Articles by "کراچی"
‏کراچی لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
اسلام آباد: قومی احتساب بیورو (نیب) کے ایگزیکٹوبورڈ نے اراضی کی غیر قانونی الاٹمنٹ اور منی لانڈرنگ پر ڈاکٹر عاصم حسین اور پیپلزپارٹی کے ایم این اے منور تالپور سمیت 4 افراد کے خلاف تحقیقات کی منظوری دے دی۔

اسلام آباد میں چیئر مین نیب قمر زمان چوہدری كی سربراہی میں ایگزیكٹیو بورڈ کا اجلاس ہوا جس میں كرپشن كے مختلف مقدمات كا جائزہ لیا گیا جس کے بعد ڈاكٹر عاصم حسین كے خلاف زمینوں كی غلط الاٹمنٹ اور منی لانڈرنگ كے الزامات پر تحقیقات کا فیصلہ کیا گیا جب کہ بورڈ نے ڈائریکٹر لینڈ کے ڈی اے سید اطہر حسین اور ایڈمنسٹریٹر ضیاالدین اسپتال دبئی عبدالحمید كے خلاف سركاری زمین فراڈ كے ذریعے الاٹ كرنے اور رقم منی لانڈرنگ میں استعمال كرنے كے الزام میں تفتیش كرنے كا فیصلہ كیا ۔

ایگزیکٹو بورڈ نے سابق صوبائی وزیر نواب زادہ محمود زیب كے خلاف 488 ایكڑ زمین قواعد كے برعكس لیز پر دینے كے الزام میں ریفرنس دائر كرنے كا فیصلہ كیا جب کہ اس غیر قانونی لیز كے ذریعے قومی خزانے كو 35كروڑ 50 لاكھ روپے كا نقصان پہنچایا گیا۔ بورڈ نے پیسكو افسران كے خلاف ایك ارب 88 كروڑ 68لاكھ سے زائد كرپشن كے الزام میں جب كہ نیب افسران كے خلاف بدنیتی كے ذریعے ادارے كو نقصان پہنچانے كے الزام میں ریفرنس دائر كرنے كا فیصلہ کیا۔ بورڈ کے اجلاس میں پشاور یونیورسٹی كے سابق وائس چانسلر ڈاكٹر عظمت حیات كے خلاف مہنگے داموں زمین خرید كر قومی خزانے كو 10 كروڑ روپے نقصان پہنچانے كے الزام میں تفتیش كرنے كا فیصلہ ہوا جب كہ سابق صوبائی وزیر صنعت و تجارت بلوچستان سید احسان شاہ كے خلاف غیر قانونی تقرریوں كے الزام میں بھی تفتیش كرنے كی منظوری دی گئی۔

بورڈ نے چار انكوائریاں كرانے كی بھی منظوری دی جن میں ركن قومی اسمبلی میر منور علی تالپور كے خلاف اثاثے بنانے، كراچی پورٹ ٹرسٹ كو آپریٹیو ہائوسنگ سوسائٹی انتظامیہ كے خلاف سینیٹر فتح محمد حسنی كو غیر قانونی طور پر كمرشل پلاٹ الاٹ كرنےجب كہ حق باہو اور مكہ شوگر ملز كے خلاف ٹی سی پی كو مقررہ مقدار میں چینی فراہم نہ كرنے كے الزام میں انكوائری كرانے كا فیصلہ كیا گیا، مكہ شوگر مل پرقومی خزانے كو 61كروڑ 84لاكھ جب كہ حق باہو شوگر مل پر ایك ارب 40 كروڑ روپے نقصان پہنچانے كا الزام ہے۔

بورڈ نے نیب كو موصول ہونے والی نئی شكایات كا بھی جائزہ لیا اور ركن بلوچستان اسمبلی مجیب الرحمٰن كے خلاف جعلی كمپنیوں كے ذریعے خرد برد اور ركن قومی اسمبلی سلطان محمد ہنجرا كے خلاف سركاری زمینوں پر قبضے كے الزام كی تصدیق كرانے كی منظوری دیدی گئی۔
کراچی: پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کے سول اسپتال دورے کے موقع پر سخت سیکیورٹی کے باعث ایمرجنسی گیٹ پر 10 ماہ کی بچی والد کے ہاتھ میں تڑپ تڑپ کر جاں بحق ہوگئی جس کی نماز جنازہ ادا کردی گئی۔

 بلاول بھٹو زرداری وزیراعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ کے ہمراہ ٹراما سینٹر کا افتتاح کرنے سول اسپتال پہنچے تو اس موقع پر سخت سیکیورٹی کے باعث اسپتال میں مریضوں کا داخلہ بند کردیا گیا جب کہ ایمرجنسی گیٹ بھی بند ہونے کے باعث 10 ماہ کی بچی بسمہ والد کے ہاتھوں میں تڑپتی رہی اوربچی کا والد اس موقع پر دہائیاں دیتا رہا لیکن کسی نے اس کی ایک نہ سنی اور شدید بخار میں مبتلا 10 ماہ کی بچی طبی امداد نہ ملنے پر تڑپ تڑپ کر جاں بحق ہوگئی۔ بسمہ کی نماز جنازہ لیاری کے گبول پارک میں ادا کردی گئی جس میں پیپلزپارٹی کے کسی رہنما نے شرکت نہیں کی، نماز جنازہ کے بعد مقامی افراد نے واقعے پر شدید احتجاج کیا اور سندھ حکومت کے خلاف نعرے بازی کی۔

دوسری جانب بچی کے متاثرہ باپ نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ 10 ماہ کی بسمہ شدید بخارمیں مبتلا تھی جسے ایک گھنٹے تک ہاتھوں میں اٹھائے ایمرجنسی گیٹ پر کھڑا رہا لیکن کسی نے کوئی فریاد نہ سنی اوراسپتال کے اندر جانے نہیں دیا جب کہ پروٹوکول پرماموراہلکاروں سے بھی منت سماجت کرتا رہا لیکن وہ یہی کہتے رہے کہ وی آئی پی موومنٹ ہے اس لیے اسپتال کے اندرجانے کی اجازت نہیں دی جاسکتی جس کے باعث بسمہ طبی امداد نہ ملنے پرہاتھوں میں ہی دم توڑ گئی۔ بدقسمت باپ کا کہنا تھا کہ بچی کو جب ڈاکٹروں نے دیکھا تو ان کا کہنا تھا کہ بچی کو اگر10 منٹ پہلے لے آیا جاتا تواس کی جان بچ سکتی تھی۔

ادھربلاول بھٹو زرداری اور قائم علی شاہ کی اسپتال آمد کے موقع پر50 سے زائد آپریشنز ملتوی کئے گئے اور آپریشن تھیٹرز 2 گھنٹے تک غیرفعال رہے جب کہ پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری نے وزیراعلی سید قائم علی شاہ کو فون کیا اور سول اسپتال میں پیش آنے والے واقعے کا نوٹس لینے کی ہدایت کی جب کہ آصف زرداری نے سندھ حکومت کو ہدایت کی کہ آئندہ کسی بھی اسپتال کے افتتاح کے موقع پر تقریب منعقد نہ کی جائے اور پروٹوکول کے لیے اسپتالوں کے دروازے بند نہ کیے جائیں۔
کراچی: پاکستان پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما اور سروری جماعت کے روحانی پیشوا مخدوم امین فہیم کو نماز جنازہ کی ادائیگی کے بعد آبائی شہر میں سپرد خاک کردیا گیا۔
4 اگست 1939 کو مٹیاری میں پیدا ہونے والے امین فہیم بلڈ کینسر کے مرض میں مبتلا تھے اور گزشتہ کئی روز سے کراچی کے ایک نجی اسپتال میں زیرعلاج تھے۔ امین فہیم کے اہل خانہ کی جانب سے ان کے انتقال کی تصدیق کے بعد ان کے چاہنے والوں کی بڑی تعداد اسپتال کے باہر جمع ہوگئی، امین فہیم کی میت کو ایمبولنس کے ذریعے آبائی شہر ہالا منتقل کیا گیا جہاں بعد نماز عصران کی نماز جنازہ کی ادائیگی کے بعد والد کے پہلو میں سپرد خاک کردیا گیا۔ نماز جنازہ میں پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو،وزیراعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ، منظور وسان،خورشید شاہ،راجہ پرویز اشرف اور دیگر پارٹی رہنماؤں سمیت عوام اور سروری جماعت کے مریدین کی ایک بڑی تعداد نے شرکت کی۔
مخدوم امین فہیم نے 1970 میں سیاست کا آغاز کیا اور 1977 سے لے کر 2013 تک مسلسل 8 مرتبہ ممبر قومی اسمبلی رہے۔ امین فہیم وزیر مواصلات و اطلاعات اور وزیر صنعت و تجارت بھی رہے۔ سابق صدر جنرل پرویز مشرف نے 2002 میں امین فہیم کو وزیراعظم بننے کی پیشکش کی جسے انھوں نے ٹھکرادیا۔
سابق وزیراعظم بے نظیر بھٹو کی جلا وطنی کے دور میں امین فہیم ہی پیپلز پارٹی کے تمام امور دیکھا کرتے تھے، امین فہیم کچھ عرصے تک پیپلز پارٹی سے ناراض بھی رہے لیکن پیپلزپارٹی میں ہی رہتے ہوئے سیاسی جدوجہد جاری رکھی۔ مخدوم امین فہیم ایک سیاستدان ہونے کے ساتھ ساتھ سروری جماعت کے روحانی پیشوا بھی تھے اور پاکستان سمیت دنیا بھر میں ان کے ماننے والوں کی تعداد لاکھوں میں ہے۔
پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما اور اسپیکر سندھ اسمبلی آغا سراج درانی نے امین فہیم کے انتقال کر دکھ اور رنج کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ امین فہیم کا خلا پر نہیں کیا جا سکتا۔ شرجیل انعام میمن کا کہنا تھا کہ امین فہیم بہت اعلیٰ صفت کے انسان تھے اور وہ ہی مجھے سیاست میں لائے تھے، ان کے انتقال سے پیپلز پارٹی ایک بہترین سیاستدان سے محروم ہو گئی۔

کراچی: اینٹی کرپشن کورٹ نے سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی اور پیپلزپارٹی کے مرکزی رہنما مخدوم امین فہیم کو ٹڈاپ کرپشن کیس میں گرفتار کر کے پیش کرنے کا حکم دیا ہے۔

وفاقی تحقیقاتی ادارے ( ایف آئی اے) نے سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی اور امین فہیم سمیت دیگر ساتھیوں کے خلاف ٹریڈ ڈویلپمنٹ اتھارٹی پاکستان (ٹڈاپ) میں کرپشن سے متعلق تفتیش مکمل کرتے ہوئے 12 مقدمات کے حتمی چالان عدالت میں پیش کردیئے۔ ایف آئی اے کی جانب سے پیش کئے گئے حتمی چالان میں پیپلزپارٹی کے دونوں رہنماؤں سمیت دیگر کو مفرور قرار دیا جس پر عدالت نے سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی اور امین فہیم سمیت دیگر کو 10 ستمبر تک گرفتارکرکے پیش کرنے کا حکم دیا۔

واضح رہے کہ پیپلزپارٹی کے دونوں رہنما 12 مختلف مقدمات میں پیش ہوکراپنی ضمانتیں کروا چکے تھے۔