Articles by "ایڈیٹر کا انتخاب"
‏ایڈیٹر کا انتخاب لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

شام سے یونان جانے کی کوشش میں ڈوب کر مر جانے والے ایلان کردی نامی بچے اور ان کے اہل خانہ کی تدفین شام کے شہر کوبانی میں کر دی گئی ہے۔

ترکی کے ساحل پر اوندھے منہ پڑے ایلان کردی کی تصویر نے دنیا کو جھنجھوڑ کے رکھ دیا ہے۔

ترکی کے بودرم جزیرہ نما سے یونان کے جزیرے کوس جانے کی کوشش میں ایلان، اس کا پانچ سالہ بھائی گالپ اور والدہ ریحان کشتی ڈوب جانے کے باعث ہلاک ہو گئے تھے۔

ان کی لاشیں ترکی سے کردوں کے زیرِ قبضہ شامی شہر کوبانی لائی گئیں۔

حکام کا کہنا ہے کہ ایلان کے والد تین لاشوں سمیت ترکی کے سرحدی شہر سے کوبانی میں داخل ہوئے۔

ایلان کردی کے والد عبداللہ کردی نے بی بی سی کو بتایا کہ کشتی کے سمندر میں جانے کے کچھ منٹ بعد اونچی لہریں اس سے ٹکرانے لگیں اور اسی دوران کپتان چھلانگ لگا کر کشتی سے اتر گیا۔

’میں نے اپنے بچوں اور بیوی کو پکڑنے کی کوشش کی لیکن کچھ نہیں ہو سکتا تھا۔ وہ ایک کے بعد ایک جان دیتے گئے۔‘

’میں نے کشتی چلانے کی کوشش کی لیکن ایک اور اونچی لہر نے اسے الٹا دیا۔ یہ وہ وقت تھا جب یہ سب کچھ ہوا۔‘

اطلاعات کے مطابق عبداللہ نے سفر سے پہلے کینیڈا میں پناہ کی درخواست جمع کروائی تھی لیکن ان کی درخواست مسترد کر دی گئی تھی۔

عبداللہ کی بہن تیما کردی نے، جو کینیڈا کے شہر وینکوور میں رہتی ہیں، کینیڈا کے اخبار نیشنل پوسٹ کو بتایا کہ وہ مشرقِ وسطیٰ سے نکلنے میں ان کی مدد کر رہی تھیں۔

’میں انھیں سپانسر کرنے کی کوشش کر رہی تھی لیکن ہم انھیں وہاں سے نکالنے میں کامیاب نہیں ہوئے اور اسی وجہ سے وہ کشتی میں گئے۔‘

اطلاعات کے مطابق عبداللہ کو دولتِ اسلامیہ یا کسی اور جہادی تنظیم نے کوبانی کے محاصرے کے دوران اغوا کر کے تشدد کا نشانہ بنایا تھا۔

کردی خاندان کے پاس اس لیے بھی کوئی اور راستے نہیں بچا تھا کیونکہ ترکی سے نکلنے کے لیے شامی کرد پناہ گزینوں کو پاسپورٹ درکار ہوتا ہے جو بہت کم لوگوں کے پاس ہوتا ہے۔

لندن: ترکی کے ساحل پر شام سے تعلق رکھنے والے ننھے تارک وطن کی لاش کی تصویر نے دنیا بھر کو دہلا کر رکھ دیا ہے۔

شام سے تعلق رکھنے والے عبداللہ کُردی کے دل میں بھی اپنے ہزاروں ہم وطنوں کی طرح گھر والوں کے لئے داعش کے خوف سے آزاد فضا کی خواہش تھی، اس کے لئے اس نے بھی اپنی آبائی زمین چھوڑ کر پہلا پڑاؤ ترکی میں ڈالا، جہاں اس نے کینیڈا میں پناہ کے حصول کے لئے درخواست دی لیکن اسے مسترد کردیا گیا۔

کینیڈین سفارت خانے کی جانب سے درخواست مسترد کئے جانے کے بعد اس نے ترکی کے راستے یورپ جانے کا فیصلہ کیا لیکن اسے کیا پتہ تھا کہ جس خاندان کے لئے وہ تمام تر صعوبتیں برداشت کرنے کو تیار تھا، وہی اس سفر کے دوران جان کی بازی ہار جائیں گے۔

عبداللہ کردی نے اپنی بیوی ریحان، 5 سالہ بیٹے گالپ اور 3 سالہ ایلان کے ہمراہ ترکی سے یورپ جانے کے لئے کشتی کا سفر شروع کیا۔ ابھی ان کی کشتی یونان کے جزیرے کوس کے قریب ہی پہنچی تھی کہ الٹ گئی، حادثے میں عبداللہ تو بچ گیا لیکن اس کی بیوی ریحان، 5 سالہ بیٹا گالپ اور 3 سالہ ایلان جاں بحق ہوگئے۔

ریحان اور گالپ کی لاشیں تو یونانی حکام نے نکال لیں لیکن ایلان کی لاش بہتے ہوئے ترکی کے ساحل بودرم پر جاپہنچی، ساحل سمندر پر موجود اس کی لاش کی تصویر نے شام اور عراق میں ناصرف مسلم دنیا بلکہ عالمی طاقتوں کے مکروہ کھیل کو بھی واضح کردیا ہے۔

دنیا بھر میں 3 سالہ ایلان کی تصویر نے لوگوں کے دل دہلا دیئے ہیں اور اس سے عراق، شام اور لیبیا سے یورپی ممالک کا رخ کرنے والے پناہ گزینوں کے مسئلے پر ایک نئی بحث چھڑ گئی ہے کہ اس تنازعے کا ذمہ دار کون ہے اور اس سے کس طرح نمٹا جائے۔ تمام ترمصائب سہنے کے بعد اب عبداللہ کی ایک ہی خواہش ہے کہ وہ اپنے بیوی بچوں کو اس کی آبائی سرزمین میں سپرد خاک کرے۔
لندن: پاکستان تحریک انصاف کے چیرمین عمران خان کی اہلیہ ریحام کے کزن نے الزام عائد کیا ہے کہ ریحام کے خلاف چلائی جانے والی مہم میں جمائمہ کا ہاتھ ہے۔

ریحام خان کے ایک کزن نے برطانوی نشریاتی ادارے ڈیلی میل کو اپنے انٹر ویو میں کہا ہے کہ ریحام کے حوالے سے جو منفی خبریں چل رہی ہیں ان کے پیچھے عمران خان کی سابق اہلیہ جمائمہ کا ہاتھ ہے، ہمیں اچھی طرح پتہ ہے کہ جمائمہ کیا کر رہی ہے۔

ریحام کے کزن کا مزید کہنا تھا کہ جمائمہ کو عمران اور ریحام خان کی شادی کی جلن ہے اس لئے وہ نہیں چاہتی کہ ان دونوں کی جوڑی کامیاب ہو۔

عمران اور جمائمہ کے درمیان شادی کے 9 سال بعد 2004 میں طلاق ہو گئی تھی لیکن اس کے باوجود دونوں کے درمیان دوستانہ تعلقات قائم ہیں۔

دوسری جانب جمائمہ گولڈ اسمتھ کی ترجمان نے ان الزامات کی سختی سے تردید کرتے ہوئے کہا کہ جمائمہ نے اپنے سابق شوہر کی ہمیشہ حمایت کی ہے اور جب عمران اور ریحام کی شادی ہوئی تو اس پر دونوں کو مبارکباد بھی دی تھی۔

ریحام کے کزن کا مزید کہنا تھا کہ عمران خان اور ریحام خوشگوار ازدواجی زندگی گزار رہے ہیں اور ریحام اپنے خلاف چلائی جانے والی مہم کے حوالے سے ایک انٹر ویو میں خود سب کچھ بیان کریں گی۔
غزہ: اقوامِ متحدہ کی ایک رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ اگرموجودہ صورتِ حال جاری رہی تو 2020 تک غزہ کا علاقہ رہائش کے قابل نہیں رہے گا۔

اقوامِ متحدہ کے تحت تجارت اور ترقی کی کانفرنس میں کہا گیا ہے کہ گزشتہ 6 برسوں میں غزہ پر 3 جنگیں مسلط کی گئیں اور 8 سال سے معاشی اور امدادی پابندیوں سے غزہ کا علاقہ شدید متاثر ہوا ہے۔ یہ تباہی انسانوں کی وجہ سے ہوئی اور ان کو دور کرنے کے لیے بھی انسانوں کی تیار کردہ پالیسیوں کی ضرورت ہے۔

کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے فلسطینی مرکز برائے انسانی حقوق کے نائب صدر حمدی شکورا نے بتایا کہ گزشتہ سال ایک ماہ سے زائد رہنے والی اسرائیلی جنگ اور حملوں سے 5 لاکھ لوگ اب بھی بے گھر ہیں اور غزہ کے علاقے تباہی کا منظر پیش کررہے ہیں کیونکہ اس کا بہت سا حصہ برباد ہوکر کھنڈر کا منظر پیش کررہا ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ غزہ میں متوسط طبقے کے پاس جو کچھ بچا تھا وہ مکمل طور پر تباہ ہوچکا ہے اور پوری آبادی کا انحصار غیرملکی امداد پر رہ گیا ہے۔ غزہ کی مجموعی قومی آمدنی 15 فیصد رہ گئی ہے اور بیروزگاری کی شرح 44 فیصد تک جاپہنچی ہے اور 72 فیصد گھرانے غذائی قلت کے شکار ہیں۔

جنگ کی وجہ سے غزہ اپنی مصنوعات باہر نہیں بھیج سکتا اور گھر بنانے کے لیے سیمنٹ اور اینٹیں تک دستیاب نہیں اور یوں غزہ ترقی کے بجائے پستی کی طرف جارہا ہے یعنی اس کی بحالی کا پہیہ الٹا گھوم رہا ہے۔ 2007 میں حماس کی جانب سے غزہ میں حکومت بنانے کے بعد مصر اور اسرائیل کی جانب سے غزہ شدید پابندیوں اور معاشی ناکہ بندی کا شکار ہے۔

شکورا کے مطابق بین الاقوامی برادی کی جانب سے مدد ’بہت مفید‘ ہے لیکن ان کا ’اصل سیاسی پالیسیوں‘ کے ساتھ عمل کرایا جائے تو غزہ کے لوگوں کی بہت مؤثر انداز میں مدد کی جاسکتی ہے۔ بہت ذیادہ پیسہ دینا مسئلے کا حل نہیں بلکہ ان اسرائیلی اقدامات کو ختم کرنا ضروری ہے جن کی وجہ سے غزہ کی ترقی رکی ہوئی ہے اور غزہ کو ضروری اشیا کی صرف 2 فیصد مقدار ہی فراہم کی جارہی ہے۔

واضح رہے کہ مصر سے خفیہ سرنگوں کے ذریعے غزہ کو تمام ضروری اشیا فراہم کی جاتی تھیں لیکن مصری افواج نے تمام سرنگوں کو بند کرنے کے علاوہ کئی سرنگوں میں پانی چھوڑ دیا ہے جس سے صورتحال مزید خراب ہوگئی ہے۔
اوٹاوا: ماہرین کی جدید تحقیق کے مطابق باحجاب خواتین دیگر کے مقابلے میں اپنی جسمانی شبیہہ سے زیادہ مطمئن ہوتی ہیں۔
بین الاقوامی جریدے ’’جرنل باڈی امیج‘‘ میں شائع ہونے والی تحقیق کے مطابق کینیڈا میں بسنے والے مسلم تارکین وطن کی دوسری نسل سے تعلق رکھنے والی 143 خواتین کے روز مرہ معمولات اوران کے لباس کا جائزہ لیا اور اس کے ذریعے ان کی ظاہری شبیہہ پر اطمینان اورمغربی ثقافت کی قبولیت کے درمیان تعلق سمجھنے کی کوشش کی۔ تحقیق میں یہ بات سامنے آئی کہ وہ مسلم خواتین کو روزمرہ زندگی میں حجاب لیتی تھی ان پرمغرب میں رائج خوبصورتی کے معیار کے لیے دباؤ کم تھا۔ اس کے علاوہ ایسی خواتین جنہوں نے مغربی اقدار کو زیادہ اپنایا تھا ان میں خوبصورتی کے معیار کے حوالے سے زیادہ دباؤ تھا۔

اسی طرح برطانوی ماہرین نفسیات کی ایک ٹیم نے بھی 600 مسلمان خواتین سے سوالات کئے۔ جس سے ظاہر ہوا کہ باحجاب طرز زندگی اپنانے والی خواتین اپنی جسمانی شبیہہ سے مطمئن تھیں۔ ان میں دبلے ہونے یا موٹا ہونے کا خوف کم تھا۔ تحقیق کی رو سے ماہرین نفسیات اس نتیجے پر پہنچے کہ خوبصورتی سے زیادہ اخلاقی اعتقادات اور روحانی نظریات پردھیان دینے سے انسان کو ممکنہ طورپرسطحی خدشات کو کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔