Articles by "بھارت"
‏بھارت لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
بھارت کو پاکستان کے خلاف جارحیت بہت مہنگی پڑی ہے

لاہور: پاک فوج نے بھارتی فوج کی اشتعال انگیزی کا کرارا جواب دے کر ایل او سی پر سرجیکل اسٹرائیک کے دعوےکی قلعی کھول دی ہے۔

بھارتی فوج نے لائن آف کنٹرول پر اپنی روایتی اشتعال انگیزی کو سرجیکل اسٹرائیک کا نام دے کر اپنے میڈیا اور عوام کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کی کوشش کی۔ بھارت نے اپنے عوام کو نہ تو دعوے کے ثبوت کے طور پر اورنہ ہی مبینہ دہشت گردوں کے ٹھکانوں کی نشاندہی کی اور نا ہی اس کارروائی میں ہلاکتوں سے متعلق کوئی آگاہی دی لیکن حقیقت یہ ہے کہ بھارت کو یہ جارحیت بہت مہنگی پڑی۔

ایکسپریس نیوز کی جانب سے حاصل فوٹیج میں صاف دیکھا جاسکتا ہے کہ بھارتی فوج کی گولہ باری اور فائرنگ کے جواب میں پاکستان نے کس طرح کرارا جواب دے کر بھارتی فوجیوں کو جہنم واصل کرنے کے ساتھ ان کی چوکیوں کو کس طرح تباہ کیا جب کہ دوسری جانب بھارت اپنی شرمندگی مٹانے کے لئے لائن آف کنٹرول کے علاقے میں سرجیکل اسٹرائیک کا دعویٰ کررہا ہے۔

نئی دلی:پاکستان میں تعینات بھارتی ہائی کمشنر گوتم بمباوالا کو کراچی میں تقریب میں شرکت نہ کرنے دینے پر بھارت میں تعینات پاکستانی ہائی کمشنرعبدالباسط کو دفتر خارجہ طلب کرکے ان سے شکایت کی گئی تاہم عبدالباسط سے بھارتی مؤقف کو مسترد کردیا۔

نئی دلی میں پاکستانی ہائی کمیشن کے ترجمان کے مطابق پاکستانی ہائی کمشنرعبدالباسط کو بھارتی دفتر خارجہ طلب کرکے حکام نے شکایت کی کہ پاکستان میں بھارتی ہائی کمشنر گوتم بمباوالا کو کراچی کی تقریب میں شرکت نہیں کرنے دی گئی۔ ترجمان کے مطابق پاکستانی ہائی کمشنر عبدالباسط نے بھارت کی شکایت رد کرتے ہوئے کہا کہ بھارت میں بھی پاکستانی ہائی کمشنر کی دعوتوں کو منسوخ کرنا معمول ہے اور ایسی تمام دعوتوں کی منسوخی بھارتی حکومت کے دباؤ پر کی جاتی ہے۔

ترجمان کا کہنا تھا کہ بھارتی حکومت نے پاکستان کا سافٹ امیج پیش کرنے کی کئی تقریبات نہیں ہونے دیں جب کہ پاکستانی ہائی کمشنر کوکئی بار دی گئی دعوت بھارتی میزبانوں نے دباؤ میں آکر واپس لی۔ ادھر بھارت نے اپنے شہریوں کو پاکستانی ہائی کمشنر کو تقریبات میں مدعو نہ کرنے کی ہدایت کردی ہے۔

دوسری جانب دفتر خارجہ کے ترجمان نے پاکستانی ہائی کمشنر کو بھارتی دفترخارجہ طلبی پر رد عمل دیتے ہوئے کہا کہ بھارت نے ہائی کمشنر کو چیمبر آف کامرس مدعو نہ کرنے پر احتجاج کیا جب کہ واقعہ سے متعلق معلومات لے رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دعوت دینے سے متعلق کراچی چیمبر آزاد ادارہ ہے۔

جودھ پور: بھارتی ریاست راجستھان کی ہائی کورٹ نے سلمان خان کو چنکارہ ہرن کیس میں بری کردیا. 

بھارتی میڈیا کے مطابق سلمان خان 1998 میں ہندوؤں کے لئے مقدس مانے جانے والے کالے ہرن اور چنکارا ہرن کے غیر قانونی شکار پر مرکزی ملزم قرار دیئے گئے تھے، دونوں مقدمات میں ریاست کی ایک ماتحت عدالت نے انہیں ایک اور 5 برس قید کی سزا سنائی تھی۔ سلمان خان نے اس فیصلے کے خلاف ریاست کی ہائی کورٹ میں اپیل دائر کی تھی۔

ریاست کی اعلٰی عدالت نے کئی برسوں تک کیس کی سماعت کے بعد مئی کے آخر میں فیصلہ محفوظ کرلیا تھا جسے آج سنایا گیا ہے۔ فیصلے میں عدالت نے سلمان خان کو تمام الزامات سے بری کردیا ہے۔

واضح رہے کہ 1998 میں سلمان خان کو راجستھان میں اس وقت گرفتار کیا گیا تھا جب وہ اپنی بلاک بسٹر فلم ’’ہم ساتھ ساتھ ہیں‘‘ کی شوتنگ میں مصروف تھے۔ سلمان خان کو ممبئی میں شراب کے نشے میں دھت ہوکر گاڑی چلانے اور ایک شکص کو کچلنے کے الزام میں بھی سزا یافتہ ہیں تاہم ممبئی کی ہائی کورٹ نے انہیں بری کردیا تھا لیکن اب رہاست کی حکومت نے ہائی کورٹ کے فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کررکھا ہے۔

پیٹ پر چربی بڑھنا یا توند نکل آنا ایک ایسا مسئلہ ہے جو زندگی کو خطرے میں بھی ڈال سکتا ہے۔

یہ کوئی ایسی چیز نہیں ہے جو صرف دیکھنے میں ہی خراب معلوم ہوتی ہو بلکہ یہ آپ کی صحت کے لیے بھی خطرے کا ایک اشارہ ہے۔

پسلیوں کے آس پاس کی جلد ایک انچ سے زیادہ كھچنے لگے تو ہم اسے بیلی فیٹ یا پیٹ کی چربی کہتے ہیں جو جلد کے نیچے ہی ہوتی ہے۔

یہ ہمارے اندرونی اعضا، جگر اور آنتوں کے آس پاس بھی جمع ہو جاتی ہے۔

پیٹ کے اہم اندرونی اعضا کے آس پاس جمع ہونے والی چربی صحت پر اثر انداز ہوتی ہے۔

جلد کی چربی کے مقابلے میں آنت پر چربی زیادہ تیزی سے بنتی ہے اور اسی رفتار سے کم بھی ہوتی ہے۔ جب وزن بڑھتا ہے تو یہاں سب سے پہلے چربی جمع ہوتی ہے اور وزن کم ہونے کے ساتھ اسی میں سب سے پہلے کمی بھی آتی ہے۔

لیکن صحت کے لیے یہ سب سے زیادہ خطرناک تصور کی جاتی ہے تاہم اچھی خبر یہ ہے کہ اس کو کم کرنا بھی بہت مشکل نہیں ہے۔

صحت سے متعلق ویب سائٹس اور ٹی وی اشتہارات میں چربی کم کرنے کے بہت آسان حل بتائے جاتے ہیں لیکن سوال یہ ہے کہ یہ کتنے درست ہیں؟

اس کا جواب تلاش کرنے کے لیے ’ٹرسٹ می آئی ایم اے ڈاکٹر‘ کی ایک ٹیم نے کچھ تجربات کیے ہیں۔

ٹیم نے 35 ایسے رضاکاروں کے چار گروپ بنائے، جن کو اتنا موٹاپا تھا اور انہیں ٹائپ 3 ذیابیطس اور دل کی بیماریوں کا خطرہ تھا۔

آکسفورڈ یونیورسٹی کے میٹروبولك میڈیسنز کے پروفیسر فریڈرک كارپے اور باتھ یونیورسٹی کے پروفیسر ڈیلن کے تھامپسن نے دو دو گروپوں پر دو مختلف تجربات کیے۔

تھامپسن نے دو طرح کی ورزش کرنے طریقے اپنائے جبکہ پروفیسر كارپے نے دو گروپوں کو دو مختلف طرح کی خوراک لینے کا مشورہ دیا۔

تھامسن نے پہلے گروپ کے لوگوں کو معمول کی خوراک لینے کو کہا اور انھیں روزانہ سرگرمی درج کرنے کے لیے مانیٹر دیے گئے۔ انہیں زیادہ چلنے اور صحت مند سرگرمیاں بڑھانے کے لیے کچھ تجاویز بھی دی گئیں۔

جبکہ دوسرے گروپ کو صحت سے متعلق ویب سائٹس کے طریقے آزمانے کو کہا گیا۔

پروفیسر كارپے کی نگرانی میں تیسرے گروپ کو چربی کم کرنے کا ایک اور مقبول نسخہ، ایک دن میں تین گلاس دودھ پینے کو کہا گیا۔ ایسی تحقیقات سامنے آتی رہی ہیں کہ دودھ سے بنی چیزیں چربی کم کرتی ہیں۔

جبکہ چوتھے گروپ کی خوراک پر زیادہ توجہ دی گئی۔ ان سے صرف اتنا کہا گیا کہ وہ کھانے کی مقدار کا خیال رکھیں۔ انھیں کھانے کے درمیان میں نمکین نہ کھانے کو کہا گیا۔ انہیں بھوک کے مارے اٹھنے والے درد سے نمٹنے کے طریقے بھی بتائے گئے۔

چھ ہفتے کے بعد تمام شرکا کی صحت کی دوبارہ جانچ کی گئی۔

پہلے گروپ میں پایا گیا کہ چربی تو کم نہیں ہوئی لیکن صحت میں کافی بہتری آئی ہے۔ دوسرے گروپ میں چربی تو کم ہوئی اور کمر بھی 2 سینٹی میٹر کم ہوئی لیکن صحت اور وزن میں کوئی خاص بہتری نہیں دیکھی گئی۔

دودھ پینے والے تیسرے گروپ کی صحت میں کوئی تبدیلی نہیں آئی حالانکہ انہیں 400 کیلوری اضافی لینے کو کہا گیا تھا لیکن پھر بھی ان کا وزن نہیں بڑھا۔

سب سے زیادہ بہتری کنٹرول خوراک لینے والے چوتھے گروپ میں دیکھی گئی۔ اس میں اوسطا فی شخص کا 3.7 کلو وزن کم ہوا اور کمر اوسطا 5 سینٹی میٹر کم ہوئی۔ جسم کی چربی میں 5 فیصد کی کمی آئی جبکہ اندرونی اعضا کی چربی میں 14 فیصد کی کمی آئی۔

تو آخر میں نتیجہ یہ ہے کہ اگر آپ اپنے پیٹ کی چربی کم کرنا چاہتے ہیں تو صدیوں پرانے اسی مشورے کو ماننا ہوگا یعنی خوراک اور ورزش کی مکمل تناسب۔ باقی چیزوں کو وہیں چھوڑ دیں جہاں وہ ہیں۔

انڈیا کی شمالی ریاست ہماچل پردیش میں سیاحت کے لیے آنے والی ایک اسرائیلی خاتون کو مبینہ طور پر چلتی گاڑی میں ریپ کرنے کا واقعہ پیش آیا ہے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ یہ واقعہ اتوار کو پیش آیا جب 25 سالہ سیاح منالی سے ایک قریبی قصبے کیلونگ جانا چاہتی تھیں اور غلطی سے مذکورہ کار کو ٹیکسی سمجھ کر اس میں سوار ہوگئیں۔

مقامی پولیس اہلکاروں کے مطابق کار میں چھ افراد سوار تھے جن میں سے دو نے اس خاتون سے جنسی زیادتی کی۔

پولیس سپرٹنڈنٹ پدم چند نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ اس واقعے کے بارے میں اسرائیلی سفارتخانے کو مطلع کر دیا گیا ہے اور ریپ میں ملوث افراد کی تلاش شروع کر دی گئی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ’ہم سی سی ٹی وی فوٹیج کا جائزہ لے رہے ہیں اور ملزمان کی گرفتاری کے لیے پرامید ہیں۔‘

بھارت میں غیر ملکی خواتین سیاحوں سے جنسی زیادتی کے واقعات ماضی میں بھی پیش آتے رہے ہیں۔

منالی انڈیا کا مشہور تفریحی مقام ہے جو مقامی سیاحوں اور غیرملکیوں دونوں میں بہت مقبول ہے تاہم یہاں سیاحوں کی سکیورٹی پر بھی ماضی میں سوال اٹھائے جاتے رہے ہیں۔

سنہ 2013 میں یہاں ایک امریکی خاتون سیاح کے ریپ کا واقعہ بھی پیش آیا تھا۔ اس معاملے میں ایک مقامی عدالت نے نیپال کے تین باشندوں کو 20-20 سال قید کی سزا سنائی تھی۔

انڈیا میں سنہ 2012 میں دارالحکومت دہلی میں ایک طالبہ کے چلتی بس میں ریپ کے بعد ملک بھر میں ریپ کے قوانین سخت کرنے کے بارے میں آواز اُٹھائی گئی تاہم اس کے باوجود ملک بھر میں خواتین اور بچوں کے خلاف جنسی حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔

دنیا بھر میں سستے ہوٹلوں اور فاسٹ فوڈز میں کھانے کے ساتھ عام طور پر پلاسٹک سے بنے سستے کانٹے، چھری یا چمچ دیے جاتے ہیں۔ کئی لوگ اِن سے بیزار بھی ہوتے ہیں لیکن اُن کے پاس انہیں استعمال کرنے کے علاوہ کوئی اور چارہ بھی نہیں ہوتا۔ بھارتی شہر حیدر آباد کا رہائشی نارائن پیساپتی بھی ایسے لوگ میں سے ایک تھا۔ وہ پلاسٹک کے چھری کانٹوں سے شدید اُکتا گیا اور ایک دن اُس نے سوچا کہ کوئی بھی عملی طور پر آگے نہیں بڑھ رہا اور اب اُسے خود ہی کچھ کرنا ہو گا۔

نارائن پیسا پتی نے مختلف فوڈ آئٹمز پر غور کرنا شروع کر دیا۔ اس دوران اُس نے دریافت کیا کہ مال مویشیوں کے چارے کے لیے استعمال ہونے والی ایک گھاس مفید ہو سکتی ہے۔ یہ گھاس عام طور پر چینا یا اَرزَن کہلاتی ہے۔ انگریزی میں اِسے سورگم (sorghum) کہتے ہیں۔ پیساپتی نے اِس کے سفوف سے چھری کانٹے بنا ڈالے۔ شروع میں یہ کٹلری خاصی سخت محسوس ہوتی ہے لیکن استعمال کے ساتھ ساتھ یہ نرم ہونے لگتی ہے۔

سورگم یا چینا سے بنائی گئی کٹلری انسانی بدن کے لیے بھی مفید ہے۔ کھانا شروع ہونے کے دس پندرہ منٹ بعد سخت چھری اور کانٹے نرم ہونے لگتے ہیں اور اختتامِ خوراک پر انہیں آسانی کے ساتھ چبا کر کھایا جا سکتا ہے۔ اگر اِن کو پھینک بھی دیا جائے تو یہ ماحول دوست ہیں اور پلاسٹک کے چھری کانٹوں کی طرح اِن کا ماحول کو کوئی نقصان نہیں ہوتا۔ چینا گھاس کی کٹلری آسانی کے ساتھ ضائع کی جا سکتی ہے یا پھر مال مویشیوں کے چارے کا حصہ بھی بنائی جا سکتی ہے۔

علمِ نباتات کے مطابق چینا یا ارزن یا سورگم گھاس کی ایک قسم ہے۔ اِس کا اصل وطن آسٹریلیا خیال کیا جاتا ہے لیکن قدیمی دور میں عراق و شام کے علاوہ ایشیا اور افریقہ بھی اِس کی موجودگی ڈھونڈ نکالی گئی ہے۔ بھارت اور بحرالکاہل کے کئی ملکوں میں بھی اب یہ اگائی جاتی ہے۔ چیناگھاس بظاہر خاص طور پر مال مویشیوں کے چارے کے طور پر استعمال کی جاتی ہے لیکن اب انسانوں نے اِسے اپنے دسترخوان کی زینت بھی بنا رکھا ہے۔ سورگم سُوپ خاص طور پر کئی ملکوں میں پسند کیا جاتا ہے۔ اِس کا دلیہ بھی کئی لوگوں کو بہت مرغوب ہے۔ چینا یا ارزن کی کئی قسمیں خاصی زہریلی خیال کی جاتی ہیں۔
نئی دہلی: بھارتی چیف آف آرمی اسٹاف دلبیر سنگھ کا کہنا ہے کہ فوج کو قلیل المدتی جنگ کے لئے ہروقت تیاررہنے کی ضرورت ہے۔

نئی دہلی میں سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے بھارتی آرمی چیف جنرل دلبیر سنگھ نے کہا کہ پاک بھارت سرحد پر دوطرفہ فائرنگ کا تبادلہ مستقبل میں ہونے والی قلیل المدتی جنگ کا پیش خیمہ ہے اور اس حوالے سے آگاہ ہیں اس لئے فوج قلیل المدتی جنگ کے لئے ہمہ وقت تیار رہے۔ انہوں نے کہا کہ مقبوضہ جموں کشمیرمیں جنگ کے لئے نئے طریقے اپنائے جارہے ہیں اورمشرقی سرحد پربڑھتے ہوئے دباؤ کے باعث فوج کو مزید الرٹ رہنے کی ضرورت ہے۔

بھارتی آرمی چیف نے تسلیم کیا کہ انہیں پیچیدہ خطرات اور چیلنجز کا سامنا ہے اور اسی سلسلے میں گزشتہ چند سالوں کے دوران بری فوج کی صلاحیتوں میں اضافہ کیا گیا ہے۔ جنرل دلبیر سنگھ نے 1965 کی پاک بھارت جنگ کے حوالے سے اپنے منہ میاں مٹھو بنتے ہوئے بھارتی فوج کی تعریف کی اور 1971 میں پاکستان کو دو لخت کرنے میں بھارتی فوج کے کردار کو بھی سراہا۔
واشنگٹن: امریکی سی آئی اے کی رپورٹ نے پاکستان کے خلاف بھارتی عزائم کا بھانڈا پھوڑدیا ہے جس کے مطابق بھارتی وزیراعظم اندراگاندھی پاکستان کو ایٹمی طاقت بننے سے روکنے کے لیے اس کے ایٹمی مراکز پر حملے کا منصوبہ رکھتی تھیں۔

امریکی سی آئی اے کی جانب سے 8 ستمبر 1981 کو جاری خفیہ دستاویز کے مطابق جب امریکا پاکستان کو ایف 16 طیارے دینے پر حتمی غور کررہا تھا عین اسی وقت اندرا گاندھی پاکستانی ایٹمی مراکز کو نشانہ بنانے پر غور کررہی تھیں۔

سی آئی اے کی 12 صفحات پر مبنی یہ رپورٹ رواں سال جون کو سی آئی اے ویب سائٹ پر جاری کی گئی تھی جس میں تحریر ہے کہ اندرا گاندھی کو یقین تھا کہ اسلام آباد ایٹمی ہتھیاروں کی تیاری کے قریب پہنچ چکا ہے اور بموں کے لیے پلوٹونیم بنارہا ہے اور اسی بنیاد پر انہوں نے بھارتی ایٹمی تجربات کی تیاری بھی شروع کرائی تھی جس کے لیے فروری 1981 میں راجستھان میں بڑے پیمانے پر انتظامات اور نقل مکانی شروع ہوئی تھی اور 40 کلوٹن کا ایٹم بم کا تجربہ تیار تھا۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اس دوران اندرا گاندھی کا خیال تھا کہ پاکستان اگر اگلے 2 سے 3 ماہ میں ایٹمی طاقت بننے کے قریب تر پہنچتا ہے تو اس پر فوجی حملے کا فیصلہ مزید پختہ کیا جائے جس میں خصوصاً ایٹمی مراکز پر حملے شامل ہوں گے۔