Articles by "انٹر نیشنل"
‏انٹر نیشنل لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

نیویارک: مشیر خارجہ سرتاج عزیز کا کہنا ہے کہ مسئلہ کشمیر ایک دیرینہ تنازعہ ہے جسے اقوام متحدہ کی قرار دادوں کے مطابق حل کیا جانا چاہیے جب کہ او آئی سی نے ایک قرارداد کے ذریعے کشمیریوں کے حق خودارادیت کی حمایت کا اعادہ کیا ہے۔

سرکاری خبررساں ادارے کے مطابق نیویارک میں اسلامی تعاون تنظیم کے وزرائے خارجہ کے سالانہ رابطہ اجلاس کویت کے وزیرخارجہ شیخ صباح الخالد الصباح کی زیر صدارت ہوا، اجلاس میں مشیر خارجہ سرتاج عزیز نے پاکستانی کی نمائندگی کی۔ اجلاس میں ایک قرار داد منظوری کی گئی جس میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق کشمیریوں کے حق خودارادیت کے حصول کا اعادہ کیا گیا ہے۔

اجلاس کے شرکاء نے فلسطین، جموں و کشمیر ،قبرص، ناگورنو کارا باخ اور روہنگیا مسلمانوں کے تنازعات سمیت امت مسلمہ کے مسائل کے حل کے لیے اسلامی تعاون تنظیم کے مشترکہ پلیٹ فارم کی اہمیت پر زوردیا۔

اس موقع پر سرتاج عزیز کا کہنا تھا کہ مسئلہ کشمیر ایک دیرینہ تنازعہ ہے جسے اقوام متحدہ کی قرار دادوں کے مطابق حل کیا جانا چاہیے۔ سرتاج عزیز نے مقبوضہ علاقوں کی واپسی کیلئے فلسطین کی کوششوں کی بھرپور معاونت کے پاکستانی عزم کابھی اظہار کیا اورمسجد اقصیٰ پر اسرائیل کے حالیہ حملے کی شدید مذمت کی ۔انہوں نے اقوام متحدہ پر زوردیا کہ وہ مسلمانوں کے مقدس مقام کی بے حرمتی پر اسرائیل کے خلاف کارروائی کرے۔

واضح رہے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 70 ویں اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نواز شریف کا کہنا تھا کہ کشمیری عوام مسئلہ کشمیر کا لازمی حصہ ہیں اور انہیں شامل کئے بغیر یہ مسئلہ حل نہیں کیا جاسکتا ہے۔
قدامت پسند وزیر اعظم اسٹیفن ہارپر سن 2006ء میں برسر اقتدار آئے تھے
کینیڈا کی قدامت پسند حکمران جماعت نے ملک میں آباد مسلمان کنبوں میں ’وحشیانہ ثقافتی رسومات‘ کی روک تھام کے لیے ایک خصوصی ٹیلی فون ہاٹ لائن قائم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

کینیڈا کے عام انتخابات کے سلسلے میں جمعے کے دن ہونے والے حتمی مباحثے سے قبل حکمران پارٹی کی طرف سے کیے جانے والے اس اقدام کو سیاسی تناظر میں دیکھا جا رہا ہے۔ مبصرین کے بقول الیکشن مہم کے دوران ایسے اقدامات دراصل ووٹ بینک کو مضبوط کرنے کی ایک کوشش ہے۔ ایک اپوزیشن لیڈر نے تو یہ بھی کہہ دیا ہے کہ قدامت پسند ’آگ سے کھیل رہے ہیں‘۔ اپوزیشن نے حکمران جماعت کی طرف سے انتخابی مہم میں مذہب کو شامل کرنے کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔کینیڈا کے امیگریشن منسٹر کرس الگزینڈر کے مطابق اگر کوئی مسلمان گھرانہ ’وحشیانہ ثقافتی رسومات‘ کا مرتکب ہوتا ہے تو اس ٹیلی فون ہاٹ لائن کے ذریعے کینیڈین پولیس کو فوری طور پر اطلاع دے سکیں گے۔ انہوں نے یہ بھی تجویز کیا کہ شہریت حاصل کرنے کی خصوصی تقریبات میں خواتین کے نقاب پر پابندی عائد کر دینا چاہیے۔ نقاب پر پابندی کے مجوزہ قانون کو فرانسیسی زبان بولنے والے کیوبک ریجن میں حمایت حاصل ہے، اس لیے وہاں قدامت پسندوں کی پسندیدگی میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔

قدامت پسند وزیر اعظم اسٹیفن ہارپر کی جماعت کا کہنا ہے کہ کینیڈا میں بھی کثرت ازواج، زبردستی کی شادیوں اور بچیوں کے ختںوں کے واقعات رونما ہو رہے ہیں۔ اس پارٹی کا دعویٰ ہے کہ اونٹاریو میں 2010ء تا 2012ء کے دوران زبردستی کی شادیوں کے دو سو مشتبہ واقعات نوٹ کیے گئے۔

کرس الگزینڈر کے مطابق، ’’ہمیں اپنی اقدار کے تحفظ کے لیے کھڑا ہونا پڑے گا۔ ہمیں خواتین اور لڑکیوں کی زبردستی شادیوں اور دیگر وحشیانہ رسومات کے خلاف عملی اقدامات اٹھانا ہوں گے۔‘‘ کینیڈا کے سابق امیگریشن منسٹر جیسن کینی نقاب پر پابندی کے لیے فعال ہیں۔ موجودہ وزیر دفاع کینی کے بقول، ’’نقاب دراصل زن بیزاری کی ایک علامت ہے، جو قرون وسطیٰ کی قبائلی ثقافت میں رائج تھا۔‘‘

ٹورنٹو یونیورسٹی میں سیاسیات کے پروفیسر نیلسن وائزمین نے قدامت پسندوں کی طرف سے اٹھائے جانے والے ان اقدامات کو سیاسی آلہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ دیگر ممالک کی طرح کینیڈا میں بھی یہ ایک مؤثر حکمت عملی ثابت ہو سکتی ہے۔

حاملہ خاتون کا ہیڈ اسکارف زبردستی پھاڑ دیا گیا

کینیڈا کے علاقے کیوبک میں ثقافتوں کے مابین جاری یہ گرما گرم بحث اب اسلام مخالف بیانات سے بھی آگے بڑھ گئی ہے۔ گزشتہ ہفتے ہی مونٹریال میں دو ٹین ایجرز نے ایک حاملہ مسلمان خاتون کا ہیڈ اسکارف زبردستی اتارنے کی کوشش کی تو وہ گر گئی۔ اس واقعے کے بعد کیوبک کی صوبائی حکومت کو ایک ایسی قرارداد منظور کرنا پڑی، جس میں متقفہ طور پر تمام باشندوں کے خلاف نفرت آمیز بیانات اور تشدد کی شدید مذمت کی گئی۔

نیو ڈیموکریٹک پارٹی کے رکنِ پارلیمنٹ پال ڈیوَر نے وزیر اعظم ہارپر کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ وہ ایک مرتبہ پھر سیاسی مقاصد کی خاطر سماجی سطح پر تناؤ پھیلانے کے مرتکب ہو رہے ہیں۔ عوامی جائزوں کے مطابق انیس اکتوبر کو ہونے والے انتخابات میں لبرل سیاستدان کو 33.5 فیصد ووٹرز کی حمایت حاصل ہے جبکہ قدامت پسند 31.9 فیصد عوام کا دل جیتنے میں کامیاب ہو چکے ہیں۔

سن 2006ء میں برسر اقتدار آنے والے قدامت پسند وزیر اعظم اسٹیفن ہارپر روایتی طور پر بائیں بازو کی طرف جھکاؤ رکھنے والے اعتدال پسند ملک کو دائیں بازو کی سیاست کی طرف لے جانے میں کامیاب ہو گئے ہیں۔ ہارپر کے پرانے ساتھیوں کا کہنا ہے کہ قدامت پسندوں کی طویل المدتی منصوبہ بندی یہ ہے کہ وہ کینیڈا کو دائیں بازو کے نظریات کی طرف دھکیل دیں۔ یہ امر اہم ہے کہ کینیڈا ایک عشرے قبل تک ایک انتہائی لبرل ملک تصور کیا جاتا
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوجی مظالم کسی سے ڈھکے چھپے نہیں لیکن اب بھارتی فوج نے خود اپنی کارکردگی رپورٹ جاری کرتے ہوئے ساڑھے آٹھ ہزار سے زائد کشمیریوں کے قتل کا اعتراف کرلیا۔کشمیریوں کی جدوجہد آزادی کو کچلنے کے لئے بھارت نے مقبوضہ کشمیر میں انیس سو نوے میں خصوصی فوجی بٹالین راشٹریہ رائفلز کے نام سے بنائی۔ اس فورس نے کشمیریوں پر ظلم کی انتہا کر دی۔ پچیس سال میں ہزاروں کشمیریوں کو قتل کیا گیا۔ بھارت نے بین الاقوامی فورمز پر ہمیشہ ریاستی مظالم سے انکار کیا، لیکن اب راشٹریہ رائفلز نے اپنے پچیس سال پورے ہونے پر کارکردگی رپورٹ میں ماورائے عدالت ہلاکتوں کا بھانڈا خود ہی پھوڑ دیا۔ راشٹریہ رائفلز کے ترجمان ایس ڈی گوسوامی کے مطابق راشٹریہ رائفلز نے پچیس سال کے دوران آٹھ ہزار پانچ سو بائیس کشمیریوں کو ماورائے عدالت قتل کیا۔چھ ہزار سات سو سینتیس حریت پسندوں کو گرفتار کیا۔ ترجمان کے مطابق مقبوضہ کشمیر میں راشٹریہ رائفلز کے ساٹھ یونٹس کشمیر میں تعینات ہیں۔ بھارتی پندرھویں کور کی دیگر بٹالینز اور بریگیڈ اس کے علاوہ ہیں،جبکہ بھارت کی درجنوں خفیہ ایجنسیاں بھی کشمیریوں کی جدوجہد کو دبانے کے لئے ظلم کے پہاڑ ڈھا رہی ہیں۔ راشٹریہ رائفلز نے تو اپنے مظالم کا اعتراف کیا ہے جبکہ باقی فوج اور ایجنسیاں کیا کچھ کر رہی ہیں اس کی تفصیل الگ ہے۔ کشمیر میں قتل و غارت اور خوف و ہراس کا ایسا بازار گرم کیا گیاہے کہ کوئی بھی آزادی کا نام نہ لے لیکن آزادی کے متوالے ڈرنے والے ہیں نہ جھکنے والے۔

عجیب لوگ ہیں یہ خاندان عشق کےلوگ
کہ ہوتے جاتے ہیں قتل اور کم نہیں ہوتے
بریلی: ہندوستان کی ریاست اترپردیش میں بریلی کے قریب واقع ایک گاؤں میں سنگدل باپ نے کھانے کے دوران سر ڈھانپنے میں ناکامی پر مبینہ طور پر اپنی 4 سالہ بیٹی کو قتل کردیا.

ہندوستان ٹائمز کی ایک رپورٹ میں پولیس کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ یہ واقعہ جمعے کی دوپہر مبینہ طور پر اُس وقت پیش آیا جب 4 سالہ فرحین اپنی والدہ کے ہمراہ کھانا کھا رہی تھی کہ اس دوران اُس کے سر سے دوپٹہ ہٹ گیا. یہ دیکھ کر ملزم جعفر حسین نے اپنی بیٹی فرحین کو اٹھاکر زمین پر پٹخ دیا جس سے اُس کی موت واقع ہوگئی.

فرحین کی والدہ کے مطابق یہ واقعہ پورے خاندان کے سامنے پیش آیا اور جب انھوں نے اپنے شوہر کو روکنے کی کوشش کی تو اُس نے ان پر بھی تشدد کیا.

رپورٹ کے مطابق ملزم جعفر نے فرحین کے قتل کے بعد اپنی بیوی سے اس کی لاش کو گھر کے اندر دفن کرنے کا کہا تاہم بچی کی والدہ نے انکار کردیا.

سپرنٹنڈنٹ پولیس (ایس پی) بی کے سری واستاو کے مطابق فرحین کے قتل کی ایف آئی آر اس کی والدہ کی مدعیت میں درج کرکے بچی کے والد جعفر حسین کو گرفتار کرلیا گیا ہے.

ملزم کے پڑوسیوں کے مطابق جعفر حسین کی 'دماغی حالت درست نہیں ہے' اور مذہب پر سختی سے عمل پیرا ہونے کی وجہ سے اُس نے تمام لوگوں حتیٰ کہ اپنے رشتے داروں سے بھی تعلقات ختم کر رکھے ہیں.

پولیس کے مطابق ملزم کا خاندان غربت کی زندگی گزار رہا ہے اور اکثر و بیشتر انھیں فاقے بھی کرنے پڑتے ہیں.
یورپ میں مہاجرین کا موجودہ بحران، مہاجرین کے علاوہ بہت سے دیگر افراد کے لیے بھی مشکلات کا باعث بنتا جا رہا ہے۔ تاہم سوئٹزرلینڈ کی دائیں بازو کی سیاسی جماعتیں اب اس بحران کو سیاسی مقاصد کے لیے بھی استعمال کرنے لگی ہیں۔سوئٹزرلینڈ کے ووٹرز اس مہینے کی اٹھائیس تاریخ کو نئی پارلیمان کا انتخاب کرنے جا رہے ہیں۔ اس مرتبہ دائیں بازو کی مضبوط سیاسی جماعت سوئس پیپلز پارٹی (ایس وی پی) کی انتخابی مہم کا مرکزی نکتہ یورپ میں جاری مہاجرین کا حالیہ بحران ہے۔ ’تمام جرائم پیشہ افراد میں سے نصف غیر ملکی ہیں‘، ’’غیر ملکی ثقافتوں کے انضمام کی بھی ایک حد ہے‘، ’ہمیں اپنی شناخت ترک نہیں کرنا چاہیے‘، ’سوشل سکیورٹی خطرے میں‘۔ آپ کو چاہے یہ نعرے قدامت پرست اور شدید دکھائی دیں، لیکن سوئس پیپلز پارٹی کے لیے یہ انتہائی کارآمد ثابت ہو رہے ہیں۔ اس پارٹی کو امید ہے کہ اس مرتبہ وہ اپنی تاریخ کے سب سے بہترین انتخابی نتائج حاصل کر لے گی۔پبلک لاء کے تحت چلنے والے نشریاتی ادارے ایس آر ایف (SRF) کی جانب سے کیے گئے ایک سروے کے مطابق سوئس پیپلز پارٹی کو 2011 کے انتخابات کے مقابلے میں اس مرتبہ 1.4 فیصد زیادہ نشتیں ملنے کی توقع ہے۔ گزشتہ انتخابات میں ایس وی پی نے کل دو سو نشستوں میں سے چوّن نشستیں حاصل کی تھیں جب کہ اس کے مقابلے میں سوشل ڈیموکریٹس چھیالیس، دی لبرلز تیس اور کرسچین ڈیموکریٹس اٹھائیس نشستوں پر کامیاب ہوئے تھے۔

بڑی تبدیلی ممکن نہیں

سیاسی مبصرین کے مطابق دائیں بازو کی جماعتوں کی متوقع جیت کی صورت میں بھی سوئٹزرلینڈ میں کوئی بڑی تبدیلی نہیں ہو گی۔ کیوں کہ سوئس قانون کے مطابق پارلیمان میں سب سے زیادہ نشستیں حاصل کرنے والی پارٹی حکومت نہیں بناتی بلکہ سوئس کابینہ کا انتخاب چار بڑی جماعتوں کے اراکین میں سے کیا جاتا ہے۔ اسی لیے گزشتہ حکومت میں بھی ایس وی پی کے حصے میں صرف وزارت دفاع کا قلمدان ہی آیا تھا۔

سیاسی امور کے ماہر مشائیل ہرمان نے جرمن خبر رساں ادارے ڈی پی اے سے کی گئی گفتگو میں کہا کہ ماضی میں بھی انتخابات جیتنے کے باوجود ایس وی پی کو بہت ہی محدود حکومتی ذمہ داری ملی۔ عوام انہیں اس لیے منتخب کرتے ہیں کہ وہ پارلیمنٹ میں معتدل اور بائیں بازو کی جماعتوں کا محاسبہ کر سکیں۔ لیکن درحقیقت ان کے پاس امیگریشن مخالف پالیسیوں پر عمل درآمد کا اختیار بہت محدود ہوتا ہے۔ اسی لیے اس جماعت کو اپنے ایجنڈے کی تکمیل کے لیے اکثر ریفرنڈم کا سہارا لینا پڑتا ہے۔2009 ء میں سوئس پیپلز پارٹی نے مسجدوں کے میناروں کی تعمیر کے خلاف ریفرنڈم کروایا تھا، جسے سوئس عوام کی تقریبا 58 فیصد عوام کی اکثریت نے منظور کر لیا تھا۔ اسی طرح 2010 ء میں جرائم پیشہ غیر ملکیوں کی ملک بدری سے متعلق ریفرنڈم میں بھی پارٹی کو 52 فیصد لوگوں کی حمایت حاصل ہوئی تھی۔

گزشتہ سال ’بڑے پیمانے پر مہاجرت‘ کے خلاف ہونے والا ریفرنڈم بھی پارٹی نے 50.3 کی معمولی اکثریت سے جیت لیا تھا۔ تاہم یورپی یونین کے ’آزادانہ نقل و حرکت‘کے معاملے پر مذاکرات سے انکار کے باعث سوئس حکومت مہاجرت کے معاملے پر پیش رفت نہیں کر سکی تھی۔ سوئس پیپلز پارٹی آج کل سیاسی پناہ پر ایک سال کی پابندی لگانے کے لیے ریفرنڈم کی تیاری کر رہی ہے۔

نئے مہاجرین کو تسلیم نہیں کیا جائے گا، ایس وی پی

ایس وی پی کے رکن اسمبلی ایوٹ ایسٹرمان نے کہا، ’’اس کا مطلب یہ ہے کہ نہ تو نئے مہاجرین کو تسلیم کیا جائے گا اور نہ ہی انہیں عارضی پناہ دی جائے گی۔ اس مقصد کے لیے قومی سرحدی نگرانی دوبارہ سے شروع کی جائے گی اور غیر قانونی تارکین وطن کو سختی سے واپس بھیج دیا جائے گا۔‘‘دیگر سیاسی جماعتوں کو دائیں بازو کی جماعتوں کے خلاف حکمت عملی بنانے میں مشکلات کا سامنا ہے۔ رواں برس کے آغاز میں یہ خیال کیا جا رہا تھا کہ مجوزہ قومی سرحدی نگرانی کے بعد انتخابی مہم میں اقتصادی مسئلہ فوقیت اختیار کر لے گا لیکن بائیں بازو کی جماعتوں کی بدقسمتی یہ ہے کہ اب تک سوئس معیشت خاصی مضبوط ثابت ہوئی ہے۔

ماضی میں سوئٹزرلینڈ نے کثیر تعداد میں مہاجرین کو اپنے ملک میں پناہ دی۔ ملک کی پچیس فیصد آبادی ایسے لوگوں کی ہے، جو بیرون ممالک پیدا ہوئے ہیں۔ لوزان یونیورسٹی میں سیاسی امور کے ماہر آندریاس لاڈنر کے مطابق ایس وی پی نہ صرف پناہ گزینوں سے متعلق قومی پالیسی پر اثر انداز ہونا چاہتی ہے بلکہ وہ بیرون ممالک بھی یہ پیغام بھیجنا چاہتی ہے کہ ’سوئٹزرلینڈ میں پناہ کی درخواست دینے کا کوئی فائدہ نہیں‘۔ لاڈنر کے مطابق سوئس عوام کی اکثریت بھی سوئس پیپلز پارٹی کی انتخابی مہم کو اسی تناظر میں ہی دیکھ رہی ہے۔
انقرہ: شام میں صدر بشار الاسد کے مخالف اور مغربی ممالک کے حمایت یافتہ باغیوں کے ٹھکانوں پر روسی فضائیہ کے حملوں میں عام شہری کی ہلاکتوں کی خبریں آرہی ہیں۔

برطانیہ، فرانس، جرمنی، قطر، سعودی عرب، ترکی اور امریکہ کی جانب سے جاری ایک مشترکہ بیان میں کہا گیا ہے کہ ’ ہمیں شام میں روسی فوجی کارروائیوں پر شدید تشویش ہے اور بالخصوص روسی فضائیہ کے حملوں پر شدید اعتراض ہے۔‘ انقرہ کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ان حملوں کا شکار عام شہری بن رہے ہیں۔

اس مشترکہ بیان میں کینیڈا بھی شامل ہے جس میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ فوجی کارروائی سے خطے میں دہشتگردی اور شدت پسندی میں مزید اضافہ ہوگا اور روس پر فوری طور پر کارروائی بند کرنے کو کہا گیا ہے کیونکہ اس میں شامی اپوزیشن کے ساتھ ساتھ عام شہری بھی ہلاک ہورہے ہیں۔

مختلف علاقوں میں موجود رضاکاروں کے مطابق روسی طیاروں نے جمعرات کو ادلیب اور حاما میں فضائی حملے کیے جن میں بے گناہ شہری بھی ہلاک ہوئے ہیں۔ اپوزیشن رہنما ہادی عبداللہ کے مطابق حبیت کے علاقے میں صبح ہونے والے ایک حملے میں 5 سالہ بچی سمیت تین افراد ہلاک اور 12 افراد زخمی ہوئے ہیں۔ اسی طرح ادلیب میں جبل الزاویہ کے علاقے میں مشتبہ روسی فضائیہ کے حملے میں دو بچوں سمیت سات افراد لقمہ اجل بنے ۔ اسی شہر کے علاقے جسرالسغور کی ایک مسجد پر حملے میں دو افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ دوسری جانب برطانیہ کی ایک رضاکار تنظیم نے روسی حملوں کے بعد سے اب تک 28 افراد کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے۔

واضح رہے کہ 2011 میں شروع ہونے والی شامی خانہ جنگی میں اب تک ڈھائی لاکھ سے زائد افراد ہلاک ہوچکے ہیں جبکہ کئی ممالک اور مختلف خیالات کے شدت پسندوں اور داعش جنگجوؤں کے خوف سے دسیوں لاکھوں افراد ملک چھوڑ چکے ہیں
سعودی عرب میں حج کے دوران منیٰ میں ہلاک ہونے والے ایرانیوں کے جسدخاکی دارالحکومت تہران پہنچا دیےگئے ہیں۔

سعودی عرب سے ایران سے تعلق رکھنے والے 104 لاشیں واپس لائی گئی ہیں۔

ایران کا کہنا ہے کہ منیٰ میں بھگدڑ مچنے سے اس کے کم از کم 464 شہری ہلاک ہوئے ہیں۔

دوسری جانب سعودی حکام کا کہنا ہے کہ منیٰ میں ہلاک ہونے والوں کی کل تعداد 769 ہے تاہم غیرملکی میڈیا اور حکام کی جانب سے یہ تعداد 1000 سے زائد بتائی جارہی ہے۔

ایرانی حکومت منیٰ واقعے کا الزام سعودی حکام کی ’بدانتظامی‘ پر عائد کرتی ہے۔

سنیچر کو تہران میں منعقدہ تقریب میں ایرانی صدر حسن روحانی نے کہا کہ یہ افسوس ناک واقعہ سب کے لیے ’بڑا امتحان‘ ہے۔

انھوں نے کہا: ’اس واقعے میں، ہماری زبان بھائی چارے اور احترام کی ہے۔‘

ایرانی صدر کا کہنا تھا کہ ’جب ضرورت پڑی، ہم نے سفارتی زبان کا استعمال کیا۔ اگر ضرورت پڑی تو اسلامی جمہوریہ ایران طاقت کی زبان بھی استعمال کرے گا۔‘

خیال رہے کہ سعودی حکام کی جانب سے اس حادثے میں ہلاک ہونے والے تمام افراد کے بارے میں نہیں بتایا کہ ان کا تعلق کس کس ملک سے تھا۔

سعودی وزیرخارجہ عدل الجبیر نے ایران پر اس واقعے پر ’سیاست کرنے‘ کا الزام بھی عائد کیا ہے اور ایران سے کہا ہے وہ تحقیقات مکمل ہونے کا انتظار کریں۔
میانمار میں اگلے ماہ ہونے والے تاریخی انتخابات کے نتیجے میں پہلے ہی جبر اور استحصال کی شکار روہنگیا مسلم اقلیت کی حالت مزید خراب ہو سکتی ہے۔ اس کی وجہ ایک نئی انتہائی سخت گیر بودھ سیاسی جماعت کی بڑھتی ہوئی مقبولیت ہے۔

میانمار سے موصولہ نیوز ایجنسی روئٹرز کی رپورٹوں میں بتایا گیا ہے کہ جس نئی انتہا پسند بودھ پارٹی سے روہنگیا نسل کی مسلم اقلیتی آبادی کو مزید خطرات لاحق ہو سکتے ہیں، اس کی سیاسی طاقت میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے اور عین ممکن ہے کہ نئی پارلیمان میں وہ ایک فیصلہ کن جماعت بن جائے۔

روئٹرز کے مطابق جنوب مشرقی ایشیائی ملک میانمار کے مغربی کنارے پر راکھین نامی ریاست میں قوم پسند اقلیت کے اقتدار میں آنے سے ان روہنگیا مسلمانوں کے استحصال اور ان کے ساتھ امتیازی رویوں میں مزید شدت آ سکتی ہے، جو ویسے بھی بے وطن ہیں اور جن میں سے ہزارہا حالیہ برسوں میں راکھین سے فرار ہو کر میانمار کے ہمسایہ ملکوں کا رخ کر چکے ہیں۔

حکومت زیادہ تر روہنگیا باشندوں کو ان انتخابات میں امیدوار بننے یا ووٹ دینے سے روک چکی ہے، جس پر اقوام متحدہ تک کی طرف سے بھی شدید تنقید کی گئی تھی۔ دوسری طرف میانمار کی حکومت ابھی تک اپنی یہ کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے، جن کے تحت وہ نومبر کی آٹھ تاریخ کو ہونے والے اس الیکشن کو ابھی سے ملک کے اولین آزادانہ اور غیر جانبدارانہ انتخابات قرار دے رہی ہے۔

جو نئی بودھ سیاسی جماعت راکھین کے روہنگیا مسلم باشندوں میں بےچینی کی وجہ بنی ہوئی ہے، اس کا نام آراکان نیشنل پارٹی ANP ہے، جو گزشتہ برس قائم کی گئی تھی۔ اس پارٹی نے اس مقصد کے لیے انتھک کام کیا کہ ملک کے ’عارضی شہریوں‘ کو انتخابی عمل میں کسی بھی صورت میں شرکت سے روک دیا جائے۔

اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ ان ایک ملین کے قریب روہنگیا باشندوں کی اکثریت بھی الیکشن میں امیدوار بننے یا اپنا ووٹ کا حق استعمال کر سکنے سے محروم ہو گئی، حالانکہ یہ لاکھوں اقلیتی باشندے پہلے ہی نسلی امتیاز کی طرح کے سے حالات کا سامنا کر رہے ہیں۔

اس مسلم نسلی اقلیت کے باشندوں کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ بنگلہ دیش سے میانمار میں آنے والے غیر قانونی تارکین وطن ہیں لیکن دوسری طرف یہ بھی سچ ہے کہ یہی باشندے کئی نسلوں سے میانمار میں آباد ہیں لیکن ابھی تک ان کی بہت بڑی اکثریت کو قانوناﹰ کسی بھی ملک کے شہری حقوق حاصل نہیں اور وہ بےوطن ہے۔

روہنگیا باشندوں کو اے این پی نامی پارٹی کی سیاسی سوچ کی صورت میں کس طرح کے خطرات کا سامنا ہے، اس کا ثبوت اس بودھ سیاسی جماعت کا طرز سیاست بھی ہے۔ مثلاﹰ راکھین کے ریاستی دارالحکومت سِتوے میں اس پارٹی کے ہیڈ کوارٹرز کے باہر جو بورڈ لگے ہوئے ہیں، ان پر لکھا ہے: ’’اے این پی کا مطلب ہے: ہم آئے، ہم نے دیکھا اور ہم نے سب کچھ فتح کر لیا۔‘‘

اس کے علاوہ اس سیاسی جماعت کے پمفلٹ اور کتابچے بھی پارٹی کی سخت گیر سوچ کے اظہار میں کوئی کمی نہیں رہنے دیتے۔ ان میں لکھا ہے: ’’اپنی قومیت سے پیار کرو۔ اپنے خون کو خالص رکھو۔ راکھین بنو اور اے این پی کو ووٹ دو۔‘‘

آراکان نیشنل پارٹی کی ایک خاتون نائب سربراہ کہتی ہیں، ’’ہم ان باشندوں کے لیے بین الاقوامی سطح پر استعمال کی جانے والی ’بےوطن باشندوں‘ کی اصطلاح کو تسلیم نہیں کرتے۔ ہم چاہیں گے کہ روہنگیا کو یا تو کیمپوں میں بھیج دیا جائے یا انہیں ملک بدر کر دیا جائے۔‘‘
نائجیریا کے حکام نے دعویٰ کیا ہے کہ شدت پسند تنظیم بوکوحرام کو جلد شکست ہو جائے گی لیکن خود کو دولت اسلامیہ کہلانے والی تنظیم کے ساتھ تعلقات کا مطلب ہے کہ شاید اِس کے جنگجو پڑوسی ممالک میں چلے جائیں۔

حالیہ چند ہفتوں میں نائجیریا کی فوج بوکو حرام کے خلاف جنگ کے حوالے سے اپنا موقف پیش کرنے کے لیے کافی کوششیں کر رہی ہے۔

فوج کا کہنا ہے اُنھوں نے جہادیوں کو گھیر لیا ہے اور تنازع جلد اپنے انجام کو پہنچنے والا ہے۔ یہ وہی موقف ہے جو صدر محمد بوہاری کی جانب سے دیا گیا ہے کہ نومبر کے وسط تک بحران ختم ہوجائے گا۔

بوکو حرام کے ترجمان ابوبکر شیکاو نے فروری سے کوئی ویڈیو بیان جاری نہیں کیا ہے جب اُنھوں نے انتخابات میں خلل ڈالنے کی دھمکی دی تھی۔

اِس مہینے اُن کی جانب سے ایک آڈیو پیغام میں انھوں نے شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ سے بیعت کا عہد کیا تھا۔

شیکاو نے ان کی ہلاکت کی خبروں کے بعد ایسا ہی ایک دوسرا آڈیو بیان بھی جاری کیا تھا۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ ان کے ان کے منظر عام پر نہ آنے کی وجہ سے فوج میں قیاس آرائیاں جنم لے رہی ہی کہ وہ ہلاک ہو چکے ہیں جو کہ فوج کئی موقعوں پر اِن کی ہلاکت کا دعویٰ کرچکی ہے۔

شیکاو کے منظر عام سے غائب ہو جانے کا مطلب یہ ہے کہ بوکو حرام جس کو شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ کا مغربی افریقی صوبہ بھی کہا جاتا ہے اب دولت اسلامیہ کے تنظیمی ڈھانچے سے مزید احکامات لے رہی ہے۔

حالیہ دنوں میں شیکاؤ کا منظر عام پر آنے اور نائجیریا کی حکومت کو ہلاکت کی خبر کے غلط قرار دینے کا موقع تھا۔

وزارت دفاع کے ترجمان کرنل ربی ابو بکر نے شیکاؤ کو ’غیر اہم‘ قرار دیتے ہوئے نائجیریا کے شہریوں کو کہا تھا کہ ’کمزور دہشت گرد کے آڈیو پیغام پر اپنی نیند برباد نہیں کریں۔ یہ معمول کی بات ہے کہ ایک ڈوبتا ہوا شخص اپنے وجود کو برقرار رکھنے کے لیے کسی چیز کی تلاش میں ہے جس کو وہ تھام سکے۔

مجموعی طور پر اِس سال کے آغاز سے ہی بوکوحرام کی تشہیری مہم ماند پڑچکی ہے جب یہ لوگ سوشل میڈیا پر بیانات اور حملوں کی ویڈیوز شائع کرتے تھے۔

بوکوحرام کی جانب سے حالیہ ویڈیو ستمبر کے آخر میں عید کے موقع پر جاری کی گئی تھی۔ جس کا معیار بہت خراب تھا اور اِس میں جنگجو کو دکھایا گیا تھا لیکن اِس کا کوئی اشارہ نہیں مل رہا کہ یہ ویڈیو کتنی نئی یا پرانی ہے۔

اِس بات کو دو سال ہوگئے جب امریکہ نے شیکاو کے سر پر 70 لاکھ امریکی ڈالر کا انعام مقرر کیا تھا لیکن نہ ہی وہ اور نہ اُن کی اعلیٰ قیادت کو اب تک ڈھونڈا جاسکا ہے۔

جب تک یہ کامیابی نہیں ملتی بوکو حرام کو دوبارہ سے بھرتیاں کرنے، مسلح ہونے، کام کرنے کے نئے طریقوں کے بارے میں سوچنے کا وقت مل جائے گا۔

جہادیوں نے یہ دکھا دیا ہے کہ وہ اپنے حملوں سے ضرب لگاتے رہیں گے چاہے حملے کم ہوں لیکن جان لیوا ہوں۔

حال ہی میں بوکو حرام نے بورنو کے دارالحکومت میڈیگری میں تین حملوں میں 100 سے زائد لوگوں کو ہلاک کیا تھا۔ یاد رہے کہ بورنو ہی میں اس تنظیم کا قیام 2002 میں ہوا تھا۔
مصری دارالحکومت قاہرہ کی یونیورسٹی کی خاتون اساتذہ کے نقاب پہننے پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ یونیورسٹی کے صدر جابر نصر کے مطابق یہ فیصلہ اگلے ہفتے شروع ہونے والے نئے سیمسٹر کے آغاز سے نافذالعمل ہو جائے گا۔

قاہرہ سے ملنے والی نیوز ایجنسی کے این اے کی رپورٹوں کے مطابق یونیورسٹی کے صدر جابر نصر کے ایک بیان کا حوالہ دیتے ہوئے اخبار ’اہرام آن لائن‘ نے جمعہ دو اکتوبر کے روز لکھا کہ یہ فیصلہ اس لیے کیا گیا ہے کہ ’دوران تعلیم خاتون اساتذہ کے طلبا و طالبات کے ساتھ رابطوں اور ابلاغ کو آسان بنایا جا سکے‘۔

کے این اے کے مطابق قاہرہ یونیورسی کے اس فیصلے پر سلفی مذہبی حلقوں کے ایک رہنما یاسر برہانی نے یونیورسٹی پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ نقاب یا حجاب کے استعمال پر پابندی نہ صرف ملکی قانون اور آئین کی خلاف ورزی ہے بلکہ یہ ایک مذہبی برادری کے خلاف امتیازی رویہ بھی ہے۔

بعد ازاں یونیورسٹی کے سربراہ کی طرف سے وضاحت کرتے ہوئے کہا گیا کہ خواتین اساتذہ کے نقاب پہننے پر اس پابندی کا اطلاق ایسے مخصوص شعبوں اور مضامین کی تعلیم پر ہو گا، جس دوران مثال کے طور پر زبان کی تعلیم کے کورسز میں لفظوں کے درست تلفظ کی ادائیگی اور مکمل ابلاغ میں نقاب ایک رکاوٹ ثابت ہوتا ہے۔

یونیورسٹی انتظامیہ کے مطابق خواتین اساتذہ کی طرف سے چہرے کو ’نقاب کے ساتھ چھپا لینے‘ پر اس پابندی کا اطلاق یونیورسٹی میں دیے جانے والے لیکچرز اور وہاں منعقد کردہ سیمینارز پر بھی ہوگا تاہم تعلیم کے بعد اگر ٹیچنگ سٹاف کی رکن خواتین چاہیں تو انہیں یونیورسٹی کیمپس پر اپنی موجودگی کے عرصے میں نقاب پہننے کی اجازت ہو گی۔
عالمی طبی امدادی ادارے میڈیسنس سینس فرنٹيئرز (ڈاکٹرز ود آؤٹ بارڈرز) کا کہنا ہے کہ افغانستان کے شہر قندوز میں ہونے والی بمباری میں ان کے تین کارکن ہلاک ہو گئے ہیں۔

سنیچر کو ادارے کی جانب سے جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ ان کا ایک کلینک بمباری کی زد میں آیا جس سے یہ ہلاکتیں ہوئی ہیں۔

ڈاکٹرز ود آؤٹ بارڈرز کا کہنا ہے کہ اس بمباری سے ہسپتال کے 30 سٹاف لاپتہ ہیں جبکہ نیٹو نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ امریکی فضائی حملے کے نتیجے میں ایک طبی مرکز کو بھی نقصان پہنچا ہے۔

نیٹو کے بیان میں کہا گیا ہے کہ ’امریکی فورسز نے قندوز شہر میں مقامی وقت کے مطابق سوا دو بجے صبح ۔۔۔ ان لوگوں کے خلاف حملے کیے جن سے انھیں خطرہ تھا۔‘

اس کے ساتھ اس خدشے کا اظہار کیا ہے کہ اس حملے میں اس کے پاس قائم ایک طبی مرکز کو بھی نقصان پہنچا ہے۔

نیٹو نے کہا ہے کہ وہ اس معاملے کی تفتیش کر رہے ہیں۔

ڈاکٹرز ود آؤٹ بارڈرز نے بیان میں کہا: ’قندوز میں قائم ایم ایس ایف کے ٹراما سنٹر پر پے در پے کئی بار بمباری کی گئی جس سے سینٹر کو زبردست نقصان ہوا ہے۔‘

بمباری سے متاثرہ افراد کے آبائی وطن کے بارے میں کچھ بھی نہیں بتایا گیا ہے تاہم طبی ادارے کا کہنا ہے کہ انھیں اموات کا مکمل علم نہیں ہے لیکن بمباری کے وقت اس جگہ مجموعی طور پر 180 افراد تھے جن میں مریض اور سٹاف دونوں شامل تھے۔

ادارے کے ڈائریکٹر آپرشنز بارٹ جانسینس نے کہا: ’ہم ان حملوں پر بہت غمزدہ ہیں کیونکہ اس میں ہمارے سٹاف اور مریضوں کی موت ہوئی ہے اور اس سے ہمارے ہسپتال کو شدید نقصان پہنچا ہے۔‘

خیال رہے کہ رواں ہفتے کے اوائل میں طالبان نے اس شہر پر قبضہ کر لیا تھا اور اس کے بعد سے افغان حکومت کی فورسز اور طالبان کے درمیان جنگ جاری ہے۔

واضح رہے کہ 14 سال بعد پہلی بار کوئی شہر طالبان کے قبضے میں آیا ہے جبکہ نیٹو افغان حکومت کے فوجیوں کو عسکری امداد فراہم کر رہی ہے۔
یورو ٹنل کے ایک بیان کے مطابق 100 سے زیادہ تارکین وطن کے فرانس کی جانب سے یوروٹنل میں زبردستی گھسنے کے بعد مسافروں اور سامان کی ترسیل کی سروس کو معطل کردیا گیا ہے۔

کمپنی کا کہنا ہے کہ فوک سٹون اور کیلے کے درمیان چلنے والی چینل ٹنل ٹرینیں ’دراندازی اور حملے‘ کے باعث متاثر ہوئیں ہیں۔

اطلاعات کے مطابق فرانسیسی حکام تارکین وطن پر قابو پانے اور ان کو وہاں سے ہٹانے کی کوششیں کر رہے ہیں۔

بدھ کو ایک شخص ٹنل کے ٹریک پر مردہ پایا گیا تھا۔ خیال رہے کہ اس کے ساتھ جون سے اب تک فرانس سے برطانیہ پہنچنےکی کوشش میں ہلاک ہونے والے تارکین وطن کی تعداد 13 ہوگئی ہے۔

یوروٹنل کے ایک ترجمان نے حالیہ واقعے کو ’تارکین وطن کے ایک بڑے اور منظم گروہ کی جانب سے دراندازی اور حملہ‘ قرار دیا۔

انھوں نے مزید کہا: ’وہ انتہائی منظم طور پر آئے اور باڑ توڑ کر داخل ہوئے۔ ان سب کو اچھی طرح معلوم تھا کی وہ کہاں جارہے ہیں۔‘

یوروٹنل نے کہا ہے کہ ٹرین کی سروس کو حفاطتی اقدامات کے پیش نظر معطل کیاجارہا ہے۔

کمپنی کے ترجمان نے مزید کہا کہ اس دوران مسافر اپنے ٹرین کے ٹکٹ کا فیری سروس میں استعمال کرسکتے ہیں کیونکہ یہ بدنظمی برطانوی وقت کے مطابق 11 بجے سے قبل ختم ہوتی نظر نہیں آتی۔
اضافی حفاظتی اقدامات

بدھ کو ہلاک ہونے والے شخص کی جس حالت میں موت ہوئی ہے اسی حالت میں ستمبر سے اب تک چار افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔

منگل کو ایک 20 سالہ عراقی نوجوان کو برطانیہ جانے والی لاری میں مردہ پایا گیا تھا۔

پچھلے ہفتے ایک اور نوجوان جس کا تعلق مشرقی افریقہ سے بتایا جاتاہے کیلے کے چینل ٹنل میں داخلے کے مقام پر ایک مال بردار ٹرین کی زد میں آ کر ہلاک ہوگیا۔

کئی روز قبل ایک اور شخص ٹنل میں داخل ہونے کی کوشش میں بجلی کا جھٹکا لگنے سے ہلاک ہوگیا تھا۔

کیلے کے یہ حالات پورے یورپ میں تارکین وطن کے بحران کا ایک حصہ ہیں جبکہ تارکین وطن کی ایک بری تعداد بحیرۂ روم کے راستے شمالی ممالک کا رخ کررہی ہے۔
بھارتی ریاست آندھرا پردیش میں پانچ سال کے ایک بچے کی ’قربانی‘ دیے جانے کا معاملہ سامنے آیا ہے۔

ضلع پركاسم کے پوكرو گاؤں میں بدھ کو بچے کے قتل کے بعد گاؤں والوں نے مشتبہ شخص کو مارنے پیٹنے کے بعد اسے آگ لگا دی۔

25 سال کے ایک مشتبہ شخص نے بچے کو اس وقت اٹھا لیا تھا جب وہ سکول سے آنے کے بعد اپنے دوستوں کے ساتھ باہر کھیل رہا تھا۔

پھر اس شخص نے بچّے کا گلا کاٹ کر اس کے خون کو اپنے گھر میں چھڑک دیا۔

پركاسم ضلع کے ایس پی سی ایچ سری کانت نے بی بی سی کو بتایا بچے کے ساتھ کھیلنے والے ایک دوست نے فوری طور پر اس کی ماں کو بتایا کہ یہ شخص بچے کو لے گیا ہے۔ جیسے ہی والدین مشتبہ شخص کےگھر پہنچے تو وہاں اس کی لاش پڑی ہوئی دیکھی اور گاوں والے دیگر مشتبہ شخص کو تلاش شروع کر دی۔
مشتبہ شخص ہسپتال میں داخل

ایس پی سی ایچ سری کانت نے کہا ’مشتبہ شخص دوسرے گاؤں کی طرف جا رہا تھا تبھی گاؤں والوں نے اسے پکڑ کر مارا پیٹا اور پھر مٹی کا تیل چھڑک کر اسے آگ لگا دی۔‘

پولیس کے مطابق مشتبہ شخص 70 فیصد جل چکا ہے اور اسے ہسپتال میں داخل کرایا گیا ہے۔

بتایا جا رہا ہے کہ یہ شخص ایک شام پہلے بھی ڈیڑھ سال کی ایک بچی کو لے کر گیا تھا جسے گاؤں والوں نے اس سے چھین لیا تھا۔

پولیس نے مشتبہ شخص کے خلاف مرد بچے کی قربانی کی نیت سے کیے گئے قتل کا مقدمہ درج کیا ہے۔

گاؤں والوں کے خلاف بھی مشتبہ شخص کو جلانے کے الزام میں مقدمہ درج کیا گیا ہے۔

مشتبہ شخص کا نام راؤ بتایا جا رہا ہے اور اس کی اہلیہ ایک سال پہلے اسے چھوڑ کر چلی گئی ہے۔گاؤں والوں کا کہنا ہے کہ مشتبہ شخص کا رویہ معمول کے مطابق تھا اور وادات کے لیے کوئی نفسیاتی مسئلہ رہا ہوگا۔
ہنگری اور سربیا کی سرحد بند ہونے کے بعد ہزارہا مہاجرین کروشیا کے راستے مغربی یورپ پہنچنے کی کوششوں میں ہیں۔ کروشیائی حکومت نے مہاجرین کے لیے عارضی ٹرانسپورٹ کا بندوبست کیا ہے۔ لیکن ڈرائیوروں کا کہنا ہے کہ وہ تھک چکے ہیں۔

دن کے وقت سیاحوں اور اسکول کے بچوں کے لیے بس چلانے والے کروشیائی ڈرائیور رات کے اوقات میں مہاجرین کو ہنگری کی سرحد تک پہنچانے کے لیے خصوصی بسیں چلا رہے ہیں۔ مغربی یورپ پہنچنے کے خواہش مند مہاجرین کو ہزاروں میل طویل سفر نے تو نہیں تھکایا، تاہم بس ڈرائیور روزانہ چند سو کلومیٹر کا سفر کرتے ہوئے تھک چکے ہیں۔ کروشیا کی حکومت نے روزانہ ہزاروں کی تعداد میں آنے والے مہاجرین کو سربیا کی سرحد سے لے کر ہنگری کی سرحد تک پہنچانے کے لیے عارضی بسیں چلانا شروع کر رکھی ہیں۔

دماگوئی مایسترووچ بھی ایک ایسے بس ڈرائیور ہیں جو دن کے وقت اسکول بس چلاتے ہیں اور رات کے وقت مہاجرين کے ليے خصوصی بس۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ ڈرائیونگ سے نہیں تھکتے لیکن طویل انتظار سے ضرور اکتا جاتے ہیں۔ انتظار انہیں ہنگری کی سرحدی چوکی پر کرنا پڑتا ہے جہاں وہ مہاجرین کو دس بسوں کے قافلے کی صورت میں لے کر پہنچتے ہیں۔ لیکن وہ اس وقت تک مسافروں کو نہیں اتار سکتے جب تک ان سے اگلی بس میں موجود تمام مہاجرین کو ہنگری کی پولیس چھان بین اور جامہ تلاشی کے بعد بفرزون تک نہ پہنچا دے۔ ایک اور ڈرائیور کا کہنا تھا کہ وہ مسلسل پانچ دن سے صبح پانچ بجے اٹھتے ہیں اور رات بارہ بجے واپس گھر پہنچتے ہیں جب کہ عام دنوں میں وہ صرف آٹھ گھنٹے ہی کام کرتے ہیں۔

خصوصی بس چلانے والے ايک اور ڈرائيور مارکو راسک نے بتایا کہ ’’عموماﹰ مہاجرین کو معلوم نہیں ہوتا کہ وہ کہاں جا رہے ہیں، جب ہم انہیں بتاتے ہیں کہ ہماری منزل ہنگری ہے تو وہ پریشان ہو جاتے ہیں۔ پھر ہم انہیں تسلی دیتے ہیں کہ ہنگری میں صرف پڑاؤ ہے، اس کے بعد وہ آسٹریا چلے جائیں گے، تب وہ مطمئن ہوتے ہیں۔‘‘ تاہم راسک بدبودار ماحول اور حفظان صحت کے ناقص انتظامات کی وجہ سے اپنے حالات سے مطمئن نہیں۔

شام اور دیگر شورش زدہ علاقوں سے بہتر مسقبل کی تلاش میں مغربی یورپ کا رخ کرنے والے لاکھوں تارکین وطن کا سفر مشکل اور تکلیف دہ ہے۔ اب تک سینکڑوں مہاجرین یورپ پہنچنے کی کوشش میں جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔ چند ماہ پہلے تک مہاجرین ترکی اور یونان سے ہوتے ہوئے سربیا پہنچ رہے تھے جہاں سے وہ ہنگری سے ہوتے ہوئے جرمنی یا دیگر مغربی یورپی ملکوں میں پہنچنے کی کوشش کرتے تھے۔ تاہم ہنگری کے قدامت پسند وزیر اعظم وکٹر اوربان نے سربیا کے ساتھ 175 کلومیٹر لمبی سرحد کو بند کرنے کا اعلان کر دیا تھا۔ مہاجرین اس کے بعد سے کروشیا کے راستے ہنگری میں داخل ہونے کی کوشش کر رہے ہیں۔

روزانہ ہزاروں مہاجرین کروشیا میں داخل ہو رہے ہیں۔ صرف گزشتہ جمعے کے روز کروشیا پہنچنے والے مہاجرین کی تعداد دس ہزار تھی جو کہ ایک نیا ریکارڈ ہے۔ کروشیائی حکومت ان سب کو ہنگری کی سرحد تک پہنچا دیتی ہے۔ لیکن اب ہنگری کے وزیراعظم نے کروشیا کے ساتھ اپنی سرحد کو بند کرنے کی دھمکی دی ہے۔ ایسی صورت میں مہاجرین کا بحران اور ان کا مستقبل مزید پیچیدہ ہونے کا خدشہ ہے۔

بعض کروشیائی ڈرائیور ان مہاجرین کی پریشانیوں کو بھی سمجھتے ہیں۔ ایک ڈرائیور نے کہا ’’ہم بھی جنگ کی صورتحال سے گزرے ہیں، میں ان کو سمجھ سکتا ہوں۔ وہ پریشان اور تھکے ہوئے یہاں پہنچتے ہیں، بس میں ذرا آرام ملتا ہے تو سو جاتے ہیں۔ ان کی منزل بہتر مستقبل کی امید ہے، ہم تو اس راستے میں بس معمولی سی مدد کر رہے ہیں۔‘‘

مایسترووچ نہیں جانتے کہ یہ عارضی بس کب تک چلے گی، لیکن انہیں ایک خدشہ ہے ’’ہم نے سنا ہے ترکی کی خیمہ بستیوں میں بیس لاکھ مہاجرین ہیں، اگر وہ سب اسی راستے پر آ گئے تو۔۔۔‘‘
جرمنی میں حال ہی میں کیے گئے ایک سروے میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ ملک میں تارکین وطن کی آمد کے باعث چانسلر انگیلا مرکل کی مقبولیت میں کمی واقع ہوئی ہے۔

جرمنی کی براڈکاسٹ کمپنی اے آر ڈی کی جانب سے کیے گئے سروے میں 51 فیصد افراد کا کہنا ہے کہ وہ اتنی بڑی تعداد میں تارکین وطن کی جرمنی میں آمد سے خوفزدہ ہیں۔

واضح رہے کہ پچھلے ماہ کیے گئے سروے اور اس سروے میں تارکین وطن کی آمد سے لوگوں میں پائی جانے والی بے چینی میں 13 فیصد اضافہ ہوا ہے۔

تاہم 47 فیصد افراد کا کہنا ہے کہ وہ تارکین وطن کی آمد سے خوفزدہ نہیں ہیں۔

دوسری جانب پچھلے ماہ کے مقابلے میں اس ماہ چانسلر انگیلا مرکل کی مقبولیت 63 فیصد سے 54 فیصد رہ گئی ہے۔

فرانسیسی خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق شروے میں تارکین وطن کی آمد کے باعث لوگوں میں بے چینی میں اضافہ ایسے وقت ہوا جب اس ماہ دو لاکھ 80 ہزار تارکین وطن کی جرمنی میں آمد ہوئی ہے۔

دوسری جانب اس حالیہ سروے میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ چانسلر انگیلا مرکل کی جماعت ہی میں پناہ گزینوں کی پالیسی کے مخالف اور بویریا ریاست کے وزیر اعظم ہورسٹ سیہوفر کی مقبولیت میں 11 پوائنٹس کے ساتھ 39 فیصد ہو گئی ہے۔

سروے میں 48 فیصد افراد نے کہا ہے کہ وہ انگیلا مرکل کی حکومت سے خوش نہیں ہیں جس میں پانچ فیصد کمی واقع ہوئی ہے۔

یاد ہے کہ برلن اب اس کوشش میں ہے کہ معاشی حالات کے تارکین وطن کی بجائے جنگ زدہ علاقے جیسے شام سے آنے والے تارکین وطن کو ترجیح دی جا رہی ہے۔

جرمن حکومت نے منگل کو اعلان کیا تھا کہ قدرے محفوظ ممالک جیسے البانیا، کوسوو اور مونٹینیگرو ہیں سے آئے لوگوں کو ملک بدری کا سامنا ہو گا۔

وائس چانسلر سگمر گیبریئل نے اعتراف کیا کہ کئی قصبوں اور شہروں میں تارکین وطن کی تعداد بہت زیادہ ہو گئی ہے۔
شاہدہ شریف ایک افریقی نژاد امریکی ہیں، جنہوں نے لاکھوں افراد کے ہمراہ رواں برس حج کیا، جسے وہ ’خدا سے اپنے رابطے کی مضبوطی کا اعادہ‘ قرار دیتی ہیں۔ اسے وہ ایک طرف سیاہ فاموں اور دوسری جانب انسانیت سے تعلق گردانتی ہیں۔

خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس سے مکہ میں بات چیت کے دوران شریف نے کہا، ’’جب ایک گھرانہ، ذات اور ضروریات سے اہم ہو جائے، تو رشتے بننے سے کوئی نہیں روک سکتا۔ اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ ہمارا اعتقاد کیا ہے، ہماری نسل کیا ہے، ہماری شہریت کیا ہے، مجھے آپ میں اپنے جیسا کچھ نہ کچھ پھر بھی مل جائے گا۔‘‘

سیاہ فام امریکی مسلمانوں کے لیے اس بار کا حج اس لیے بھی اہم تھا کہ وہ سیاہ فاموں کے حقوق کے لیے جدوجہد کرنے والے میلکم ایکس کی 50 ویں برسی منا رہے ہیں۔ میلکم ایکس بعد میں مسلمان ہو گئے تھے اور انہوں نے اپنے لیے مالک الشباز کا نام چنا تھا۔ ایکس نے بھی حج کیا تھا اور ان کا کہنا تھا کہ انہیں اس تجربے کو دیکھ کر اس لیے بھی راحت ملی کہ یہاں ہر رنگ، ہر نسل اور ہر شہریت کے افراد موجود تھے، تاہم ان کے درمیان ایک گہرا تعلق تھا۔ ان کا کہنا تھا، ’’ہر رنگ و نسل سے تعلق رکھنے والے عازمین کے درمیان ایک روحانی تعلق تھا، ایک بھائی چارہ تھا۔ امریکا میں میرے تجربے نے مجھے بتا رکھا تھا کہ سفید فام اور سیاہ فام افراد کے درمیان یقین اور اعتبار کبھی قائم نہیں ہو سکتا۔‘‘

اس بار کا حج ہفتہ چھبیس ستمبر کے روز اختتام پزیر ہو گیا اور اس کا اختتامیہ ایک ایسے موقع پر ہوا، جب امریکا میں گزشتہ کئی دہائیوں کی شدید بحث جاری ہے، جس کا موضوع ہے نسل اور نسلی تعصب، ایک ایسے وقت پر کہ جب متعدد سفید فام پولیس اہلکاروں کے ہاتھوں سیاہ فام باشندوں کی ہلاکت کے واقعات کیمروں نے محفوظ کیے اور عوامی سطح پر دیکھے گئے۔

ان واقعات کے بعد امریکا میں سیاہ فاموں کی جانب سے بڑے پیمانے پر مظاہرے بھی کئے گئے، جن میں سے چند مرتبہ حالات تشدد کا رنگ بھی اختیار کر گئے۔ سیاہ فاموں کا الزام ہے کہ سفید فام پولیس اہلکار رنگ کی بنیاد پر شہریوں کے درمیان فرق روا رکھتے ہیں

عدم تشدد کے نام نہاد پرچارک موہن داس کرم چند گاندھی کے یوم پیدائش پر دنیا بھر میں آج عدم تشدد کا دن منایا جا رہا ہے لیکن اسی گاندھی کے ملک نے چھ دہائیوں سے کشمیریوں کو جبر و تشدد کے ذریعے محکوم بنا رکھا ہے۔ آج دنیا میں سات سو سے زائد اقوام دنیا میں ریاستی جبر اور غاصب حکومتوں کے تشدد کا شکار ہیں۔ تاریخ طاقتور ممالک کے کمزور قوموں پر ڈھائے جانے والے مظالم اور محکوم اقوام پر غاصب حکومتوں کی ہلاکت خیزیوں سے بھری ہوئی ہے۔ ایشیا میں ایک سو نوے اقوام، افریقا میں دو سو سے زائد اقوام اور براعظم امریکا،یورپ اور آسٹریلیا میں ایک سو پچاسی اقوام کو ریاستی جبر اور تشدد کا سامنا ہے۔ براعظم افریقا، امریکا اور آسٹریلیا کے مقامی افراد کی یورپی ملکوں کے ہاتھوں نسل کشی اور مظالم تو تاریخ کا حصہ بن چکے، لیکن فلسطینیوں، عراقیوں، افغانوں پر امریکا اور اس کے اتحادیوں کی بربریت آج کی بات ہے۔ جس مہاتما گاندھی کے نام پر دنیا میں عدم تشدد کا دن منایا جاتا ہے اسی کے نام لیوا کشمیریوں کو گزشتہ باسٹھ برسوں سے محکوم بنائے ہوئے ہیں۔ اہل کشمیر سمیت پچاس سے زائد اقوام کو بھارت کے ریاستی جبر کا سامنا ہے۔اگر بلیک واٹر کے رونگٹے کھڑے کر دینے والے مظالم عراقیوں کو القاعدہ میں شمولیت پر مجبور کرتے ہیں، تو بھارتی بلیک کیٹس کی بربریت بھی مزاحمت کو پروان چڑھاتی ہے۔گوانتا ناموبے سے لے کر بگرام ایئربیس کے مذبح خانوں تک اور ابو غریب سے لے کر سری نگر میں بھارتی فوج کے عقوبت خانوں تک جبر و تشدد کا طویل سلسلہ ہے۔ غیرت مند اقوام کے ذہنوں میں تشدد کے بیج بو کر عدم تشدد کی فصل کاشت نہیں کی جاسکتی اس کے لئے طاقتور ریاستوں کو جبر و تشدد سے خود کو الگ کرنا ہوگا۔
نیویارک: بھارت اپنی ہٹ دھرمی سے باز نہ آیا اور ایک مرتبہ پھر پاکستان کی جانب سے اقوام متحدہ میں پیش کئے گئے 4 نکاتی امن فارمولے کو مسترد کرتے ہوئے دہشت گردی ختم کرنے کا راگ الاپنے لگا۔

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے بھارتی وزیرخارجہ سشما سوراج کا کہنا تھا کہ وزیراعظم نواز شریف کی جانب سے گزشتہ روز امن کے لئے 4 تجاویز پیش کی گئیں تاہم ہم کہتے ہیں کہ ایک ہی تجویز کافی ہے، مذاکرات سے حل نکلا تو بھارت تمام حل طلب معاملات سلجھانے کےلئے تیارہے اور ہماری ایک ہی تجویز ہے کہ دہشت گردی چھوڑیے اور مذاکرات کیجیے۔ ان کا کہنا تھا کہ بھارت پاکستان سے تمام حل طلب معاملات مذاکرات کےذریعےسلجھانے کو تیار ہے تاہم دہشت گردی کو ریاستی پالیسی کے طور پر اختیار کیا جانا قبول نہیں اور جو ملک دہشت گردوں کوپناہ اور ہتھیارفراہم کرتے ہیں ان کے خلاف عالمی برادری کوکھڑاہوناپڑے گا۔

بھارتی وزیرخارجہ کا کہنا تھا کہ دہشت گردوں کا کوئی مذہب نہیں ہوتا اور ان میں اچھے برے کا فرق نہیں کرنا چاہیئے، دہشت گردی میں کمی ہوئی ہے لیکن اسے بڑھانے والے ملکوں کا مقابلہ نہیں کیا گیا، بین الاقوامی دہشت گردی کو صرف بین الاقوامی کارروائی سے ختم کیا جا سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ طاقت کے استعمال سے دنیا میں مسائل بڑھے ہیں، بھارت پچھلے 25 سال سے دہشت گردی کا سامنا کررہا ہے جب کہ عالمی امن مشن کے لیے بھارت اب تک ایک لاکھ 80 ہزار فوجی فراہم کرچکا ہے اور جو ممالک امن مشن میں زیادہ فوجی دیتے ہیں ان کی سنی نہیں جاتی۔

واضح رہے کہ وزیراعظم نواز شریف نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے اپنے خطاب میں بھارت کو امن اقدامات کے لئے 4 تجاویز پیش کی تھیں جن میں کہا گیا تھا کہ لائن آف کنٹرول پر مکمل جنگ بندی کے لئے 2003 کے معاہدے کا احترام کیا جائے، پاکستان اور بھارت کسی صورت ایک دوسرے کو طاقت کے استعمال کی دھمکی نہ دیں جب کہ بھارت کشمیر سے فوج کے انخلا کے اقدامات یقینی بنائے اور دونوں ممالک غیر مشروط طور پر سیاچن اور گلیشئیر سے فوجیں ہٹا لیں۔
امریکہ کی ریاست اوریگن کے ایمپکوا کمیونٹی کالج میں فائرنگ کے واقعے میں کم سے کم 10 افراد ہلاک اور سات زخمی ہوگئے ہیں۔

حکام نے مقامی افراد سے علاقے سے دور رہنے کی ہدایت دی ہے۔

تین ہزار کے قریبی طلبا کے اس تعلیمی ادارے میں نامعلوم حملہ آور نے فائرنگ کی جس سے کم از کم نو افراد ہلاک ہوگئے جبکہ 26 سالہ مسلح شخص پولیس کے ساتھ فائرنگ کے تبادلے میں ہلاک ہو گیا ہے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ حملہ آور اور قتل کے محرکات کے بارے میں تحقیقات کی جارہی ہیں۔

ایک طالب علم نے بتایا کہ اس نے اپنے استاد کو سر میں گولی لگتے ہوئے دیکھا۔ اس نے بتایا کے حملہ آور سے مارنے سے پہلے لوگوں سے ان کا مذہب دریافت کیا۔

بعض افراد کا کہنا ہے کہ اس شخص نے بدھ کو اپنے ارادوں کے بارے میں سوشل میڈیا پر پوسٹ بھی کیا تھا۔

یہ کالج روزبرگ کے کے علاقے میں واقع ہے۔ ڈگلس کاؤنٹی کے فائر مارشل رے شفلر نے کہا ہے کہ مختلف کلاسوں کے بچے زخمی ہوئے ہیں جنھیں ہسپتال لے جایا گیا۔ دو افراد ہسپتال میں ہلاک ہوئے۔

جس کے بارے صدر اوباما کی جانب سے ہتھیاروں پر کنٹرول کے قانون پر فوری عمل درآمد کی درخواست کی ہے۔

انھوں نے حملے میں مرنے والوں کے ساتھ اظہارِ ہمدردی کیا ۔

امریکی صدر نے کہا کہ ہتھیاروں سے متعلق قانون کو تبدیل کیا جانا چاہیےاور ایسا نہ کرنے کے لیے امریکی آئین کا حوالہ دینا سمجھ سے بالاتر ہے۔

اس سے قبل امریکی صدر نے ان کے بقول ہتھیاروں کو کنٹرول کرنے سے متعلق ایک عام فہم قانون کو منظور نہ کروا سکنے کو اپنی صدارت کا سب سے جھنجھلاہٹ خیز معاملہ قرار دیا۔

روذبرگ محکمہ پولیس کے سارجنٹ ارن ڈنبر نے سی این این کو بتایا کہ پورے کالج کو فوری طور بند کر دیا گیا ہے۔
امریکی فوج کے مطابق افغانستان کے ہوائی اڈے پر سی ون تھرٹی طیارہ گرنے سے کم ازکم 11 افراد ہلاک ہو گئے ہیں جن میں چھ فوجی شامل ہیں۔

سی ون تھرٹی طیارہ جسے ہرکولیس کہا جاتا ہے مقامی وقت کے مطابق شام سات بجکر 30 منٹ پر جلال آباد ایئرپورٹ پر حادثے کا شکار ہوا۔

اے ایف پی سے گفتگو میں امریکی کرنل برائن ٹرابس نے بتایا کہ ہلاک ہونے والوں میں سے چھ افراد امریکی فوج کے لیے کام کرتے تھے جبکہ دیگر سول کنٹریکٹر تھے۔

خیال رہے کہ عام طور پر سی ون تھرٹی فوجی دستوں اور بھاری سامان کی ترسیل کے لیے استعمال ہوتا ہے۔

سال کے آغاز پر فوجوں کے انخلا کا منصوبہ بدل دیا گیا تھا اس جس کے باعث اس وقت بھی افغانستان میں 10 ہزار امریکی فوجی موجود ہیں۔

امریکی صدر نے سنہ 2016 کے آخر تک افغانستان سے بہت کم فوج کی واپسی کی منظوری دی ہے۔

نیٹو کے مطابق افغانستان کے مشرق میں جہاں سی ون تھڑی کو حادثہ پیش آیا غیر ملکی افواج کی کل تعداد ایک ہزار ہے۔جو 40 ہزار افغان دستوں کے ساتھ کام کر رہے ہیں۔

اس سے قبل جولائی میں ایک ملائشین سی ون تھرٹی طیارہ رہائشی علاقے میں گرنے سے 140 سے زائد افراد ہلاک ہوگئے تھے۔