Articles by "ٹیکنالوجی"
‏ٹیکنالوجی لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
لندن: کیا آپ بھی ان لاکھوں لوگوں میں شامل ہیں جو نماز کی ادائیگی کے دوران اچانک موبائل فون بج اٹھنے سے پریشان ہیں تو آپ کے لئے خوشخبری ہے کہ اس سلسلے میں ایک نئی موبائل ایپ تیار ہوچکی ہے۔

بھاگتی دوڑتی زندگی میں موبائل فون کے بغیر زندگی کا تصور نہیں کیونکہ موبائل فون آپ کا ہر وقت کا ساتھی بن چکا ہے، یہاں تک کہ مسجد میں بھی اور اگر آپ نے لشکارے مارتی رنگیلی رنگ ٹون سیٹ کررکھی ہو اور نماز کی ادائیگی کے دوران آپ کا موبائل بج اٹھے تو شرمندگی بھی اسی قدر ہوتی ہے کیونکہ یہ ناصرف آپ بلکہ دوسروں کی عبادت میں بھی مخل ہوتی ہے۔

نماز کی ادائیگی کے دوران عام طور پر لوگ اپنے موبائل فون یا تو بند کردیتے ہیں یا پھر سائلنٹ لیکن کبھی کبھا لوگ اسے اس احتیاطی تدبیر کو اختیار کرنا بھول جاتے ہیں۔ ایسے لوگ جو اپنا موبائل فون سائلٹ یا بند کرنا بھول جاتے ہیں ان کے لئے خوش خبری یہ ہے کہ اب ان کا موبائل فون خود بخود سائلنٹ موڈ پر چلا جائے گا، بس اس کے لئے آپ کو اپنے اینڈرائیڈ موبائل فون پر ’’صلاتی‘‘ کو ڈاؤن لوڈ کرنا پڑے گا۔ اس ایپلی کیشن کو فعال کئے جانے کے بعد دوران نماز آپ کا موبائل خوبخود ہی سائلنٹ موڈ پر چلا جائے گا۔
سان فرانسسكو: اب فیس بک پر دوستوں کو سالگرہ کی مبارک باد کا سادہ ٹیکسٹ بھیجنے کے ساتھ ساتھ انہیں ویڈیو کے ذریعے ’’ہیپی برتھ ڈے‘‘ بھی کہا جاسکتا ہے۔

فیس بک اگلے چند روز میں ’’برتھ ڈے کیم‘‘ متعارف کرارہا ہے جس پر آپ اپنے دوستوں کے لیے 15 سیکنڈ کی تہنیتی ویڈیو ریکارڈ کرکے اپنے دوست کو جنم دن کی مبارک باد دے سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ آپشن میں بنے بنائے فریمز ، ٹیکسٹ اور پس منظر موجود ہیں جنہیں ویڈیو میں شامل کرکے انہیں مزید دلچسپ بنایا جاسکتا ہے۔

ویڈیو پیغام کے لیے جب آپ سالگرہ کے نوٹیفکیشن پر ٹیپ یا کلک کریں گے تو میسج باکس کھل جائے گا لیکن اس کے نیچے نیلے رنگ میں لکھا ہوگا ‘Record a birthday video’ اس پر کلک کرتے ہی اسمارٹ فون کا کیمرہ کھل جائے گا اور ریکارڈنگ شروع ہوجائے گی۔ ویڈیو پیغام ریکارڈ کرنے کے بعد آپ سوائپ کرکے بہت سے فریمز، کلر اسکیم اور رنگا رنگ اشیا سے ویڈیو کو مزید خوبصورت بناسکتے ہیں۔ اسی طرح سالگرہ کے پیغام میں فیس فرنٹ آپشن کے ذریعے دیگر بہت سے لوگوں کو شامل کیا جاسکتا ہے۔ اس کے علاوہ ویڈیو میں ری ٹیک کرکے دوبارہ ریکارڈ کرنے کا آپشن بھی موجود ہے ۔ ویڈیو تیار ہونے کے بعد آپ اسے اپ لوڈ کرسکتے ہیں جنہیں آپ کا دوست دیکھ لے گا۔

فیس بک کے مطابق صارفین اپنے دوستوں کو بہت مختصرا پیغام لکھتے ہیں جس کی ایک مثال HBD بھی ہے اور اسی بنا پر یہ ویڈیو آپشن شروع کیا گیا ہے تاکہ لوگ بھرپور انداز میں دوستوں کو مبارک باد دے سکیں۔
گذشتہ ماہ انٹرپرینیورشپ کے موضوع پر مضامین کے سلسلے کے بعد کئی افراد کی طرف سے یہ رائے آئی کہ ہم کچھ کرنا چاہتے ہیں، لیکن معلومات کی کمی کی وجہ سے فیصلہ سازی میں شدید مشکلات ہیں۔ اس لیے اس بارے میں مزید کچھ تحریر کریں، جبکہ کچھ خواتین و حضرات کوئی پارٹ ٹائم ‘وائٹ کالر’ کاروبار کرنا چاہتے ہیں، لیکن سمجھ نہیں آتی کیا کریں۔
سوچ بچار کے بعد میں نےفیصلہ کیا ہے کہ آئی ٹی سے وابستہ وہ کریئر جو کم وقت اور کم سرمایہ سے شروع ہوں، ان کی معلومات اکٹھی کر کے پیش کی جائیں۔ اس سلسلے میں پہلے مضمون کے لیے میں نے ویب سائٹ کے موضوع کا انتخاب کیا ہے۔ میرے خیال میں یہ مضمون ایسے تمام دوستوں کے لیے مفید ثابت ہوگا:
  • جو پہلے ہی سے اس بزنس سے وابستہ ہیں، اور ان معلومات سے ان کے کام میں بہتری آسکتی ہے.
  • وہ نوجوان جو انٹرپرینیورشپ شروع کرنا چاہتے ہیں.
  • ایسے خواتین و حضرات جو اپنے فارغ وقت کو استعمال کر کے کمانا چاہتے ہیں۔
  • وہ بے روزگار افراد جو نوکری کے لیے کسی ہنر کی تلاش میں ہیں.

ویب سائٹ ڈیزائننگ کہاں سے سیکھیں؟

ویب سائٹ ڈیزائننگ کی بنیادی تعلیم حاصل کرنے کے لیے کم از کم میٹرک تعلیم درکار ہوتی ہے۔ یہ خواتین و حضرات دونوں کرسکتے ہیں۔ اس کا بنیادی کورس تین ماہ کا ہوتا ہے، جس کے بعد مزید چار سے چھ ماہ کے مختلف اعلیٰ کورسز بھی ہوتے ہیں، جن کے لیے کم از کم ایف اے کی تعلیم درکار ہوتی ہے۔
ویب سائٹ ڈیزائننگ سیکھنے کے لیے پاکستان میں دونوں طریقے موجود ہیں، یعنی رسمی اور غیر رسمی طریقہ تعلیم۔ آپ اپنی پسند کے کسی بھی طریقے کا انتخاب کرسکتے ہیں۔

ویب سائٹ ڈیزائننگ کی تعلیم کے رسمی طریقے

پاکستان بھر میں ہزاروں کی تعداد میں سرکاری اور نجی ادارے اس کی بنیادی اور اعلیٰ تعلیم دے رہے ہیں، جن کی فیس پانچ ہزار سے بیس ہزار تک ہے، جبکہ صوبہ پنجاب میں ’’یو کے ایڈ‘‘ کے تعاون سے مختلف ووکیشنل ٹریننگ انسٹیٹیوٹ میں مستحق افراد کو نہ صرف مفت تربیت بلکہ ماہانہ وظیفہ بھی دیا جاتا ہے۔
اس کے علاوہ ہر صوبے میں فنی تعلیم کے لیے قائم ٹیکنیکل اینڈ ووکیشنل ٹریننگ اتھارٹی ( ٹیوٹا) کے سرکاری ادارے قائم ہیں۔ جہاں اس کی سستی اور معیاری تعلیم دی جاتی ہے۔ اکثر بڑی یونیورسٹیاں بھی چھٹیوں میں اس کے شارٹ کورسز کرواتی ہیں۔

ویب سائٹ ڈیزائننگ کی تعلیم کے غیر رسمی طریقے

اگر آپ کسی وجہ سے (مثلاً عمر زیادہ ہے، خاتون خانہ ہیں، جاب کرتے ہیں، یا طالب علم ہیں) اور کسی تعلیمی ادارے میں جا کر باقاعدہ کلاسز نہیں لے سکتے، تو بھی کوئی مسئلہ نہیں۔ آپ ویب سائٹ ڈیزائننگ کی مہارت غیر رسمی طریقوں سے حاصل کرسکتے ہیں۔ مارکیٹ میں اردو اور انگریزی زبان میں بہت سی کتابیں، اور ویڈیو سی ڈیز اس موضوع پر دستیاب ہیں، جبکہ آن لائن یوٹیوب سمیت بے شمار ویب سائٹ پر اس سلسلے میں ویڈیو لیکچرز دستیاب ہیں۔
آن لائن ویڈیو کورسزکے لیے ایک بڑی مشہور ویب سائٹ lynda ہے جو 1995 سے کام کر رہی ہے اور lynda نامی ایک امریکی خاتون نے قائم کر رکھی ہے۔ اس کی کچھ ممبر شپ فیس ہے لیکن اس کے ویڈیو کورسز بہت معیاری ہیں۔ میں نے خود "کورل ڈرا" کا کورس lynda سے صرف تین دن میں مکمل کیا تھا جس کی بدولت مجھے نہ صرف مالی بچت ہوئی بلکہ وقت اور توانائی سمیت اضافی زحمت سے بھی نجات ملی۔

ویب سائٹ ڈیزائننگ سیکھ لی، اب کیا کریں؟

وہ افراد جو ابھی کاروبار کرنے کی پوزیشن میں نہیں، ان کو یہ ہنر سیکھنے کے بعد نوکری ملنے کے امکانات زیادہ ہوجائیں گے۔ مارکیٹ میں چھوٹی اور درمیانے درجہ کی آرگنائزیشنز، اخبارات، میڈیا ہاؤسز، مالیاتی ادارے، امپورٹ/ ایکسپورٹ، ای کامرس سے وابستہ اداروں، سوفٹ ویئر ہاؤسز، این جی اوز وغیرہ میں ایسے افراد کی شدید ضرورت ہوتی ہے اور ہنرمند افراد کو زیادہ جلدی وائٹ کالر جاب مل جاتی ہے۔
آج کل مارکیٹ میں ایف اے پاس افراد جن کو ویب ڈیزائننگ خاص طور پر پی ایچ پی (PHP) میں ایک سالہ تجربہ ہو، 25 ہزار روپے ماہانہ کی تنخواہ پر جاب مل جاتی ہے ۔ جب کہ بی اے، ایم اے اور ایک سالہ کام کے تجربہ کار افراد کو صرف 15 سے 20 ہزار سے تک کی جاب مل رہی ہے۔
دیگر وہ افراد جو فل ٹائم یا پارٹ ٹائم کوئی بزنس کرنا چاہتے ہیں، وہ ہنر کو بزنس کے لیے بطور اوزار استعمال کر کے جلدی ترقی کرسکتے ہیں خاص طور پر اگر آپ کے پاس بزنس شروع کرنے کے لیے بنیادی سرمائے کی کمی ہے۔ اس کے دو بزنس ماڈل ہیں۔ آپ اپنے حالات کے مطابق کسی ایک بزنس ماڈل کا انتخاب کرسکتے ہیں۔

فری لانسنگ یا پراجیکٹ کی بنیاد پر

اس بزنس ماڈل میں آپ اپنے گاہک کی ضرورت کے مطابق اس کی ویب سائٹ ڈیزائننگ کرتے ہیں اور طے شدہ معاوضہ وصول کرتے ہیں۔ اس کام کو آپ گھر میں بیٹھ کر یا چھوٹے آفس یا شیئر آفس کی صورت میں کرسکتے ہیں۔ اس طرح کے کام کرنے والوں کو فری لانسرز بھی کہتے ہیں۔ لوکل مارکیٹ میں اس وقت چھوٹی ویب سائٹ کی تیاری، جس میں تقریباً دو دن سے کم وقت صرف ہوتے ہیں، پر معاوضہ 6 سے 7 ہزار روپے آسانی سے مل جاتے ہیں جبکہ بڑی یا میڈیم سائز ویب سائٹ کی صورت میں یہ معاوضہ ہزاروں روپے تک ہوتا ہے۔

بیرون ملک سے کام حاصل کرنا

اگر آپ کو انگریزی زبان میں مہارت ہے تو آپ اپنے گھر میں بیٹھ کر بیرون ملک سے بھی کام حاصل کرسکتے ہیں۔ اس وقت دنیا بھر، خاص طور پر ہندوستان، پاکستان اور بنگلہ دیش میں ہزاروں کی تعداد میں خواتین و حضرات اپنے گھر میں بیٹھ کر دنیا بھر سے کام حاصل کر رہے ہیں اورحقیقت میں ماہانہ ہزاروں ڈالرز کما رہے ہیں۔
دونوں افراد (کام دینے والے اور کام کرنے والے) میں رابطے کے لیے کافی ساری ویب سائٹس قائم ہیں۔ یہ ویب سائٹ (دونوں افراد سے) کام مکمل کرنے کے بعد بل میں سے اپنا کمیشن وصول کرتی ہیں لیکن ان کی سروس اتنی شاندار ہے کہ ان کا کمیشن ادا کرتے ہوئے خوشی ہوتی ہے۔ ای لانس، او ڈیسک، گرو،فری لانسر، 99 ڈیزائنز، اور مائیکرو ورکرز اس طرح کی مشہور ویب سائٹس ہیں۔

اپنی مصنوعات/خدمات کی فروخت

اس بزنس ماڈل میں آپ اپنی ذاتی ویب سائٹ تیار کرتے ہیں اور خود اپنی کوئی مصنوعات یا خدمات آن لائن فروخت کے لیے پیش کرتے ہیں۔ یہ چیزیں بھی ہوسکتی ہیں جیسے موبائل، کتابیں، کپڑے، وغیرہ اور خدمات بھی جیسے سوفٹ ویئر، آرٹ ورک، لوگو ڈیزائن وغیرہ۔
اس کے علاوہ آپ اپنی ویب سائٹس سے عوام الناس یا مارکیٹ کے کسی خاص طبقے کے درمیان رابطے کا کام کرنے کی خدمات پیش کرسکتے ہیں جس کی مثالیں جاب/شادی کی ویب سائٹ، جائیداد/گاڑیوں کی خرید و فروخت کی ویب سائٹ، زمین ڈاٹ کام، روزی پی کے، پاک ویلز ڈاٹ کام ہیں۔ اس بزنس ماڈل میں آمدنی کے ذرائع، ممبر شپ/رجسٹریشن فیس اور اشتہارات ہیں۔ اس طرح کے کام کرنے والے افراد کو ’ویب انٹرپرینیور‘ کہتے ہیں۔

بس ہمت کریں

دوسرے شعبہ جات کے طرح اس شعبے کے مزید بہت سے فوائد ہیں اور اسی طرح اس میں کچھ نہ کچھ مشکلات بھی ضرور ہوں گی، جن سب کو یہاں بیان نہیں کیا جاسکتا۔ لیکن مشکلات در اصل ایک موقع بھی تو پیدا کرتی ہیں۔ اگر کچھ دن غور و فکر کے بعد آپ اس نتیجے پر پہنچتے ہیں کہ آپ نے اس فیلڈ میں قدم رکھنا ہے تو پھر دیر مت کریں اور ہمت کریں، تمام مشکلات آہستہ آہستہ خود ہی دور ہوجائیں گی اور کچھ ہی سالوں کے بعد آپ ایک بہتر، خوشحال اور باوقار زندگی بسر کر رہے ہوں گے
بشکریہ ڈان نیوز 
لندن: مجازی دنیا (ورچول ورلڈ) پر مبنی ایک نئی سوشل نیٹ ورک ویب سائٹ پر اس وقت ہزاروں افراد رکن بن چکے ہیں جہاں آپ اپنے اوتار کو ایک مجازی تھری ڈی دنیا میں داخل کرکے اپنے قریبی دوستوں سے گفتگو کرسکتے ہیں یا پرائیوٹ چیٹ بھی شروع کرسکتے ہیں لیکن اس کے لیے آنکھوں پر پہنا جانے والا ایک خاص ہیڈسیٹ درکار ہوگا یا وہ کسی اسمارٹ فون سے بھی بنایا جاسکتا ہے۔

وی ٹائم نامی یہ دنیا کی پہلی موبائل ورچول ویب سائٹ ہے جہاں آپ موبائل کے ذریعے کسی بھی مجازی مرکز میں داخل ہوکر اپنے دوستوں سے ملاقات کرسکتے ہیں اورایک نئے احساس کے ساتھ اپنے دوستوں سے مل سکتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق وی ٹائم ویب سائٹ فیس بک کی جگہ لے سکتی ہے۔

برطانوی شہر لیورپول کی فرم اسٹارشپ نے یہ انوکھی سوشل میڈیا ویب سائٹ تیار کی ہے جس سے نئے اسمارٹ وی آر فون یا پھر گوگل کے کم خرچ کارڈبورڈ (گتےکا) وی آر نظام کے ذریعے اس ورچول ریئلیٹی سوشل نیٹ ورکنگ سائٹ کا لطف اٹھایا جاسکتا ہے۔ وی ٹائم سے وابستہ کمیونیکشن ماہرین کا کہنا ہے کہ ویب سائٹ کو مختلف علاقوں میں رہنے والے لوگ تجارتی اور کاروباری مقاصد کے لیے استعمال کررہے ہیں جن میں وہ اپنے ساتھیوں سے مجازی طور پر مل سکتے ہیں اور بات کرسکتے ہیں۔ اس کے علاوہ دور رہنے والے دوست ورچول ہیڈ سیٹ کے ذریعے بھی ایک دوسرے سے مل رہے ہیں۔

فیس بک کی طرح اس میں پیغامات، دوستوں کی لسٹ ، آپ کی نمائندگی کرنے والے ورچول کردار اور دیگر بہت سے آپشن موجود ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اگر کسی کے پاس آنکھوں پر پہنا جانے والا ہیڈسیٹ یا کارڈ بورڈ سیٹ نہیں تب بھی وہ گفتگو میں شامل ہوسکتا ہے اور اپنا نمائندہ بھی پیش کرسکتا ہے۔ خواہ وہ فون ہویا ٹیبلٹ اس کے ذریعے ویڈیو ، تصاویر اور دستاویز کا تبادلہ بھی کیا جاسکتا ہے۔

نیویارک: مصنوعی ذہانت تیزی سے ہماری روزہ مرہ زندگی میں داخل ہوکر اسے نہ صرف جدید بنا رہی ہے بلکہ اس میں حیرت انگیز تبدیلیاں بھی لارہی ہے اور اب سماجی رابطوں کی ویب سائٹ فیس بک کے بانی مارک زکربگ کا کہنا ہے کہ وہ ایسی مصنوعی ذہانت تخلیق کرنا چاہتے ہیں جو ان کے اور گھر کے کاموں میں مددگار ہو اور گھر میں اس کی عدم موجودگی کے باوجود اس کی موجودگی کو ظاہر کرے۔


فیس بک پر شائع ہونے والی اپنی پوسٹ میں فیس بک کے بانی کا کہنا ہے کہ رواں سال ان کا ایک ذاتی چیلنج ہالی ووڈ کی معروف ترین فلم ’’آئرن مین‘‘ میں دکھائے جانے والے بٹلر (ملازم) جاروِس کی طرز کی ایک مصنوعی ذہانت یعنی ’’سادہ اے آئی‘‘ کی تخلیق ہوگا جس میں ہر کام کمپیوٹر انجام دیتا ہے اور اسے جب کسی چیز کی ضرورت محسوس ہوتی تو وہ حاضر ہوجاتی ہے۔ زکر برگ نے کہا کہ وہ اس منصوبے سے متعلق ہونے والی پیش رفت سے لوگوں کو آگاہ کرتے رہیں گے۔

زکر برگ کا اپنے منصوبے کی وضاحت کرتے ہوئے کہنا تھا کہ وہ اے آئی بنانے کا آغاز پہلے سے موجود ٹیکنالوجی کے ذریعے کریں گے، وہ اس اے آئی کو اپنی آواز پہچاننا سکھائیں گے تاکہ وہ اپنے گھر کی ہر چیز کو اس کے ذریعے کنٹرول کرسکیں اور وہ موسیقی اور روشنیوں سے لے کر گھر کے درجہ حرارت تک سے آگاہ رہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اس منصوبے کی تمام ٹیکنالوجی وہ خود بنا رہے ہیں اس لیے ان کا کہنا ہے کہ وہ اس پروگرام کے کوڈز خود لکھنا ان کے لیے ذہانت کا متقاضی لیکن ایک دلچسپ چیلنج ہوگا۔


منصوبے کی تفصیل بتاے ہوئے فیس بک کے بانی کا کہنا تھا کہ وہ اس مصنوعی ذہانت کو سکھائیں گے کہ جب دوست دروازے کی گھنٹی بجائیں تو ان کے چہرے شناخت کر کے انہیں اندر داخل ہونے دے اور جب وہ اپنی بیٹی میکس کے ساتھ نہ ہوں اور ان کے کمرے میں میری ضرورت ہو تو وہ تو اے آئی اس سے آگاہ کردے۔ ان کا مزید کہنا ہے کہ یہ سسٹم فیس بک کے لیے بھی مددگار ثابت ہوگا اور انہیں معلومات کو ورچوئل ریالٹی میں دیکھنے اور سمجھنے اور بہتر سروس مہیا کرنے میں مدد دے گا۔ ساتھ ہی وہ اپنی کمپنی کی مزید بہتر طریقے سے رہنمائی بھی کر سکیں گے۔


ان کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب فیس بک خود بھی اے آئی پر کام کر رہی ہے جس میں وہ اپنے صارفین کے لیے اپنی ایپ میسنجر کی شکل میں ایک اسسٹنٹ بنانے کی کوشش کررہی ہے جس پرٹیکنالوجی کی دنیا کے ارب پتی زکربگ کا کہنا تھا کہ اس سال کے چیلنج کے پیچھے چیزوں کو خود سے تخلیق کرنے کی خوشی حاصل کرنا ہے۔

دل کا دورہ، فالج اور کینسر، ان سب کے رونما ہونے سے پہلے اگر ان کی تشخیص ہو جائے تو طبی سائنس کی دنیا میں ایک انقلاب آجائے۔ انسان اس انقلاب کا خواب دیکھ رہے ہیں اور انہیں شرمندہ تعبیر کرنے کی جدوجہد سرچ انجن گوگل کر رہا ہے۔

گوگل آخر ہے کیا؟

اس سوال کا جواب دینا کوئی آسان بات نہیں۔ ماضی میں محض ایک سرچ انجن کی حیثیت رکھنا والا گوگل اب ہمارے دیگر شعبہ ہائے زندگی میں بھی اہم کردار ادا کرتا دکھائی دے رہا ہے۔ ہماری گاڑیوں، ہمارے گھروں اور اب ہماری جسمانی صحت کے لیے بھی گوگل ایسی ایجادات پر کام کر رہا ہے جو ہمیں پیشگی طور پر صحت کے سنگین مسائل سے متنبہ کر سکیں گی۔ امریکی ریاست کیلیفورنیا کی سانتا کلارا کاؤنٹی کے علاقے ماؤنٹین ویو میں قائم گوگل کارپوریٹ کے ہیڈ کواٹرز میں اب ایسی ٹیکنالوجی پر کام ہو رہا ہے جو مستقبل میں انسانی جسم میں کسی مہلک عارضے کے پیدا ہونے کی نشاندہی کر سکے گی۔

سائنس فکشن

یہ سب کچھ سائنس فکشن سے کم نہیں لگتا۔ تاہم یہ حقیقت ہے جس کے بارے میں ایک معروف جرمن جریدے ’ڈیئر اشپیگل‘ کے ایک مصنف تھوماس شُلس نے اپنا آنکھوں دیکھا حال بیان کیا ہے۔ وہ خود گوگل کی اُس لیبارٹری میں جاکر وہاں طبی ٹیکنالوجی پر ہونے والے کاموں کا جائزہ لے چُکے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ سب سے زیادہ دلچسپ اور تعجب خیز تجربہ ایسے پِل یا گولی کا ہے جو نینو پارٹیکلز یا انتہائی چھوٹے ذرات سے تیار کی گئی ہے۔ اس ایک گولی کو نگل کر اور ایک ڈیوائس کو کلائی پر باندھ لینے سے جسم کی تمام تر تشخیص ڈیٹا کی شکل میں ریکارڈ کی جا سکتی ہے۔ اس طرح ماہرین یہ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ آیا مذکورہ شخص میں ہارٹ اٹیک یا دل کے دورے، فالج یا ذیابیطس کے مستقبل قریب میں جنم لینے کے امکانات پائے جاتے ہیں یا نہیں۔ اگر ایسا پتہ لگ جائے تو اس کا بر وقت سد باب کیا جا سکتا ہے۔

گوگل کے ماہرین ایک ایسے کانٹیکٹ لینز پر بھی کام کر رہے ہیں جو ذیابیطس کے مریضوں کے لیے ہے۔ اس کا استعمال ذیابیطس کے مریضوں کو بلڈ شوگر یا خون میں شکر کی مقدار ناپنے کے لیے انجکشن کی سوئیاں نہیں چُبھانا پڑیں گی۔

گوگل سرچ انجن نے اب صحت سے متعلق ایسے آلات کی ایجاد کا تجریہ اس لیے شروع کیا ہے کہ اس کے ماہرین کا خیال ہے کہ کمپوٹر سائنس آئندہ سالوں میں طب کے شعبے میں ترقی کی بہت زیادہ صلاحیت رکھتی ہے۔ میڈیسن اور ٹیکنالوجی کے امتزاج سے ایجاد ہونے والے آلات ادویات ساز کمپنیوں کی صحت کے شعبے پر اجارہ داری کو بھی ختم کرنے کا سبب بن سکتی ہے۔


گوگل کی یہ کوششیں تاہم اُس وقت کامیاب ہوں گی جب خوراک اور ادویات کی ایڈمنسٹریشن کے امریکی ادارے FDA کی طرف سے اسے اپنی مصنوعات کو مارکیٹ میں لانے کے لیے اجازت ملے گی۔

برطانیہ کے معروف معالج پروفیسر پال گرینگرز کہتے ہیں کہ سمارٹ فونز اور ٹیبلیٹس میں خود کار ’بیڈ ٹائم موڈ‘ ہونا چاہیے تاکہ انھیں استعمال کرنے والوں کی نیند میں خلل نہ پڑے۔

پروفیسر پال گرینگرز کہتے ہیں کہ اس میں موجود نیلی روشنی کو فلٹر ہونا چاہیے کیونکہ اس کی وجہ سے لوگوں کو رات دیر سے نیند آتی ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ فون اور ٹیبلیٹس کا ہر نیا ماڈل پہلے سے زیادہ بلیو ریز کا حامل ہوتا ہے اور مزید روشن ہوتا ہے۔

پروفیسر پال گرینگرز سمجھتے ہیں ان مصنوعات کو تیار کرنے والوں کو ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔

وہ کہتے ہیں کہ جب رات ہونے لگتی ہے تو جسم میں نیند کے ہارمونز میلاٹونن کا اخراج ہونے ہے لگتا جس سے انسان کو نیند آنے لگتی ہے تاہم موبائل فونز اور ٹیبلٹس کی سکرینز سے نکلنے کی روشنی کے خاص رنگوں کی طول موج نیند کے نظام میں خلل ڈال سکتی ہے۔

پروفیسر پال گرینگرز ان آلات سے نکلنے والی روشنی پر تحقیق کرنے والی ٹیم میں شامل تھے۔اس تحقیق کے نتائج کے مطابق بڑی اور روشن ڈیوائسز سے نیلی روشنی زیادہ نکلتی ہے۔

پروفیسر پال گرینگرز نے بی بی سی کو بتایا کہ ان ڈیوائسز کو دن میں استعمال کرنا اچھا ہے مگر رات میں ان کا استعمال مہلک ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ اگر اپ رات میں فون اور ٹیبلیٹ وغیر استعمال کریں تو آپ دیکھیں گے کہ اپ کو نیند دیر سے آئے گی۔

وہ کہتے ہیں کہ نیند سے متعلق چند ایپس پہلے ہی تیار ہوچکی ہیں جن کا مقصد نیلی اور سبز روشنی کا اخراج روکنا ہے۔
برسلز: سائنس دانوں نے مجرموں کو پکڑنے اور ان کی عمر کا درست اندازہ لگانے کے لیے خون کے نمونوں سے ایسا ٹیسٹ تیار کرلیا ہے جس سے قاتل کو پکڑنے میں مدد مل سکے گی۔

بیلجیئم کے سائنس دانوں کے ایجاد کردہ اس نئے ٹیسٹ میں جرم کی جگہ پر موجود خون یا دانتوں کی مدد سے مجرم کی عمر کا بآسانی اندازہ لگایا جا سکتا ہے، موجودہ طریقہ کار میں عام طور پر خون کے فرانزک ٹیسٹ سے نکلنے والے نتیجے کو ڈی این اے سے ملایا کر مجرم کے بارے جانا جاتا ہے لیکن اب اس نئے ٹیست کسی بھی شخص کی شناخت پہلے سے موجود ریکارڈ کے بغیر بھی ممکن ہوگی۔

کے یو لیون ریسرچرز نے انسانی جسم میں موجود ٹشوز اور آرگنز کے مختلف تبدیلیوں سے اس ٹیسٹ کو تیار کیا ہے۔ محققین کا کہنا ہے کہ اس طریقہ کار میں جین یا ایپی جینوم کی ریگولیشن کی مدد سے عمر سے تعلق اور ڈی این اے کا استمعال کیا گیا ہے جس سے مجرم کی عمر بآسانی پتا لگایا جا سکتا ہے۔

پروفیسر برام بیکائرت نے اس ٹیسٹ کی وضاحت کرتے ہوئے کہنا تھا کہ جیسے جیسے عمر بڑھتی ہے انسانی جسم کے کچھ جینز کام کرنے لگتے ہیں اوردوسرے جینز کام کرنا چھوڑ دیتے ہیں جب کہ اس طریقہ کار عارضی طور پر میتھالیشن سے ریگولیٹ ہوتا ہے جہان میتھائل گروپ کو ڈی این اے میں شامل کردیا جاتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ خون کے نمونے کے ٹیسٹ سے اصل عمر میں 3.75 سال کی غلطی کا امکان جبکہ دانتوں کے نمونے کے ٹیسٹ سے 4.86 سال کا فرق ہو سکتا ہے۔

فیس بک سماجی روابط کے لیے دنیا کی مقبول ترین ویب سائٹ ہے جس کے عالمی صارفین کی تعداد ڈیڑھ ارب کے لگ بھگ ہے۔

اس ویب سائٹ کو استعمال کرنے والوں کے لیے کسی بھی دوست کی پوسٹ کو پسند کرنا اور ’لائک‘ کا بٹن دبانا بہت ہی عام بات ہے۔

تاہم اب یونیورسٹی آف کیمبرج سے تعلق رکھنے والے ماہرین کا کہنا ہے کہ فیس بک پر صرف لوگوں کے پسندیدہ مواد سے ہی ان کے بارے میں کافی کچھ پتہ چل سکتا ہے۔

اس کام کے لیے انھوں نے ایک کمپیوٹر پروگرام تیار کیا ہے جو کسی بھی فیس بک صارف کے لائکس کی بنیاد پر اس کا شخصی خاکہ تیار کر سکتا ہے۔

یہ پروگرام بتا سکتا ہے کہ آپ مرد ہیں یا عورت، آپ کا مذہب یا سیاسی نظریہ کیا ہے اور اس کے علاوہ بھی بہت سی معلومات حاصل کی جا سکتی ہیں۔

اس پروگرام کو استعمال کرنے کے لیے آپ کو ایک مخصوص ویب سائٹ پر جا کر اپنی پروفائل کی پیشنگوئی کا آپشن چننا ہوگا اور پھر اس ایپ کو اپنے فیس بک کے لائكس کے بارے میں معلومات لینے کی اجازت دینی پڑے گی۔

ہر فیس بک استعمال کرنے والے فرد کے بارے میں یہ تجزیہ مکمل طور پر درست نہیں ہوتا لیکن اس کے عمومی نتائج درست ہی رہے ہیں۔
لندن: اسٹیفن ہاکنگ کی مصنوعی ذہانت ( آرٹیفیشل انٹیلیجنس) سے متعلق پیش گوئی تیزی سے پوری ہوتی نظر آرہی ہے اور اس پر چلتے ہوئے سائنس دانوں نے ایسا روبوٹ تیار کرلیا جو روبوٹ بچوں کو جنم دے گا۔

کیمرج یونیورسٹی کے سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ یہ مدر روبوٹ میکنائزڈ بلاکس کا استعمال کرتے ہوئے نئے بچے بنائے گی جو پرانی جنریشن سے تخلیق میں سے بہترین بچوں کا انتخاب کر کے انہیں نئی تخلیق دے گی۔ سائنس دانوں کہنا ہے کہ یہ مدر روبوٹ انسان اور جانوروں کی طرح خود دوسرے روبوٹ کو تخلیق کرتی ہے اور اس عمل کے دوران وہ اپنی پیدا کردہ اس نسل میں سے بہترین کا انتخاب کرکے ان کے ڈیزائن کو بہتر بناتی ہے۔ ماہرین کی جانب سے اس ایجاد کو مشین میں قدرتی سلیکشن کی جانب ایک اہم قدم اور مصنوعی ذہانت کی کامیابی کی جانب ایک اور قدم کہا جا رہا ہے۔

روبوٹ کی تخلیق کے دوران مدر روبوٹ کو اس طرح پروگرام کیا گیا ہے کہ وہ پہلے کیوب بوٹ بناتی ہے جب کہ اس میں موجود موٹر اسے حرکت کے قابل بناتی ہے اور اس حرکت کے بنیاد پر ڈیزائن کو ریفائن کیا جاتا ہے، 5 الگ الگ تجربات میں مدر روبوٹ کو 10 جنریشن تک کے روبوٹ تخلیق کرنے کا موقع فراہم کیا جاتا ہے جب کہ ہر بار سب سے فٹ بوٹ کو اگلے بچے کے ڈیزائن کی معلومات فراہم کردی جاتی ہے۔

تحقیق کے بانی ڈاکٹر فومیا لیڈا کا کہنا ہے کہ مدر روبوٹ کا قدرتی عمل ری پروڈکشن اور مشاہدہ پھر ری پروڈکشن اور مشاہدہ ہے اور یہ عمل اسی طرح جاری رہتا ہے جب کہ بنائے جانے والے بچے 5 آسان ترین اصولوں پر عمل کر کے ڈیزائن کیے جاتے ہیں جس میں شکل، تعمیر اور موٹر کمانڈ اہم ہیں۔

مدر روبوٹ سب سے فٹ بچے کا انتخاب کرنے کے لیے دیکھتی ہے کہ بچہ اپنے سفر کے آغاز سے لے کر طے شدہ وقت میں کتنا فاصلہ طے کرتا ہے جب کہ ہر بچہ مکمل شکل، ڈیزائن، تعمیر اور ٹیسٹ کے عمل میں 10 منٹ لیتا ہے۔ تخلیق کے دوران ہرجنریشن کے بچے ایک جیسے رہتے ہیں تاکہ ان کی صلاحیتیں برقرار رکھی جا سکیں جب کہ خلیوں کے جینز میں تبدیلی کا عمل کم کامیاب بچوں پر کیا جاتا ہے۔ فومیا کا کہنا ہے کہ حیاتیات کا سب سے اہم سوال ہے کہ ذہانت کہاں سے آئی ہے اور اس کو سامنے لانے کے لیے روبوٹ کا استعمال کیا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کمپیوٹرانسان کی طرح سوچنے، دیکھنے اورکام کرنے لگیں یہاں تک پہنچنے میں ابھی وقت لگے گا تاہم اس ایجاد سے حیاتیات کے کچھ اہم اجزا کو انجیئرنگ کی دنیا میں لانے میں مدد ملے گی۔

اس عمل سے جانداروں میں اپنے ماحول کے علاوہ دیگر ماحول میں بھی رہنے کی صلاحیت پیدا کی جاسکتی ہے جیسے اگر کوئی جانور صرف پانی میں رہتا ہے تو خشکی پر زندہ رہ سکے گا اسی طرح مشینیں اپنی پوری زندگی کے دوران ایک ہی شکل کی اشیا بناتی ہیں تاہم مدر روبوٹ میں یہ صلاحیت ہوگی کہ وہ کئی شکلوں کے بچے تخلیق کرے گی اور ضرورت کے مطابق اس میں تبدیلی لا سکے گی۔
نیویارک.:فیس بک استعمال کرنے والوں کے لیے اہم خبر ہے کہ اب اُن کی قرضے کی درخواست منظور ہونے کا فیصلہ ، فرینڈ لسٹ میں موجود افراد کی ساکھ پر ہوگا۔ کہتے ہیں انسان اپنی صحبت سے پہچانا جاتا ہے، چنانچہ فیس بک استعمال کرنے والے اب نہ صرف اپنی فرینڈ لسٹ میں موجود لوگوں سے جانے جائیں گے، بلکہ انہیں سوشل میڈیا فرینڈز کی ساکھ کو سامنے رکھتے ہوئے ہی قرض مل سکے گا۔ جی چونکیے نہیں، ایسا ہوسکتا ہے کیوں کہ فیس بک جلد ہی ایسا آپشن شامل کرنے جارہا ہے۔ فیس بک نے دو ہزار دس میں اسپیمز روکنے کے لیے چالیس ملین ڈالرز مالیت کے کچھ patents خریدے تھے جس کے ڈاکیومنٹس میں یہ پیرا گراف بھی شامل ہے کہ اس patent کے تحت جب کوئی فرد لون کی درخواست دیتا ہے تو قرض دینے والا درخواست گذار کے سوشل نیٹ ورک میں موجود افراد کی کریڈٹ ریٹنگ کی چھان پھٹک بھی کرے گا، اگر ان کی اوسط کریڈٹ ریٹنگ معیاری ہوئی تو لون پراسس ہوگا ورنہ درخواست مسترد کردی جائے گی ۔ آسان لفظوں میں سن لیجئے کہ فیس بک یوزر کا قرض صرف اِس بنیاد پر بھی مسترد ہوسکتا ہے ، کہ ان کے فیس بک فرینڈز ڈیفالٹر ہیں ۔تو جناب وقت آگیا ہے کہ گلے شکووں کی بنیاد پر نہیں ، بلکہ بزنس پوائنٹ آف ویو سے اپنی فرینڈ لسٹ کو اپ دیٹ کرلیا جائے۔
لندن: ایپل کمپنی نے ایک اسموک ڈٹیکٹر سینسر پیٹنٹ کرایا ہے جسے نہ صرف اگلے آئی فون بلکہ اسمارٹ واچ اور میک بکس میں بھی شامل کیا جائے گا۔

پیٹنٹ کا مقصد آگ لگنے کی صورت میں لوگوں کو اس خطرے سے آگاہ کرنا یا کسی نیٹ ورک پر اس کی اطلاع فراہم کرنا ہے ، کمنپی کی جانب سے پیٹنٹ کی کم تفصیلات جاری کی گئی ہیں لیکن اس میں یہ بات بتائی گئی ہے کہ فون میں موجود کئی سینسر بھی استعمال کیے جاسکتے ہیں جن میں کیمرہ سینسر بھی شامل ہے جب کہ دھواں یا حرارت فون تک جاتے ہی وہ دیگر نیٹ ورک یا عمارت کو خبردار کرے گا تاکہ امدادی اداروں کو اطلاع دے نقصان سے بچا جاسکے۔

پیٹنٹ میں آگ و دھویں کو بھانپنے والے سینسرکی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا گیا ہے کہ اس صورت میں ایک الرٹ جاری کیا جائے گا، لوگوں کو چوکنا کرنے کے لیے تیز آواز خارج کی جائے گی یا پھر آگ بجھانے والے خود کار نظام کو الرٹ کیا جاسکے گا۔
برلن: جرمنی میں توبنگن یونیورسٹی کے سائنس دانوں نے ایک دلچسپ سافٹ ویئر تیار کیا ہے جو کسی بھی تصویر کو دیکھ کر اسے دنیا کے بڑے مصوروں کی طرح پینٹ کرسکتا ہے۔

جرمن سائنسدانوں کی جانب سے تیار کردہ اس سافٹ ویئر کا الگورتھم ’’ڈیپ لرننگ‘‘ پروگرام کے زمرے میں آتا ہے اور اسے گوگل جیسے ادارے بھی تصاویر کی شناخت اور دیگر کاموں کے لیے استعمال کررہے ہیں۔ الگورتھم بہت مہارت سے پہلے ایک تصویر کو نیورل نیٹ ورک کے ذریعے توڑتا ہے اور پھر اس تصویر کا عکس ہوبہو کسی مشہور مصور کے انداز پر بناتا ہے۔

ماہرین نے دعویٰ کیا ہے کہ دنیا کے بڑے بڑے مصوروں کے انداز اگرچہ ایک دوسرے سے مختلف ہوتے ہیں لیکن ان کا پروگرام اسے دیکھتے ہوئے ہو بہو ان کی نقل کرتا ہے۔

ماہرین نے آزمائش کے طور پرسافٹ ویئر کے ذریعے اپارٹمنٹ کی تصویر کھینچی اور سافٹ ویئر سے انہیں مختلف عظیم مصوروں کے انداز میں تیار کرنے کی ہدایات دیں، سافٹ ویئر نے کچھ وقت لگا کر اس تصویر کو ’’جے ایم ٹرنر‘‘ کی مشہور پینٹنگ ’’ دی ریک آف ٹرانسپورٹ شپ‘‘ وان گوگ کی ’’اسٹیری نائٹ‘‘ اور ایڈورڈ منخ کی پینٹنگ ’’سکریم‘‘ میں بدل کر دکھایا جو ان فنکاروں کی شہرہ آفاق تخلیقات ہیں جب کہ تصویر بنانے میں حیرت انگیز طور پر بڑے استادوں کے کام کو ہو بہو نقل کیا گیا۔

ماہرین کے مطابق اس ایجاد کا اصل مقصد یہ نہیں کہ بڑے مصوروں کی نقل اتاری جائے بلکہ اسے اس لیے بنایا گیا ہے کہ انسان آخر کس طرح کسی منظر کو دیکھ کر اس کی تصویر کشی کرتا ہے۔


سان فرانسسكو: رواں سال فیس بک کی جانب سے لانچ کی جانے والی ایک اہم ایپ ’’مومینٹس‘‘ میں ایک نیا فیچر متعارف کرایا گیا ہے جو خودکار انداز میں تصاویر کو ویڈیو میں تبدیل کرکے اس پر مناسبت کے لحاظ سے میوزک کا اضافہ بھی کرتا ہے۔

یہ فیچر آپ کے فون میں موجود تصاویر کو چہرے پہنچاننے والے فیچر کے ذریعے ٹیگ کرتی ہے اور پھر منتخب تصاویر آپ اپنے فیس بک کے دوستوں سے بھی شیئر کرسکتے ہیں اور اس میں اہم فیچر یہ ہے کہ یہ تمام تصاویر کو پہلے ہی فیس بک اکاؤنٹ سے ہم آہنگ رکھتا ہے۔

جوں ہی ایپ کو فون میں موجود تصاویر تک رسائی دی جاتی ہے یہ چند سیکنڈوں میں آپ اور آپ کے دوستوں کو پہنچانتے ہوئے ٹیگ کا مشورہ دیتی ہے پھر آپ ایک گروپ بناسکتے ہیں جس کے اراکین اس تصاویر کی ویڈیو دیکھ سکتے ہیں اس کے بعد مومینٹس تصاویر کا ایک مجموعہ بناکر اس پر موسیقی کی 10 تھیمز میں سے کسی ایک کا انتخاب کرکے ازخود اس کے بیک گراؤنڈ میں شامل کردیتی ہے اس میں آپ تصاویر کی ترتیب بدل سکتےہیں، پسند کا میوزک لگاسکتے ہیں لیکن تصاویر پر فلٹر وغیرہ لگا کر ان میں تبدیلی نہیں کرسکتے۔

فیس بک کے مطابق آپ دنیا کی 34 زبانوں میں اس ایپ کو استعمال کرسکتے ہیں اور اس کا نیا ورژن کئی جدتوں کے ساتھ گوگل پلے سے مفت ڈاؤن لوڈ کیا جاسکتا ہے۔