Articles by "پیپلزپارٹی"
‏پیپلزپارٹی لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

دبئی: پیپلزپارٹی نے وزیراعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ کو ہٹانے کا فیصلہ کرتے ہوئے ان کی جگہ صوبے میں نیا وزیراعلیٰ لانے کا فیصلہ کیا ہے جب کہ پارٹی قیادت نے رینجرز کے اختیارات میں توسیع کا فیصلہ بھی کیا ہے۔ 

دبئی میں پیپلزپارٹی کے چیرمین بلاول بھٹو زرداری اورشریک چیرمین آصف زرداری کی زیرصدارت پیپلزپارٹی کا اعلیٰ سطح کا اجلاس ہوا جس میں وزیراعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ، وزیر داخلہ سہیل انور سیال، وزیر خزانہ مراد علی شاہ، رحمان ملک اور مشیر قانون مرتضیٰ وہاب سمیت صوبائی حکومت کی دیگر شخصیات نے شرکت کی۔

پارٹی ترجمان فرحت اللہ بابر کا کہنا تھا کہ اجلاس میں وزیراعلیٰ سید قائم علی شاہ کو ہٹانے سمیت سندھ کابینہ میں بھی ردوبدل کا فیصلہ کیا گیا جس پر پارٹی چیرمین بلاول بھٹو سندھ کی قیادت سے ملاقاتیں کرنے کے بعد اجلاس کے فیصلوں پر عملدرآمد کریں گے۔ ترجمان نے کہا کہ اجلاس میں آزاد کشمیر کے انتخابات کے حوالے سے بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔

ذرائع کے مطابق اجلاس میں سندھ میں رینجرز کے قیام اور اختیارات کا فیصلہ بھی کرلیا گیا۔ آصف علی زرداری نے پارٹی رہنماؤں کو رینجرز کو اختیارات دینے کی ہدایت کردی جس کے بعد رینجرز سندھ میں ایک سال مزید قیام کرے گی اور رینجرز کے خصوصی اختیارات میں بھی 3 ماہ کی توسیع کردی جائے گی۔

واضح رہے کہ سید قائم علی شاہ 8 سال سے سندھ کے وزیراعلیٰ کے عہدے پر فائض ہیں جب کہ صوبے کے نئے وزیراعلیٰ کے لئے سید مراد علی شاہ سب سے زیادہ مضبوط امیدوار سمجھے جارہے ہیں جب کہ اس ڈور میں منظور وسان اور نثار کھوڑو بھی شامل ہیں۔
پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول زرداری بھٹو نے الزام لگایا ہے کہ پاکستان مسلم لیگ نواز کی پالیسیاں ’عوام دشمن‘ ہیں اور قومی ایکشن پلان کو ’سیاسی انتقام‘ کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔

اتوار کو گڑھی خدا بخش میں سابق وزیر اعظم اور اپنی والدہ بے نظیر بھٹو کی آٹھویں برسی کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ نواز شریف کی حکومت کو ’سندھ کے عوام کے معاشی قتل کی اجازت نہیں دیں گے۔‘

پاکسان سٹیل ملز اور پی آئی اے کی مجوزہ نجکاری پر تنقید کرتے ہوئے بلاول بھٹو نے کہا کہ ’نجکاری کے نام پر مزدوروں کا معاشی قتل کیا جا رہا ہے۔‘

’پوری دنیا میں تیل سستا ہونے کے باوجود اس کا فائدہ عوام کو نہیں پہنچایا جا رہا۔‘

بینظیر بھٹو کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ’بہادر باپ کی بہادر بیٹی نے قوم کو بتایا دیا تھا کہ دہشتگرد نہیں چاہتے کہ ہمارے ملک میں ہمارا قومی پرچم لہرائے، لیکن انھوں نے دہشتگردوں اور دہشگردی کے سامنے سر نہیں جھکایا۔‘

’یہ پہلی مرتبہ نہیں ہوا تھا، بلکہ تاریخ کی باطل قوتوں نے ہمیشہ پاکستان پیپلز پارٹی کی ٹارگٹ کِلنگ کی کوشش کی ہے۔‘

بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ ان کی جماعت دہشتگردی کے خلاف بنائے جانے والے قومی ایکشن پلان کی حمایت کرتی ہے لیکن مرکزی حکومت اسے سیاسی انتقام کے لیے استعمال کر رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان مسلم لیگ نواز نے ’پیپلز پارٹی کے کارکنوں کو چُن چُن کر ہلاک کر کے‘ ایک مرتبہ پھر وہ سیاست شروع کر دی ہے جس کا مقصد سیاسی انتقام لینا ہے۔

’پیپلز پارٹی کے کارکنوں کی ٹارگٹ کلنگ کی روایت بہت پرانی ہے اور اس کا آغاز اسی وقت ہو گیا تھا جب پیپلز پارٹی وجود میں آئی تھی اور پھر اس کے بانی ذوالفقار علی بھٹو کو ہلاک کر دیا گیا۔

بلاول بھٹو کے صدارتی خطاب سے قبل سندھ کے وزیرِ اعلی نے پارٹی کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ’ایک اکیلا شخص سندھ اسمبلی کی قرارداد پر حاوی نہیں ہو سکتا۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’ہم ملک میں جمہوریت اور پارلیمانی نظام چاہتے ہیں، ایک ایسا نظام جس میں ایک شخص کا فیصلہ ملک پر لاگو نہیں ہو سکتا۔‘

قائم علی شاہ کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی کئی امتحانوں سے گزر چکی ہے لیکن اب بھی کئی عناصر پارٹی کو کمزور کرنے کی کوشش میں مصروف ہیں۔ ’چوہدری نثار اور ان کے دوست صوبہ سندھ کو کنٹرول کرنا چاہ رہے ہیں لیکن ہم کسی کو صوبے کا اختیار اپنے ہاتھوں میں نہیں لینے دیں گے۔‘

کراچی میں جاری آپریشن کے حوالے سے وزیر اعلی کا کہنا تھا کہ کراچی میں امن کا خواب صرف سندھ کے لوگوں کی وجہ سے ممکن ہوا ہے، نہ کہ صرف ایک ادارے کی کوششوں سے۔‘



برسی کی تقریب سے سابق وزیر داخلہ رحمان ملک نے بھی خطاب کیا۔ اس موقع پر انھوں نے کہا کہ پی پی پی کی رہنما کو نہ کبھی خریدا جا سکا تھا اور نہ ہی انھوں نے اپنی آخری سانس تک ہتھیار ڈالے تھے۔ ’لوگ بینظیر بھٹو پر ان چیزوں کا الزام لگاتے ہیں جو انھوں نے کبھی نہیں کیں۔ میں آج آپ کو بتا دینا چاہتا ہوں کے بی بی نے کبھی این آر او پر دستخط نہیں کیے تھے۔‘
کراچی: پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کے سول اسپتال دورے کے موقع پر سخت سیکیورٹی کے باعث ایمرجنسی گیٹ پر 10 ماہ کی بچی والد کے ہاتھ میں تڑپ تڑپ کر جاں بحق ہوگئی جس کی نماز جنازہ ادا کردی گئی۔

 بلاول بھٹو زرداری وزیراعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ کے ہمراہ ٹراما سینٹر کا افتتاح کرنے سول اسپتال پہنچے تو اس موقع پر سخت سیکیورٹی کے باعث اسپتال میں مریضوں کا داخلہ بند کردیا گیا جب کہ ایمرجنسی گیٹ بھی بند ہونے کے باعث 10 ماہ کی بچی بسمہ والد کے ہاتھوں میں تڑپتی رہی اوربچی کا والد اس موقع پر دہائیاں دیتا رہا لیکن کسی نے اس کی ایک نہ سنی اور شدید بخار میں مبتلا 10 ماہ کی بچی طبی امداد نہ ملنے پر تڑپ تڑپ کر جاں بحق ہوگئی۔ بسمہ کی نماز جنازہ لیاری کے گبول پارک میں ادا کردی گئی جس میں پیپلزپارٹی کے کسی رہنما نے شرکت نہیں کی، نماز جنازہ کے بعد مقامی افراد نے واقعے پر شدید احتجاج کیا اور سندھ حکومت کے خلاف نعرے بازی کی۔

دوسری جانب بچی کے متاثرہ باپ نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ 10 ماہ کی بسمہ شدید بخارمیں مبتلا تھی جسے ایک گھنٹے تک ہاتھوں میں اٹھائے ایمرجنسی گیٹ پر کھڑا رہا لیکن کسی نے کوئی فریاد نہ سنی اوراسپتال کے اندر جانے نہیں دیا جب کہ پروٹوکول پرماموراہلکاروں سے بھی منت سماجت کرتا رہا لیکن وہ یہی کہتے رہے کہ وی آئی پی موومنٹ ہے اس لیے اسپتال کے اندرجانے کی اجازت نہیں دی جاسکتی جس کے باعث بسمہ طبی امداد نہ ملنے پرہاتھوں میں ہی دم توڑ گئی۔ بدقسمت باپ کا کہنا تھا کہ بچی کو جب ڈاکٹروں نے دیکھا تو ان کا کہنا تھا کہ بچی کو اگر10 منٹ پہلے لے آیا جاتا تواس کی جان بچ سکتی تھی۔

ادھربلاول بھٹو زرداری اور قائم علی شاہ کی اسپتال آمد کے موقع پر50 سے زائد آپریشنز ملتوی کئے گئے اور آپریشن تھیٹرز 2 گھنٹے تک غیرفعال رہے جب کہ پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری نے وزیراعلی سید قائم علی شاہ کو فون کیا اور سول اسپتال میں پیش آنے والے واقعے کا نوٹس لینے کی ہدایت کی جب کہ آصف زرداری نے سندھ حکومت کو ہدایت کی کہ آئندہ کسی بھی اسپتال کے افتتاح کے موقع پر تقریب منعقد نہ کی جائے اور پروٹوکول کے لیے اسپتالوں کے دروازے بند نہ کیے جائیں۔

دبئی: پیپلزپارٹی کے شریک چیئرمین اور سابق صدر آصف علی زرداری کا کہنا ہے کہ وزیراعظم نواز شریف نے 90 کی دہائی کی سیاست دوبارہ شروع کردی ہے تاہم انتقامی کارروائی کے بھیانک نتائج سامنے آئیں گے۔

اپنے بیان میں آصف علی زرداری نے حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ سندھ کو وزیراعظم کے احکامات کے تحت مفلوج کیا جارہا ہے جب کہ نوازشریف دہشت گردوں کے خلاف آپریشن متاثرکرنےکے لئے قوم کوتقسیم کررہے ہیں اور اسی سلسلے میں سابق وزیراعظم یوسف رضاگیلانی اور علیل مخدوم امین فہیم کے وارنٹ گرفتاری جاری کیے گئے جب کہ پہلے قاسم ضیا کو گرفتار کیا گیا اور اب ڈاکٹر عاصم حسین کو حراست میں لے لیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سندھ میں وفاقی اداروں کی مداخلت اور پکڑ دھکڑ آئین کی سنگین خلاف ورزی ہے، پیپلزپارٹی نے جمہوریت کی خاطر 2013 کے انتخابات کو قبول کیا، عام انتخابات آر اوز کے الیکشن تھے جس کی تائید ٹریبونلز کے فیصلوں نے بھی کی۔

پیپلزپارٹی کے شریک چیئرمین کا کہنا تھا کہ رانا مشہود کی وڈیو منظرعام پر آنے کے بعد انہیں گرفتار نہیں کیا گیا لیکن سندھ میں بیوکروکریٹس کو نیب اور ایف آئی اے کے ذریعے ہراساں کیا جارہا ہے جب کہ چیف سیکرٹری سندھ ، دیگرسیکرٹریزکا ضمانتوں پرہونا انتقامی سیاست نہیں توکیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پیپلزپارٹی نے تیسری بار وزیر اعظم بننے پر پابندی کھلے دل سے ختم کی، پابندی ختم کرنے کا فائدہ صرف میاں برادران کو تھا اورپیپلز پارٹی کی وجہ سے آج نوازشریف وزیراعظم اور شہباز شریف وزیراعلیٰ ہیں، سیاستدانوں میں سزا کی معافی کی درخواست دینے کا اعزازصرف نوازشریف کوحاصل ہے۔

آصف زرداری نے کہا کہ ایک وفاقی وزیرنےمجسٹریٹ کے سامنے شریف برادران کے لیےمنی لانڈرنگ کااعترافی بیان دیا تھا، احتساب کرنا ہے تو مجسٹریٹ کے سامنے اعترافی بیان دینے والے وفاقی وزیرکا احتساب کیا جائے اور اس احتساب سے پتا چلے گا کہ (ن) لیگ کتنی پارسا ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ اصغر خان کیس کے کرداروں پر بھی ہاتھ ڈالا جائے اورجسٹس نجفی کمیشن کی رپورٹ منظرعام پرلاکر ذمے داروں کو گرفتارکیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہمارا ازلی دشمن نہتے شہریوں پر گولے برسا کر انہیں شہید کررہا ہے اور پاک فوج دہشت گردوں کے خلاف فیصلہ کن جنگ لڑ رہی ہے جب کہ پوری قوم دہشت گردوں کے خلاف جنگ میں پاک فوج کے شانہ بشانہ کھڑی ہے۔

اسلام آباد......سابق مشیر پیٹرولیم ڈاکٹر عاصم حسین کی گرفتاری اور عدالت سے ریمانڈ لئے جانے کے بعد آصف زرداری نے پارٹی قائدین سے ٹیلیفون رابطے کئے ہیں،ذرائع کے مطابق آصف زرداری نے پارٹی رہنماؤں کی گرفتاریوں پربھرپوراحتجاج اورٹھوس حکمت عملی اپنانےکی ہدایا ت دی ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ پیپلزپارٹی کو دیوار سے لگایا جا رہا ہے،کیا کرپشن صرف کراچی میں ہورہی ہے،ڈاکٹر عاصم کا قصور پیپلزپارٹی سے تعلق ہے،جس کی انہیں سزا دی جا رہی ہے،جیلیں اور ہتھکڑیاں ہمارا راستہ نہیں روک سکتیں۔ڈاکٹر عاصم حسین کی گرفتاری اور اس کے بعد کی صورت حال پرپیپلزپارٹی کی سینئرنائب صدرشیری رحمان آج شام 6 بجےپریس کانفرنس کریں گی جس پیپلزپارٹی قائدین زرداری کی ہدایت پر آج شام اپنا موقف بیان کریں گے۔

اسلام آباد: پیپلز پارٹی کے رہنما اور قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف سید خورشید شاہ کا کہنا ہے کہ کرپشن کے نام پر آصف زرداری پر براہ راست ہاتھ ڈالا گیا تو جنگ کی ابتدا ہوگی۔

اسلام آباد میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے خورشید شاہ کا کہنا تھا کہ ’’را‘‘ سندھ اوربلوچستان میں گھس چکی ہے، بندوق کے زور پر کچھ نہیں ہوتا، سندھ میں جو لاوا پک رہا ہے صرف سندھی روک سکتے ہیں، آرمی چیف کو سندھ میں امن و امان کی صورت حال پر وزیراعلیٰ کو اعتماد میں لینا چاہیے، اداروں کے سربراہ ہمارے ساتھ بیٹھیں اوربتائیں کہ کیا سب کچھ سندھ میں ہی ہورہا ہے، کیا خیبرپختونخوا، بلوچستان اورپنجاب میں کرپشن ختم ہوگئی ہے لیکن ایک صوبے کو ٹارگٹ کرکے تباہ کیا جا رہا ہے۔

پیپلز پارٹی کے رہنما کا کہنا تھا کہ وزیراعظم بتائیں کہ ہمارے لوگوں میں کیا خرابی ہے۔ بھارت اس لئے طاقتور ہے کہ سیاسی جماعتیں ایسے کام نہیں کرتیں،مسلم لیگ (ن) کوسمجھنا چاہیے کہ سیاسی جماعتیں ہی ان کی دست وبازوں ہیں۔ قاسم ضیاء کوہتھکڑی لگانےپرشرم آنی چاہیے، ڈاکٹر عاصم سے پہلے تفتیش کی جانی چاہیے جو کہ مہذب معاشرے والا سلوک ہوتا ہے۔ یہ پکڑدھکڑ ختم کی جائے اگر آصف زرداری پر براہ راست ہاتھ ڈالا گیا تو جنگ کی ابتدا ہو گی۔

خورشید شاہ کہنا تھا کہ الیکشن کمیشن کےارکان میں غیرت ہےتوانہیں گھرچلےجانا چاہیے، اس معاملے پر پی ٹی آئی کے دھرنے میں شامل نہیں ہوں گے تاہم الیکشن کمیشن ممبران کے معاملے پرآصف زرداری سے مشاورت کے بعد پالیسی کا اعلان کریں گے، تمام تر مشکلات کے باوجود ہم پارلیمنٹ کو کمزور نہیں ہونے دیں گے، جبر کا سامنا پارلیمنٹ کے اند رہ کر کریں گے۔

کراچی: اینٹی کرپشن کورٹ نے سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی اور پیپلزپارٹی کے مرکزی رہنما مخدوم امین فہیم کو ٹڈاپ کرپشن کیس میں گرفتار کر کے پیش کرنے کا حکم دیا ہے۔

وفاقی تحقیقاتی ادارے ( ایف آئی اے) نے سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی اور امین فہیم سمیت دیگر ساتھیوں کے خلاف ٹریڈ ڈویلپمنٹ اتھارٹی پاکستان (ٹڈاپ) میں کرپشن سے متعلق تفتیش مکمل کرتے ہوئے 12 مقدمات کے حتمی چالان عدالت میں پیش کردیئے۔ ایف آئی اے کی جانب سے پیش کئے گئے حتمی چالان میں پیپلزپارٹی کے دونوں رہنماؤں سمیت دیگر کو مفرور قرار دیا جس پر عدالت نے سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی اور امین فہیم سمیت دیگر کو 10 ستمبر تک گرفتارکرکے پیش کرنے کا حکم دیا۔

واضح رہے کہ پیپلزپارٹی کے دونوں رہنما 12 مختلف مقدمات میں پیش ہوکراپنی ضمانتیں کروا چکے تھے۔