Articles by "سائنس"
‏سائنس لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
سب جانتے ہیں کہ برف سارے کرہ ارض پر نہیں گرتی کیونکہ قدرت نے کچھ ملکوں کے درجہ حرات کا خیال رکھا ہوا ہے یہی وجہ ہے کہ ہماری زمین پر بسنے والی آدھی آبادی اپنی زندگی میں برف نہیں دیکھ پاتی۔

وہ یا تو تصویروں میں برف دیکھتی ہے یا فلموں میں یا خاص طور دیکھنے کے لیے ان ملکوں یا مقامات پر جاتی ہے جہاں برف پڑتی ہے۔

برف کی شکل بھی قدرت کا ایک اچنبھا ہے۔

دنیا بھر میں پڑنے والی برف کی ایک بھی گالا دوسرے گالا سے مماثل نہیں ہوتا۔

برف کے گالے کا وزن ایک ملی گرام ہوتا ہے، بہت بڑے گالے کا ڈھائی ملی گرام۔ مگر یہ اربوں برف کے گالے جن میں سے ہر ایک عملی طور پر بے وزن ہوتا ہے تاحتٰی زمین کی گردش کی رفتار پر اثر انداز ہو سکتے ہیں۔


عام طور پر موسم سرما میں شمالی نصف کرہ ارض کی زمین 13500 ارب ٹن برف سے ڈھک جاتی ہے۔ سفید چمکدار برف زمین کو سورج کی تپش سے محروم کرنے کے قابل ہوتی ہے کیونکہ وہ سورج کی تقریبا" نوے فیصد حدت کو خلا میں لوٹا دیتی ہے۔

برف سفید کیوں ہوتی ہے؟ وجہ یہ ہے کہ برف کے گالے بھاپ سے بنتے ہیں۔ ان میں 95% ہوا ہوتی ہے ، عین ممکن ہے کہ روشنی کی کرنیں ان کے کناروں سے منعکس ہو کر چمکتی ہو۔ مگر برف ہمیشہ سفید نہیں ہوتی۔

©تاریخ میں ایسے بھی واقعات ہوئے کہ کسی اور رنگ کی برف پڑی۔ مثال کے طور پر 1969 میں سوئٹزرلینڈ میں گرنے والی برف سیاہ رنگ کی تھی اور وہ بھی کرسمس کے روز۔ 1955 میں کیلیفورنیا میں گرنے والی برف کا رنگ سبز تھا۔

انٹارکٹک اور بلند پہاڑوں پر گلابی، بنفشی، سرخ اور زرد رنگ کی برف بھی دیکھنے کو ملتی ہے۔ ایسا برف میں پلنے والے جرثوموں کی وجہ سے ہوتا ہے جو "کلیمیڈوموناس نیوالیس" کہلاتے ہیں۔

جب برف کے گالے پانی میں گرتے ہیں تو ایک بہت ہی مہین آواز پیدا کرتے ہیں جو انسانوں کو سنائی نہیں دیتی مگر سائنسدانوں کے مطابق یہ اواز مچھلیوں کو بالکل اچھی نہیں لگتی۔
کوالا لمپور: ڈینگی مچھر سے پاکستان سمیت دنیا کے کئی ممالک متاثر ہور رہے ہیں اور یہ چھوٹا مگر انتہائی خطرنام مچھر اب تک ہزاروں افراد کا شکار کرچکا ہے جس سے بچنے کے لیے کئی علاج تیار کرنے کی کوشش کی جارہی ہے لیکن ملائیشیا میں تو ڈینگی مچھر ہی کو شکار کرنے کا طریقہ دریافت کرلیا گیا ہے اور ایسے لیمپ تیا ر کیے گئے ہیں جن کی روشنی ڈینگی مچھر کواپنی جانب کھیینچی گی اور وہ شکار ہوجائے گا۔

ملایئشیا کی ملایا یونیورسٹی کے تحقیق کاروں نے ایک ایسا اسٹریٹ لیمپ تیار کر لیا ہے جو شمسی توانائی اور ہوا سے روشن کیا جا سکے گا اور گلیوں میں مچھروں کو اپنی جانب کشش کر کے اپنا شکار بنا لے گا جس سے اس بیماری پر قابو پانے اور پھیلنے سے روکنے میں مدد ملے گی۔ اس اسٹریٹ لیمپ میں ایکو گرینرجی آؤٹ ڈور لائیٹنگ سسٹم لگا ہوا ہے اور ایل ای ڈی اسٹریٹ لیمپ کہلاتا ہے جس سے کم مقدار کی کاربن ڈائی آکسائیڈ خارج ہوتی جو مچھر کو اپنی جانب کھینچتی ہے۔ تحقیق کے بانی کا کہنا ہے کہ اس لیمپ سے خارج ہونے والی بو کاربن ڈائی آکسائیڈ اس میں لگی الٹرا وائیلٹ یعنی بنفشی شعاعوں اور ٹیٹینیم ڈائی آکسائیڈ کے ملاپ سے خارج ہوتی ہے اور مچھر اس کی بو سے بچ نہیں پاتا جب کہ کاربن کی مقدار اتنی کم ہوتی ہے کہ اس سے ماحول بھی متاثر نہیں ہوتا۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ سسٹم ڈینگی مچھر کی سونگھنے کی حس کی بے حد صلاحیت کو سامنے رکھ کر بنایا گیا ہے کیوں کہ اس سے خارج ہونے والی بو انسانی بو جیسی ہے اسی لیے مچھر تیزی سے اس جانب کھچا چلا آتا ہے اور اس میں لگی کھڑکی کے ذریعے اس شکاری لیمپ میں داخل ہوجاتا ہے جس میں لگا ہوا پنکھا اسے نیچے کی جانب کھینچ لیتا ہے جہاں سے وہ دوبارہ پرواز نہیں کرپاتا اور شکار ہوجاتا ہے۔

محققین کا کہنا ہے کہ ڈینگی کی بیماری میں گزشتہ 50 سالوں میں 30 گنا اضافہ ہوا ہے اور صرف ایشیا میں اس بیماری سے اب تک ایک ارب 80 لاکھ لوگ متاثر ہوچکے ہیں اور اس نئی ایجاد سے ہزاروں زندگیوں کو بچایا جا سکے گا۔

نیویارک: ہر گزرنے والا دن مریخ پر ایلین کی زندگی کے بارے میں کوئی نہ کوئی ثبوت سامنے لا رہا ہے اورسائنس دان اب سنجیدگی سے اس بارے میں حکمت عملی تشکیل دے رہے ہیں کہ ایلین سے کیسے نمٹا جائے جب کہ اسی دوران اب ایک اور فوٹو میں انکشاف ہوا ہے کہ ایک بڑا چوہا مریخ کی سرزمین پر سیر و تفریح کے مزے لے رہا ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق مریخ سے موصول ہونے والی تصاویر کو دیکھ کر سائنسدان اس وقت حیران ہوگئے جب ایک بڑا چوہا انہیں مریخ کی سرزمین پر بیٹھا نظر آیا اور اس کے انداز سے لگ رہا ہے کہ یہ چوہا زندہ ہے اور اپنے کھانے کی تلاش میں مصروف ہے۔ آرٹ ایلین ٹی وی کے اسکرین پر نظرآنے والے مناظر نے دیکھنے والوں کو حیرت اور تجسس میں ڈال دیا۔ سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ ہو سکتا ہے یہ نظر کا دھوکہ ہو لیکن اس چوہے کے بڑے کان، آنکھیں اور ناک اس کی نفی کر رہے ہیں اور اس حقیقت کو تقویت دے رہے ہیں کہ یہ کوئی زندہ چوہا یا اس سے ملتا جلتا کوئی زندہ جانور ہے۔

فلکیات میں دلچسپی رکھنے والوں کاکہنا ہے کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ مریخ پر کئی ایسی چٹانیں ہیں جن کی شکلیں ہماری روزمرہ کی اشیا سے ملتی جلتی ہیں لیکن تصویرمیں واضح طور پر چوہا نظرآرہا ہے اور صاف محسوس ہورہا ہے کہ وہ اپنے کھانے کی تلاش میں سرگرداں ہے۔ ماہرین فلکیات کا کہنا ہے کہ کچھ روز قبل ناسا کی براہ راست فیڈ پر اچانک ایلین کا نظرآنا اور جرمنی میں یو ایف او کا گرنا اس بات کی جانب اشارہ کر رہے ہیں کہ کوئی خلائی مخلوق زمین کی طرف بڑھ رہی ہے۔

واشنگٹن: ناسا نے خبردار کیا ہے کہ دنیا بھر میں سمندر کی سطح میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے اور آئندہ 100 یا 200 برسوں میں سمندروں کی سطح میں ایک میٹر یا اس سے بھی زائد اضافہ ہوسکتا ہے۔

ناسا کی سیٹلائٹس سے حاصل ہونے والی تازہ معلومات کے مطابق گرین لینڈ اورانٹارکٹیکا پر برف کے تودے اب تک کی سب سے زیادہ رفتار سے پگھل رہے ہیں جب کہ گزشتہ برسوں کے مقابلے میں سمندروں کے درجہ حرارت اور ان کے پھیلاؤ میں بھی بہت تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق سمندروں کی سطح میں اضافے کےانتہائی گہرے اثرات مرتب ہوں گے کیوں کہ ڈیڑھ ارب سے زائد افراد سمندروں کی موجودہ سطح سے ایک میٹر یا اس سے بھی کم سطح پر رہتے ہیں جن میں زیادہ تر ایشیا میں ہیں۔

ناسا کے ماہرین کا کہنا ہے کہ درجہ حرارت میں اضافے کی موجودہ سطح سے سمندروں کی سطح 3 فٹ تک بلند ہوسکتی ہے اور ممکنہ طو ر پر یہ صورتحال مزید خراب ہوسکتی ہے۔ سمندورں کی سطح میں اضافے کی وجہ ماحولیاتی آلودگی اور موسمیاتی تبدیلیوں کو قرار دیا گیا ہے اس کے علاوہ جنگلات کا رقبہ تیزی سے کم ہو رہا ہے اور ساتھ ہی کرہ ہوائی میں موجود گیسوں کا لاکھوں صدیوں سے قائم توازن بھی خطرےسے دو چار ہے،یہی نہیں بلکہ بگڑتے ہوئے عالمی حالات میں ایٹمی،کیمیائی و حیاتیاتی ہتھیاروں کا استعمال کسی بھی سانحہ کا سبب بن سکتے ہیں۔



واضح رہے کہ اس سے قبل اقوام متحدہ اور دیگر سائنسی تحقیقاتی ادارے بھی سمندروں کی سطح میں اضافے اور ان کے خطرات سے آگاہ کرچکے ہیں۔
آسٹریلیا کے دارالحکومت کینبرا کے قریب سے ملنے والی ایک مینڈھے کی اون اتارنے کے لیے اون تراشی کے قومی چیمپیئن کی خدمات حاصل کی جا رہی ہیں۔

جانوروں کی فلاح و بہبود کے لیے کام کرنے والے ادارے کے حکام نے خبردار کیا ہے کہ میرینو بھیڑ کی زندگی کو اس کے جسم کے حد سے زیادہ اُونی ہونے کی وجہ سے خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔

قومی چیمپییئن ایئن ایلکنز بھیڑ کے جسم پر موجود کئی کلو وزنی اُون تراشیں گے جو کہ کئی برس کی مدت میں جمع ہو چکی ہے۔

خیال رہے کہ اگر بھیڑ یا مینڈھے کے بالوں کی متواتر تراش خراش نہ کی جائے تو اس کی صحت کو خطرناک قسم کے مسائل کا سامنا ہو جاتا ہے۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق جانوروں کے حقوق کے لیے قائم ادارے آر ایس پی سی اے کی سربراہ وین ڈینگ کہتی ہیں کہ اس مینڈھے کی جسامت ایک عام مینڈھے سے پانچ گنا زیادہ ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ کئی سال تنہائی میں گزارنے کے بعد اب یہ مینڈھا انسانوں درمیان آ کر دباؤ کا شکار دکھائی دے رہا ہے۔

آر ایس پی سی اے کے حکام کا کہنا ہے کہ ابتدائی طور پر انھوں نے خود مینڈھے کی اون تراشنے کی کوشش کی تاہم بعد میں انھوں نے کسی ماہر اون تراش کا انتظار کرنے کا فیصلہ کیا۔

ایلکن چار بار ملک میں بھیڑوں کی اون کی تراش کا مقابلہ جیتنے کا اعزاز حاصل کر چکے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ اس مینڈھے کے جسم پر موجود اُون تراشنا ان کے لیے اب تک کا سب سے بڑا چیلنج ہو سکتا ہے۔

سنہ 2004 میں بھی نیوزی لینڈ میں شرک نامی بھیڑ چھ سال کی گمشدگی کے بعد ملی تھی۔ شرک کی تراش خراش کو ٹی وی پر براہ راست دکھایا گیا تھا جس کے بعد معلوم ہوا تھا کہ ان کا 27 کلو وزن کم ہوگیا تھا۔ اس بھیڑ کا انتقال سنہ 2011 میں ہوا تھا۔
ہوا سے ڈیزل کی تیاری کسی سائنس فکشن فلم کا حصہ معلوم ہوتی ہے لیکن جرمنی اور کینیڈا میں کئی چھوٹی کمپنیاں یہ کام کر رہی ہیں۔

یہ کمپنیاں فضا میں موجود کاربن ڈائی آکسائیڈ کشید کر کے اسے فروخت کرنے کے طریقے تلاش کر رہی ہیں۔

جرمن کمپنی سن فائر نے رواں برس اپریل میں اس ’ای ڈیزل‘ کی پہلی کھیپ تیار کی ہے جبکہ کینیڈا کی کمپنی کاربن انجینیئرنگ نے ایسا کارخانہ لگایا ہے جو روزانہ فضا سے ایک سے دو ٹن کاربن ڈائی آکسائیڈ کھینچ کر اسے 500 لیٹر ڈیزل میں تبدیل کر دیتا ہے۔

اس عمل کے لیے بجلی درکار ہے لیکن اگر یہ کمپنیاں دوبارہ قابلِ استعمال بجلی کا استعمال کریں تو وہ ایسا ڈیزل بنا سکتی ہیں جو ’ کاربن نیوٹرل‘ ہو گا۔

دیگر الفاظ میں اس ڈیزل کے استعمال سے آپ ماحول میں صرف وہی کاربن ڈائی آکسائیڈ ہی خارج کریں گے جو اس ماحول سے ڈیزل کی تیاری کے لیے حاصل کی گئی تھی۔

اس کے برعکس فوسل فیول جلانے سے آپ ماحول میں موجود کاربن ڈائی آکسائیڈ گیس میں اضافے کا باعث بنتے ہیں۔

ماحول کو لاحق خطرات کی وجہ سے کاربن ڈائی آکسائیڈ اور دیگر گرین ہاؤس گیسوں میں کمی کا معاملہ انتہائی اہمیت اختیار کر چکا ہے۔

2013 - 2012 میں ہوا میں کاربن ڈائی آکسائیڈ کی شرح 400 پارٹس فی دس لاکھ تک پہنچ گئی تھی جو کہ ایک ریکارڈ ہے۔ یہی نہیں بلکہ امریکی ماہرین نے جولائی 2014 سے جون 2015 کا درمیانی عرصہ زمین پر گرم ترین 12 ماہ قرار دیے ہیں۔

کاربن ڈائی آکسائیڈ سے ایندھن کی تیاری کی کیمیا مشکل نہیں۔ پانی کو الیکٹرولسس کے عمل سے گزار کر ہائیڈروجن اور آکسیجن کو الگ کریں اور ہائیڈروجن کو کاربن ڈائی آکسائیڈ میں ملا کر کاربن مونو آکسائیڈ اور پانی بنائیں اور پھر ہائیڈرون کاربن کی زنجیر کی تیاری کے لیے مزید ہائیڈروجن شامل کریں۔

اس آخری عمل کو فشر ٹروپش عمل کہا جاتا ہے اور یہ 1920 کی دہائی سے زیرِ استعمال ہے، لیکن یہ ہوا سے براہِ راست کاربن ڈائی آکسائیڈ حاصل کرنے کی ٹیکنالوجی نئی چیز ہے جو اب اتنی ارزاں بھی ہے کہ اس کا عام استعمال ممکن ہو سکے۔

کاربن انجینیئرنگ کے چیف ایگزیکیٹو ایڈریئن کورلس کے مطابق سب سے بڑا مسئلہ بہت زیادہ درجۂ حرارت والی بھٹیوں کا ہے۔ انھوں نے بتایا کہ ’انھیں معیاری بنانے کے لیے اب بھی ایک ماہ کی شدید محنت درکار ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ان کی کمپنی کا سب سے بڑا کارنامہ ہوا سے حاصل شدہ کاربن ڈائی آکسائیڈ کو کیلشیئم کاربونیٹ کے ٹھوس گولوں میں جمع کرنا ہے جنھیں باآسانی دھویا اور خشک کیا جا سکتا ہے۔

پھر ان گولوں کو آٹھ سے نو سو سنٹی گریڈ درجۂ حرارت پر گرم کیا جاتا ہے جہاں وہ خالص کاربن ڈائی آکسائیڈ دھویں کی شکل میں خارج کرتے ہیں۔

ایندھن کے علاوہ ہوا سے حاصل شدہ کاربن ڈائی آکسائیڈ دیگر صنعتوں کو بھی فروخت کی جا سکتی ہے۔

سوئس کمپنی کلائم ورکس اپنے کارخانے میں ہوا سے حاصل کردہ کاربن ڈائی آکسائیڈ کو قریبی گرین ہاؤس کو فروخت کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔

اس کے علاوہ کلائم ورکس کے طویل المدتی منصوبوں میں اس گیس کی افریقہ، جاپان اور دیگر دوردراز جزائر پر مشروبات بنانے والی کمپنیوں کو فروخت بھی شامل ہے۔

کمپنی کے چیف آپریٹنگ افسر ڈومینیک کروننبرگ کا کہنا ہے کہ اس وقت ان علاقوں میں کاربن ڈائی آکسائیڈ کو مائع شکل میں لانے اور استعمال کے اخراجات عام جگہوں سے دس گنا زیادہ ہیں۔

فوسل فیول استعمال کرنے والے کارخانوں کی چمنیوں سے کاربن ڈائی آکسائیڈ کا حصول ہوا سے اس گیس کے حصول سے کہیں آسان ہے کیونکہ ان گیس اور کوئلے سے چلنے والے کارخانوں سے خارج ہونے والے دھویں میں بالترتیب تین اور 15 فیصد کاربن ڈائی آکسائیڈ ہوتی ہے۔

ہوا میں اس کے برعکس کاربن ڈائی آکسائیڈ کی مقدار دس لاکھ میں سے چار سو پارٹس کے برابر ہے۔

تاہم ڈومینیک کروننبرگ کے مطابق ’ہمیں کسی بوائلر یا کوئلہ جلانے والے بھٹی کی چمنی سے حاصل شدہ گیسوں کو صاف نہیں کرنا پڑتا۔ ان میں بہت زیادہ گندھک اور دیگر مالیکیول ہوتے ہیں جنھیں صاف کرنا مشکل ہو سکتا ہے۔‘

ہوا سے گیس کے حصول کا ایک فائدہ یہ بھی ہے کہ اس طریقے سے کاربن ڈائی آکسائیڈ کشید کرنا آسان ہے۔

لیکن سوال یہ ہے کہ ہوا سے تیار کیا گیا ڈیزل قیمت کے معاملے میں دیگر فوسل ایندھنوں کا مقابلہ کر سکتا ہے؟

سن فائر کے اندازوں کے مطابق ای ڈیزل کی فی لیٹر قیمت ایک سے ڈیڑھ یورو ہو سکتی ہے جو اس وقت برطانیہ میں ڈیزل کی فی لیٹر قیمت سے کم ہی ہے۔

تاہم اس معاملے میں بہت کچھ حکومتی پالیسی پر منحصر ہے۔ ایندھن کی اصل قیمت پمپ پر ادا کی جانے والی قیمت سے 30 فیصد تک کم ہو سکتی ہے اور باقی رقم فیول ڈیوٹی، ویلیو ایڈڈ ٹیکس اور پمپ مالک کے منافع کی مد میں جاتی ہے۔

ڈومینیک کروننبرگ پرامید ہیں کہ وہ جو ماحول دوست ایندھن تیار کریں گے انھیں ٹیکسوں کی مد میں چھوٹ ملے گی۔ برطانیہ اور امریکہ میں حکومتیں پہلے ہی گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں کمی کے لیے ماحول دوست ایندھن کے استعمال کی حوصلہ افزائی کرتی ہیں۔

تاہم دراصل یہ بجلی کے اخراجات ہیں جو ای ڈیزل کی تجارتی بنیادوں پر فروخت کو ممکن یا ناممکن بنا سکتے ہیں کیونکہ اس عمل میں بہت زیادہ توانائی درکار ہوتی ہے۔

امپیریل کالج لندن میں صاف توانائی پر کام کرنے والے ڈاکٹر پال فینل کا کہنا ہے کہ ’آپ بجلی لے کر اسے اپنی گاڑی کے لیے ایندھن میں تبدیل کرتے ہیں تو اس کی افادیت 13 فیصد ہوتی ہے اور اگر آپ اس کا موازانہ بجلی کی مدد سے کسی الیکٹرک کار کی چارجنگ سے کریں تو وہاں افادتر 80 فیصد کے لگ بھگ ہے۔‘

تاہم کاربن انجینیئرنگ کے چیف ایگزیکیٹو ایڈریئن کورلس کے مطابق ’گذشتہ دو سے تین برس میں دوبارہ قابلِ استعمال بجلی خصوصاً شمسی توانائی کی لاگت میں ڈرامائی طور پر کمی آئی ہے۔‘

ای ڈیزل کے استعمال کے حق میں ایک دلیل یہ بھی ہے کہ اس وقت دنیا میں کروڑوں گاڑیاں ڈیزل استعمال کر رہی ہیں اور ان میں ای ڈیزل کا استعمال ماحول کو صاف کرنے میں کلیدی کردار ادا کر سکتا ہے۔

کلائم ورکس اور کاربن انجینیئرنگ کے مطابق ان کی ٹیکنالوجی بڑے منصوبوں کے لیے بھی قابلِ عمل ہے۔ امریکی بحریہ کی تحقیقاتی لیبارٹری پہلے ہی کہہ چکی ہے کہ وہ اپنے بحری جہازوں میں ای ڈیزل کے استعمال میں دلچسپی رکھتی ہے۔

اس لیے کوئی بعید نہیں کہ آپ کی کار اندازوں سے کہیں پہلے ایسے ایندھن پر چل رہی ہو جو ہوا سے تیار کیا گیا ہو۔
لندن: آئس کریم ہر خطے کا من پسند کھاجا ہیں ۔ اپنے رنگ ، ذائقے اور جدت کی بنا پر ہر خاص و عام آئس کریم کا گرویدہ ہے لیکن ان میں ایک خرابی یہ ہے کہ آئس کریم جلد پگھل جاتی ہے اسی وجہ سے اسے دور لے جانا اور دیر تک کر کھانا مشکل ہوجاتا ہے اور پگھل جانے کے بعد آئس کریم کا ذائقہ بھی متاثر ہوتا ہے۔

برطانیہ میں یونیورسٹی آف ڈنڈی اور یونیورسٹی آف ایڈنبرا کے ماہرین نے ایک ایسی قدرتی پروٹین دریافت کرنے کا دعویٰ کیا ہے جسے شامل کرنے سے ناصرف آئس کریم زیادہ دیر سے پگھلتی ہے بلکہ اس سے آئس کریم زیادہ ہموار اور ملائم بنتی ہے۔ اس قدرتی پروٹین کی مدد سے کم کیلوریز اور چکنائی والی چیزیں بھی تیار کی جا سکتی ہیں۔

ایڈنبیرا یونیورسٹی کے ماہر کائٹ مک فی کہتے ہیں کہ اس نئے عمل کے ذریعے کمپنیوں اور صارفین دونوں کے لیے آئس کریم کو بہتر بنانے کا امکان موجود ہے جس کے لیے بہت ذیادہ ٹھنڈک کی ضرورت بھی نہیں رہے گی۔ ڈنڈی یونیورسٹی میں مالیکیولر مائیکروبیالوجسٹ ڈاکٹر نکولا اسٹینلے وال کہتے ہیں کہ پہلے پہل یہ پروٹین ایک بیکٹیریا میں شاخت کیا گیا تھا جسے بی ایس آئی اے کا نام دیا گیا ہے۔ اسے آئس کریم میں شامل کرنے سے کون پر رکھی آپ کی پسندیدہ آئس کریم جلد ہی پھسل کر نہیں گرے گی اور آپ دیر تک اس کا لطف اٹھاسکیں گے۔
نیویارک: مریخ پر ایلین کے وجود کے بارے میں سائنس دانوں کو یقین ہوچلا ہے جس سے وہاں زندگی کے آثار کے بھی شواہد سامنے آئے ہیں جس کے بعد خلا بازوں کی ایک ٹیم تیارکر لی گئی ہے اور اب اس ٹیم کو مریخ کے ماحول کے مطابق تیار کرنے کے لیے دنیا سے الگ تھلک تیاری کرائی جارہی ہے جو سال بھر جاری رہے گی۔

ناسا کے مطابق ان خلا بازوں کی تیاری کے لیے ہوائی میں ایک مردہ آتش فشاں کے قریب مقبرہ انداز کا ہال بنایا گیا جسے اس اندز میں تعمیر کیا گیا ہے کہ اس کا ماحول اور آب و ہوا مریخ کی طرز کے مطابق رہے ، اس تیاری کے دوران مریخ پر جانے والی ٹیم کے خلا باز ایک سال تک دنیا سے الگ تھلگ رہیں گے جب کہ اس مشن پر سفر ایک سے 3 سال کے درمیان متوقع ہے۔

خلا بازوں کی یہ ٹیم 6 افراد پر مشتمل ہے جس میں 3 خواتین بھی موجود ہیں جو اس مقبرے نما ہال میں بغیر تازہ ہوا اور تازہ کھانے کے رہیں گے اور اس دوران وہ تنہائی میں زندگی گزاریں گے جب کہ اس سے باہر جانے کے لیے انہیں خلائی لباس زیب تن کرنا ہوگا۔

اس ٹیم میں ایک فرانسیسی خلائی سائنس دان، جرمن ماہرطبیعات اور 4 امریکی افراد شامل ہیں جنہیں سونے کے لیے چھوٹی سی چارپائی اور ایک میز دیا گیا ہے جب کہ کھانے کے لیے چیز کا پاؤْدر اور کینڈ ٹونا دیا گیا ہے۔

اس سے قبل ناسا اس طرح کے 4 ماہ اور 8 ماہ کے تجربات کرچکی ہے جب کہ اس تیاری کے دوران یہ خلاباز 6 ماہ انٹرنیشنل خلائی اسٹیشن پر گزاریں گے۔ سائسن دان اس طرح دنیا سے الگ تھلگ تنگ جگہ پر رہنے سے انسان کی صحت پر ہونے والے اثرات کا بھی جائزہ لے رہے ہیں۔