Articles by "صحت و سائنس"
‏صحت و سائنس لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
مائیکروسافٹ کی اپلیکشن اسکائپ کے ساتھ آپ بہت کچھ کرسکتے ہیں اور کی بورڈ کی مدد سے چند الفاظ تحریر کرکے انہیں موجیز، اموٹیکون، فائلز، ٹیکسٹ فارمیٹنگ اور دیگر فیچرز کے ساتھ دوستوں کو ارسال کرسکتے ہیں مگر اس میں ایک فیچر ایسا بھی چھپا ہے جس کا اثر افراد کو علم ہی نہیں۔

جی ہاں اسکائپ کی مدد سے آپ اپنے دوستوں اور گھروالوں کو انسٹنٹ میسجز تو ارسال کرتے ہی ہے مگر جب وہ انٹرنیٹ کی سہولت سے محروم ہو تو پھر کیا کریں ؟ تو اس کا جواب اسکائپ ایس ایم ایس فیچر میں چھپا ہے۔

یہ وہ فیچر ہے جو اکثر اسکائپ صارفین کو معلوم ہی نہیں۔

اگر آپ اپنے کمپیوٹر سے اسکائپ استعمال کرتے ہوئے ایس ایم ایس بھیجنا چاہتے ہیں تو اپنے پاس ایڈ افراد کے موبائل نمبر ان کی اسکائپ پروفائل میں شامل کرلیں۔

اس کے لیے آپ ڈیسک ٹاپ کمپیوٹر پر اسکائپ کی سائٹ کھولیں اور کسی دوست کے آئیکون پر ماﺅس سے رائٹ کلک کریں اور اس کے بعد ویو پروفائل کے آپشن پر کلک کریں۔

اب اس پروفائل کے اسکائپ نام کے نیچے موبائل نمبر لکھ کر ایڈ کرکے سیو کا آپشن منتخب کرلیں۔

اس کے بعد آپ کو پیغامات ارسال کرنے کا طریقہ کار انسٹنٹ میسج سے تبدیل کرکے ایس ایم ایس کرنا ہوگا جو کہ آپ کے انسٹنٹ میسج باکس کے اوپر ہی ہوتا ہے۔

ایس ایم ایس منتخب کرنے پر آپ کے پیغام انسٹنٹ میسجز کی بجائے موبائل فون پر مختصر پیغام کی شکل میں ارسال ہونے لگے گے۔

اگر آپ کو کوئی دوست یا رشتے دار ایسا ہو جو اسکائپ استعمال نہ کرتا ہو تو بھی آپ اسے ایس ایم ایس بھیج سکتے ہیں جس کے لیے اسکائپ کی سائٹ اوپن کریں، پھر مینیو بار میں جاکر کانٹیکٹس اوپن کریں۔

اب ایڈ کانٹیکٹ کا آپشن منتخب کرکے دوست کا فون نمبر سیو کردیں۔

اب اوپن ہونے والی ونڈو میں اس کانٹیکٹ کا نام اور نمبر ڈالیں اور پھر ایڈ نمبر پر کلک کریں۔

ایک بار جب آپ کسی نمبر کو بطور کانٹیکٹ سیو کرلیں گے تو آپ دیگر کانٹیکٹس کی طرح اسے بھی آسانی سے ایس ایم ایس بھیج سکیں گے۔
ماسکو: جانوروں پر کامیاب آزمائش کے بعد روسی ماہر نے لمبی عمر پانے کے لئے لاکھوں سال قدیم بیکٹیریا اپنے جسم میں داخل کیا ہے۔

ماسکو اسٹیٹ یونیورسٹی کے سائنسدان اناتولی پروشکوف نے سائبیریا کے مستقل برف میں رہنے والے علاقے سے 35 لاکھ سال قدیم بیکٹیریا دریافت کیا ہے۔ اس بیکٹیریا کا نام بیکیلس ایف ہے اور اسے جب چوہوں کے جسم میں داخل کیا گیا تو وہ زیادہ چاق و چوبند اور صحت مند دکھائی دیئے۔ اس کے بعد اناتولی نے اسے اپنے جسم پر آزمانے کا فیصلہ کیا ۔ دوسرے روسی ماہرین کے مطابق یہ قدیم بیکٹیریا انسان کو طویل عمر دے سکتےہیں۔ سائبیرین ٹائمز کے مطابق سائنسدان اناتولی اپنے جسم میں بیکٹیریا داخل کرنے کے بعد بہت بہتر ہیں اورانہیں دو سال سے زوکام نہیں ہوا اور اس کے مثبت اثرات بہت واضح طورپر دیکھے جاسکتے ہیں۔

اناتولی کے مطابق ان کی طبیعت میں جو بہتری واقع ہوئی ہے وہ اسے بیان نہیں کرسکتے اور یہ حقیقت ہے کہ جسم میں داخل کئے گئے بیکٹیریا کے مثبت نتائج سامنے آرہے ہیں لیکن بیکٹیریا پر مزید تحقیق کی ضرورت ہے تاکہ اس کے فوائد واضح ہوسکیں۔ ایک اور تجربے میں ایک چوہیا میں اس بیکٹیریا نے طویل عمر میں بھی نسل بڑھانے کی صلاحیت برقرار رکھی اور بعض چوہیا دیر سے بوڑھی ہوئیں۔ ماہرین کے مطابق یہ بیکٹیریا خود لاکھوں برس سے زندہ ہے اور اس کے راز سے پردہ اٹھانا ابھی باقی ہے۔ بروشکوف نے دعویٰ کیا کہ اس علاقے کے مقامی لوگ بہت طویل عرصے تک زندہ رہتے ہیں اور وہ ایسا پانی پیتے ہیں جن میں یہ بیکٹیریا موجود ہوتےہیں۔
کیلیفورنیا: کمپیوٹر کی ترقی نے انسان کو بے شمار صلاحیتیں اور قوت دے دی ہے اور یہ سفر رکا نہیں بلکہ تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے اسی لیے ایک سائنس دان نے دعویٰ کیا ہے کہ انسانی دماغ میں چھوٹا سا روبوٹ فٹ کرکے اسے انٹرنیٹ سے کنیکٹ کردیا جائے تو اس میں غیر معمولی اور سپر نیچرل طاقت اور ذہانت پیدا ہوجائے گی۔

گوگل کی کے لرننگ پراجیکٹس پرکام کرنے والے اورمستقبل کو اپنی انگلیوں پر گننے والے عالمی شہرت یافتہ سائنس دان رے کرزویل کا کہنا ہے کہ وہ اس منصوبے پرکام کررہے ہیں کہ انسانی دماغ میں نینو روبوٹ یعنی چھوٹا روبوٹ فٹ کرکے اسے کلاؤڈ بیسڈ کمپیوٹر نیٹ ورکس سے جوڑ دیا جائے تو اس میں ایسی صلاحیتیں پیدا ہوجائیں گی جو غیرفطری اورحیرت انگیز ہوں گی۔ ان کا کہنا ہے کہ 2030 تک انسانی دماغ کے سننے اور دیکھنے والے خاص حصے ’نیوکارٹیکس‘ میں نینو روبوٹ کو لگا دینے کی ٹیکنالوجی پرکام مکمل ہوجائے گا جس کی بدولت انسانی دماغ براہ راست پوری دنیا سے لنک ہوجائے گا۔

یونیورسٹی آف موفیٹ فیلڈ کیلیفورنیا کی ایک تقریب سے خطاب میں میں ان کا کہنا تھا کہ اس پراجیکٹ کی بدولت انسان کے جذبات اور تخلیقی صلاحیتوں کو بھی بڑھایا جا سکتا ہے، یہ صلاحیت انسانی دماغ میں موجود معلومات اور صلاحیتوں کو کلاؤڈ کی مدد سے کئی گنا بڑھا دے گی اور یوں مصنوعی ذہانت ( آرٹیفیشل انٹیلیجنس) کا استعمال کرتے ہوئے انسان میں سپر نیچرل طاقت اور صلاحتیں پیدا کی جا سکتی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ خوبصورتی، محبت، تخلیق اور ذہانت سب کچھ نیوکارٹیکس (دماغ کے مخصوص حصے) میں جمع ہوتا ہے اور اب وہ اس کارٹیکس کو وسیع کرنے کے منصوبے کو مکمل کررہے ہیں تاکہ ان صلاحیتوں کو بڑھایا جا سکے جس کے نتیجے میں کوئی بھی انسان زیادہ تخلیقی، زیادہ مزاح نگار، بہترگلوکاراور اپنی محبت کے جذبے کا زیادہ اظہار کرنے جیسی بے شمار صلاحیتوں کا مالک بن جائے گا۔

سائنس فنکشن فلموں میں انسانی جسم میں نینو مشینز لگانے کے مناظر اکثر دیکھنے میں آتے ہیں جس سے انسانی دماغی صلاحتیں کئی گنا بڑھ جاتی ہے جیسے ٹی وی سیریز اسٹار ٹریک میں انتہائی چھوٹے مالیکیولر روبوٹ انسانی جسم میں داخل کیے جاتے ہیں جو جسم کی تباہی کی صورت میں خلیوں کی مرمت کرکے اسے پہلے جیسا کردیتی ہے اسی لیے سائنسدان کرزویل کا کہنا ہے کہ اس تھیوری کے مطابق ڈی این اے کی مدد سے ایسے روبوٹ تیار کئے جا سکتے ہیں جسے دماغ میں انجیکٹ کرکے ویسی ہی صلاحتیں پیدا کی جا سکتی ہیں۔

گزشتہ سال سانس دانوں نے اس طرح ڈی این اے ’اوری‘ گامی سے بنائے گئے روبوٹ لال بیگ میں لگا کر تجربات کیے جسے ابتدائی روبوٹ بنانے کی جانب پہلا قدم قراردیا گیا جس نے جسم کی مخصوص پروٹینز سے ٹکرانے کے بعد بنیادی لاجیکل آپریشنز انجام دیے۔ دوسری جانب کچھ سائنس دانوں نے ان نینو روبوٹ کے بارے میں خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہو سکتا ہے کہ ان ڈیوائسز کی صلاحیت محدود ہو اور یہ زیادہ موثرثابت نہ ہوں۔ یونیورسٹی آف کیلیفورنیا کے میکینیکل انجینئر پروفیسرجیمس فرینڈ کا کہنا ہے کہ اس طرح کی پُراسرار چیزوں کو دماغ جیسے نازک حصے میں انجیکٹ کرنا اور پھر اسے وہاں چھوڑدینا خطرناک بھی ہوسکتا ہے۔
برسبین: جدید سائنس نے جہاں انسان کو خلا کی وسعتوں میں پہنچا دیا ہے تو وہیں میڈیکل سائنس نے اپنی شاندار ترقی سے انسانیت کی بیش بہا خدمت کی ہے اور ایسے معجزاتی آپریشن کیے جس کا کبھی تصور بھی نہیں کیا جا سکتا اور اسی سائنس کا ایک معجزہ سامنے آیا آسٹریلیا میں جہاں ڈاکٹرز ایک حادثے میں تن سے سر جدا ہوجانے والے بچے کے سر کو سرجری کے ذریعے واپس جوڑ کر اسے نئی زندگی دلانے کا باعث بن گئے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق 16 ماہ کا بچہ جیکسن ٹیلر اپنی بہن اور والدہ کے ساتھ کار میں محو سفر تھا کہ اچانک سامنے سے آنے والی کار سے ان کی کار ٹکرا گئی جس میں جیکس شدید زخمی ہوگیا اور اس کی گردن سر سے جدا ہوگئی جس پر جیکس کو فوری طور پر ایئر ایمبولینس کے ذریعے برسبین کے جدید ترین اسپتال پہنچایا گیا جہاں ڈاکٹرز نے اس کی سرجری شروع کردی۔ 6 گھنٹے تک جاری رہنے والی اس سرجری کے ذریعے نہ صرف بچے کا سر واپس لگا دیا بلکہ اسے نئی زندگی عطا کردی۔

آسٹریلیا میں گاڈ فادر آف اسپائنل سرجری کرنے والے ڈاکٹر اور سرجری کے سرجن جیف آسکن نے گردن کے ساتھ ہالو ڈیوائس کو لگایا جبکہ اس کو جوڑنے کے لیے تار کا باریک گرین ٹکڑا استعمال کیا جبکہ ہڈیوں کو گرافٹ کرنے کے لیے جیکس کی رگوں کا استعمال کیا۔ سرجن کا کہنا تھا کہ کئی بچوں کا اس طرح آپریشن کیا جا چکا ہے جس میں کم ہی بچے زندہ رہ سکے تاہم اس طرح کے آپریشن سے اگر کوئی زندہ بچ جائے تو پھر بھی زندگی بھروہ اپنی گردن کو حرکت نہیں دے سکتے۔
ایک انٹرنیٹ سکیورٹی فرم کا کہنا ہے کہ انھوں نے ایک فائدے مند وائرس کے ذریعے 10 ہزار سے زائد انٹرنیٹ روٹرز کو سائبر حملوں سے محفوظ کیا ہے۔

سیمنٹیک کا کہنا ہے کہ ان کا ’وائی فاچ‘ پروگرام راوٹرز میں غلطیوں کو سدھار رہا ہے۔

لوگوں کے ڈیٹا یا معلومات حاصل کرنے کے لیے مجرم ان کے زیرِ استعمال راوٹرز کونشانہ بنایا رہے ہیں۔

سیمنٹیک نے جن آلات پر اپنی ’ویکسین‘ لگائی ہے ان کا غلط استعمال اب تک نہیں کیا گیا ہے۔

وائی فاچ سنہ 2014 میں دریافت کیا گیا تھا اور تب سے وہ انٹرنیٹ پر کمزور سافٹ ویئر اور روٹس ڈھونڈ رہا ہے۔

سیمنٹیک نے ایک بلاگ میں لکھا کہ جب وائی فاچ ایک کمزور راوٹر کو ٹھیک کرتا ہے تو وہ اس سے اس سے جڑے ہوئے دیگر آلات کے سافٹ ویئر کو بھی اپڈیٹ کردیتا ہے جس کے بعد وہ سائبر حملوں سے محفوظ رہتے ہیں۔

اس کے علاوہ سیمنٹیک نے کہا ہے کہ وائی فاچ ان آلات کو بھی ٹھیک کرنے کی کوشش کرتا ہے جو مضر سافٹ ویئر سے متاثر ہوتے ہیں۔ وہ ان آلات کو باقاعدگی سے ری بوٹ کرتا ہے اور ان میں موجود میل ویئر کو ختم کر کے انھیں صاف کرتا ہے۔

یہ سافٹ ویئر راوٹر کے مالک کے لیے اپنے پاس ورڈ بدلنے اور آلات کو کنٹرول کرنے والے سافٹ ویئر کو اپ ڈیٹ کرنے کا پیغام بھی چھوڑتا ہے۔

سیمنٹیک کا کہنا ہے کہ اس کے سافٹ وئیر سے مستفید ہونے والے آلات میں سے ایک تہائی چین اور ایک چوتھائی برازیل اور میکسیکو سے تھے۔

اس کے نیک ارادوں کے باوجود سیمنٹیک اس وائرس کے مقاصد کے بارے میں محتاط ہے۔

سیمنٹیک کے ایک اہلکار ماریو بالانو کا کہنا ہے کہ ’یہ واضح ہونا چاہیے کہ وائی فاچ کے کچھ جنرل فنکشن بھی ہیں جنھیں استعمال کرنے والا ممکنہ طور پر غلط مقاصد کے لیے اسے استعمال کر سکتا ہے۔

برطانیہ میں بچے دماغی صحت کے حوالے سے مشوروں کے لیے سکول نرس اور معالج کے بجائے انٹرنیٹ کا رخ کر رہے ہیں۔

انگلینڈ میں بچوں کی کمشنر این لونگ فیلڈ کہتی ہیں کہ بچے معالجوں سے دماغی صحت سے متعلق مسائل پر بات کرنے کے لیے پُراعتماد نہیں ہیں۔

ایک محدود سروے کے مطابق 62 فیصد نوجوان دماغی صحت مثلاً ڈپریشن یا ذہنی دباؤ سے متعلق مسائل کے بارے میں جاننے کے لیے انٹرنیٹ کا سہارا لیتے ہیں۔

دوسری جانب حکومت کا کہنا ہے کہ وہ سکولوں میں صحت سے متعلق صلاح مشورے دینے والوں کا کردار بڑھانے کے لیے کام کر رہی ہے۔

کمشنر لونگ فیلڈ کہتی ہیں کہ ’تمام بچوں کو معلوم ہوتا ہے جب وہ تکلیف محسوس کرتے ہیں چاہے وہ ان کے پیٹ میں درد ہو یا ٹانگ پر چوٹ، اور اس کے لیے وہ سکول نرس کے پاس بھی جاتے ہیں۔ بد قسمتی سے جب دماغی صحت کی بات آتی ہے تو ان میں اعتماد کی کمی نظر آتی ہے۔ یہ مجبوری کی انتہا ہی ہے کہ بچے اپنے سوالوں کے جوابات حاصل کرنے کے لیے انٹرنیٹ پر بھٹکتے پھریں یا پھر اپنے ہم عمر دوستوں سے مدد کے طالب ہوں۔‘

انھوں نے مزید کہا کہ ’معالجوں کو سنجیدگی سے اس بارے میں سوچنے اور اپنے آپ سے پوچھنے کی ضرورت ہے کہ کیا وہ اس مسئلے کے سدّباب کے لیے جو کر رہے ہیں کافی ہے۔ یا مثال کے طور پر ہر کلینک میں بچوں کی دماغی صحت کا ماہر ہونا چاہیے؟ یا انھیں اس بارے میں تشہیر کرنے کی ضرورت ہے کہ اپنی مصروفیات کے اندر رہتے ہوئے وہ ان کی مدد کرنے کے اہل ہیں؟‘

ان کا کہنا تھا کہ اگرچہ کہ انٹرنیٹ پر اس موضوع پر بہت اچھی ویب سائٹس موجود ہیں تاہم یہ اُن بچوں کی ’قسمت پر منحصر‘ ہے کہ وہ ان ویب سائٹس تک رسائی حاصل کرنے میں کامیاب ہوجائیں۔

کمشنر لونگ فیلڈ کہتی ہیں ’حالیہ کچھ سالوں میں این زائیٹی (اضطرابى کیفیت) اوراپنے آپ کو خود تکلیف دینے جیسے مسائل میں اضافہ فکر انگیز ہے۔ اور ہسپتالوں کے شعبہ حادثات میں آنے والے دماغی صحت سے متعلق مریضوں کی تعداد میں تیزی سے ہوتے ہوئے اضافے پربھی خاصی تشویش پائی جاتی ہے۔

’نوجوانوں کا کہنا ہے کہ انھیں معلومات کی ضرورت ہوتی ہے اور وہ انٹرنیٹ اور ایسی سہولیات پر اعتماد کر سکتے ہیں جن تک رسائی حاصل کرنے سے وہ کسی کی نظروں میں نہیں آتے۔ مثال کے طور پر نوجوانوں کے سینٹر اور سکولوں میں کلینک اور سکول نرسیں اس حوالے سے مدد فراہم کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔‘

ایک حکومتی ترجمان کا کہنا ہے کہ ’ہم سکولوں اور دماغی صحت سے متعلق سہولیات فراہم کرنے والے اداروں کے درمیان رابطے بہتر بنانے کے لیے کام کر رہے ہیں۔ اور جماعتوں کے اندر اور باہر بچوں کی بہتر نشوونما اور فروغ یقینی بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ بچوں کی بہترین دماغی صحت اس حکومت کی اولین ترجیح ہے اور اس ہی لیے ہم آئندہ پانچ برسوں میں نوجوانوں کی دماغی صحت پر 1.25 ارب پاؤنڈ خرچ کریں گے۔‘
علمِ نجوم کے مطابق زمین، چاند، سورج اور ستاروں کی کسی کے پیدائش کے وقت پوزیشن شخصیت پر بہت زیادہ اثرانداز ہوتی ہے جس کو سائنسدانوں نے کبھی تسلیم نہیں کیا تاہم سائنس یہ ضرور مانتی ہے کہ آپ کے پیدائش کا مہینہ یا موسم صحت پر مرتب ہونے والے خطرات اور اثرات کے حوالے سے بہت کچھ بتاسکتی ہے۔

جی ہاں واقعی آپ کی پیدائش کا مہینہ مستقبل میں آپ کی صحت کے حوالے سے پیشگوئی میں مدد فراہم کرتا ہے۔

یہ سب مختلف طبی تحقیقی رپورٹس میں سامنے آیا ہے۔

یہ بات ذہن میں رہے کہ پیدائش کے موسم کے اثرات مکمل طور پر متعین نہیں ہوتے اور ماحولیاتی اثر زیادہ بڑا کردار ادا کرتا ہے۔
خزاں کے موسم میں پیدائش

بہتر جسمانی فٹنس

طبی جریدے انٹرنیشل جرنل آف اسپورٹس میڈیسین کی تحقیق کے مطابق نومبر میں پیدا ہونے والے لڑکے دل اور سانس کی فٹنس کے ٹیسٹ، ہاتھوں کی گرفت کی مضبوطی اور دیگر جسمانی طاقت کے حوالے سے اپریل میں پیدا ہونے والے بچوں کے مقابلے میں 10 فیصد زیادہ پوائنٹ حاصل کرتے ہیں۔ محققین کے بقول خزاں میں ان بچوں کی پیدائش ہوتی ہین جن کی مائیں موسم گرما میں حاملہ ہوتی ہیں جس وقت ماﺅں کے جسموں میں وٹامن ڈی کی مقداری زیادہ ہوتی ہے اور یہ جسمانی نشوونما کے حوالے سے اہم کردار ادا کرنے والے عنصر ہے۔
فوڈ الرجی

جان ہوپکنز یونیورسٹی کی تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ خزاں میں پیدا ہونے والے افراد میں دیگر موسموں میں پیدا ہونے والے لوگوں کے مقابلے میں کھانے کے باعث الرجی یا فوڈ الرجی کا امکان 30 سے 90 فیصد زیادہ ہوتا ہے۔محققین کے بقول اس موسم میں پیدا ہونے والے بچوں کو جلد کو تحفظ دینے والے وٹامن ڈی کی کمی کا سامنا ہوتا ہے جس کے باعث ان میں کھانے سے الرجی کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔
سردیوں میں پیدائش

بائیں ہاتھ کا زیادہ استعمال

آسٹریا اور جرمن ماہرین طب کی ایک نئی تحقیق کے مطابق سردیوں کے موسم میں پیدائش پر اس بات کے امکانات زیادہ ہوتے ہیں کہ لوگ بائیں ہاتھ کے استعمال کے عادی ہو۔ اس کی وجہ ماہرین نے پیدائش سے قبل ماﺅں میں ایک ہارمون ٹسٹوسیٹرون کی مقدار زیادہ ہونے کے نتیجے میں بایاں ہاتھ بالادست ہاتھ بننے کا امکان زیادہ ہوجاتا ہے۔
قبل از وقت پیدائش

سردیوں میں پیدا ہونے والے بچوں میں اس بات کا امکان دیگر موسموں کے مقابلے میں 10 فیصد زیادہ ہوتا ہے کہ ان کی پیدائش قبل از وقت ہو۔ 2013 کی ایک تحقیق کے مطابق اس کی وجہ حاملہ خواتین کا نزلہ زکام سے متاثر ہونا ہوسکتا ہے جس کے لیے انہیں قبل از وقت فلو کی ویکسین لینی چاہئے۔
بہار میں پیدائش

رسولی

دیگر موسموں کے مقابلے میں موسم بہار میں پیدا ہونے والے افراد میں رسولی کی تشکیل کا امکان 21 فیصد زیادہ ہوتا ہے۔ انٹرنیشنل جرنل آف ایپیڈمیولوجی میں شائع ایک تحقیق کے مطابق اپنے پیدائش کے ابتدائی چند ماہ کے دوران سورج کی مضر صحت یو وی شعاعوں سے جسمانی نظام پر اثرات مرتب ہوتے ہیں جو بلوغت میں رسولی بننے کا خطرہ بڑھا دیتے ہیں خاص طور پر جلد کے کینسر کا امکان زیادہ ہوتا ہے جس سے بچنے کے لیے اس موسم میں پیدا ہونے والے افراد کو سن اسکرین ، سر پر ٹوپیوں اور سن گلاسز وغیرہ کے استعمال کا مشورہ دیا گیا۔
امراض قلب

اس موسم میں پیدا ہونے والے افراد میں دل کے امراض میں مبتلا ہونے کا امکان خزاں یا گرمیوں میں پیدا ہونے والے لوگوں سے زیادہ ہوتا ہے جس کی کوئی واضح وجہ بتانے سے ماہرین طب قاصر ہیں، تاہم جرنل آف دی امریکن میڈیکل انفارمیٹک ایسوسی ایشن میں شائع ہونے والی ایک تحقیق میں یہ بات بتائی گئی جو 14 برس تک جاری رہی تھی۔
گرمیوں میں پیدائش

آنکھوں کے امراض

گرمیوں میں پیدا ہونے والے بچے اکثر دور کی نظر میں کمزوری کا شکار ہوجاتے ہیں، یہ بات جرنل اوپتھالمولوجی میں شائع یہ ایک تحقیق میں سامنے آئی۔ اس کی وجہ ان بچوں کا پیدائش کے بعد سورج کی تیز روشنی کا سامنا قرار دیا گیا۔ تحقیق سے معلوم ہوا کہ موسم گرما میں سورج کی روشنی آنکھوں کی معمول کی نشوونما پر اثر انداز ہوتی ہے۔
پل پل مزاج بدلنا

گرمیوں کی پیدائش دیگر موسموں کے مقابلے میں لوگوں کے مزاج پر زیادہ اثر انداز ہوتی ہے اور وہ پل پل رنگ بدلتے ہیں یعنی ایک لمحہ پہلے خوش ہیں تو اگلے لمحے غصے یا اداسی کا شکار بھی ہوسکے ہیں۔ ایک تحقیق کے مطابق روشنی اور درجہ حرارت دماغ کے ان کیمیکلز پر اثر انداز ہوتا ہے جو دماغی صحت کو کنٹرول کرتے ہیں۔
سائنسدانوں نے انسانی قد اور سرطان کے درمیان باہمی تعلق دریافت کر لیا ہے۔ 50 لاکھ افراد پر یہ تحقیق سویڈن میں کی گئی ہے۔

تحقیق کے مطابق دراز قامت افراد میں جلد اور چھاتی کے سرطان سمیت دیگر قسموں کے سرطان کا شکار ہونے کے خطرات زیادہ ہوتے ہیں۔

تحقیق میں سامنے آنے والے نتائج کے تحت بلوغت کی عمر تک پہنچنے پر سرطان ہونے کے خطرات ہر 10 سینٹی میٹر (چار انچ) پر مردوں میں 11 فیصد جبکہ خواتین میں 18 فیصد تک بڑھ جاتے ہیں۔

تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ تحقیق میں دیگرعوامل پر غور نہیں کیا گیا جو سرطان کا باعث بن سکتے ہیں اور درازقامت افراد کو پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔

دوسری جانب ماضی میں کی جانے والی تحقیقات میں بھی یہ باہمی تعلق نظر آتا ہے اگرچہ کہ ان میں یہ واضح نہیں ہے کہ ایسا کیوں ہے۔

سرطان کے خطرات کو کم کرنے کے لیے درج ذیل عوامل پرعمل کرنا ضروری ہے۔

1۔ تمباکو نوشی سے پرہیز

2۔ الکوحل کا کم کسے کم استعمال

3۔ صحت افزا خوراک اور متوازن طرز زندگی

ابتدائی رپورٹ میں سٹاک ہوم میں کیرولنسکا انسٹی ٹیوٹ کے سائنسدانوں نے بیان کیا ہے کہ کس طرح اس تحقیق کے لیے انھوں نے 50 سال سے زائد کے عرصے میں سویڈن کے بالغ افراد کی بہت بڑی تعداد کو اس تحقیق میں شامل کیا ہے۔ تحقیق کی ابتدائی رپورٹ یورپین سوسائٹی فار پیڈیاٹرک اینڈوکرینولوجی کی کانفرنس میں پیش کی گئی ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ درازقامت خواتین میں چھاتی کا سرطان ہونے کا خطرہ 20 فیصد زیادہ ہوسکتا ہے جبکہ دراز قامت مرد و خواتین میں میں جلد کا سرطان (یا میلانوما) ہونے کے خطرات 30 فیصد زیادہ ہوسکتے ہیں۔ اس تحقیق کے ابتدائی نتائج اس موضوع پر ہونے والی دیگر تحقیقات سے ملتے جلتے پائے گئے ہیں۔

تحقیق کی سربراہ ڈاکٹر ایملی بین یی کا کہنا ہے کہ اس تحقیق کے نتائج سرطان کا باعث بننے والے عوامل کی نشاندہی میں مددگار ثابت ہوسکتے ہیں جن کی روشنی میں سرطان کا بہترعلاج ڈھونڈنا ممکن ہوسکے گا۔

انھوں نے مزید کہا کہ ’کیونکہ سرطان ہونے کے پیچھے کئی عوامل کارفرما ہوسکتے ہیں اس لیے یہ پیش گوئی کرنا مشکل ہے کہ (اس تحقیق کے) نتائج انفرادی طور پر سرطان کے خطرات پر کس حد تک اثرانداز ہوسکیں گے۔‘

یہ بات بہرحال واضح ہے کہ بالغ افراد کا قدوقامت سرطان کی وجہ نہیں بنتا تاہم یہ اوائل عمری میں ہونے والی نشوونما کے دوران اثرانداز ہونے والے عوامل کی جانب اشارہ ضرور کرتا ہے۔

سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ درازقامت افراد میں نشوونما کے لیے زیادہ عوامل کارفرما ہوتے ہیں جو کہ سرطان ہونے میں بھی مددگار ہوسکتے ہیں۔ دراز قامت افراد کے جسم میں ان کی دراز قامتی کی وجہ سے خلیوں کی تعداد زیادہ ہوتی ہے جس کی وجہ سے ان میں سے کسی ایک خلیے کے سرطان میں تبدیل ہونے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ اس ہی طرح دراز قامت افراد میں خوش خوراکی بھی سرطان ہونے کے عوامل میں شامل ہے۔

لندن میں سینٹ جارج یونی ورسٹی کے مالیکیولر سیل سائنس ریسرچ سینٹر کی سربراہ پروفیسر ڈورتھی بینیٹ کا کہنا ہے کہ یہ بات ’بڑی حد تک ممکن‘ ہے کہ سرطان ہونے کا خطرہ کسی فرد کے جسم میں موجود خلیوں کی تعداد سے منسلک ہو۔

ان کا کہنا ہے کہ ’سرطان ایک عام خلیے کے اندر ہونے والی تبدیلی سے جنم لیتا ہے۔ دراز قامت یا بڑے جثےّ کے افراد میں خلیوں کی تعداد بھی زیادہ ہوتی ہے (سیلز کی جسامت نہیں)۔ مثال کے طور پر جلد کا سرطان ہونے کے خدشات بھی اس وقت بڑھ جاتے ہیں جب سطح (جلد) بڑھ جاتی ہے، جس کا تعلق دراز قامتی سے ہے۔‘

کینسر ریسرچ یو کے کی ہیلتھ انفارمیشن مینیجر سارا ولیمز کا کہنا ہے کہ اس تحقیق میں تمباکونوشی جیسے عوامل کو شامل نہیں کیا گیا اور نہ ہی یہ بتایا گیا کہ کیا خواتین کی چھاتی کی سکریننگ کی گئی تھی۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ ’آپ کا قد کچھ بھی ہو بہت سے ایسے طریقے ہیں جن کے ذریعے سرطان ہونے کے خطرات کم کیا جاسکتا ہے۔ مثال کے طور پر تمباکو نوشی سے پرہیز، الکوحل کا کم سے کم استعمال، صحت افزا خوراک کا استعمال، جسمانی طور پر فعال رہنا، قامت اور جسمانی ساخت کے حساب سے وزن، اور سورج کی روشنی سے محفوظ طریقے سے محظوظ ہونا۔ یہ تمام عوامل اس بیماری سے بچاؤ میں مددگار ثابت ہوسکتے ہیں۔‘
لندن: ناسا کی جانب سے مریخ پر پانی کے بڑے ذخیروں کی موجودگی کے اعلان نے ایلین سے متعلق سائنس دانوں کے نظریات کو کسی حد تک سچ ثابت کردیا ہے اور اب کچھ ماہرین فلکیات اور سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ ایلین زمین کا اکثر و بیشتر دورہ بھی کرتے رہتے ہیں اور یو ایف او کو مسلسل دیکھنا اس کا ثبوت ہے۔

سائنس دانوں نے ایک بار پھر دعوی کیا ہے کہ مریخ پر بسنے والے ایلین زمین کا دورہ کر چکے ہیں تاہم وہ ابھی تک اس کا کوئی ثبوت پیش نہیں کرسکے۔ کچھ سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ یہ مخلوق انسان سے کہیں زیادہ ذہین اور ٹیکنالوجی سے مزین ہے اور اگر وہ زمین پر آگئے تو انسانی وجود کے لیے خطرہ بن جائیں گے۔ عالمی شہرت یافتہ سائنس دان اسٹیفن ہاکنگ نے 2010 میں کہا تھا کہ اگر ایلین نے زمین کا دورہ کیا تو یہاں انسان کو حال وہی ہوگا جیسا کولمبس کے امریکا دریافت کرنے کے بعد وہاں کے مقامی امریکن کے ساتھ ہوا اور وہ اپنی زمین پر غلام بن گئے۔

مشہور ماہر فلکیات کارل سیگن کا کہنا ہے کہ انسان اس کائنات کے نئے بچے ہیں تاہم کسی چیز کے بارے میں جاننے سے قبل اس کے بارے میں چیخ و پکار کرنا سمجھ سے بالاتر ہے۔ برطانیہ کی اہم آبزرویٹری یونیورسٹی آف ہرٹ فورڈ شائر کے سائنس دان مارک گالا وے کا کہنا ہے کہ انسان زمین پر سپر پری ڈیٹر ہے جب کہ خلا میں موجود سپر پری ڈیٹرز ہم سے زیادہ طاقت ور اور حملہ آور ہیں اور اگر وہ زمین پر آئے تو یہاں ان ہی کا قبضہ ہوگا اس لیے ہمیں اس سے متعلق کچھ کرنا ہوگا۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ انسان کوایلین سے متعلق محتاط رہنا چاہئے اور تاریخ گواہ ہے جب بھی زیادہ جدید ٹیکنالوجی رکھنی تہذیت کم ترقی یافتہ تہذیت سے ٹکرائی تو کم ترقی یافتہ تہذیب شکست کھا گئی۔

کچھ سائنس دانوں نے تھیوری ’ڈارک ایکویشن‘ میں دعوی کیا ہے کہ کائنات میں بسنے والی مخلوقات سمندر کی ریت کے ذروں سے بھی زیادہ ہے تاہم اس مخلوق سے رابطہ نہ ہونا پر اسرار ہے دیکھنا ہے کہ یہ راز کب کھلتا ہے۔ برطانیہ میں کیے گئے سروے کے مطابق ہر دوسرا برطانوی، امریکی اور جرمن اس بات پر یقین رکھتا ہے کہ کائنات میں انسان سے کہیں زیادہ ذہین مخلوق موجود ہے جب کہ ان میں سے اکثر کا کہنا کہ چونکہ ایلین زمین سے بہت فاصلے پر ہیں اس لیے ان سے رابطہ ممکن نہیں اور 17 فیصد کا خیال ہے کہ سائنس دان اس سے رابطہ کر چکے ہیں لیکن اسے عام لوگوں سے چھپایا جا رہا ہے۔
امریکی خلائی ادارے ناسا کے خلائی جہاز نیو ہورائزنز سے لی جانے والی تازہ تصاویر نے پلوٹو کے سب سے بڑے چاند شیرن کی تصویریں بھیجی ہیں۔

رواں ہفتے جاری ہونے والی تصاویر اب تک حاصل ہونے والی سب سے معیاری اور بہترین تصاویر ہیں۔امریکی خلائی ادارے وہ تمام مواد حاصل کرنے کی کوشش کر رہا ہے جو خلائی جہاز نیو ہورائزنز نے 14 جولائی کو پلوٹو کے پاس سے گزرتے ہوئے اکٹھا کیا تھا۔

یہ توقع ظاہر کی جارہی ہے کہ سنہ 2016 تک اکٹھی کی گئی تمام معلومات حاصل کر لی جائیں گی۔

یہ خلائی جہاز ہمارے نظام شمسی کے دور دراز حصوں میں سفر کر رہا ہے اور پلوٹو سے دس کروڑ کلومیٹر آگے سفر کر چکا ہے جس کا مطلب ہے کہ اس زمین سے فاصلہ تقریبا پانچ ارب کلومیٹر ہے۔

تاہم جوں جوں سست روی سے معلوماتی مواد حاصل ہورہا ہے سائنسدانوں کے لیے یہ خاصا حیران کن ہے۔

اس کی حالیہ مثال پلوٹو کے چاند کی تصاویر ہیں۔

پلوٹو کے چاند کی چوڑائی 1,214 کلومیٹر ہے اور یہ تقریباً پلوٹو کے قطر کا نصف حصے پر مشتمل ہے۔ محققین کا خدشہ تھا کہ اس کی تصاویر پلوٹو سے بھی بری ہوں گی۔

اس کے برعکس انھیں متنوع سطح دکھائی دی جہاں پہاڑ، آتش فشانی کٹاؤ اور میدان دکھائی دیے۔سائنسدانوں کے لیے حیران کن امر شیرن چاند درمیانی سطح پر دکھائی دینے والے کھائیوں کے سلسلے ہیں۔

نیو ہوریزون ٹیم کا کہنا ہے کہ یہ ماضی میں چاند پر ہونے والی بھاری بھرکم جغرافیائی تبدیلیوں کا ثبوت ہیں۔

کولوراڈو میں ساؤتھ ویسٹ ریسرچ انسٹی ٹیوٹ جان سپنسر کی سینیئر سائنسدان جان سپینسر کہتے ہیں: ’ایسا دکھائی دیتا ہے کہ شیرن کی تمام سطح کھلی ہوئی ہے۔‘

’شیرن کے حجم سے مطابقت رکھتے ہوئے یہ وضع مریخ پر ویلس میرنیرس سے مماثلت رکھتی ہے۔‘
معروف کمپنی ایل جی نے اپنا نیا اسمارٹ فون متعارف کرا دیا ہے جس کی خاص بات یہ ہے کہ اس کے فرنٹ پر ایک نہیں بلکہ دو کیمرے موجود ہیں جو 120 ڈگری کی سیلفی لینے میں مدد فراہم کرتے ہیں۔

ایل جی کے نئے V10 اسمارٹ فون میں اسکرینیں بھی دو ہیں، ایک اسکرین پر آپ تاریخ، موسم یا بیٹری لائف جیسی چیزوں کو ہر وقت دیکھ سکتے ہیں جبکہ دوسری اسکرین پر فون کے دیگر فیچرز استعمال کیے جاسکتے ہیں۔

اسمارٹ فون کے دونوں فرنٹ کیمرے 5 میگا پکسلز سنسر کے حامل ہیں جس سے آپ 80 ڈگری سے لے کر 120 ڈگری تک کی سیلفی لے سکتے ہیں۔

آسان الفاظ میں یوں کہیں لیں کہ یہ دونوں کیمرے لیتے تو دو تصاویر ہیں مگر پھر ایک الگورتھم کے ذریعے وہ ایک ہوجاتی ہیں۔

ایل جی کے مطابق اس فون کی اس خاصیت کی بناءپر سیلفی اسٹک کے بغیر ہی گروپ سیلفیز لینا بہت آسان ہوگیا ہے۔

وی ٹین کی چھوٹی اسکرین کا سائز 2.1 انچ جبکہ بڑی 5.7 انچ ہے جبکہ اس کا بیک کیمرہ 16 میگاپکسلز کا ہے جس کے بارے میں کمپنی کا دعویٰ ہے کہ یہ پہلا اسمارٹ فون ہے جو ویڈیو کے لیے مینوئل موڈ کی آفر کرتا ہے، جسے سب سے پہلے تصاویر کے لیے G4 فون میں متعارف کرایا گیا تھا اور اب اس کی مدد سے وی ٹین میں شٹر اسپیڈ، فریم ریٹ، وائٹ بیلنس اور فوکس وغیرہ کو ریکارڈنگ کے دوران ایڈجسٹ کیا جاسکتا ہے۔

فون کے دیگر اہم فیچرز میں کوالکوم اسنیپ ڈراگون 808 پروسیسر، 4 جی بی ریم، 64 جی بی میموری اور اینڈرائیڈ 5.1.1 لالی پاپ آپریٹنگ سسٹم شامل ہیں جبکہ یہ پانچ رنگوں میں دستیاب ہوگا۔

یہ رواں ماہ سب سے پہلے کوریا میں متعارف کرایا جائے گا جس کے بعد امریکا، چین ، ایشیا، لاطینی امریکا اور مشرقی وسطیٰ میں پیش کیا جائے گا۔
انسان کی ہمیشہ سے کوشش رہی ہے کہ وہ خود کو فٹ رکھے اور بڑھاپے میں بھی جوان نظرآئے لیکن آج کی اس مصروف دنیا میں لوگ جوانی میں ہی بڑھاپے کا شکار نظر آتے ہیں تاہم تھوڑی سی کوشش سے اس منظر کو بدلا جا سکتا ہے اور بڑھاپے میں بھی جوانی جیسی زندگی گزاری جا سکتی ہے۔

مختلف شعبہ زندگی کے ماہرین نے 4 معمولی لیکن انتہائی قیمتی تجاویزدیں ہیں جن پر عمل زندگی کو خوشگوار اور خوبصورت بنا سکتا ہے۔

سن اسکرین کا استعمال: گلوبل وارمنگ کی وجہ سے دنیا کا درجہ حرارت مسلسل برھ رہا ہے اور سورج کی روشنی میں کام کرنا جلد کے خلیوں کو تباہ کردیتا ہے اس لیے ہمیشہ باہر کام کرنے کے دوران چہرے اور جلد پر سن اسکرین لگائیں جو چہرے کو دھوپ کے مضر اثرات سے محفوظ رکھتا ہے اور انسان جوان نظرآتا ہے۔ ڈاکٹرز کاکہنا ہے کہ ایسی کریموں کا استمعال کیا جائے جو یو وی اے اور یووی بی سے منظور شدہ ہو اس لیے کہ ان کریموں سے نہ صرف جلد جوان رہتی ہے بلکہ کینسر کا باعث بننے والی شعاعوں سے بھی جلد کو بچاتا ہے۔

بحیرہ روم کی غذائیں کھائیں: سبزیاں، زیتون کا تیل مچھلیاں اور دیگر میوہ جات کا استعمال عمر کے ڈھلنے کے عمل کو آہستہ کر دیتی ہیں اور جسم کو نہ صرف موٹاپے سے بچاتی ہیں بلکہ چہرے میں جوانی جیسی کشش اور دلکشی پیدا کردیتی ہیں۔ ان غذاؤں میں دل کی بیماریوں کے خدشات کو کم کرنے، شوگر اور کینسرکی بیماریوں سے بچانے کی بھی خوبیاں موجود ہوتی ہیں۔

دماغ کو سرگرم اور تیز رکھنے کی ورزش: کراس ورڈز ، پزلز، ریڈنگ کی عادت اور دوستوں کے ساتھ دماغی مقابلے آپ کے ذہن کو تروتازہ اور تیز رکھتے ہیں اور دماغی مسلز کو بھر پور کام کرنے کا موقع مل جاتا ہے تاہم اس کے ساتھ اگر جسمانی ورزش بھی کی جائے تو سونے پر سہاگہ ہوجائے گا اور اس سے جسمانی فٹنس بھی ملتی رہے گی۔

تناؤ کو کم کریں: یوگا کی مشقیں جسیے گہرے سانس لینا اور روٹین کی مصروفیات کو کم کرنے جیسی کوششیں اسٹریس کو کم کرنے میں مدد دیتی ہیں اور اسٹریس کا کم ہونا عمر کے ڈھلنے کے عمل کو کم کردیتا ہے اسی لیے کہا جاتا ہے کہ خوش رہنے والوں کے چہرے بھی شاداب رہتے ہیں۔ جو لوگ زیادہ تر اسٹریش کا شکار رہتے ہیں ان کے چہرے پر بڑھاپنے کے آثار گہرے ہوتے چلے جاتے ہیں۔
گھر کے روزمرہ کے کام کاج کو عام طور پریکسانیت کی وجہ سے اکتا دینے والی اور مشقت بھری مصروفیت خیال کیا جاتا ہے لیکن ایک نئی تحقیق بتاتی ہے کہ گھریلو کام کاج خاص طور پر برتن دھونا دباؤ کم کرنے کی ایک غیر رسمی مشق کے طور پر استعمال کیا جاسکتا ہے جس سے الجھے اور تھکے ہوئے دماغ کو آرام پہنچایا جاسکتا ہے۔

فلوریڈا اسٹیٹ یونیورسٹی کے تحقیق کاروں نے یہ جاننے کی کوشش کی ہے کہ آیا روزمرہ کے کام کاج کی انجام دہی کے دوران کیا ذہنی دباؤ اور پریشانی کا علاج کیا جا سکتا ہے؟

تحقیق کے نتیجے سے ثابت ہوا کہ ایسا بالکل ممکن ہے، جیسا کہ محققین نے برتن دھونے کو 'مائنڈ فل نیس' یا ایک قسم کے مراقبے کی مشق کے ساتھ منسلک کیا ہے، جو موجودہ لمحے کی سوچ اور خیالات پر توجہ مرکوز رکھنے کی ایک مشق ہے یا اپنی سوچوں سے آگاہی حاصل کرنے کا ایک طریقہ ہے۔

امریکی محققین کے مطابق یہ خیال مکمل طور پر نیا نہیں ہے، جیسا کہ ایک گذشتہ مطالعے میں بتایا گیا تھا کہ گھریلو کام کاج اور خاص طور پر برتن دھونا آرام کے لیے ایک اچھا موقع ہو سکتا ہے۔

سائنسی جریدے 'جرنل مائنڈ فل نیس 'میں محققین نے لکھا کہ جن لوگوں نے برتن دھونے سے پہلےمائنڈ فل نیس کی تکنیک حاصل کی تھی، ان میں ذہنی بیداری زیادہ تھی اور اس کام کے لیے ان میں منفی اثرات کم تھے،جس کی وجہ سے انھوں نے برتن دھونے میں کم وقت لگایا تھا ۔

اس مقصد کے لیے کی گئی ایک تحقیق کے لیے ماہرین نے 51 شرکاء کو بھرتی کیا،جنھیں دو گروپ میں تقسیم کیا گیا اور برتن دھونے سے قبل اور بعد میں شرکاء کی شخصیت کے مثبت اور منفی پہلو اور نفسیاتی کیفیت کا تعین کیا گیا۔

نصف شرکاء سے تحقیق کاروں نے کہا کہ وہ برتن دھونے سے پہلے مائنڈفل نیس کے بارے میں ایک پیراگراف کا مطالعہ کریں اور انھیں برتن دھونے کا احساس کرنے کے لیے کہا گیا یعنی ان سے کہا گیا صابن کی بو، پانی کی گرمی اور برتنوں کو تھمانے کے احساس کا تصور اور اس کے بعد انھیں 18صاف برتن دھونے کے لیے دیےگئے جبکہ دوسرے گروپ کے شرکاء کو براہ راست برتن دھونے کے لیے بھیج دیا گیا۔

جن شرکاء نے مراقبے کے بارے میں ہدایات حاصل کی تھیں، انھوں نے اپنی گھبراہٹ پر 27 فیصد قابو پالیا تھا اور ان کی ذہنی بیداری میں 25 فیصد اضافہ ہوا، دوسری طرف جس گروپ نے بغیر ہدایات کے برتن دھوئے تھے، ان کی ذہنی سطح میں کوئی فرق ظاہر نہیں ہوا ۔

محققین نے اخذ کیا کہ روزمرہ کی جانے والی مثبت سرگرمیوں میں مصروف ہوکر مائن مائنڈ فل نیس اور اس کے مثبت اثرات کو پیدا کیا جاسکتا ہے۔

مائنڈ فل نیس یا ایک قسم کے مراقبے کی مشق کو مجموعی صحت اور ذہنی بہبود کے ساتھ منسلک کیا گیا ہے اس کے ساتھ ہی اس تکنیک کو ذہن کی صفائی اور دباؤ سے نجات کا ایک ذریعہ سمجھا جاتا ہے۔ اس حوالے سے ایک2003 کے مطالعے میں ایسے شواہد ملے تھے جن سے پتا چلتا ہے کہ مراقبہ ذہنی تناؤ کو کم کرنے میں اہم ہے۔

تحقیق کے سربراہ ماہر نفسیات ڈاکٹر ایرک سیگمین نے کہا کہ برتن دھونے کی مشقت کا احساس دراصل ایک سادہ سے کام کو مکمل کر کے حاصل ہونے والی کامیابی کے احساس کے ساتھ مل کر ہمیں اچھا احساس دلاتا ہے۔

انھوں نے کہا کہ ستم ظریفی یہ ہے کہ برتن دھونے کے کام کو روایتی طور پر اکتا دینے والا اور مشقت کا کام سمجھا جاتا ہے، لیکن یہ ایک مصروف دن کے اختتام پر ذہنی تھکاوٹ دور کرنے کے لیے ایک موثر طریقے کے طور پر کام کرسکتا ہے۔
لندن: ایک نئی تحقیق سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ جو خواتین روزانہ ایک گھنٹہ ویڈیو گیم کھیلتی ہیں وہ موٹاپے کا شکار ہوجاتی ہیں۔

آج کی دنیا ٹیکنالوجی کی دنیا ہے جس میں آئے روز نت نئی ایجادات سامنے آتی رہتی ہیں، ویڈیو گیم بھی اس ٹیکنالوجی کی دنیا کی انوکھی ایجاد ہے جس نے اپنے سحر میں بچوں سے لےکر بڑوں تک کو جکڑا ہوا ہے اور ویڈیو گیم کھیلنا کس کو پسند نہیں ہے، چاہے بچے ہوں یابوڑھے، نوجوان لڑکے ہوں یا لڑکیاں سب ہی ویڈیو گیم کھیلنا پسند کرتے ہیں لیکن ایسی خواتین جو ویڈیو گیم کھیلتی ہیں ہوجائیں ہوشیار کیونکہ ویڈیو گیم کھیلنے کی وجہ سے وہ موٹی ہوسکتی ہیں۔

لندن میں ایک نئی تحقیق سامنے آئی ہے جس میں کہا گیا ہے جو لڑکیاں روزانہ ایک گھنٹہ ویڈیو گیم کھلیتی ہیں ان میں موٹاپے کے امکانات زیادہ بڑھ جاتے ہیں جب کہ جو خواتین روزانہ دن میں 2 گھنٹے ویڈیو گیم کھیلنے کو ترجیح دیتی ہیں ایسی خواتین مزید موٹاپے کا شکار ہوجاتی ہیں۔ محققین نے اس تحقیق کے لیے 2500 سے زائد 20 سال کی عمر کے ایسے افراد کا انتخاب کیا جو روزانہ ویڈیو گیم کھیلتے تھے تاہم کچھ عرصے بعد خواتین کے وزن میں اضافہ دیکھنے میں آیا جب کہ مردوں پر اس کا کوئی اثر رونما نہیں ہوا۔

دہی کا استعمال صحت کے لیے انتہائی ضروری ہے اس میں موجود معدنیات اور وٹامن ایک بھر پور اور توانا زندگی فراہم کرتی ہے۔

دہی جسے عربی میں ’’لبن‘‘ فارسی میں ’’ماست‘‘ اور انگریزی میں یوگرٹ (Yogurt) کہتے ہیں صدیوں سے انسانی خوراک کا حصّہ ہے۔ قدیم زمانے سے انسان گائے، بکری، بھینس، اونٹ اور بھیڑ کے دودھ کو بطورغذا استعمال کرتا آرہا ہے جب کہ دودھ سے بننے والا دہی بھی نہ صرف کھانوں کو لذت بخشتا ہے بلکہ غذائیت بھی فراہم کرتا ہے اور جسم کی ضروریات کو بھی پورا کرتا ہے۔ طبی لحاظ سے بھی دہی نہ صرف خاصا مفید اثرات کا حامل ہے بلکہ اس کا استعمال بہت سی بیماریوں سے بچاتا ہے۔

ہڈیوں کے لئے اہم غذا:

دہی میں شامل کلیشیم اور وٹامن ڈی ہڈیوں کے لیے انتہائی اہم ہیں اور اس کا روز مرہ استعمال ہڈیوں کی مضبوطی میں انتہائی اہم کردار ادا کرتا ہے جب کہ ہڈیوں کو بہت سی بیماریوں سے بھی بچاتا ہے۔

بلڈ پریشر کے مریضوں کے لیے مفید:

دہی کا استعمال بلڈ پریشر کے مریضوں کے لیے معاون ثابت ہوتا ہے اس میں شامل پوٹاشیم بلڈ پریشر کو کم کرنے میں مدد فراہم کرتا ہے۔

خوبصورت جلد کے لیے اہم غذا:

آج کے دور میں زیادہ تر خواتین اپنی جلد کے حوالے سے کافی حساس ہوتی ہیں اور اس کی خوبصورتی کے لیے کئی جتن کرتی ہیں جب کہ دہی میں موجود خصوصی آکسیڈ جلد کو بہتر نشوونما فراہم کرتے ہیں اس کے علاوہ جلد میں موجود ڈیڈ سیلز کا بھی خاتمہ کرتے ہیں۔

وزن کم کرنے میں مدد گار:

2005 میں ہونے والی ایک تحقیق سے یہ ثابت ہوا ہے کہ دہی کا استعمال وزن کم کرنے میں مدد گار ثابت ہوتا ہے کیونکہ اس میں موجود کلیشیم جسم میں موجود چربی کو پگھلاتا ہے اور وزن کو بڑھنے سے روکتی ہے۔

وٹامن سے بھر پور:

دہی وٹامن سے بھر پور غذا ہے اس کا ایک کپ روزانہ جسم میں پوٹاشیم، فاسفورس، وٹامن بی 5، آیوڈین اور زنک کی کمی کو پورا کرتا ہے اور صحت مند زندگی اور توانا زندگی دیتا ہے۔
کراچی: سام سنگ اور دیگر کمپنیاں خاص پلاسٹک کے ایسے لچکدار ڈسپلے پر کام کررہی ہیں جو سیدھا ہونے پر ٹیبلٹ اور موڑنے (فولڈ کرنے) پر اسمارٹ فون میں تبدیل ہوسکیں گے اور اگلے دو سال میں اس کے ماڈل فروخت کے لیے پیش کیے جاسکیں گے۔

سام سنگ کے اس منصوبے کو ’پروجیکٹ ویلی‘ کا نام دیا ہے۔ ٹیکنالوجی کی پیش گوئی کرنے والے کئی ماہرین اور ویب سائٹس کے مطابق سام سنگ لچکدار اسکرین کے ذریعے فیبلٹ کو ایک نئی جہت میں پہنچا کر ایپل سے سبقت حاصل کرنا چاہتا ہے۔ دوسری جانب ایل جی نے کاغذ کی طرح لپیٹے جانے والے ٹی وی اسکرین پر بھی کام شروع کردیا ہے جو اگلے برسوں میں منظرِ عام پر آسکتے ہیں۔

اس کی پہلی تصویر چینی سوشل میڈیا ویب سائٹ وائبو پر جاری ہوئی ہے جس کے مطابق سام سنگ کے اس نئے فون میں شائد 3 جی بی ریم، ایس ڈی کارڈ سلاٹ اور سنیپ ڈریگن 820 چپ استعمال کی جائے گی جس کی آزمائش کے لیے سام سنگ نے غیرمعمولی سرمایہ کاری کی ہے۔ یہ موبائل اسکرین کھولنے پر ٹیبلٹ بن جائے گا جب کہ سمیٹنے پر فون بن جائے گا اور اسے باآسانی جیب میں رکھا جاسکے گا۔ ایک ماہ قبل پولی ایرا نامی کمپنی نے کلائی پر لپٹ جانے والے لچکدارڈسپلے کا عملی مظاہرہ کیا تھا جس کا آرڈر 2015 میں دیا جاسکے لیکن ڈسپلے اس کے اگلے سال ملے گا۔

ماہرین کے مطابق لچکداراور مڑجانے والے ڈسپلے کے بعد ہی کتاب کی طرح کھلنے اور بند ہونے والے موبائل فون کا خواب ممکن ہوسکے گا۔
برلن: بڑھتی ہوئی فضائی آلودگی نہ صرف ہمارے ماحول پر انتہائی منفی اثرات مرتب کررہی ہے وہی ہماری صحت اور زندگی کے لیے انتہائی خطرناک ہے اور اس حوالے سے حال ہی میں کیے گئے ایک سروے میں جو اعدادوشمار سامنے آئے ہیں ان کےمطابق دنیا بھر میں صرف فضائی آلودگی سے سالانہ 33 لاکھ افراد موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں جن میں ایک لاکھ سے زائد کی تعداد پاکستانیوں کی بھی ہے۔

جرمنی، سائپرس، سعودی عرب اور ہاورڈ یونیورسٹی کے سائنس دانوں نے دنیا بھر میں فضائی آلودگی کے خطرناک اثرات کا مطالعہ کیا اور ان سے ہونے اموات کا بھی جائزہ لیا جس کی بنیاد پرکیے گئے مطالعے سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ ہر سال دنیا بھر میں 33 لاکھ افراد فضائی آلودگی کا شکار ہوجاتے ہیں جب کہ اگر اس کی بہتری کے لیے کام نہ کیا گیا تو 2050 تک یہ تعداد دگنی یعنی 66 لاکھ تک پہنچ جائے گی۔

جرنل نیچر میں شائع ہونے والے اسے مطالعہ کے دوران ہیلتھ کا ڈیٹا اور کمپیوٹر ماڈلز کا استعمال کیا گیا، اس مطالعہ کے بانی پروفیسرجوس لیلویلڈ کا کہنا ہے کہ فضائی آلودگی سے ہونے والی اموات میں سے 3 چوتھائی اسٹروک اوردل کا دورہ پڑنے سے واقع ہوتی ہیں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہر سال دنیا بھر کی کل اموات میں سے 6 فیصد فضائی آلودگی سے ہوتی ہیں جب کہ 10 سال قبل اس کی تعداد کہیں کم تھی اور اب اموات کی یہ شرح ایڈز اور ملیریا سے بھی زائد ہے۔

تحقیق کے مطابق فضائی آلودگی سے سب سے زیادہ ایشیائی ممالک متاثر ہوتے ہیں جس سے صرف چین میں سب سے زیادہ یعنی 14 لاکھ افراد لقمہ اجل بن جاتے ہیں ج بکہ بھارت میں 6 لاکھ 45 ہزار جب کہ پاکستان میں یہ تعداد ایک لاکھ 10 ہزار تک ہے اس کے علاوہ امریکا میں 54 ہزار لوگ فضائی آلودگی کا شکار ہوتے ہیں۔ تحقیق میں یہ بات بھی سامنے آئی کہ امریکا، یورپ، روس اور جاپان میں فضائی آلودگی کی بڑی وجہ زراعت کے نتیجے میں پیدا ہونے والے دھویں اور دھند ہیں جب کہ دوسری بڑی وجہ گھروں میں لکڑی یا دیگر فائیوفیول سے کھانے کے دوران نکلنے والی حرارت ہے۔

تحقیق کے مطابق زراعت کے دوران کھاد میں استعمال ہونے والی اموینا اور جانوروں کا فضلہ فضائی آلودگی کی بڑی وجہ ہے کیوں کہ کوئلے سے چلنے والے توانائی کے پلانٹس میں امونیا، سلفیٹ کے ساتھ مل کردھویں کے جمے ہوئے ذرات بناتی ہے جو فضا کو زہر آلود کردیتے ہیں اور سانس کے ذریعے یہ زہر ہمارے جسم میں داخل ہوجاتا ہے۔ جوس لیلویلڈ کا کہنا ہے کہ زراعت سے ہونے والی فضائی آلودگی ٹریفک سے ہونے والی آلودگی سے بھی خطرناک ہے تاہم تھوڑی سی کوشش سے اس آلودگی پر قابو پایا جا سکتا ہے۔
سینٹ لوئی: دل کے دورے کے بعد مریضوں کو چقندر کا جوس پلانے سے دل کے پٹھے مضبوط ہوتے ہیں کیونکہ چقندر میں نائٹریٹ کی بڑی مقدار موجود ہوتی ہے۔

واشنگٹن یونیورسٹی اسکول آف میڈیسن میں میں ایک اہم مطالعہ کیا گیا جس سے معلوم ہوا کہ جوس پینے کے صرف 2 گھنٹے بعد ہی دل پر اس کے اچھے اثرات پڑنے لگتے ہیں اس سے قبل کھلاڑیوں اور دوڑنے والوں کو جب چقندر کا رس پلایا گیا تو ان کی کارکردگی میں 13 فیصد بہتری نوٹ کی گئی اس کے بعد ڈاکٹروں نے اسے ایسے مریضوں پر آزمایا گیا جو دل کا دورہ برداشت کر چکے تھے۔

مطالعہ کے مطابق اس کے لیے 9 مریضوں کو پابندی سے چقندر کا جوس پلایا گیا تو 2 گھنٹے بعد ہی ان کے دل کے پٹھوں میں فوری اور تیز کام کی کارکردگی دیکھی گئی تاہم بہت لمبے ٹیسٹ میں کارکردگی ذیادہ مؤثر نہیں تھی۔ ماہرین کے مطابق چقندر فوری طور پر بلڈ پریشر کو کنٹرول کرتا ہے جب کہ یہ عمررسیدہ افراد میں یہ رس پٹھوں کو بھی مضبوط کرتا ہے۔

تیزرفتار اور مصروف ترین زندگی میں کسی کے پاس اتنا وقت نہیں کہ وہ ورزش کرے اور یہی وہ کمی ہے جو لوگوں میں موٹاپے، شوگر اور دل کی خرابی جیسی خطرناک بیماریوں کا باعث بن رہی ہے اسی لیے ایک نئی تحقیق میں کہا گیا ہے کہ روزانہ 30 منٹ مناسب رفتار سے پیدل چلنا نہ صرف موٹاپے سے نجات کا باعث بنتا ہے بلکہ شوگر جیسی بیماریوں سے نجات دلاتا ہے۔

موٹاپے میں کمی: برطانیہ اور امریکا میں کی گئی اس نئی تحقیق میں کہا گیا ہے کہ روزانہ 20 منٹ کی واک انسانی کی زندگی کو 30 فیصد بڑھا دیتی ہے جب کہ روزانہ 30 منٹ واک سے دن بھر میں 150 کلوریز جلتی ہیں جو وزن میں کمی میں مدد دیتی ہے۔

شوگر سے نجات: ماہرین کاکہنا ہے کہ روزانہ واک خون میں شوگر کی مقدار یا لیول کو کنٹرول کرتی ہے اور انسولین کو کم رکھتے ہوئے انسان کو شوگر سے بچاتی ہے۔

دل کے لیے انتہائی مفید: بہت سے لوگوں کا خیال ہے کہ رننگ واک سے بہتر ہے لیکن ایک نئی تحقیق سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ ایک رنر جتنا فاصلہ دوڑ کر کرتا ہے اگر اتنا ہی فیصلہ واک کرکے طے کیا جائے تو یہ ہائی بلڈ پریشر، ہائی کولیسٹرول اور خطرناک دل کی بیماریوں کو کم کرنے میں بہت مفید ہے اور واک انسان کو چاق وچوبند بھی رکھتی ہے۔

ہر طرح کے افراد کے لیے مفید: موٹے، حاملہ خواتین اور جوڑوں کے درد رکھنے والے افراد کے لیے واک سب سے اہم علاج ہے جب کہ ڈاکٹرز کا کہنا ہے ان بیماریوں میں مبتلا افراد مستقل مزاجی سے واک کریں تو وہ ایک صحت مند زندگی گزاریں سکتے ہیں۔

موڈ کو بہتر بنا کر ڈپریشن سے نجات دیتی ہے: ماہرین طب کا کہنا ہے کہ جسم کو حرکت دینے سے انسانی جسم سے اچھا محسوس کرنے والے کیمیکل ’’اینڈروفنز‘‘ خارج ہوتے ہیں جو دماغ میں ڈپریشن پیدا کرنے والے درد کے ریسیپٹرز کو کمزور کرکے آپ کے موڈ کو خوشگوار بنا دیتا ہے۔ روزانہ 35 منٹ یا ہفتے میں 3 دن 60 منٹ کی واک ہلکی اور زیادہ ڈپریشن کی علامات کو قابو کرنے میں انتہائی مفید ہے۔

پرسکون نیند : واک کرنے اور جسم کو سورج کی روشنی میں رکھنے سے میلا ٹونن ہارمونز کو بڑھاتا ہے جو انسان میں بہتر اور پرسکون نیند میں مددگار ہوتا ہے۔

واک کرنا آسان عمل: واک کرنے کے لیے کسی جم کی ممبر شپ، ورزش کے خصوصی کپڑوں یا جوتوں کی ضرورت نہیں بلکہ اس کے لیے کسی قسم کی ٹریننگ کی بھی ضرورت نہیں۔ بعض ماہرین کا کہنا ہے ایک اچھی واک کے لیے آرام دہ جوتوں کے علاوہ کسی چیزکی ضرورت نہیں۔
یہ تو اکثر افراد کو معلوم ہے کہ دن کا زیادہ وقت بیٹھ کر گزارنا موٹاپے، ذیابیطس اور ذہنی امراض کا باعث بن سکتا ہے مگر یہ عادت آپ کے جگر کے لیے بھی تباہ کن ثابت ہوتی ہے۔اس بات کا انکشاف جنوبی کوریا میں ہونے والی ایک نئی طبی تحقیق میں ہوا ہے۔تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ زیادہ وقت بیٹھ کر گزارنا یا سست طرز زندگی دونوں جگر بڑھنے یا اس پر چربی چڑھنے کے امراض کا باعث بن سکتے ہیں۔طبی جریدے جرنل آف ہیپاٹولوجی میں شائع تحقیق کے مطابق جو لوگ دن میں دس یا اسسے زائد گھنٹے بیٹھ کر گزارتے ہیں ان میں جگر کے امراض کا خطرہ 9 فیصد تک بڑھ جاتا ہے۔اس کے مقابلے میں جسمانی طور پر متحرک ہونا جیسے روزانہ کم از کم دس ہزار قدم چلنا جگر کے امراض کا خطرہ 20 فیصد تک کم کردیتا ہے۔اس تحقیق کے دوان ڈیڑھ لاکھ کے قریب مرد و خواتین کا جائزہ لیا گیا جن کی اوسط عمر 40 سال کے لگ بھگ تھی اور نتائج سے معلوم ہوا کہ 35 فیصد جگر کے امراض کا شکار ہیں۔محققین کے مطابق ہمارا جسم حرکت کرنے کے لیے ڈیزائن ہوا ہے اور یہ حیرت انگیز نہیں کہ سست طرز زندگی براہ راست ہمارے جسمانی نظام پر اثر انداز ہوتا ہے۔ان کے بقول جگر کے امراض کے علاج کے حوالے سے بہت زیادہ ادویات موجود نہیں لہذا طرز زندگی میں معمولی سی تبدیلی ہی اس کا بہترین علاج ہے۔انہوں نے اس حوالے سے ہر ہفتے 150 منٹ متعدل ورزش یا روزانہ 10 ہزار قدم چلنے کی تجویز بھی دی۔