل میڈیا پر تنقید کا بازار گرم ہوگیا اور اسے سستی شہرت حاصل کرنے کا ذریعہ بتایا گیا.


ایک طرف جہاں نرگس فخری پر مشتمل موبی لنک کے اشتہار کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا، وہیں دوسری طرف فیصل قریشی کے پوز کو لوگوں نے مزاح کے طور پر لیا جبکہ کچھ نے تو اسے 'ایڈ آف دی ایئر' یعنی 'سال کا بہترین اشتہار' بھی قرار دے ڈالا.


اب لوگوں کی رائے تو ایک طرف لیکن دیکھا جائے تو یوفون نے ایک مرتبہ پھر ثابت کردیا ہے کہ بہترین اشتہارکاری میں ان کا کوئی ثانی نہیں۔


اس اشتہار میں دیئے گئے پوز کے لیے کسی خاتون کے بجائے مرد (فیصل قریشی) کا سہارا لیا گیا جو پاکستانی معاشرے میں شاید کسی نہ کسی تک قابل قبول ہے۔
موبی لنک پر الزام لگایا گیا تھا کہ اُس نے اشتہار میں خواتین کا غلط استعمال کیا اور جس طرح سےاشتہار میں نرگس کو مرکز بنایا گیا، اس کی پاکستانی معاشرے بلکہ موبائل فون سے بھی کوئی مطابقت نظر نہیں آئی اور نہ ہی کمپنی صارفین کی توجہ حاصل کرنے میں کامیاب رہی۔



اشتہار میں صرف نرگس فخری کو ہی نمایاں طور پر دکھایا گیا تھا جبکہ صارفین کو موبائل کے فیچرز سے آگاہ کرنے کی ضرورت محسوس نہیں کی گئی، شاید ان کے خیال میں 'صرف نرگس ہی کافی تھی'۔


یہی وجہ ہے کہ یوفون نے اس پہلو کو بھی ذہن میں رکھا اور اشتہار میں انتہائی مزاحیہ انداز میں یہ جملہ بھی دیا گیا "ایکسکیوزمی! موبائل فون ہمارا بہتر اور سستا ہے"۔


اس کے ساتھ ساتھ موبائل کے دیگر فیچرز اور قیمت بتاتے ہوئے نرگس فخری کے بظاہر 'نازیبا' پوز پر بھی چوٹ کرتے ہوئے کہا گیا، "اشتہار بھی چھپ کر دیکھنے کی ضرورت نہیں ہے۔"


اگرچہ یوفون نے بھی اپنے موبائل فون کی تشہیر کے لیے موبی لنک جیسی ہی حکمت عملی اپنائی اور خبروں کے درمیان دیئے گئے اشتہار نے قارئین کو کوفت میں بھی مبتلا کیا لیکن پھر بھی اس اشتہار کو لوگوں نے ہلکے پھلکے انداز میں لیا اور ٹوئٹر پر اس حوالے سے مثبت ردعمل دیکھنے میں آیا۔


اشتہار کی ایک خاص بات یہ بھی پوسکتی ہے کہ اس میں فیصل ایک 'عام پاکستانی' کے روپ میں نظر آئے،جنھوں نے شلوار قمیض اور سر پر ٹوپی کے ساتھ ساتھ کاندھے پر رومال بھی ڈال رکھا ہے۔


اور صرف یہی نہیں #Ufone کا ہیش ٹیگ بھی پاکستان کے ٹاپ ٹرینڈز میں شامل ہوگیا ہے۔
اب دیکھنا یہ ہے کہ موبائل کمپنیوں کی یہ 'پوز' جنگ کہاں جاکر اختتام پذیر ہوتی ہے۔

بھارتی ریاست گجرات میں احمد آباد سے ممبئی کی طرف جانے والی شاہراہ پر آنند سے لے کر بھروچ کے درمیان دونوں طرف کیلے کی کاشت ہوتی ہے۔ہر روز ان میں سے قریباً 22 ہزار کلو کیلے واہگہ بارڈر کے راستے پاکستان جاتے ہیں۔

آنند سے بھروچ کے درمیان یہ راستہ ایک سو کلومیٹر طویل ہے۔

گجرات میں گذشتہ چھ ماہ سے چلنے والی پاٹيدار ریزرویشن تحریک کا اس علاقے پر کوئی اثر نہیں ہوا ہے۔

یہ پورا علاقہ پٹیل ذات کے لوگوں کا ہے اور کھیتی باڑی سے منسلک تمام کسان پٹیل ذات کے ہونے کے باوجود بھی ریزرویشن کی طلب سے تعلق نہیں کیونکہ انھیں کیلے کی فصل سے ہونے والی کروڑوں کی آمدنی کی وجہ سے ریزرویشن کی طلب میں کوئی دلچسپی نہیں ہے۔

آنند سے لے کر بھروچ کے درمیان ہزاروں ایکڑ زمین پر زیادہ تر کسان کیلے ہی کی کاشت کرتے ہیں۔

وڈودرا گاؤں کے کسان اتيش پٹیل نے بی بی سی کو بتایا کہ ’میں گذشتہ دس سال سے کیلے کی کاشت کر رہا ہوں۔ میری فصل کا بڑا حصہ پاکستان جاتا ہے۔‘

اتیش پٹیل نے مزید بتایا کہ ’اس سے ہمیں اس لیے فائدہ ہوتا ہے کیونکہ ہمیں بھارتی بازاروں میں کیلے فروخت کرنےکی فکر نہیں رہتی۔ پاکستان کے ساتھ کاروبار کرنے والے ایجنٹ ہمارے فارم میں آتے ہیں اور پوری فصل کی قیمت لگا کر کھیت سے ہی براہ راست کیلے کنٹینر میں رکھ کر پاکستان بھیج دیتے ہیں۔‘

’پاکستان میں گجرات کے کیلے کی زیادہ طلب ہونے کی وجہ یہ ہے کہ پاکستان میں کیلے کی فصل نہیں ہوتی ہے۔‘

گجرات کے معروف زرعی ماہر پرمود چودھری نے بی بی سی کو بتایا کہ ’اس علاقے میں اتنی مقدار میں کیلے کی فصل ہونے کی وجہ کیلے کے لئے بہترین زمین ہونے کے ساتھ ساتھ سب سے اہم مناسب درجہ حرارت کا ہونا ہے۔‘

کیلے کی فصل کے لئے 22 سے 32 ڈگری کے درمیان درجہ حرارت سازگار ہے۔ اس سے کم یا زیادہ درجہ حرارت ہو تو کیلے کی فصل اچھی نہیں ہوتی ہے۔



کیلے کی فصل کے لئے زیادہ پانی کی ضرورت ہوتی ہے اور وہ بھی اس علاقے میں دستیاب ہے۔
کراچی: پاکستان ایئرلائن پائلٹس ایسوسی ایشن اور قومی ایئر لائن کے درمیان تنازع کے حل کے لئے پالپا کے وفد اور وزیر اعظم کے مشیر ہوابازی کے درمیان مذاکرات جاری ہیں۔

پالپا اور پی آئی اے کے درمیان تنازعے کے حل کے لئے اسلا آباد میں وزیر اعظم کے مشیر برائے ہوا بازی شجاعت عظیم اور پالپا کے وفد کے درمیان مذاکرات جاری ہیں، اس موقع پر پالپا کے صدر عامر ہاشمی نے انہیں اپنے مطالبات سے آگاہ کیا۔

پالپا اور پی آئی اے حکام کے درمیان چار روز سے جاری تنازع کے باعث اب تک درجنوں پروازیں منسوخ ہوگئی ہیں جب کہ متعدد تاخیر کا شکار ہے، چار روز کے دوران اب تک 60 پروازیں منسوخ ہوچکی ہیں جس کی وجہ سے ہزاروں مسافروں کو پریشانی کا سامنا ہے۔

بین الاقوامی پروازوں کی منسوخی و تاخیر اور مسافروں کو ہوٹلوں میں ٹھہرانے کی وجہ سے جہاں پی آئی اے کو کروڑوں روپے کا نقصان ہوچکا ہے اور اس میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے وہیں مسافروں کی پریشانی سے قطع تعلق نجی ایئرلائنز نے اندرون اور بیرون ملک اپنی پروازوں کے کرایوں میں اضافہ کردیا ہے۔
کراچی: پی آئی اے اور پائلٹس ایسوسی ایشن کی تنظیم پالپا کے درمیان جاری تنازع شدت اختیار کر گیا ہے جس کے بعد مسلسل تیسرے روز پروازوں کا شیڈول بری طرح متاثر ہے اور اب تک اندرون و بیرون ملک جانے والی 51 پروازیں منسوخ ہو چکی ہیں۔

پی آئی اے اور پالپا کے درمیان 16 گھنٹے سے زائد پرواز کرنے پر پائلٹوں کے لائسنس کی منسوخی کے معاملے پر شروع ہونے والا تنازع شدت اختیار کر گیا ہے اور ملک کے مختلف ایئر پورٹس سے اندرون و بیرون ملک جانے والی 51 پروازیں منسوخ ہو چکی ہیں جس کے باعث 5 ہزار سے زائد مسافروں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ اب تک کراچی سے 21، راولپنڈی سے 12 اور لاہور میں 10 پروازیں منسوخ ہو چکی ہیں۔

گزشتہ روز حکومت نے واقعہ کا نوٹس لیتے ہوئے معاملے کو سلجھانے کے لئے آج پی آئی اے اور پالپا حکام کا اجلاس اسلام آباد میں طلب کیا تھا تاہم پالپا کے صدر عامر ہاشمی نے ایکسپریس نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ حکومت معاملے کو حل کرنا چاہتی ہے اورنہ ہی ہمیں اجلاس میں شرکت کے لئے کوئی دعوت نامہ نہیں دیا گیا ہے۔

عامر ہاشمی کا کہنا تھا کہ مختلف چینلز پر اس قسم کی خبریں چل رہی ہیں کہ پالپا کو مذاکرات کے لئے بلایا گیا لیکن انھوں نے مذکرات سے انکار کردیا، اس قسم کی خبروں میں کوئی صداقت نہیں ہے، اگر مجھے بلایا جاتا تو جس طرح پہلے اجلاسوں میں شرکت کی آج کے اجلاس میں بھی شرکت کرتا۔

صدر پالپا کا کہنا تھا کہ اصل بات یہ ہے کہ ہماری تنظیم نے سول ایوی ایشن کی اینٹی ڈمپنگ پالیسی کی مخالفت کر رکھی ہے جو کہ چیرمین کا کام تھا، چونکہ ڈی جی سول ایوی ایشن شجاعت عظیم کا کاروبار ہے اور وہ غیر ملکی ہوائی کمپنیوں کے ساتھ تجارت کر رہے ہیں اس لئے پی آئی اے کو ترجیح نہیں دی جا رہی۔

عامر ہاشمی کا کہنا تھا کہ شجاعت عظیم کو سول ایوی ایشن کا کوئی تجربہ نہیں ہے اور وہ ایم ڈی پی آئی کے طور پر بھی کام کر رہے ہیں۔ شجاعت عظیم کو جو بات ڈائریکٹر فلائٹ آپریشن کہہ دیتے ہیں یہ وہی میڈیا میں آکر کہہ دیتے ہیں، دوسری جانب ڈائریکٹر فلائٹ آپریشن کا ذاتی مفاد بھی ہے کہ وہ 60 سال کے بعد بھی کام کرنا چاہتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ حکومت کے ساتھ پہلے بھی جو مذاکرات ہوئے، اس کے بعد جو معاہدہ ہوا اسے رد کر دیا گیا، ہمیں مسافروں کی پریشانی کا بھی احساس ہے اور اس پر ان سے معافی چاہتے ہیں لیکن حکومت معاملے کو سلجھانہ ہی نہیں چاہتی تو ہم کیا کر سکتے ہیں۔
اسلام آباد: سینٹرل پاورپرچیز اتھارٹی نے اگست کے لئے بجلی کی قیمت میں 2 روپے 40 پیسے فی یونٹ کمی کی درخواست کردی۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق سینٹرل پاور پرچیز اتھارٹی نے نیپرا کو کی گئی درخواست میں کہا ہے کہ اگست میں 10 ارب یونٹ بجلی فروخت کی گئی، بجلی کی پیداوار پر فیول لاگت 4 روپے 50 پیسے فی یونٹ آئی، اس لئے فیول ایڈجسٹمنٹ کی مد میں بجلی کی قیمت میں 2 روپے 40 پیسے فی یونٹ کمی کی جائے۔نیپرا سی پی پی اے کی جانب سے بجلی کی کمی کی درخواست کی سماعت 8 اکتوبر کو کرے گا۔

واضح رہے کہ جولائی کے لئے بھی بجلی کی قیمت میں 2 روپے 19 پیسے فی یونٹ کمی کی گئی تھی تاہم اس کا اطلاق ماہانہ 50 یونٹ سے کم استعمال کرنے والے اور کے الیکٹرک صارفین پر نہیں ہوگا.
کراچی: پی آئی اے انتظامیہ اور پالپا کے درمیان تنازعہ شدت اختیار کرگیا جب کہ پائلٹس کے اضافی ڈیوٹی سے انکار پر پی آئی اے کا شیڈول درہم برہم ہوگیا اور 2 روز میں اندرون ویبرون ملک جانے والی 41 سے زائد پروازیں منسوخ اور تاخیر کا شکار ہوئی ہیں۔


پی آئی اے اور پائلٹوں کی تنظیم پالپا کے درمیان تنازع شدت اختیارکرگیا یہ تنازع اس وقت پیدا ہوا جب پی آئی اے نے اپنی پروازوں پر اضافی فلائنگ کی وجہ سے 2 پائلٹوں کے لائسنس معطل کردیے جس کے بعد پالپا نے پی آئی اے انتظامیہ کے سامنے یہ مطالبہ رکھ دیا کہ طیاروں پر کپتانوں کی تعداد دگنی کی جائے۔ معاملہ گمبھیر ہونے پر گزشتہ روز بھی پی آئی اے کی دبئی، مسقط، کابل سمیت اندرون ملک اسلام آباد، لاہور، کوئٹہ، تربت، پنج گور کے درمیان تمام پروازیں منسوخ کرنا پڑیں، بعض پروازیں ری شیڈول کرنا پڑیں اور یہ سلسلہ اب بھی جاری ہے۔

پالپا کے صدر کیپٹن عامر ہاشمی کا کہنا ہے کہ پالپا کے صدر کیپٹن عامر ہاشمی کا کہنا تھا کہ موجودہ ڈائریکٹر فلائٹ آپریشن کی تعیناتی غیر قانونی ہے، فلائنگ کرنے کی حد ہوتی ہے لیکن پائلٹ کا خیال نہیں رکھا جارہاہے جب کہ پائلٹ پی آئی اے چھوڑ کردوسری ایئرلائن میں جارہے ہیں اور پی آئی اے مذاکرات کرنے کے لیے تیار نہیں ابھی پی آئی اے کے چیرمین پریس کانفرنس کرنیوالے ہیں اور ہمیں نہیں بلایا۔

دوسری جانب پی آئی اے ترجمان کا کہناہےپائلٹ کے لائسنس پی آئی اے نے نہیں بلکہ سول ایوی ایشن اتھارٹی نے معطل کئے تھے ،ترجمان نےاپنے بیان میں کہا کہ پالپا لیڈر شپ ذاتی مفادات کیلئے ایرلائن انتظامیہ کو بلیک میل کررہی ہے۔ ترجمان پی آئی اے کا کہنا ہے کہ پالپا کی ہڑتال کے باعث پی آئی اے کی پروازوں کا شیڈول بری طرح متاثر ہورہا ہے اور 2 روز میں 41 اندرون و بیرون پروازیں متاثر ہوئی ہیں جن میں دمام،کویت،دبئی،ابو ظبی کی پروازیں شامل ہیں جب کہ ادارے کو کروڑوں روپوں کا نقصان بھی ہوا ہے۔ ترجمان کے مطابق ہڑتال کے باعث 5 ہزار سے زائد متاثر بھی متاثر ہوئے ہیں اور حج آپریشن بھی جزوی طورپر متاثر ہورہا ہے۔

ادھر چیرمین پی آئی اے ناصر جعفر نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ سی بی اے ملازمین اور مسافروں نے بہت تعاون کیا مگر موجودہ صورتحال سے مسافر پریشان ہیں جب کہ پائلٹس سے ہڑتال ختم کرنے کی درخواست کرتا ہوں اور ان سے کہتا ہوں کہ وہ اگر 10 گھنٹے کام کرنا چاہتے ہیں ہم اس پر بھی تیار ہیں مگر وہ کام کرنے پر آمادہ تو ہوں۔ انہوں نے کہا کہ پائلٹوں کے ساتھ ایسا کیا ہوا کہ وہ ہڑتال پر ہیں جب ہم نےپائلٹ سے بات کی تو ان کا کہنا تھا ہم بیمار ہیں جب کہ پالپا کے ساتھ مذاکرات کے دروازے کھلے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ پی آئی اے میں 12 ، 12 ماہ تک بات چیت چلتی رہی ہے لیکن کبھی بھی ایسا نہیں ہوا کہ جہاز کھڑے کردیے گئے ہوں جب کہ ہم کوئی بھی کام کریں گے اس میں کمپنی کا فائدہ تو دیکھیں گے۔

واضح رہے کراچی سے سیالکوٹ اور سیالکوٹ سے ریاض لے جانے والے2پائلٹوں کے لائسنس16گھنٹے مسلسل پرواز پر معطل کردیے گئے تھے جس پر پالپا نے شدید احتجاج کرتے ہوئے تمام پائلٹس کوہدایت کردی کہ کوئی بھی پائلٹ سول ایوی ایشن کے قواعد کے مطابق 10 سے زائد پرواز آپریٹ نہیں کرے گا۔
اسلام آباد: سینیٹ کمیٹی برائے خزانہ کے اجلاس میں بینکوں کی جانب سے صارفین کو جعلی نوٹ جاری کیے جانے کا انکشاف ہوا ہے۔ 

سینٹ کمیٹی برائے خزانہ کااجلاس چیرمین سلیم مانڈوی والا کی زیر صدارت ہوا جس میں کمیٹی کو اسٹیٹ بینک کے امور پر بریفنگ دی گئی، بینک حکام نے بتایا کہ 2017ء تک بینکوں کیلئے سسٹم تشکیل دے دیں گے جب کہ کمیٹی نے خیبر پختونخوا میں بینکوں سے کم قرضوں کی فراہمی پر تشویش کا اظہار کیا۔

سلیم مانڈوی والا کا کہنا تھا کہ بینکوں نےصارفین کو جعلی نوٹ جاری کیے اور بینکوں سے دی جانے والی نقدی رقم میں بھی جعلی نوٹ ہوتے ہیں جس پر اسٹیٹ بینک حکام نے جواب دیا کہ بینک کوئی بھی نوٹ چیک کیے بغیرجاری نہیں کرتا تاہم کرنسی کی تصدیق کی مشینیں بینکوں کو لینا پڑیں گی اور ہم جعلی نوٹوں کوچیک کرنےکے لیے 2 مشینیں خرید رہے ہیں۔ کمیٹی نے اسٹیٹ بینک کو ہدایت دی کہ 2017 تک نوٹوں کےتصدیق کے لیے ہربرانچ میں مشینیں لگائی جائیں۔
اسلام آباد:حکومت نے فرنس آئل پر جنرل سیلز ٹیکس (جی ایس ٹی) کی شرح 17 فیصد سے بڑھا کر 20 فیصد کردی ہے جس کے باعث ملک بھر کے بجلی صارفین پر 5 ارب روپے ماہانہ بوجھ پڑے گا.

نوٹیفکیشن  کے مطابق وزارت خزانہ کی ہدایت پر فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے فرنس آئل پر جی ایس ٹی 3 فیصد بڑھا دیا ہے.

نوٹیفکیشن کے مطابق یکم اکتوبر سے فرنس آئل کی درآمد اور سیل پر جی ایس ٹی کی شرح 20 فیصد لاگو ہوگی۔

ذرائع کے مطابق عالمی مارکیٹ میں فرنس آئل کی قیمت میں مسلسل کمی سے ایف بی آر کو ریونیو شارٹ فال کا سامنا تھا، یہی وجہ ہے کہ وزیر خزانہ نے وزیراعظم سے مشاورت کے بعد جی ایس ٹی کی شرح میں اضافے کی ہدایت جاری کی.

واضح رہے کہ عالمی مارکیٹ میں فرنس آئل سستا ہونے کے باعث بجلی صارفین کو گذشتہ چند ماہ سے ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ کی مَد میں ریلیف مل رہا تھا، تاہم فرنس آئل پر جی ایس ٹی میں اضافے سے بجلی صارفین پر بوجھ بڑھے گا.

حکومت فرنس آئل کے علاوہ ہائی اسپیڈ ڈیزل پر 50 فیصد، پٹرول پر 26 فیصد، ہائی آکٹین پر 24 فیصد، مٹی کے تیل پر 30 فیصد اور لائٹ ڈیزل پر 29.5 فیصد جی ایس ٹی وصول کررہی ہے جبکہ پارلیمنٹ سے منظور شدہ بجٹ دستاویز میں جی ایس ٹی کی شرح 17 فیصد ہے۔
اسلام آباد: وفاقی وزیرخزانہ اسحاق ڈار کا کہنا ہے کہ زرمبادلہ کے ذخائر 20 ارب ڈالر سے تجاوز کرگئے ہیں جو ملکی کی تاریخ کی بلند ترین سطح ہے۔

اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیرخزانہ اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ زرمبادلہ ذخائر ملکی تاریخ میں پہلی مرتبہ بلند ترین سطح پر ہیں جو 20 ارب ڈالر سے تجاوز کرگئے ہیں جب کہ آئی ایم ایف سے گزشتہ قرضوں کی واپسی کے لیے نیا پروگرام لیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اسٹیٹ بینک کے پاس 15 ارب ڈالر سے زائد ہیں اور کمرشل بینکوں کے پاس 4 ارب 83 کروڑ ڈالر ہیں جب کہ ٹیکس نمبر رکھنے والوں سے ود ہولڈنگ ٹیکس نہیں لیا جارہا ہے۔

واضح رہے آئی ایم ایف نے آج پاکستان کو 50 کروڑ 64 لاکھ ڈالر کی آٹھویں قسط جاری کردی ہے جس کے بعد آئی ایم ایف پروگرام کے تحت پاکستان کو 4.06 ارب ڈالر موصول ہوچکے ہیں جب کہ ایگزیکٹو بورڈ نے پاکستان کے لیے 3 سالہ پروگرام کے تحت 6.18 ارب ڈالر قرض منظور کیا تھا۔
اسلام آباد: ایل پی جی مارکیٹنگ کمپنیوں نے اوگرا کی منظوری کے بغیر ہی 3 روز میں دوسری مرتبہ گیس کی قیمت میں 10 روپے فی کلو اضافہ کردیا ہے۔

مارکیٹنگ کمپنیوں نے ایک بار پھر اپنی من مانی کرتے ہوئے ایل پی جی کی قیمتوں میں 10 روپے فی کلو اضافہ کردیا ہے۔ ایل پی جی کی قیمت میں اضافے سے گھریلو سلنڈر کی قیمت میں 240روپے جب کہ کمرشل سلنڈر کی قیمت میں 480 روپے کا اضافہ ہو گیا ہے۔

واضح رہے کہ2 روز قبل بھی مارکیٹنگ کمپنیوں نے ایل پی جی کی قیمت میں 10 ر وپے فی کلو کا اضافہ کیا تھا جب کہ اوگرا حکام کا کہنا ہے کہ ایل پی جی کی قیمتیں ان کی جانب سے نہیں بڑھائی گئیں۔
دنیا میں پرسنل کمپیوٹر بنانے والی سب سے بڑی کمپنی ہیولٹ پیکارڈ کا کہنا ہے کہ وہ 25 کی 30 ہزار ملازمین کی نوکریاں ختم کر رہی ہے۔ یہ اعلان بھی ان ہی اقدامات کا حصہ ہیں جس کے تحت رواں سال نومبر میں ایچ پی کمپنی دو حصوں میں تقسیم ہو جائے گی۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ آنے والے دنوں میں ہیولٹ پیکارڈ یعنی ایچ پی انٹرپرائز کو نقصانات کا سامنا کرنا پڑے گا اور اسی وجہ سے کمپنی کو پرسنل کمپیوٹر اور پرنٹر کے کاروبار میں تقسیم کر دیا جائے گا۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ نوکریوں میں کٹوتی سے 2 ارب 70 کروڑ ڈالر کی سالانہ بچت ممکن ہوسکے گی۔ تاہم اس منصوبے پر عملدرآمد کے لیے بھی کمپنی کو 2 ارب 70 کروڑ ڈالر درکار ہوں گے۔ ہیولٹ پیکارڈ کی چیئر پرسن اور چیف ایگزیکٹو میگ وِہٹمین نے وال سٹریٹ کے تجزیہ کاروں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’ہم گذشتہ کئی سالوں سے اخراجات کم کرنے اور کام کے طریقہ کار کو آسان بنانے پر غو کر رہے ہیں۔ اور ان آخری اقدامات کے بعد مستقبل میں ادارے کی مزید تنٌظیم نو کی ضرورت نہیں پڑے گی۔ وقت کے ساتھ ڈیسک ٹاپ کمپیوٹر کا مطالبہ کم ہونے کے باعث ایچ پی کوگذشتہ دہائی سے مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ سنہ 2012 سے ایچ پی کمپنی نے تنظیم نو شروع کی اور ادارہ پہلے ہی 55 ہزار ملازمین کو برخاست کرنے کے منصوبے پر کام کر رہا ہے۔

کراچی.....اسٹیٹ بینک نے نئی مانیٹری پالیسی کا اعلان کر دیا ۔اسٹیٹ بینک نے اگلے 2 ماہ کیلئے شرح سود اعشاریہ 5 فیصد کم کرکے 6 فیصد کردی۔ اسٹیٹ بینک نے اگلے دو ماہ کیلئے مانیٹری پالیسی کا اعلان کرتے ہوئے بنیادی شرح سود یا پالیسی ریٹ 6اعشاریہ 5 فیصد سے کم کرکے 6 فیصد کردی ہے۔ مانیٹری پالیسی اعلامیہ میں مرکزی بینک کا کہنا ہے کہ امن و امان میں بہتری کے علاوہ پاک چین اقتصادی راہداری بننے سے سرمایہ کاری کا ماحول مزید بہتر ہوگا، مستقبل میں بڑی صنعتوں کی پیداوار اور زرمبادلہ ذخائر میں مزید بہتری کی امید ہے۔ اسٹیٹ بینک نے واضح کیا ہے کہ برآمدات اور سرمایہ کاری میں اضافہ کرنا معیشت کیلئے انتہائی ضروری ہے۔ ملک میں مہنگائی کم ہوئی ہے تاہم بجلی پر سبسڈی کے خاتمے سے مہنگائی بڑھنے کا خطرہ موجود ہے۔ بنیادی شرح سود کم ہونے سے جہاں کراچی اسٹاک ایکس چینج کو تقویت ملے گی، صنعتوں اور عام افراد کو سستا قرض ملے گا وہیں بینک اکاونٹس پر منافع بھی کم ہوجائے گا۔

کراچی: ایف بی آر نے واجبات کی عدم ادائیگی پر قومی ایئرلائن کا اکاؤنٹ منجمد کردیا۔ فیڈرل بورڈ آف ریونیو نے واجبات کی عدم ادائیگی پر پی آئی اے کا اکاؤنٹ منجمد کردیا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ایف بی آر کی جانب سے پی آئی اے کو کئی بار نوٹس جاری کیے گئے لیکن جواب نہ دیئے جانے پر اکاؤنٹ منجمد کیے گئے جب کہ قومی ایئرلائن کا اکاؤنٹ منجمد ہونے سے ملازمین کی تنخواہیں بھی تاخیر کا شکار ہوگئی ہیں۔

دوسری جانب ترجمان پی آئی اے نے ایف بی آر کی جانب سے قومی ایئرلائن کے اکاؤنٹس منجمد ہونے کی خبر کی تردید کی ہے۔

کراچی: عالمی مارکیٹ میں سونے کی قیمتوں میں کمی کے بعد پاکستان میں بھی سونے کی قیمت میں 300 روپے فی تولہ کمی دیکھی گئی۔سندھ صرافہ ایسوسی ایشن کے مطابق کمی کے بعد فی تولہ سونے کی قیمت 45 ہزار 800 روپے ہوگئی۔اس کے علاوہ 10گرام سونے کی قیمت میں 257 روپےکی کمی دیکھی گئی جس کے بعد اس کی قیمت قیمت 39 ہزار 257 روپے ہوگئی ہے۔سونے کی قیمتوں میں گرواٹ کا سلسلہ پچھلے کئی ماہ سے جاری ہے اور یورپی ممالک سمیت کئی بڑے سینٹرل بینکس مسلسل سونے کے ذخائر فروخت کر رہے ہیں، جس کی وجہ سے سونے کی فی اونس قیمت عالمی سطح پر کم ہورہی ہے۔تجزیہ کار سونے کی قیمت میں مزید کمی کی پیشگوئی کررہے ہیں۔
کراچی: سابق صدرآصف زرداری کے بیان اور پیپلزپارٹی کا نیا سیاسی محاذ کھولے جانے سے سیاسی افق پرغیریقینی صورتحال غالب ہونے، عالمی سطح پر مندی کی وجہ سے مقامی مارکیٹوں سے بھی غیرملکیوں کے سرمائے کے انخلا کے خدشات اور گیس ٹیرف میں اضافے سے بعض فرٹیلائزر کمپنیوں کی پیداواری لاگت بڑھنے جیسے عوامل منگل کوکراچی اسٹاک ایکس چینج کی سرگرمیوں پر اثرانداز رہے اور مارکیٹ اتارچڑھاؤ کے بعد مندی کے گرداب میں چلی گئی جس سے انڈیکس کی3حدیں بیک وقت گرگئیں جبکہ سرمایہ کاروں کے53 ارب21 کروڑ91 لاکھ18 ہزار416 روپے ڈوب گئے۔

ماہرین اسٹاک کا کہنا تھا کہ افراط زرکی شرح 13 سال کی کم ترین سطح پر آنے سے اس بات کا امکان پیدا ہو گیا ہے کہ نئی مانیٹری پالیسی میں شرح سودمزید کم ہوسکتی ہے لیکن اس سے بینکنگ سیکٹر کا پرافٹ مزید کم ہونے کا خدشہ ہے، یہی وجہ ہے کہ منگل کو بینکنگ اور فرٹیلائزر سیکٹر میں فروخت کا دباؤ زیادہ رہا، کاروباری دورانیے میں ایک موقع پر187.43 پوائنٹس کی تیزی بھی رونما ہوئی لیکن فوری منافع کے حصول پر رحجان غالب ہونے سے مذکورہ تیزی زیادہ دیر برقرار نہ رہ سکی اور مارکیٹ مندی میں چلی گئی۔

کاروبارکے اختتام پر کے ایس ای100 انڈیکس270.17 پوائنٹس کی کمی سے34456.34 ہوگیا جبکہ کے ایس ای30 انڈیکس169.74 پوائنٹس کی کمی سے21048.67 اور کے ایم آئی30 انڈیکس433.90 پوائنٹس کی کمی سے57401.12 ہوگیا، کاروباری حجم پیر کی نسبت0.13 فیصد زائد رہا اور مجموعی طور پر35 کروڑ35 لاکھ37 ہزار810 حصص کے سودے ہوئے جبکہ کاروباری سرگرمیوں کا دائرہ کار401 کمپنیوں کے حصص تک محدود رہا جن میں112 کے بھاؤ میں اضافہ، 270 کے داموں میں کمی اور19 کی قیمتوں میں استحکام رہا۔