Articles by "دلچسپ وعجیب"
‏دلچسپ وعجیب لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

لندن:برطانیہ میں پاکستانی ارب پتی نوجوان کی سونے کی کار گزشتہ ہفتے لندن پولیس نے اس وقت ضبط کرلی جب وہ اپنی کار ’مسراٹی‘ کو کنگسٹن سے گرین کیبریو لے جارہے تھے۔

کنگسٹن پولیس کا کہنا تھا کہ بورو کے علاقے میں انشورنس کے بغیر گاڑی چلانے والوں کے لیے کوئی رعایت نہیں اور اس پر سخت ترین جرمانہ عائد کیا جاتا ہے جب کہ اس سے قبل بھی اپریل میں نوجوان پر پارکنگ ٹکٹ ادا نہ کرنے پر جرمانہ عائد کیا گیا تھا۔

نوجوان حمزہ شیخ ریجنٹ یونیورسٹی میں بزنس کی تعلیم حاصل کررہے ہیں اور پراپرٹی کا کام بھی کرتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ میرے اسٹاف نے بتایا کہ پولیس ایک گھنٹے سے میری کار کو دیکھ رہی تھی۔

حمزہ کا کہنا تھا کہ جب پولیس نے انہیں روکا تو اس وقت تک وہ اپنا تھیوری ٹیسٹ مکمل کرچکے تھے، میں تعلیم اور کاروبار میں مصروف رہتا ہوں اور جب انشورنس کمپنی کی جانب سے مجھے کوائف جمع کرنے کے بارے میں ایک خط بھیجا گیا تو وہ مجھے نہیں مل سکا اور غلطی کی وجہ بھی یہی ہے۔

حمزہ کا کہنا تھا کہ میں ارب پتی ہوں اور میسراٹی کار چلانے سے کئی لوگ جلتے ہیں،اگر میرے پاس رقم ہے تو میں یہ کار کیوں نہ چلاؤں کیونکہ یہ اللہ کا فضل اور میری ماں کی دعا کا ثمر ہے،جلن اور حسد دماغی کینسر ہے اور جو اس میں مبتلا ہیں انہیں اپنا علاج کرانا چاہئے۔ان کا کہنا تھا کہ میں اپنے خاندان کا ’’ سنہرا بچہ ہوں‘‘ اسی وجہ سے میری کاریں بھی سنہری ہوتی ہیں۔
آپ نے چاروں طرف سے شیشے میں بند گیم دیکھیں ہوں گے جس میں کھلونے بھرے ہوتے ہیں اور انہیں سکہ ڈالنے پر چلنے والے پنجہ نما چمٹے سے گرفت میں کیا جاتا ہے جس میں چین کا ایک شخص اتنا ماہر ہوگیا ہے کہ وہ ہر دفعہ کوئی نہ کوئی کھلونا شکنجے سے پکڑ لیتا ہے اور اپنی مہارت سے 3 ہزار کھلونے جیت چکا ہے جس سے دکان کے مالکان بھی پریشان ہیں۔
چینی شہری چین زیٹونگ شکنجے سے کھلونے اٹھانے والی آرکیڈ مشینوں کے ماہر ہیں اور گزشتہ 6 ماہ کےدوران وہ 3 ہزار کھلونے جیت چکے ہیں۔ وہ چین کے شہر ژیامین کے جیانگو شاپنگ سینٹر میں اپنے فن کے ماہر تصور کیے جاتے ہیں اور ان کی مہارت سے خود مشینوں کے مالکان پریشان ہیں جو انہیں کھانا اور مشروب پیش کرتے ہیں تاکہ وہ کچھ دیر کھیلنے اور کھلونے جیتنے سے باز رہیں۔
چین زیٹونگ کے مطابق انہوں نے مسلسل مشق کے بعد یہ مہارت حاصل کی ہے، شروع میں انہیں ناکامی ہوئی لیکن ایک ماہ کے بعد وہ کلو مشین کے ماہر ہوگئے، جب جب وہ مشین کے سامنے آتے ہیں لوگ ان کے اردگرد جمع ہوکر ان کی مہارت سے محظوظ ہوتے ہیں۔ کبھی کبھی وہ مشین سے سارے کھلونے جیت کر مشین خالی کردیتےہیں۔ اب یہ حال ہے کہ 3 ہزار جیتے گئے کھلونے ان کے باورچی خانے، بیڈروم اور گھر کے راستوں میں بھی بکھرے نظر آتے ہیں۔ انہوں نے ایک وقت میں ایک  مشین سے 100 گڑیا نکال کر ایک ریکارڈ قائم کیا ہے جب کہ ان کی مہارت سے مشین مالکان بہت افسردہ ہیں۔
لندن: بعض اوقات ایسے عجیب و غریب واقعات ہوتے ہیں کہ انہیں دیکھ کر بھی یقین نہیں آتا ہی ایسا ہی کچھ ہوا برطانیہ کے ایک ریسٹورنٹ میں جہاں فرائی کی گئی مچھلی کو جیسے ہی کھانے کے لیے گاہک نے کانٹا اس کی طرف کیا وہ زندہ ہوگئی جسے دیکھ کر لوگ حیرت زدہ رہ گئے۔

برطانوی میڈیا کی جاری کردہ ویڈیو میں واضح طور پر دیکھا جا سکتا ہے کہ مصالحوں سے سجی فرائی مچھلی پلیٹ پر پڑی ہے اور گاہک اسے کھانے کے لیے بالکل تیار ہے اور جیسے ہی اس نے کانٹا ہاتھ میں پکڑ کر مچھلی کی طرف بڑھایا تو اس میں حرکت پیدا ہوگئی اور اس کے گلپھڑے سانس سے پھولنے لگے لیکن اسی دوران دوسرے شخص نے مچھلی کو زندہ دیکھ کر اس کے منہ میں پانی ڈالا جسے پی کر مچھلی کی سانسیں جیسے بحال ہو گئی ہوں جب کہ اس سے بھی دلچسپ بات یہ تھی کہ مچھلی نے پانی پینے کے بعد منہ دوبارہ سختی سے بند کرلیا۔

اس دلچسپ ویڈیو نے سوشل میڈیا پر لوگوں کو اپنے سحر میں جکڑ لیا ہے اور اب تک اسے ایک لاکھ 30 ہزار بار دیکھا جا چکا ہے تاہم اس فوٹیج میں یہ بات واضح نہیں ہورہی کہ مچھلی اتنی دیر تک پانی سے باہر رہی اور پھر اسے فرائی بھی کیا گیا تو وہ زندہ کیسے رہی۔
مشی گن:امریکا کی مشہور ماڈل کرسٹا میکنا بھی کبھی شہرت کی بلندیوں پر تھی اور اس کے لاکھوں مداح ہوا کرتے تھے لیکن آج وہ ریاست مشی گن کی سڑکوں پر بھیک مانگتی ہے۔
1970
ء کی دہائی میں کرسٹا میکنا ٹی وی کی مشہور ترین حسیناؤں میں شمار ہوتی تھی۔ جوانی میں اس نے بے پناہ شہرت اور دولت کمائی لیکن زندگی سے لطف اندوز ہوتے ہوئے اس نے یہ سوچا بھی نہ تھا کہ ایک دن یہ دولت اور چمک دمک اس کا ساتھ چھوڑ جائے گی۔ جب وہ اپنا مال و دولت دونوں ہاتھوں سے نشے اور عیش و عشرت پر لٹا رہی تھی تو اسے کمر میں خم کی بیماری سکولیوسز اور خون کی شریانوں کی تنگی کی بیماری سٹینوسز ہو گئی جس کے باعث اسے شوبز کی زندگی سے علیحدگی اختیار کرنا پڑی۔ اس کے بعد اسے ہر وقت سراہنے والے کہیں نظر نہ آئے اور وہ کوڑی کوڑی کی محتاج ہو گئی اور بالآخر بھیک مانگنے کے سوا کوئی چارہ نہ رہا۔ اب اس کی عمر 60 سال ہے اور وہ سڑک کنارے ایک تختی لے کر بیٹھتی ہے جس پر لکھا ہے ’’میں 60 سال کی ہوں اور آپ سے اور خدا سے مدد کی اپیل کرتی ہوں‘‘ اسے روزانہ چند سکے بھی مل جائیں تو وہ اسے خوش قسمتی سمجھتی ہے۔
ٹوکیو: عاشق کی جانب سے سنگلاخ چٹانوں سے دودھ کی نہر بہانے کا ذکر تو سنا تھا لیکن جاپان میں ایک شوہر نے اپنی نابینا بیوی کی محبت میں خوشبودار پھولوں کا ایک پورا باغ اگادیا ہے۔
جاپان کے میازوکی میں واقع ایک قصبے شنتومی میں یہ باغ اپنی مثال آپ ہے جسے کیوروکی نے اپنی محبوب نابینا بیوی کے لیے تیارکیا ہے جہاں پھولوں کے موسم یعنی مارچ اور اپریل میں روزانہ 7 ہزارافراد اس باغ میں آتے ہیں اور یہاں پھولوں کا قالین بچھا ہے جہاں سے بھینی بھینی خوشبو ہرجگہ محسوس کی جاسکتی ہے۔
1956 میں دونوں میاں بیوی یہاں آئے تھے اور ان کی نئی نئی شادی ہوئی تھی ۔ یہاں انہوں نے 60 گائے پال کر ڈیری فارم بنایا تھا اور ریٹائرمنٹ کے بعد پورے جاپان کی سیر کا منصوبہ بنایا تھا۔ لیکن اس وقت خاتون کی بینائی متاثر ہونا شروع ہوئی اور وہ ایک ہفتے میں مکمل طور پر اندھی ہوگئیں اور ان کی اداسی بڑھتی گئی۔ اس اداسی کو دور کرنے کے لیے کیوروکی نے گھر کی اطراف ایک باغ لگانا شروع کیا اور وہاں آنے والے لوگوں کی محفل سے ان کی بیگم کا جی بہلنا شروع ہوگیا اوراب وہ ہمیشہ مسکراتی رہتی ہیں۔
پہلے ڈیری فارم ختم کیا گیا اس کے بعد زمین ہموار کرکے اس میں پھولوں کے بیج بکھیرے گئے اور گلابی پھولوں سے بھرا ایک باغ تعمیر کیا اور اس کے بعد دور دراز علاقوں سے لوگ اس باغ کو دیکھنے کے لیے آرہے ہیں جو شوہر کی اپنی نابینا بیوی کے لیے ایک تحفہ ہے۔
ریاض:سعودی عرب سے تعلق رکھنے والے اس ارب پتی نے اپنی بیشتر دولت خیرات کر دی، باقی ماندہ اولاد میں تقسیم کر دی۔
غیر ملکی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق سعودی عرب کے ارب پتی بزنس مین سلیمان عبدالعزیز الراجحی نے اپنی دولت کا بیشتر حصہ خیرات کرنے کے بعد باقی ماندہ جائیداد اولاد میں بانٹ دی جس کے بعد وہ خالی ہاتھ ہو گئے ہیں۔ سلیمان عبدالعزیز الراجحی نے 1987ء میں ایک بینک کی بنیاد رکھی۔ آج اس بینک کی دنیا بھر میں سیکنڑوں برانچیں ہیں۔ ’’فوربز‘‘ جریدے کی رپورٹ کے مطابق الحاج سلیمان عبدالعزیز الراجحی کی دولت سات ارب 40 کروڑ سے زائد تھی۔ الراجحی کا کہنا ہے کہ میں نے اپنی زندگی صفر سے شروع کی اور آج ایک بار پھر اسی مقام پر کھڑا ہوں جہاں سے زندگی کا آغاز کیا تھا۔ سلیمان عبدالعزیز الراجحی نے قلی، خاکروب، باورچی اور ویٹر سمیت کئی دوسرے کام کئے۔ الراجحی نے بتایا کہ ان کی کامیابی کا راز ان تھک محنت ہے۔ وہ ہمیشہ کام پر دوسروں سے پہلے آتے اور سب سے آخر میں گھر لوٹتے تھے۔ اگر ہفتے میں نو دن بھی ہوتے تب بھی وہ اپنی مصروفیات اسی طرح جاری رکھتے۔
لندن: ایڈولف ہٹلر نے جرمنی کو دنیا کی سپر پاور بنا دیا تھا لیکن وہ لوگوں سے اپنے ظالمانہ سلوک کی وجہ سے نفرت کی علامت سمجھے جاتے ہیں لیکن اب ایک میڈیکل رپورٹ نے ان کی زندگی کے ایک تاریک پہلو سے پردہ اٹھاتے ہوئے انکشاف کیا ہے کہ ہٹلر فطری طور پر مرادنہ صلاحیتوں سے محروم تھے تاہم انہوں نے اپنی اس کمزوری کو کبھی دنیا کے سامنے عیاں نہیں ہونے دیا۔

برطانوی اخبار کے مطابق تاریخ دان جوناتھن میو اور ایما کریگی کا کہنا ہے کہ 1923 میں ایڈولف ہٹلر کی گرفتاری کے بعد ان کی میڈیکل رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ جنگی جنون میں مبتلا ہٹلر جنسی بیماری رائٹ سائیڈ کرپٹورکٹ ڈسم کا شکارتھا جس کی وجہ سے وہ اولاد کی نعمت سے محروم رہا۔ میڈیکل ریکارڈ کے مطابق ہٹلر ایک اور مردانہ بیماری ہیپو سپیڈیا کا بھی شکار تھا لیکن انہوں نے اپنی اس بیماری کو کبھی بھی اپنی کامیابیوں کی راہ میں رکاوٹ بننے نہیں دیا لیکن اس کی وجہ سے وہ کئی نفسیاتی بیماریوں کا شکار بھی رہا۔

تاریخ دان جوناتھن کا اپنی کتاب ’ہٹلر کے آخری ایام- لمحہ بہ لمحہ‘ میں اس راز سے پردہ اٹھاتے ہوئے کہنا ہے کہ جرمن رہنما نے اس راز کو دنیا بھر سے چھپائے رکھا تاہم ہٹلرخود اس بات کوتسلیم کرتا تھا کہ وہ دو قسم کی جنسی بیماریوں کا شکار ہے جس میں ایک ہائیپو پیڈیس اور دوسری انڈر سینڈڈ ٹیسٹیکل ہے اسی لیے وہ کبھی باپ نہیں بن سکا۔ جوناتھن کا کہنا ہے کہ ہٹلر کے ذاتی ڈاکٹر موریل ان کی اس بیماری کو دور کرنے کے لئے ہارمونز، ایمفیٹا مائنز اور کبھی کبھار کوکین بھی دوا کے طور پر دیتے تھے لیکن ان کی یہ بیماری دور نہ کرسکے۔
آثارِ قدیمہ کے ماہرین کا کہنا ہے کہ انھیں شمالی کینیا میں انسانوں کے درمیان قدیم ترین جنگ کے شواہد ملے ہیں۔

ماہرین کے مطابق انھیں کینیا کے شمال میں واقع ترکانا جھیل کے قریب دس ہزار سال قبل ہونے والی ایک جنگ میں 27 افراد کی باقیات ملی ہیں جن کے بارے میں خیال کیا جا رہا ہے کہ ان کی موت تشدد کی وجہ سے ہوئی۔

ماہرین کے مطابق انھیں دفن کرنے کی بجائے مرنے کے لیے کھلے عام چھوڑ دیا گیا تھا۔

متعدد ماہرین نے دلیل دی ہے کہ اس قسم کی جنگیں صرف اسی وقت ہی ممکن ہو سکیں جب انسانوں نے بستیاں بسانا شروع کر دیں۔ تاہم اس کے برعکس یہ لوگ بظاہر خانہ بدوشوں کی طرح رہا کرتے تھے۔

آثارِ قدیمہ کے ماہرین سنہ 2012 سے کینیا میں کام کر رہے تھے۔ انھیں پتہ چلا کہ متاثرہ افراد کو ڈنڈوں سے مار کر گھونپ کر ہلاک کیا گیا۔

ہلاک ہونے والے افراد میں مرد، عورتوں اور بچے شامل تھے۔

کیمبرج یونیورسٹی کے پروفیسر رابرٹ فولی کا کہنا ہے کہ جریدے نیچر میں چھپنے والی تحقیق میں اس بات کا پتہ نہیں چلتا کہ جنگ کی اصل وجہ کیا تھی تاہم متعدد افراد کا ایک ہی وقت میں ہلاک ہونا یہ ظاہر کرتا ہے کہ ’یہ ہلاکتیں کسی جنگ کا نتیجہ ہیں۔‘

خیال ظاہر کیا جا رہا ہے کہ ان افراد کو مخالف مسلح شکاریوں نے لکڑیوں اور تیروں سے ہلاک کیا جن کے سروں پر تیز دھار پتھر لگے ہوئے تھے۔ یاد رہے کہ اس زمانے میں انسانوں نے دھاتیں دریافت نہیں کی تھیں۔

کینیا کی نتاروک جھیل پر تحقیق کرنے والی ٹیم کے سربراہ مارٹا میرازون لہر کا کہنا ہے: ’یہ قتلِ عام وسائل پر قبضہ کرنے کی کوشش ہو سکتا ہے۔‘
سائنس دانوں نے شمالی بھارت اور چین میں پرندوں کی ایک نئی قسم دریافت کی ہے، جسے ہمالیائی جنگلی چڑیا کا نام دیا گیا ہے۔


پہاڑوں پر موجود جنگلوں میں کام کے دوران سائنس دانوں کو ان پرندوں کے بارے میں پتہ چلا جو پہاڑوں کی پتھریلی چوٹیوں پر رہنے والے پرندوں سے زیادہ سریلی آواز میں چہچہا رہے تھے۔

اس کے بعد انھوں نے ان پرندوں کے ظاہری اور جینیاتی فرق کے بارے میں بھی معلوم کیا اور بتایا کہ ’سادہ پشت والی جنگلی چڑیا کی بھی دو مختلف اقسام ہیں۔‘

پہاڑوں پر رہنے والی نئی قسم کا نیا نام ’الپائن کی چڑیا‘ تجویز کیا گیا ہے۔

اس تحقیق کے رہنما، پروفیسر آلسٹروم جن کا تعلق وئیڈن کی اپسلا یونیورسٹی سے ہے، بی بی سی کو بتاتے ہیں کہ ’دنیا میں اب دریافت کرنے کے لیے پرندوں کی زیادہ اقسام نہیں بچی ہیں۔ ایسے میں اگر آپ کوئی نئی قسم دریافت کرتے ہیں تو بہت خوشی ہوتی ہے۔‘

ہمالیہ کی جنگلی چڑیا 1949 کے بعد سے ہندوستان میں دریافت کیے جانے والے نئے پرندوں کی چوتھی قسم ہے۔

ایوی آن ریسرچ نامی جنرل میں چھپنے والی اس تحقیقی رپورٹ پر پروفیسر آلسٹروم نے تحقیق کاروں کی ایک بین الاقوامی ٹیم کے ساتھ مل کر کام کیا ہے۔

بھارت میں پرندوں کے علم کے ماہر مرحوم ڈاکٹر سیلم علی کو خراج تحسین پیش کرنے کے لیے چڑیا کی اس نئی دریافت کو ’زوتھیرا سلیم علی‘ کا سائنسی نام دیا گیا ہے۔


پروفیسر آلسٹرون کا کہنا ہے کہ ’ڈاکٹر سیلم علی نے ہندوستان میں پائے جانے والے پرندوں پر بہت کام کیا ہے اور وہ پرندوں پر معلومات اور ان کے تحفظ کے سلسلے میں ایک بہت ہی اہم شخصیت رہے ہیں۔‘

اس نئی دریافت کا آغاز سنہ 1999 میں ہوا تھا جب ہمالیہ کے پہاڑوں پر ایک مہم کے دوران پہلی مرتبہ ان پرندوں کی آواز کو غور سے سنا گیا۔

انھوں نے بتایا کہ ’میں اپنے بھارتی ساتھی شاشانک دلوی کے ساتھ ارونا چل پردیش کے جنگلات میں تھا جہاں ہمیں پتہ چلا کہ سادہ پشت والی جنگلی چڑیا کی بھی دو اقسام ہیں۔ ہم نے محسوس کیا کہ اس فرق کی وجہ ان کا مختلف اونچائیوں اور مختلف مقامات پر رہنا ہے۔‘

پرندوں کی ایک قسم درختوں کی قطار سے اوپر پائی گئی جن کے چہچہانے کا انداز قدرے کھردرا ور بے سرا تھا جبکہ کچھ ہی نیچے جنگلوں میں پائے جانے والی قسم کی آواز زیادہ سریلی تھی۔

پروفیسر آلسٹن کہتے ہیں کہ ’انھوں نے ہمیں مختلف گانے سنائے۔ شروع میں ہم ان کی بناوٹ اور پروں کے فرق کو محسوس نہ کرسکے۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ ہم جنگلوں میں رہنے والی قسم کو صحیح طور سے دیکھ نہیں پائے تھے کیونکہ وہ کہیں چھپے ہوئے تھے۔‘

کئی سال کی تفصیلی تحقیق کے دوران سائنس دانوں کی ٹیم نے دنیا بھر کے 15 عجائب گھروں میں موجود ہندوستان اور چین سے تعلق رکھنے والے جنگلی پرندوں کی اقسام کا تقابلی جائزہ لیا۔

اس تحقیق میں ان کے ڈی ان اے کا تجزیہ بھی شامل تھا جس سے سائنس دانوں کے اس خیال کو تقویت ملی کہ پرندوں کی یہ دو اقسام کئی ہزار سالوں سے الگ الگ اس خطے میں پروان چڑھ رہی ہیں۔

پروفیسر آلسٹرون بیان کرتے ہیں کہ ’یہ دونوں اقسام واقعی بہت مختلف ہیں، حالانکہ دیکھنے میں دونوں تقریبا ایک جیسی ہی لگتی ہیں۔‘

’ان دونوں اقسام کے ارتقا کی تاریخ بھی کئی ہزار سالوں سے الگ ہو چکی ہے۔ ممکن ہے یہ عمل بھی اسی وقت شروع ہوگیا ہو جب انسان اور چمپینزی کے ارتقائی عمل کی کہانی ایک دوسرے سے الگ ہونا شروع ہوگئی تھی۔‘

ٹیم کا خیال ہے کہ شروع میں دونوں اقسام ایک ہی ہوں گی لیکن بعد میں پہاڑوں کی چوٹیوں اور جنگلوں میں الگ الگ سکونت اختیار کرنے کے بعد ان کے ارتقا کا عمل بھی شروع ہو گیا۔

’الپائن کی چڑیا کی ٹانگیں اور دم جنگلی چڑیا کے مقابلے میں نسبتا لمبی ہیں۔ جس کی وجہ یقیناً ان کا پہاڑی علاقوں میں رہنا ہے، کیونکہ پہاڑوں میں رہنے والے پرندوں کو جنگلوں میں رہنے والے پرندوں کے مقابلے میں زیادہ لمبی ٹانگوں کی ضرورت ہوتی ہے۔‘
انڈونیشیا کے ایک جزیرے پر سائنسدانوں کو پتھر کے دور کے ایسے اوزار ملے ہیں جو کم از کم 118,000 برس پرانے ہیں۔ تاہم ان سائنسدانوں کو اس دور کے انسانوں کا کوئی سراغ نہیں ملا جنہوں نے ممکنہ طور پر یہ اوزار بنائے ہوں گے۔


یہ بات ایک نئی تحقیق میں بتائی گئی ہے جس کے نتائج تحقیقی جریدے ’نیچر‘ میں بدھ 13 جنوری کو شائع ہوئے۔ اس تحقیق کے مطابق یہ پیشرفت ممکنہ طور پر براعظم آسٹریلیا پہنچنے والے ابتدائی انسانوں کے بارے میں بھی معلومات فراہم کر سکتی ہے۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق سولاویسی میں چار مختلف مقامات پر کی جانے والی کھدائی کے دوران ملنے والے سینکڑوں اوزاروں اور دیگر اشیاء کا یہ ذخیرہ ممکنہ طور پر جزائر کے اس سلسلے تک پہنچنے والے اور پھر ناپید ہو جانے والے انسانوں کی ایسی نسلوں کے بارے میں دوبارہ بحث کا نقطہ آغاز ثابت ہو سکتا ہے، جن کے بارے میں ابھی تک معلومات موجود نہیں ہیں۔

2003ء میں ایک قریبی جزیرے فلوریس سے ’ہومینِن‘ کی فوصل شدہ باقیات ملی تھیں۔ ہومینِن کی اصطلاح دراصل ابتدائی دور اور موجودہ دور کے انسانوں یا کے گروپ کے لیے استعمال کی جاتی ہے۔ اسی ہومینِن کو ’ہوبِٹ‘ کا نام دیا گیا تھا۔

آسٹریلیا کی وولونگونگ یونیورسٹی سے منسلک محقق اور اس تحقیقی رپورٹ کے مصنف گیرِٹ فان ڈین بیرغ نے خبر رساں ادارے اے ایف پی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ نئی دریافت سے معلوم ہوتا ہے کہ ’’فلوریس وہ اکلوتا جزیرہ نہیں تھا جہاں موجودہ یا ماڈرن انسان سے قبل کے یا ’آرکائک‘ انسان آباد رہے ہیں۔‘‘

سولاویسی سے ملنے والے اوزاروں کے بارے میں فی الحال سائنسدان یہ بتانے سے قاصر ہیں کہ آیا یہ جاوا کے قریب 1.5 ملین برس قبل پائے جانے والے انسانوں کی نسل سے تعلق رکھتے ہیں یا نہیں۔ تاہم فان ڈین بیرغ کے مطابق نئی دریافت سے اس خیال کو تقویت ملتی ہے کہ ابتدائی دور کے انسان آسٹریلیا تک پہنچ گئے تھے۔

اس تحقیق کے مطابق ایک بات یقینی ہے کہ سولاویسی سے ملنے والے یہ اوزار ہومو سیپیئنز کی طرف سے نہیں بنائے گئے تھے۔ فان ڈین بیرغ کے مطابق یہ اوزار ہوموسیپیئنز کے دور سے کہیں زیادہ پرانے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق نئے دریافت ہونے والے تیز دھار ہتھیار لائم اسٹون یا چونے کے پتھر کو تراش کر تیار کیے گئے تھے۔ ان میں یک طرفہ اور دو طرفہ تیز دھار رکھنے والے ہتھیار بھی شامل ہیں۔
حکام نے کہا ہے کہ امریکہ میں ایک ارب 60 کروڑ ڈالر کی لاٹری کے تین فاتح ٹکٹ سامنے آئے ہیں۔

’پاور بال‘ جیک پاٹ جیتنے والے ٹکٹ کیلیفورنیا، ٹینسی اور فلوریڈا کی ریاستوں میں فروخت کیے گئے تھے۔

اس تازہ ترین لاٹری سے پہلے گذشتہ 19 ڈراز منعقد کیے گئے تھے جن میں کوئی بھی ٹکٹ نہیں جیت پایا تھا۔

جیک پاٹ جیتنے کے لیے ڈرا جیتنے والے تمام چھ نمبر ملنے چاہییں۔

حکام کا کہنا ہے کہ دیگر فاتح ٹکٹوں کی معلومات حاصل کرنے کے لیے ابھی کچھ گھنٹے لگیں گے۔

جیک پاٹ جیتنے والوں کے نام اب تک سامنے نہیں آئے۔ بدھ کو ہزاروں لوگوں نے ملک بھر میں دکانوں کے باہر لاٹری جینتے کی امید میں لمبی قطاریں بنا لیں۔ تاہم کسی ایک شخص کے لیے اسے جیتنے کا امکان 29 کروڑ 22 لاکھ میں سے ایک ہے۔

’کیلیفورنیا لاٹری‘ نے ایک ٹویٹ میں لکھا کہ ریاست میں جیتنے والا ٹکٹ ’چینو ہلز‘ کے علاقے میں ایک سیون ایلیون سٹور میں فروخت کیا گیا تھا۔

لاٹری کے نتائج کا اعلان ہونے کے بعد کئی لوگ خوشیاں مناتے ہوئے اُس دکان کے باہر جمع ہو گئے، جہاں سے جیتنے والا ٹکٹ فروخت کیا گیا تھا۔

لاٹری کے فاتحین ایک ارب 58 کروڑ 60 لاکھ ڈالر کی رقم میں شراکت داری کریں گے۔

وہ اپنے پیسے یا تو 29 سالوں کے لیے سالانہ طور پر قسطوں میں وصول کر سکتے ہیں یا پھر 93 کروڑ دس لاکھ ڈالر کی رقم ایک ہی قسط میں حاصل کیے جا سکتے ہیں۔

البتہ اس رقم پر 39.6 فیصد وفاقی انکم ٹیکس لاگو کر کے امریکی حکومت بھی اس رقم میں شراکت دار بن جائے گی۔

50 امریکی ریاستوں میں سے چھ اس لاٹری میں حصہ نہیں لیتیں جس کی وجہ سے کچھ رہائشی ٹکٹ خریدنے کے لیے گاڑی پر گھنٹوں کا سفر طے کرتے ہیں۔

الباما، مسی سپی اور یوٹا کی ریاستیں اس لاٹری میں مذہبی وجوہات کا حوالہ دیتے ہوئے حصہ نہیں لیتیں، جبکہ الاسکا کا کہنا ہے کہ وہ بھی اس لیے لاٹری میں حصہ نہیں لیتی کیونکہ اتنی کم آبادی والی ریاست میں اس قسم کی لاٹری اقتصادی طور پر فائدہ مند نہیں ہو گی۔
ماروتی چل: بھارت کی جنوبی ریاست کیرالہ کے ایک گاؤں میں پہلے کبھی بڑی تعداد میں شراب نوشی کا راج تھا اور اب وہاں لوگوں فارغ اوقات میں شطرنج کھیلنا پسند کرتے ہیں یا شطرنج کی بساط پرنئی چالوں کے بارے میں بات کرتے ہیں یہاں تک کہ وہ سوتے وقت بھی شطرنج کی بات ہی کرتے ہیں۔

1960 سے 1970 کی دہائی سے یہ گاؤں شراب نوشی کے حوالے سے مشہور ہوا اور کچھ سال قبل تک بھی یہاں کی اکثریت سستی اور کچی شراب کی عادی تھی۔ شراب نوشی کے عام ہونے سے یہاں کی سماجی اور معاشرتی زندگی بری طرح متاثر ہوگئی، یہاں گھریلو زندگی برباد ہوکر رہ گئی جس کے بعد لوگوں نے پولیس اور دیگر مجاز اداروں سے رابطہ کرکے درخواست کی کہ وہ شراب خانے بند کراکر تمام شراب کو قبضے میں لے۔

ابتدا میں دسویں جماعت کے طالب علم نے اس گاؤں میں شطرنج متعارف کرایا کیونکہ وہ امریکی شاطر بابی فشر سے متاثر تھا جس نے 16 برس کی عمر میں گرانڈ ماسٹر کا اعزاز جیتا تھا، اس نوجوان نے پہلے خود اس کھیل کو سیکھا اور اس کے بعد دوسروں کو مفت میں شطرنج سکھایا جس کے بعد گاؤں کا ہرفرد اس کے پاس شطرنج کھیلنے کے لیے آگیا اور یوں یہ اس گاؤں کا من پسند کھیل بن گیا۔ 40 سال میں اس گاؤں کے 600 افراد شطرنج کے بہترین کھلاڑی بن چکے ہیں اور شراب نوشی سے دور ہیں کیونکہ وہ شطرنج کو ہی سب سے بڑا نشہ سمجھتے ہیں۔
بھارتی پولیس نے سونے کی ایک چین نگل لینے والے ایک مبینہ چور سے مسروقہ سامان برآمد کرنے کا طریقہ یہ نکالا کہ ملزم کو زبردستی چالیس سے زائد کیلے کھلائے گئے، جس کے بعد پولیس ملزم سے ’سامان کی برآمدگی‘ میں کامیاب رہی۔

ممبئی سے پیر گیارہ جنوری کو ملنے والی نیوز ایجنسی اے ایف پی کی رپورٹوں کے مطابق یہ واقعہ گزشتہ ہفتے پیش آیا اور ملزم اس بات سے انکاری تھا کہ اس نے ممبئی شہر کی ایک سڑک پر ایک خاتون سے سونے کی ایک چین چھینی تھی۔ یہی نہیں پولیس کے مطابق ملزم اس بات سے بھی انکاری تھا کہ وہ اس جرم کا مرتکب ہوا تھا۔

لیکن پولیس نے جب ملزم کا ایکسرے کروایا تو طبی شواہد ملزم کے دعووں کے برعکس نکلے۔ اس پر پولیس نے اپنی تفتیش اور اس کے نتائج کو ثابت کرنے کے لیے ملزم پر کوئی تشدد کرنے کی بجائے فیصلہ یہ کیا کہ اسے زبردستی بہت سے کیلے کھلائے جائیں۔

پولیس کے ملزم کو کیلے کھلانے کے فیصلے سے قبل یہ طریقہ بھی ناکام رہا تھا کہ ملزم کو کوئی ایسی دوائی پلا دی جائے، جس کے نتیجے میں اسے رفع حاجت کی ضرورت پڑے اور سونے کی چوری شدی چین ’برآمد‘ کرا لی جائے۔

اے ایف پی نے مغربی بھارت کے شہر ممبئی کی پولیس کے سینیئر اہلکار شنکر دھنواڑے کے بیان کو حوالہ دیتے ہوئے لکھا ہے کہ ڈاکٹروں نے پولیس کو مشورہ دیا تھا کہ ملزم کے پیٹ سے سونے کی چوری شدہ چین برآمد کرنے کے لیے اس کا آپریشن کر دیا جائے۔

تاہم پولیس کے تفتیشی ماہرین نے اس امکان کو رد کرتے ہوئے ایک دوسرا حل نکالا اور ملزم کو ایک پورا دن زبردستی اتنے کیلے کھلائے گئے کہ ان کی تعداد چالیس سے بھی زیادہ رہی۔

پولیس انسپکٹر دھنواڑے کے مطابق یہ طریقہ کارگر رہا اور سونے کی چوری شدہ چین ’برآمد‘ کر لی گئی۔ اس پولیس افسر نے طریقہ کار کی زیادہ تفصیلات بتائے بغیر محض اتنا کہا، ’’ہمیں صرف اس چین کو دھو کر disinfect کرنا پڑا۔‘‘

اے ایف پی کے مطابق ملزم کی عمر 25 برس ہے اور اسے جمعہ آٹھ جنوری کو ممبئی شہر میں ایک مقامی عدالت کے سامنے پیش بھی کر دیا گیا، جس کے بعد وہ اس وقت پولیس کی تحویل میں ہے۔

اس واقعے کے بعد ایک پولیس اہلکار نے کہا، ’’ملزم کا آپریشن کروانا زیادہ مہنگا ہوتا، جو خطرناک بھی ثابت ہو سکتا تھا۔ اس کے برعکس چار درجن کے قریب کیلوں پر لاگت بھی کم آئی اور نتیجہ بھی سو فیصد کامیاب نکلا۔‘‘
ٹوکیو:جاپان کی حکومت نے خسارے میں چلنے والا ایک ریلوے اسٹیشن ہائی اسکول کی صرف ایک طالبہ کی خاطر مزید تین ماہ تک چلانے کا فیصلہ کیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق جاپان کے صوبہ ہکائیدو کے دور دراز گاؤں اینگارو میں کچھ عرصہ قبل علاقے کے عوام کی ضرورت کے تحت کامی شیرا تاکی ریلوے اسٹیشن قائم کیا گیا تھا۔ وقت کے ساتھ ساتھ یہاں کی آبادی کم ہوتی گئی اور اس ریلوے اسٹیشن سے مسافروں کی آمدورفت انتہائی ختم ہو کر رہ گئی یہاں تک کہ اس علاقے سے ٹرین کے ذریعے سامان کی نقل و حمل بھی صفر ہوگئی یوں یہ اسٹیشن خسارے میں چلنے لگا۔ جاپان ریلوے نے تین سال قبل یہ اسٹیشن بند کرنے کا فیصلہ کیا جس کے لئے متعلقہ انتظامی عہدیداروں کی میٹنگ طلب کی گئی۔ 

ریلوے حکام نے اس اسٹیشن کی کارکردگی رپورٹ میں اس اسٹیشن سے صرف ایک طالبہ کے مسافر ہونے کی رپوٹ پیش کی جو صبح کی ٹرین سے ہائی اسکول جاتی ہے اور شام ساڑھے سات بجے کی ٹرین سے واپس گھر آتی ہے۔ اجلاس کے تمام شرکا کے لئے یہ لمحہ فکریہ تھا کہ اسٹیشن بند کرنے سے گاؤں کی اس اکلوتی طالبہ یا ٹرین کی اکیلی مسافر کی تعلیم کا کیا ہوگا۔؟ جس پر بورڈ نے بچی کے ہائی اسکول کی تعلیم مکمل ہونے تک اسٹیشن بحال رکھنے کا فیصلہ کیا۔ جاپان ریلوے کے اس بورڈ نے اس سلسلے میں جاپان حکومت کے متعقلہ اعلیٰ عہدیداروں کو اپنے فیصلے سے آگاہ کیا تو جاپان حکومت نے بھی اس فیصلے کی توثیق کردی۔ کیا اور ٹرین کا ٹائم ٹیبل بھی اس طالبہ کے آنے جانے کے شیڈول کے مطابق کردیا۔ جسکے بعد سے اس اسٹیشن پر ٹرین اب دن میں صرف دو بار رکتی ہے۔

روس کے ایک ہسپتال میں نصب سی سی ٹی وی کیمرے کی ویڈیو سامنے آئی ہے، جس میں ایک ڈاکٹر نے مریض کو گھونسا مارا، جس کے بعد مریض زمین پر گرا اور مر گیا۔

یہ واقعہ گذشتہ ماہ کے آخر میں روس کے درالحکومت ماسکو کے جنوب میں واقع بیلگوریڈ کے علاقے میں ہوا۔

روس کے ذرائع ابلاغ کا کہنا ہے کہ مریض نے پہلے ایک نرس کو مارا جس کے بعد وہیں موجود ڈاکٹر نے مریض کو گھونسا مارا۔

Russian doctor kills patient with one punch
Russian doctor kills patient with one punch روسی ڈاکٹر قاتل بن گیا، ایک ہی مکہ مار کر اپنے مریض کی جان لے لی #RussianDoctor #RussianDoctorKillsPatient #Russia #Doctor
Posted by Muhammad Farooq on Sunday, January 10, 2016

ایک سرکاری اہلکار نے روسی ٹی وی کو بتایا کہ تفتیش کاروں کا خیال ہے کہ یہ ’نادانستہ طور پر غیر ارادی قتل‘ کا مقدمہ ہے لیکن اس قتل کا فوجداری مقدمہ بھی درج کیا گیا ہے۔

سی سی ٹی وی کیمرہ کی فوٹیج سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئی۔

مقامی تفتیشی کمیٹی کے رکن نے بتایا کہ انھیں یقین ہے کہ مریض کے قتل میں ڈاکٹر کی جانب سے دشمنی وغیرہ کا عنصر شامل نہیں ہے۔

ڈاکٹر کا گھونسا کھانے کے بعد ہلاک ہونے والے مریض کی عمر 56 سال تھی اور بیلگوریڈ شہر کا رہائشی تھا۔
امریکی شہر لاس ویگاس میں جاری الیکٹرانک شو میں ایک ایسا ’ذہین‘ ٹوائلٹ یعنی بیت الخلا رکھا گیا ہے، جو صارف کے اِستعمال کے ساتھ ہی خود بخود صاف ہو جایا کرے گا۔
اِس کو تیار کرنے والے ادارے ٹوٹو کی خاتون ترجمان کا کہنا ہے کہ یہ ہوا کی پچکاری کے مدد سے اپنے اِستعمال کرنے والے کے جسم کی بھی صفائی کردے گا۔
اِس پچکاری سےگرم پانی اور گرم ہوا اِس طرح نکلے گی کہ صارف کے جسم کی مکمل صفائی ہوجائے گی۔
9,800 امریکی ڈالر کی قیمت کے باوجود اِس نیوریسٹ ٹوائلٹ کے چار کروڑ سے زائد ابتدائی سیٹ فروخت ہو چکے ہیں۔
باتھ روم کے لیے اشیا تیار کرنے والی کمپنی ٹوٹو کا کہنا ہے کہ نئے نمونوں پر اب بھی کام جاری ہے۔
اِس کے خود ساختہ صفائی کے نظام میں جراثیم کش دوا اور چمکدار پالش کے مجموعے کا استعمال کیا گیا ہے۔ اِس کو زرکونیم اور ٹائٹینیم ڈائی آکسائیڈ سے تیار کر کے اندرونی کٹورے پر اِس کی تہہ چڑھائی گئی ہے۔

Image copyright
Image caption
یہ ایک ہوا بھری چھڑی کے مدد سے اپنے اِستعمال کرنے والے کے جسم کی بھی صفائی کردے گا

ٹوٹو کی ترجمان لینورا کمپوس کا کہنا ہے کہ ’جب یہ فلش کرتا ہے تو اُس وقت اندرونی کٹورے پر الیکٹرولائزڈ واٹر یعنی برقی پانی کا چھرکاؤ کردیتا ہے۔‘
’ہم باقاعدہ نل کے پانی سے صفائی کے لیے بنیادی طور پر کم اثر والے بلیچ کا استعمال کرتے ہیں، جو اِس کو اندر سے صاف کردیتا ہے اور اندرونی کٹورے میں موجود جراثیم کو بھی مار دیتا ہے۔‘
اِسی دوران ڈھکن میں موجود الٹراوائلٹ یعنی بالائے بنفشی روشنی سطح کی صفائی کا کام کرتی ہے۔
یہ خصوصیات اِس کو پانی سے پیار کرنے والا بناتی ہے، تو اِس میں کسی قسم کی کوئی گندگی باقی نہیں رہتی ہے۔ ساتھ ساتھ اِس میں موجود کیمیائی عناصر آکسیجن کی برقوں کو متحرک کردیتے ہیں جو جراثیم اور وائرس کو ختم کرنے میں اپنا کام کرتی ہے۔
مِس کیمپوس کا کہنا ہے کہ ’آپ کو ایک سال تک اِس بیت الخلا کو صاف کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔‘

Image copyright
Image caption
اِس میں موجود کیمیائی عناصر آکسیجن کی برقوں کو متحرک کردیتے ہیں جو جراثیم اور وائرس کو ختم کرنے میں اپنا کام کرتی ہے

بی بی سی نے لاس ویگاس کے متعدد ہوٹل والوں سے اِس کے بارے میں رائے لی کہ کیا وہ اِس طرح کی مصنوعات میں دلچسپی رکھتے ہیں، لیکن تمام نے اِس پر تبصرہ کرنے سے انکار کردیا۔
تاہم ایک ماہر امور خانہ داری کا کہنا ہے کہ اِس نے ثابت کردیا ہے کہ انٹرنیٹ پر چیزوں کے تعین سے بڑھ کر یہاں جدت کے لیے بھی جگہ موجود ہے۔
ٹیک کنسلٹنسی فاریسٹر ریسرچ سے تعلق رکھنے والے فرینک گلٹ کا کہنا ہے کہ ’یہ اُس تصور کی وضاحت کرتا ہے کہ ٹیکنالوجی کے حوالے سے پیش رفت میں چیزوں پر نظرثانی کی سوچ شامل ہے۔‘
’یہ ضروری نہیں ہے کہ کچھ نیا کیا جائے۔‘
تاہم اِس کے ممکنہ خریداروں کو اِس حوالے سے خبردار کیا جانا چاہیے ہے کہ یہ مکمل طور پر ٹوائلٹ کی صفائی کے فرائض سے مستثنی ہے، جب تک اِس کی صفائی کی تکنیک کو کٹورے سے باہر تک نہیں لایا جاتا ہے۔

مکھی ہوا کی رفتار ناپنے والی اہم ’پیٹوٹ‘ ٹیوب کے اندر پھنس گئی تھی

انڈونیشیا میں ایک مکھی کی وجہ سے مقامی فضائی کمپنی کی پرواز چار گھنٹے تاخیر کا شکار ہو گئی۔

گرودا نامی فضائی کمپنی کی یہ پرواز جزیرہ سماٹرا سے جکارتہ جا رہی تھی کہ پرواز سے قبل معمول کی چیکنگ کے دوران بوئنگ 737 کے پائلٹ کو الیکٹرونک انجن کنٹرول میں گڑبڑ کا احساس ہوا۔

اس خرابی کی بنا پر پائلٹ نے طیارہ اڑانے سے انکار کر دیا اور فوری طور پر اس خرابی کی وجہ جاننے کے لیے جائزے کا عمل شروع کیا گیا۔

فضائی کمپنی کے مطابق دو گھنٹے سے زیادہ دیر تک جاری رہنے والی تحقیقات میں معلوم ہوا کہ ہوا کی رفتار ناپنے والی اہم ’پیٹوٹ‘ ٹیوب کے اندر ایک مکھی پھنس گئی تھی۔

جہاز کے اس پرزے میں سے مکھی نکالے جانے کے بعد آخر کار جہاز نے اڑان بھری اور باحفاظت جکارتہ کے ہوائی اڈے پر لینڈ کرگیا۔

ہوائی کمپنی کے ایک ترجمان کا کہنا ہے کہ اگرچہ اس واقعے کو روکنا ہوائی کمپنی کی دسترس سے باہر تھا پھر بھی گرودا 156 مسافروں کو معاوضہ ادا کرے گی۔

یہ پہلا موقع نہیں کہ مکھی کی وجہ سے کسی طیارے کی پرواز میں تاخیر ہوئی ہو۔

گذشتہ جون میں برطانوی بجٹ ایئرلائن فلائی بی کی ایک پرواز اس وقت منسوخ کرنا پڑی تھی جب مکھی انسٹرومنٹ پینل میں داخل ہوگئی تھی۔
سری لنکا میں ماہر عِلمِ جواہریات نے ملک کی ایک کان سے دنیا کے سب سے بڑے ستارے کے نشان والے نیلم کی دریافت کا دعویٰ کیا ہے۔

دارالحکومت کولمبو میں قائم ماہرعلم جوہریات کے انسٹی ٹیوٹ نے تصدیق کی ہے کہ اس کا وزن 1404.49 قیراط ہے اور اس کا کہنا ہے انھوں نے اس سے بڑے نیلم کی تصدیق نہیں کی۔

اس قیمتی پتھر کی کم از کم قیمت دس کروڑ ڈالر ہے اور اس کی موجودہ مالک کا اندازہ ہے کہ یہ نیلامی میں 17 کروڑ 50 لاکھ ڈالر تک نیلام ہوسکتا ہے۔

خیال رہے کہ سری لنکا میں جواہرات کی صنعت کی کم از کم مالیت دس کروڑ 30 لاکھ ڈالر سالانہ ہے اور نیلم کا شمار اس کی اہم برآمدات میں ہوتا ہے۔

اس خاص قسم کے پتھر کو ’بلیو سٹار‘ نیلم بھی کہا جاتا ہے کیونکہ اس کے مرکز میں ستارے جیسا مخصوص نشان پایا جاتا ہے۔

اس قیمتی پتھر کے مالک نے نام ظاہر کرتے ہوئے بی بی سی کو بتایا کہ ’جیسے ہی میں نے اسے دیکھا، میں نے اسے خریدنے کا فیصلہ کر لیا۔‘

’جب یہ پتھر میرے پاس لایا گیا تو مجھے شک ہوا کہ یہ دنیا کا سب سے بڑا ستارے کے نشان والا نیلم ہوسکتا ہے۔ چنانچہ میں نے خطرہ مول لیا اور اسے خرید لیا۔‘

مالک کا کہنا تھا کہ انھوں نے یہ خریدنے کے لیے کتنا معاوضہ ادا کیا یہ ’بالکل خفیہ‘ معاملہ ہے۔ اس سے قبل سب سے بڑے نیلم کا وزیر 1395 قیراط تھا۔

میں خیال کیا جاتا ہے کہ وہ سری لنکا سے نکالا گیا تھا

یہ پتھر سری لنکا کے جنوبی شہر رتناپورا سے نکالا گیا ہے، جو جواہرات کا شہر بھی کہلاتا ہے۔

اس کے مالک نے اس پتھر کو ’سٹار آف ایڈم‘ کا نام دیا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ انھوں نے اسے یہ سوچتے ہوئے خریدا کہ ’یہ زیور کا ٹکڑا نہیں بلکہ نمائش کا ٹکڑا ہے۔‘

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے سری لنکا کے معروف سنار اور جواہر فروش ارمل سمون نے تصدیق کی ہے کہ یہ دنیا کا سب سے بڑا ستارے والا نیلم ہے۔

سری لنکا کے جیم اینڈ جیولری ایسوسی ایشن کا کہنا ہے کہ سنہ 2011 میں ڈچس آف کیمبرج کیتھرین مڈلٹن کی منگنی کی انگوٹھی میں جڑا نیلم بھی 1970 کی دہائی میں سری لنکا سے نکالا گیا تھا۔

یہ اس سے قبل ویلز کی شہزادی ڈیانا کی ملکیت تھا۔



ٹورانٹو: ماہرین نے ’’نورا‘‘ نامی ایک تکیہ تیار کیا ہے جو خراٹوں کو روکنے میں مددگار ثابت ہوسکتا ہے۔

کینیڈین کمپنی کی جانب سے تیار کیے گئے اس تکیے کے اندر الیکٹرانک نظام نصب ہے جو خراٹے کی آواز سن کر تکیے کو پھیلاتا اور سکیڑتا ہے، اس طرح خراٹے لینے والے کا سر دوسری پوزیشن میں آجاتا ہے اور خراٹے کم ہوجاتے ہیں۔ تکیے کو پلنگ کے قریب رکھا جاتا ہے جو خراٹے کی آواز سن کر تکیے کے اندر پمپ کو چلاکر اٹھاتا ہے اور سونے والے کی پوزیشن بدل جاتی ہے جب کہ اس عمل سے حلق کے پٹھوں کو بھی سکون ملتا ہے اور سانس لینے میں آسانی ہوجاتی ہے۔

ماہرین کا کہنا ہےکہ خراٹے لینے والے شخص کا سر نیند میں ہلایا جائے تو منہ میں ہوا جانے کی پوزیشن کچھ بدل جاتی ہے اورتھوڑی دیر میں خراٹے کم یا رک جاتے ہیں کیونکہ جب تک حلق کے اوپری حصے کے پٹھوں ( مسلز) پر دباؤ نہیں پڑتا اس وقت تک خراٹے شروع نہیں ہوتے جب کہ یہ تکیہ عین اسی وقت کام کرتا ہے جب خراٹے شروع ہونے والے ہوتے ہیں۔

نئی دہلی: چھٹیوں کے اس موسم میں ہندوستانی عوام آن لائن مارکیٹوں کا رخ کر رہے ہیں، جہاں دوسری ضروریات زندگی کے علاوہ ایک انوکھی چیز بھی فروخت ہو رہی ہے۔

ہندوستان میں ایمزون اور ای بے جیسے بڑے آن لائن ریٹیلرز گائے کے گوبر سے بنے اوپلے فروخت کر رہے ہیں۔ ہندوستان اور پاکستان کے دیہاتی علاقوں میں اوپلے کثرت سے بنائے اور آگ جلانے کیلئے استعمال ہوتے ہیں۔ تاہم اب انہیں آن لائن مارکیٹوں کے ذریعے شہری آبادی میں متعارف کروایا جارہا ہے۔

کچھ ریٹیلرز کا کہنا ہے وہ بڑے آرڈرز پر خصوصی ڈسکاؤنٹ دے رہے ہیں جبکہ کچھ گاہک اوپلوں کو گفٹ پیپر میں لپیٹ کر پیش کرنے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

ہندوستان میں گائے کو مقدس مانا جاتا ہے۔ ان اوپلوں کو صدیوں سے آگ جلانے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے جبکہ ہندو رسومات میں بھی ان کا کردار ہے۔