Articles by "تحریک انصاف"
‏تحریک انصاف لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
اسلام آباد: وفاقی دارالحکومت میں تاریخ کے پہلے بلدیاتی انتخابات میں پولنگ کا عمل ختم ہونے کے بعد ووٹوں کی گنتی جاری ہے اور ساتھ ہی نتائج کی آمد کا سلسلہ بھی شروع ہوچکا ہے جس میں غیر سرکاری اور غیر حتمی نتائج کے مطابق تحریک انصاف کو برتری حاصل ہے۔
وفاقی دارالحکومت کی 50 یونین کونسلوں میں پولنگ کا عمل صبح ساڑھے 7 بجے شروع ہوا جو بلا تعطل شام ساڑھے 5 بجے تک جاری رہا،حلقے میں پولنگ شروع ہوتے ہی انتہائی جوش و خروش دیکھا گیا اور لوگوں کی بڑی تعداد نے پولنگ اسٹیشن کی جانب رخ کیا۔ پولنگ کے روز وزارت داخلہ نےعام تعطیل کا تو اعلان نہیں کیا تاہم تعلیمی اداروں میں مکمل جب کہ سرکاری دفاتر میں آدھے دن کی چھٹی رہی اور سرکاری ملازمین نے دوپہر 2 بجے کے بعد اپنا ووٹ کاسٹ کیا۔
اسلام آباد میں پرامن اندازمیں انتخابات کے انعقاد کے لئے سیکیورٹی کے انتہائی سخت انتظامات کئے گئے اور8 ہزارسے زائد پولیس اور ایف سی اہلکاروں نے سیکیورٹی کے فرائض انجام دیئے اس کے علاوہ کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لئے 625 فوجی جوان اور رینجرزکے 700 اہلکار بھی کوئیک رسپانس فورس کے طورپرالرٹ رہے۔ پولیس، ایف سی، اسپیشل برانچ اور پاک فوج کے جوانوں کو خصوصی موبائل سمیں فراہم کی گئیں جن کی مانیٹرنگ جی پی آر ایس کے ذریعے کی گئی۔

وفاقی دارالحکومت کی 600 نشستوں پر 2 ہزار396 امیدواروں میں مقابلہ ہورہا ہے، چیئرمین کے لئے 255 ، جنرل نشستوں پرایک ہزار210 ، خواتین کی نشستوں پر351، کسان اور مزدوروں کی نشستوں پر 248، نوجوانوں کی نشستوں پر230 جب کہ اقلیتی نشستوں پر102 امید وارمدمقابل ہیں۔

پاکستان تحریک انصاف کے چیرمین عمران خان کا کہنا ہے کہ این اے 122 کے ضمنی الیکشن میں نوازشریف مقابلے پر آجائیں تو خود ان کا مقابلہ کروں گا۔

پاکستان تحریک انصاف کے چیرمین عمران خان کا کہنا ہے کہ این اے 122 کی خالی ہونے والی نشست پر ضمنی الیکشن میں نواز شریف مقابلے میں آجائیں تو میں خود ان کا مقابلہ کروں گا۔ انہوں نے کہا خوشی ہے کہ (ن) لیگ والے خود چیلنج دے رہے ہیں، مسلم لیگ (ن) سمجھتی ہے کہ الیکشن میں ان کا امپائر کھڑا ہوگا لیکن مسلم لیگ (ن)الیکشن میں کسی صورت نہیں جیت سکتی۔ ان کا کہنا تھا کہ مقابلے سے پتہ چلے گا کہ لاہور تحریک انصاف کا ہے یا نہیں۔

ملتان: الیکشن ٹریبونل نے قومی اسمبلی کے حلقوں این اے 125 اور این اے 122 کے بعد این اے 154 لودھراں میں بھی تحریک انصاف کے حق میں فیصلہ سنا کر ن لیگ کے صدیق خان بلوچ کی کامیابی کو کالعدم قرار دیتے ہوئے دوبارہ انتخابات کرانے کا حکم دے دیا ہے۔

 الیکشن ٹریبونل کے جج زاہد محمود نے تحریک انصاف کے امیدوار جہانگیر ترین کی درخواست پر این اے 154 میں انتخابی دھاندلی کا فیصلہ سناتے ہوئے (ن) لیگ کے امیدوار صدیق خان بلوچ کی کامیابی کو کالعدم قرار دیتے ہوئے حلقے میں دوبارہ انتخابات کرانے کا حکم جاری کردیا ہے۔ الیکشن ٹریبونل نے جعلی ڈگری پر صدیق خان بلوچ کو تاحیات نا اہل قرار دے دیا ہے۔

الیکشن ٹریبونل کے فیصلے کے بعد تحریک انصاف کے کارکنان نے ’’گو نواز گو‘‘ کے نعرے لگائے اور ایک دوسرے میں مٹھائیاں تقسیم کیں۔ پاکستان تحریک انصاف کے چیرمین عمران خان نے جہانگیر ترین کو ٹیلی فون کیا اور فیصلہ حق میں آنے پر مبارکباد دی جب کہ جہانگیر ترین نے فیصلے پر اللہ کا شکر ادا کیا۔ دوسری جانب ریحام خان نے اپنے ٹویٹ میں کہا کہ کپتان نے ہیٹ ٹرک مکمل کر لی ہے۔

ایکسپریس نیوز سے بات کرتے ہوئے صدیق خان بلوچ کا کہنا تھا کہ بدانتظامی کا ذمہ دار انتخابی عملہ ہے اور اس کا نزلہ امیدواروں پر گرتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جو انگوٹھے نادرا کے پاس جانچ کے لئے گئے اور جب ایک پولنگ اسٹیشن میں 1500 ووٹ ڈالے جار رہے ہوں تو جلدی میں اگر الف اور ب کا بھی فرق آ جائے تو نادرا اس ووٹ کو کالعدم قرار دے دیتا ہے جب کہ سیاہی کے حوالے سے نادرا متعدد بار کہہ چکا ہے کہ اس سیاہی کے ذریعے ووٹوں کی تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔ دوسری جانب صدیق خان بلوچ کے بیٹے ذبیر بلوچ کا کہنا تھا کہ فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں جانے کا حق رکھتے ہیں۔

واضح رہے کہ 2013 کے عام انتخابات میں این اے 154 لودھراں سے آزاد امیدوار صدیق خان بلوچ نے 86 ہزار 177 ووٹ لے کر کامیابی حاصل کی اور پھر (ن) لیگ میں شمولیت اختیار کر لی تھی، دوسرے نمبر پر آنے والے جہانگیر ترین نے 75 ہزار 955 ووٹ لئے۔ جہانگیر ترین نے صدیق خان بلوچ کی کامیابی کو الیکشن ٹریبونل میں چیلنج کیا تھا۔