Articles by "سندھ"
‏سندھ لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

اسلام آباد: پاک فضائیہ کی پہلی خاتون پائلٹ شہید مریم مختار پر بننے والی مختصر فلم کی پہلی تصویر منظر عام پر آگئی۔

فلم پاک فضائیہ کی پہلی خاتون پائلٹ مریم مختار کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لیے بنائی جارہی ہے جو 2015میں تربیتی پرواز کے دوران طیارہ گرنے کے باعث شہید ہو گئیں تھی۔

فلم نامور ہدایت کار سرمد کھوسٹ کی ہدایت کاری میں بنے گی جب کہ ڈرامے کی مصنف عمیرہ احمد ہیں۔ فلم میں مرکزی کرداراداکارہ صنم بلوچ ادا کر رہی ہیں۔

دبئی: پیپلزپارٹی نے وزیراعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ کو ہٹانے کا فیصلہ کرتے ہوئے ان کی جگہ صوبے میں نیا وزیراعلیٰ لانے کا فیصلہ کیا ہے جب کہ پارٹی قیادت نے رینجرز کے اختیارات میں توسیع کا فیصلہ بھی کیا ہے۔ 

دبئی میں پیپلزپارٹی کے چیرمین بلاول بھٹو زرداری اورشریک چیرمین آصف زرداری کی زیرصدارت پیپلزپارٹی کا اعلیٰ سطح کا اجلاس ہوا جس میں وزیراعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ، وزیر داخلہ سہیل انور سیال، وزیر خزانہ مراد علی شاہ، رحمان ملک اور مشیر قانون مرتضیٰ وہاب سمیت صوبائی حکومت کی دیگر شخصیات نے شرکت کی۔

پارٹی ترجمان فرحت اللہ بابر کا کہنا تھا کہ اجلاس میں وزیراعلیٰ سید قائم علی شاہ کو ہٹانے سمیت سندھ کابینہ میں بھی ردوبدل کا فیصلہ کیا گیا جس پر پارٹی چیرمین بلاول بھٹو سندھ کی قیادت سے ملاقاتیں کرنے کے بعد اجلاس کے فیصلوں پر عملدرآمد کریں گے۔ ترجمان نے کہا کہ اجلاس میں آزاد کشمیر کے انتخابات کے حوالے سے بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔

ذرائع کے مطابق اجلاس میں سندھ میں رینجرز کے قیام اور اختیارات کا فیصلہ بھی کرلیا گیا۔ آصف علی زرداری نے پارٹی رہنماؤں کو رینجرز کو اختیارات دینے کی ہدایت کردی جس کے بعد رینجرز سندھ میں ایک سال مزید قیام کرے گی اور رینجرز کے خصوصی اختیارات میں بھی 3 ماہ کی توسیع کردی جائے گی۔

واضح رہے کہ سید قائم علی شاہ 8 سال سے سندھ کے وزیراعلیٰ کے عہدے پر فائض ہیں جب کہ صوبے کے نئے وزیراعلیٰ کے لئے سید مراد علی شاہ سب سے زیادہ مضبوط امیدوار سمجھے جارہے ہیں جب کہ اس ڈور میں منظور وسان اور نثار کھوڑو بھی شامل ہیں۔
کراچی: پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کے سول اسپتال دورے کے موقع پر سخت سیکیورٹی کے باعث ایمرجنسی گیٹ پر 10 ماہ کی بچی والد کے ہاتھ میں تڑپ تڑپ کر جاں بحق ہوگئی جس کی نماز جنازہ ادا کردی گئی۔

 بلاول بھٹو زرداری وزیراعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ کے ہمراہ ٹراما سینٹر کا افتتاح کرنے سول اسپتال پہنچے تو اس موقع پر سخت سیکیورٹی کے باعث اسپتال میں مریضوں کا داخلہ بند کردیا گیا جب کہ ایمرجنسی گیٹ بھی بند ہونے کے باعث 10 ماہ کی بچی بسمہ والد کے ہاتھوں میں تڑپتی رہی اوربچی کا والد اس موقع پر دہائیاں دیتا رہا لیکن کسی نے اس کی ایک نہ سنی اور شدید بخار میں مبتلا 10 ماہ کی بچی طبی امداد نہ ملنے پر تڑپ تڑپ کر جاں بحق ہوگئی۔ بسمہ کی نماز جنازہ لیاری کے گبول پارک میں ادا کردی گئی جس میں پیپلزپارٹی کے کسی رہنما نے شرکت نہیں کی، نماز جنازہ کے بعد مقامی افراد نے واقعے پر شدید احتجاج کیا اور سندھ حکومت کے خلاف نعرے بازی کی۔

دوسری جانب بچی کے متاثرہ باپ نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ 10 ماہ کی بسمہ شدید بخارمیں مبتلا تھی جسے ایک گھنٹے تک ہاتھوں میں اٹھائے ایمرجنسی گیٹ پر کھڑا رہا لیکن کسی نے کوئی فریاد نہ سنی اوراسپتال کے اندر جانے نہیں دیا جب کہ پروٹوکول پرماموراہلکاروں سے بھی منت سماجت کرتا رہا لیکن وہ یہی کہتے رہے کہ وی آئی پی موومنٹ ہے اس لیے اسپتال کے اندرجانے کی اجازت نہیں دی جاسکتی جس کے باعث بسمہ طبی امداد نہ ملنے پرہاتھوں میں ہی دم توڑ گئی۔ بدقسمت باپ کا کہنا تھا کہ بچی کو جب ڈاکٹروں نے دیکھا تو ان کا کہنا تھا کہ بچی کو اگر10 منٹ پہلے لے آیا جاتا تواس کی جان بچ سکتی تھی۔

ادھربلاول بھٹو زرداری اور قائم علی شاہ کی اسپتال آمد کے موقع پر50 سے زائد آپریشنز ملتوی کئے گئے اور آپریشن تھیٹرز 2 گھنٹے تک غیرفعال رہے جب کہ پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری نے وزیراعلی سید قائم علی شاہ کو فون کیا اور سول اسپتال میں پیش آنے والے واقعے کا نوٹس لینے کی ہدایت کی جب کہ آصف زرداری نے سندھ حکومت کو ہدایت کی کہ آئندہ کسی بھی اسپتال کے افتتاح کے موقع پر تقریب منعقد نہ کی جائے اور پروٹوکول کے لیے اسپتالوں کے دروازے بند نہ کیے جائیں۔
کراچی: پاکستان پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما اور سروری جماعت کے روحانی پیشوا مخدوم امین فہیم کو نماز جنازہ کی ادائیگی کے بعد آبائی شہر میں سپرد خاک کردیا گیا۔
4 اگست 1939 کو مٹیاری میں پیدا ہونے والے امین فہیم بلڈ کینسر کے مرض میں مبتلا تھے اور گزشتہ کئی روز سے کراچی کے ایک نجی اسپتال میں زیرعلاج تھے۔ امین فہیم کے اہل خانہ کی جانب سے ان کے انتقال کی تصدیق کے بعد ان کے چاہنے والوں کی بڑی تعداد اسپتال کے باہر جمع ہوگئی، امین فہیم کی میت کو ایمبولنس کے ذریعے آبائی شہر ہالا منتقل کیا گیا جہاں بعد نماز عصران کی نماز جنازہ کی ادائیگی کے بعد والد کے پہلو میں سپرد خاک کردیا گیا۔ نماز جنازہ میں پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو،وزیراعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ، منظور وسان،خورشید شاہ،راجہ پرویز اشرف اور دیگر پارٹی رہنماؤں سمیت عوام اور سروری جماعت کے مریدین کی ایک بڑی تعداد نے شرکت کی۔
مخدوم امین فہیم نے 1970 میں سیاست کا آغاز کیا اور 1977 سے لے کر 2013 تک مسلسل 8 مرتبہ ممبر قومی اسمبلی رہے۔ امین فہیم وزیر مواصلات و اطلاعات اور وزیر صنعت و تجارت بھی رہے۔ سابق صدر جنرل پرویز مشرف نے 2002 میں امین فہیم کو وزیراعظم بننے کی پیشکش کی جسے انھوں نے ٹھکرادیا۔
سابق وزیراعظم بے نظیر بھٹو کی جلا وطنی کے دور میں امین فہیم ہی پیپلز پارٹی کے تمام امور دیکھا کرتے تھے، امین فہیم کچھ عرصے تک پیپلز پارٹی سے ناراض بھی رہے لیکن پیپلزپارٹی میں ہی رہتے ہوئے سیاسی جدوجہد جاری رکھی۔ مخدوم امین فہیم ایک سیاستدان ہونے کے ساتھ ساتھ سروری جماعت کے روحانی پیشوا بھی تھے اور پاکستان سمیت دنیا بھر میں ان کے ماننے والوں کی تعداد لاکھوں میں ہے۔
پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما اور اسپیکر سندھ اسمبلی آغا سراج درانی نے امین فہیم کے انتقال کر دکھ اور رنج کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ امین فہیم کا خلا پر نہیں کیا جا سکتا۔ شرجیل انعام میمن کا کہنا تھا کہ امین فہیم بہت اعلیٰ صفت کے انسان تھے اور وہ ہی مجھے سیاست میں لائے تھے، ان کے انتقال سے پیپلز پارٹی ایک بہترین سیاستدان سے محروم ہو گئی۔

کراچی / حیدر آباد: چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس انور ظہیر جمالی نے کہا ہے کہ ملک میں بری طرز حکمرانی کا ماحول ہے جب کہ اعلیٰ عدلیہ میں 75 فیصد مقدمات اداروں کی نا اہلی کی وجہ سے ہیں۔

حیدرآباد میں ڈسٹرکٹ بار کی جانب سے اپنے اعزاز میں دیئے گئے عشایئے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے چیف جسٹس انور ظہیر جمالی نے کہا کہ عدلیہ پر تبصرے کرنے والوں کو نظام عدل اور قانون سے واقفیت نہیں، موجودہ نظام عدل بہتر، آزمودہ اور مربوط ہے اس میں کوئی بنیادی خرابی نہیں جب کہ نظام عدل سے بددل ہوجانے کی کوئی وجہ نہیں ہے۔

چیف جسٹس نے کہا کہ عدلیہ کا کام صرف فیصلے کرنا نہیں بلکہ انصاف فراہم کرنا ہے، ایسے فیصلے بے کار ہیں جس سے عوام کو انصاف نہ مل سکے۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں بری طرز حکمرانی کا ماحول ہے، اعلیٰ عدلیہ میں 75 فیصد مقدمات اداروں کی نااہلی کی وجہ سے ہیں، ادارے آئین وقانون کے مطابق کام کریں تو مسائل ختم ہوجائیں گے تاہم ملک میں آج بھی کچھ ادارے کام کررہے ہیں جن میں عدلیہ بھی شامل ہے۔

اس سے قبل سینٹرل جیل کراچی میں میں انسداد دہشت گردی کی 2 عدالتوں کا سنگ بنیاد رکھنے کے بعد خطاب کرتے ہوئے چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ ملک میں کئی دردناک واقعات ہوئے، معصوم جانیں ضائع ہوئیں،دہشت گردوں سے نمٹنے کے لئے ہر ممکن کوشش کی جارہی ہے اور عدالتوں کا قیام بھی اس سلسلے کی کڑی ہے۔

جسٹس انورظہیر جمالی نے کہا کہ کراچی میں بہت درد ناک سانحات ہوچکے ہیں، جن میں ججز، پولیس، وکلا اورعام شہری دہشت گردوں کے نشانے پررہے ہیں، جلدازجلدانصاف کی فراہمی ججزکی ذمے داری ہے،دہشت گردی کے جن پر قابو پانے کے لئے نیا معقول حل نکالنے میں سندھ حکومت بازی لے گئی۔ سینٹرل جیل میں انسداد دہشت گردی کی عدالتوں کی عمارتیں آئندہ برس تیارہوجائیں گی۔

اسلام آباد......سابق مشیر پیٹرولیم ڈاکٹر عاصم حسین کی گرفتاری اور عدالت سے ریمانڈ لئے جانے کے بعد آصف زرداری نے پارٹی قائدین سے ٹیلیفون رابطے کئے ہیں،ذرائع کے مطابق آصف زرداری نے پارٹی رہنماؤں کی گرفتاریوں پربھرپوراحتجاج اورٹھوس حکمت عملی اپنانےکی ہدایا ت دی ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ پیپلزپارٹی کو دیوار سے لگایا جا رہا ہے،کیا کرپشن صرف کراچی میں ہورہی ہے،ڈاکٹر عاصم کا قصور پیپلزپارٹی سے تعلق ہے،جس کی انہیں سزا دی جا رہی ہے،جیلیں اور ہتھکڑیاں ہمارا راستہ نہیں روک سکتیں۔ڈاکٹر عاصم حسین کی گرفتاری اور اس کے بعد کی صورت حال پرپیپلزپارٹی کی سینئرنائب صدرشیری رحمان آج شام 6 بجےپریس کانفرنس کریں گی جس پیپلزپارٹی قائدین زرداری کی ہدایت پر آج شام اپنا موقف بیان کریں گے۔

اسلام آباد: پیپلز پارٹی کے رہنما اور قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف سید خورشید شاہ کا کہنا ہے کہ کرپشن کے نام پر آصف زرداری پر براہ راست ہاتھ ڈالا گیا تو جنگ کی ابتدا ہوگی۔

اسلام آباد میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے خورشید شاہ کا کہنا تھا کہ ’’را‘‘ سندھ اوربلوچستان میں گھس چکی ہے، بندوق کے زور پر کچھ نہیں ہوتا، سندھ میں جو لاوا پک رہا ہے صرف سندھی روک سکتے ہیں، آرمی چیف کو سندھ میں امن و امان کی صورت حال پر وزیراعلیٰ کو اعتماد میں لینا چاہیے، اداروں کے سربراہ ہمارے ساتھ بیٹھیں اوربتائیں کہ کیا سب کچھ سندھ میں ہی ہورہا ہے، کیا خیبرپختونخوا، بلوچستان اورپنجاب میں کرپشن ختم ہوگئی ہے لیکن ایک صوبے کو ٹارگٹ کرکے تباہ کیا جا رہا ہے۔

پیپلز پارٹی کے رہنما کا کہنا تھا کہ وزیراعظم بتائیں کہ ہمارے لوگوں میں کیا خرابی ہے۔ بھارت اس لئے طاقتور ہے کہ سیاسی جماعتیں ایسے کام نہیں کرتیں،مسلم لیگ (ن) کوسمجھنا چاہیے کہ سیاسی جماعتیں ہی ان کی دست وبازوں ہیں۔ قاسم ضیاء کوہتھکڑی لگانےپرشرم آنی چاہیے، ڈاکٹر عاصم سے پہلے تفتیش کی جانی چاہیے جو کہ مہذب معاشرے والا سلوک ہوتا ہے۔ یہ پکڑدھکڑ ختم کی جائے اگر آصف زرداری پر براہ راست ہاتھ ڈالا گیا تو جنگ کی ابتدا ہو گی۔

خورشید شاہ کہنا تھا کہ الیکشن کمیشن کےارکان میں غیرت ہےتوانہیں گھرچلےجانا چاہیے، اس معاملے پر پی ٹی آئی کے دھرنے میں شامل نہیں ہوں گے تاہم الیکشن کمیشن ممبران کے معاملے پرآصف زرداری سے مشاورت کے بعد پالیسی کا اعلان کریں گے، تمام تر مشکلات کے باوجود ہم پارلیمنٹ کو کمزور نہیں ہونے دیں گے، جبر کا سامنا پارلیمنٹ کے اند رہ کر کریں گے۔