Articles by "صحت"
‏صحت لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

ہیلسنکی، فن لیند:طبی ماہرین نے انکشاف کیا ہے کہ نئی زبانیں سیکھنے سے دماغی لچک میں اضافہ ہوتا ہے اور دماغ میں نئے سرکٹ بننے کے ساتھ اس میں نئی معلومات جذب کرنے کی صلاحیت میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔


سائنٹفک رپورٹس میں شائع ہونے والی اس تحقیقی رپورٹ کے مطابق یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ لوگ جتنی زیادہ زبانیں سیکھنے کی کوشش کرتے ہیں اس سے دماغی سرکٹ کو نئی معلومات کو کوڈ کرنے والا حصہ اتنا ہی تیزی سے متحرک ہوتا ہے۔

ماہرین کا خیال ہے کہ انسانی زبان سیکھنے کے عمل کو سمجھنے سے فالج اور حادثات کے بعد لوگوں کو دوبارہ بولنے کے قابل بنانے میں بہت مدد مل سکتی ہے۔ اس کے علاوہ ماہرین پیچیدہ دماغی سرکٹ کو سمجھنے کی بھی کوشش کررہے ہیں۔ یہ تحقیق اس عمل کو سمجھنے میں بھی معاون ثابت ہوسکتی ہے۔

سائنسدانوں کے مطابق نئی زبان سیکھنے کے بہت سے ذہنی اور دماغی فوائد ہوتے ہیں۔ اس سے ڈیٹا پروسیسنگ اور معلومات کو جذب کرنے میں بہت مدد مل سکتی ہے۔ تجرباتی طور پر ماہرین نے اوسط 24 سال کی عمر کے 10 مرد اور 12 خواتین کو بھرتی کیا اور زبانیں سیکھنے کے دوران ان کی دماغی کیفیت کو ای ای جے کے ذریعے نوٹ کیا۔ لیکن یہ نئے الفاظ سیکھنے کی مشقیں تھیں۔

تمام رضاکار صرف فن لینڈ کی زبان ہی جانتے تھے اور جیسے ہی رضاکار اجنبی یا جانے ہوئے لفظ سے واقف ہوا اس کی دماغی سرگرمی میں تبدیلی واقع ہوئی۔ رپورٹ کے سینیئر محقق کے مطابق نتائج سے ظاہر ہے کہ نئی زبان سیکھنا ہر عمر کے دماغ کے لیے بہت مفید ثابت ہوتا ہے۔

لندن: اگر آپ بلڈ پریشر کا شکار ہیں اور اس کا علاج کرانا چاہتے ہیں تو بہتر ہے کہ کافی پینا ترک کردیں کیونکہ اس میں موجود اجزا دوا کی تاثیر کو زائل کرسکتے ہیں۔ 

دنیا بھر کی طرح پاکستان میں بھی آبادی کا ایک بڑا حصہ بلڈ پریشر کے باعث مختلف امراض کا شکار ہے اور وہ کافی بھی پیتا ہے۔ مطالعوں سے معلوم ہوا ہے کہ کیفین والی کافی بلڈ پریشر بڑھا سکتی ہے لیکن کیفین سے پاک یعنی ڈی کیفینیٹیڈ کافی سے یہ اثرات نہیں ہوتے۔

بین الاقوامی طبی جریدے امریکن جرنل آف ہائپرٹینشن میں لندن کی ویسٹرن یونیورسٹی اور کینیڈا کے لاسن ہیلتھ انسٹی ٹیوٹ کی مشترکہ تحقیق شائع کی گئی ہے، ماہرین نے اپنی تحقیق کے لیے ایسے لوگوں کاانتخاب کیا جو باقاعدگی سے یا پھر کبھی کبھار کافی پیتے تھے۔

ماہرین نےااپنی تحقیق سے یہ نتیجہ اخذ کیا ہے کہ جو لوگ کبھی کبھار کافی پیتے ہیں، اگر وہ دو کپ کافی پی لیں تو ایک گھنٹے کے اندر اندر ان کا بلڈ پریشر بڑھ جاتا ہے۔ اس طرح سے بلڈ پریشر کے ٹیسٹ متاثر ہوسکتے ہیں۔ اس کے علاوہ اگر شوقیہ بھی کبھی کبھار کافی پی لی جائے تو اس سے بلڈ پریشر کی دوا کی تاثیر متاثر ہوسکتی ہے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ باقاعدگی سے کافی پینے والے افراد میں یہ اثرات رونما نہیں ہوتے کیونکہ ان کا جسم اس کے خلاف مزاحمت پیدا کرلیتا ہے اور وہ کیفین کو برداشت کرنے لگتا ہے تاہم کبھی کبھی کافی پینے والوں کے بلڈ پریشر میں اضافہ ہوسکتا ہے۔

خدا کی دی ہوئی یہ نعمت واقعی جادو کا پٹارا ہے۔ پان کا یہ سادہ سا پتہ خداداد خوبیوں کا مالک ہے اور نہ صرف ہندوستانی تہذیب کا اہم حصہ ہے بلکہ ہماری اجتماعی ثقافتی و مذہبی زندگی پر بھی اثرانداز ہے۔

ایک طرف گھر آئے مہمان کو پیش کرنا مہمان نوازی کی علامت ہے تو دوسری طرف شوہر اور بیوی کے تعلقات کی کڑی- جس دن شوہرِ نامدار نے بیوی کے ہاتھ سے پان کی گلوری نہیں لی سمجھیں تعلقات کی کشیدگی کا آغاز ہے۔

مہمانوں کو پان کا بیڑہ دے کر منگنی کی رسم پوری کرنا راجستھان کی پرانی روایات میں شامل ہے۔

فلمی دنیا کو بھی پان کی رومانیت اور خوبیوں سے انکار نہیں۔ امیتابھ بچن کا گانا ’کھئی کے پان بنارس والا‘ اس کی بہترین مثال ہے۔

الغرض پان ہماری تہذیب سے اس قدر جڑا ہے کہ ہر خاص و عام اس کا دلدادہ ہے۔ مذہبی روایات میں بھی پان کا بہت دخل ہے۔ اورچھا کے رام مندر میں پان بطور تبرک دیا جاتا ہے تو جنوبی ہندوستان کے ایک مندر میں بھگوان کی مورتی کے ماتھے پر لگا مکھن پان کے پتے میں ہی لپیٹ کر زائرین کو ملتا ہے۔

کچھ دلچسپ عقائد بھی پان سے جڑے ہیں۔ بہار میں دولہا دلہن کے ایک ہونے کی علامت کے طور پر وہ اپنے خون کا قطرہ پان پر ٹپکا کر ایک دوسرے کو دیتے ہیں گویا جب ایک دوسرے کا خون آپس میں مل گیا تو بس ایک ہوگئے۔

ہندوستان آنے والے غیر ملکی سیاحوں نے بھی پان کا ذکر بہت دلچسپی سے کیا ہے۔

البیرونی اپنی کتاب ’کتاب الہند‘ میں لکھتے ہیں کہ ’ہندوستانیوں کے دانت سرخ ہوتے ہیں۔‘ امیر خسرو نے کہا کہ پان منہ کو خوشبودار بناتا ہے۔ چینی سیاح آئی چنگ نے پان کو ہاضم قرار دیا۔

عبدالرزاق جو کالی کٹ کے بادشاہ زمورن کے دربار میں سمرقند سے سفیر بن کر آئے تھے، پان کی خوبیوں کو سراہتے دکھائی دیے۔ کہتے ہیں کہ ’پان کھانے سے چہرہ چمک اٹھتا ہے۔ دانت مضبوط اور سانس کی بدبو دور ہو جاتی ہے۔‘

پان میٹھا ہو تو گل قند اور سادہ ہو تو صرف الائچی کے دانے۔ غرض اس کے بنانے میں اور ان اجزا کو ملانے میں پان بنانے والے کا سلیقہ اور تجربہ شاملِ کار ہے۔ چونا زیادہ ہو تو زبان زخمی اور کتھا زیادہ ہو تو منہ کڑوا۔

ہندو روایات کے مطابق پان دیوی دیوتاؤں کا مسکن ہے۔ اساطیر کے مطابق پان کے ڈنٹھل میں دیوتا پاما رہتا ہے اس لیے پان بناتے ہوئے ڈنٹھل توڑ دیا جاتا ہے۔

پان نے ایک بڑی صنعت کو مروج کیا ہے۔ مختلف مہنگی، سستی دھاتوں سے بنے پاندان، خاصدان، پیک دان، ان پر چڑھانے والے ریشمی غلاف، چونے اور کتھے کی خوبصورت چھوٹی چھوٹی ڈبیائیں اور چمچے، چھالیہ کترنے کے لیے مختلف شکل کے سروتے، پان کوٹنے کے لیے ہاون دستہ، پان رکھنے کے جیبی بٹوے، پان پیش کرنے کی خوبصورت طشتریاں غرض پان سے جڑی یہ صنائع بہت سے لوگوں کے لیے آمدنی کا ذریعہ بنے اور یہ صنعت آج بھی مروج ہے۔

پرانے وقتوں میں پان بنانے کا پیشہ تنبولن کرتی تھی پھر آہستہ آہستہ سڑکوں پر پان کی دکانیں کھلنے لگیں۔ لوگ تنبول کا لفظ ہی بھول گئے بس پان اور پان والا یاد رہ گیا۔
نیویارک: امریکی ماہرین نفسیات کا کہنا ہے کہ سیلفی لینے والے دراصل ایک قسم کی ذہنی بیماری کا شکار ہوتے ہیں۔
امریکا میں کی گئی تحقیق میں کہا گیا کہ سیلفی لینے والے افراد ذہنی بیماری کا شکار ہوتے ہیں اور ایسے لوگ ہر چیز کو اپنے اوپر حاوی کر لیتے ہیں۔ طبی ماہرین نے اس بیماری کو (سیلفیٹس) کا نام دیا ہے جس کی تین اقسام بتائی گئی ہیں، جس میں پہلے نمبر پر بارڈر لائن سیلفیٹس ہے۔ اس بیماری کا شکار افراد دن میں 3 بار اپنی تصویریں لیتے ہیں لیکن سوشل میڈیا پر پوسٹ نہیں کرتے جبکہ دوسرے نمبر پر وہ افراد آتے ہیں جو دن میں 3 بار اپنی تصاویر لے کر اسے سوشل میڈیا پر پوسٹ بھی کرتے ہیں جبکہ آخری دلچسپ قسم کرونک سیلفیٹس ہے۔ ان میں وہ افراد شامل ہوتے ہیں جو دن بھر اپنی تصاویر لے کر اسے سوشل میڈیا پر پوسٹ کرتے رہتے ہیں۔ ماہرین نفسیات کا کہنا ہے کہ اس عادت سے جان چھڑانے کا فی الحال کوئی طریقہ نہیں تاہم اس سے بچنے کے لئے اس عادت میں مبتلا افراد کاگنیٹو بیہیوریل تھراپی کرا سکتے ہیں جس سے اس ذہنی بیماری پر کسی حد تک قابو پایا جا سکتا ہے۔
کیلی فورنیا: خوشی اور کامیابی حاصل کرنے کے لیے روایتی طور پر یہی بتایا جاتا ہے کہ خوب محنت کی جائے اور کامیابیاں سمیٹی جائیں لیکن ماہرین نے نئے تقاضوں کے تحت اس سے اختلاف کرتے ہوئے کچھ نئے اصول بنائے ہیں۔
اسٹینفرڈ یونیورسٹی کی ماہر ین نے ’’خوشی اور سائنسی اصول‘‘ پر اپنی نئی کتاب میں وہ 6 اہم اصول بیان کیے ہیں جن پر عمل کرکے کامیابی اور خوشی حاصل کی جاسکتی ہے۔
ہر لمحہ جیئیں:
آج کی تیزرفتار دنیا کا تقاضہ ہے کہ ہم بغیر رکے کام کرتے رہیں تاکہ اپنے ساتھیوں سے آگے نکلا جاسکے۔ ہم روزانہ اپنے امور اور کاموں کی فہرست نوٹ کرتے رہتے ہیں لیکن تحقیق بتاتی ہے کہ اگر حال اور ہر ہر لمحے میں بھرپور انداز میں کام کیا جائے تو کام کا بہترین نتیجہ برآمد ہوتا ہے۔
ماہر نفسیات کے مطابق اپنے کام پر پوری توجہ اور ہر کام پر مرکوز کرنے سے ایک طرح کا مستقل سلسلہ بنتا جاتا ہے۔ ماہرین کی تحقیق بتاتی ہے کہ خواہ آپ اولمپک کی دوڑ میں ہوں یا ریاضی کے مسائل حل کررہے ہوں توجہ کا مستقل سلسلہ اور بہاؤ ہی کامیابی کی ضمانت فراہم کرتا ہے۔
ثابت قدم رہیں: 
ہم ہفتے میں 6 روز تک مسلسل محنت کرتے ہیں اور اس سے دباؤ بڑھنا شروع ہوجاتا ہے اور اس کا اثر ہمارے نفسیاتی نظام پر پڑنا شروع ہوجاتا ہے اور ایک وقت آتا ہے کہ یاتو ہم کھڑے رہتے یا پھر فرار ہوجاتے ہیں۔ مطالعے سے ظاہر ہے کہ کچھ دیر کا تناؤ آپ کے لیے بہتر ثابت ہوسکتا ہے لیکن دباؤمسلسل جاری رہے تو یہ صحت پر مضر اثرات مرتب کرتا ہے۔
اب اس موقع پر انسانی عزم اور ڈٹ جانے کی قوت ہی مددگارہوتی ہے۔ زندگی کے اتار چڑھاؤ اور پریشانیوں میں ثابت قدم رہیں اور عمل نہ چھوڑیں اوراس کا فوری فائدہ یہ ہوتا ہے کہ آپ واپس عملی زندگی اور کامیابی کی جانب پلٹتے ہیں اور اس کا اظہار 2004 کے ایک سروے سے بھی عیاں ہے۔ مطالعے سے معلوم ہوا ہے کہ جو لوگ  تناؤ اور مشکلات میں چٹان ثابت ہوتے ہیں وہ بلڈ پریشر اور دل کے امراض سے بھی جلد صحت یاب ہوکر نارمل ہوجاتے ہیں۔
اطمینان رکھیں اور آگے بڑھتے رہیں:
مسلسل مصروفیت اور پیشہ ورانہ امور کو سلجھاتے سلجھاتے ایک وقت آتا ہے کہ ساری توانائی ختم ہوجاتی ہے اور پوری دنیا کے لوگوں میں اس کی جھلک دیکھی گئی ہے۔ بس اسی موقع پر کچھ دیر کے لیے خاموش رہ کر پرسکون انداز میں رہیں اور اپنی توانائیاں دوبارہ جمع کریں۔
2014 میں 21 امریکی فوجیوں پر جنگ کے دباؤ اور اس سے ہونے والے امراض یا پوسٹ ٹرامیٹک ڈس آرڈر ( پی ٹی ایس ڈی) پر تحقیق کی گئی۔ ان میں آدھے فوجیوں کو سانس اور مراقبے کی مشق کرائی گئی اور بقیہ نصف فوجیوں کو اس طرح کی کوئی سہولت فراہم نہیں کی گئی۔ ان میں سے جن فوجیوں نے کچھ وقت کے لیے مشقیں اور مراقبہ کیا تھا ان میں جنگ کے تناؤ اور ذہنی کوفت کی کیفیت کئی ماہ بلکہ سال تک دوبارہ لوٹ کر نہیں آئی۔ اسی لیے زندگی میں خصوصاً سانس کی مشقوں پر ضرور عمل کیا جائے ۔
کچھ نہ کرنے کا تخلیقی عمل:
دنیا کا طریقہ ہے کہ کچھ نہ کچھ کرتے رہیں تاکہ نئے خیالات اور راہیں سامنے آتی رہیں۔ لیکن تحقیق بتاتی ہے کہ ہماری تخلیقی صلاحیتیں اس وقت عروج پر ہوتی ہیں جب ہم فارغ بیٹھے ہوتے ہیں۔
ایک سروے میں 428 طالب علموں کو سوالنامے دے کر پوچھا گیا کہ کیا وہ صبح سویرے اٹھ کر کام کرنا پسند کرتے ہیں یا پھر شام کو ان کی صلاحیتیں بیدار ہوتی ہیں۔ دیکھا گیا کہ صبح بیدار ہونے والوں کی صلاحیتیں دوپہر میں عروج پر ہوتی ہیں۔ اسی طرح شام کو کام کرنے والوں نے صبح کے وقت بہترین صلاحیتیں ظاہر کیں۔ یعنی ثابت ہوا جو کام کا سب سے سرگرم وقت تھا ضروری نہیں کہ وہ ذہنی لحاظ سے بھی مفید ترین لمحہ ہو۔ خلاصہ یہ کہ انسانی ذہن اس وقت بہترین کیفیت میں ہوتا ہے جب وہ بہت چوکنا اور مستعد نہ ہو۔
خود سے اچھا برتاؤ کریں:
تحقیق بتاتی ہے کہ ناکامی کا خوف ترقی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے اور یہ جذبہ انسان کو بے عمل بنادیتا ہے۔ اسی سے برے فیصلے سامنے آتے ہیں مثلاً امتحان میں نقل کرنا اور شارٹ کٹ اختیار کرنا وغیرہ۔ یہ ردِ عمل کیریئر میں ناکامی کی بڑی وجہ بنتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ خود پر رحم کریں کیونکہ ہر کوئی غلطی کرتا ہے۔ دور رہ کر اپنے منفی خیالات پر غور کریں اور اس پر قابو پانے کی کوشش کریں۔
دوسروں سے رحم دلی کا اظہار:
آخر میں ایک اور اہم نکتہ یہ ہے کہ دوسروں کی مدد اور تائید کرکے جو خوشی ملتی ہے وہ آپ کو مضبوط بناتی ہے۔ اس سے بننے والے تعلقات زندگی کو بھرپور بناتے ہیں۔ اگر آپ کے دفتراور کام کی جگہ پر آپ اپنے باس اور دوستوں سے حسن سلوک اور اچھا رویہ رکھتے ہیں تو یہ وفاداری کام کی جگہ پر ایک بہترین ماحول بناتی ہے جس سے ادارے کی کارکردگی اچھی ہوسکتی ہے۔
ماہرین کے مطابق اگر آپ کا رویہ دوسروں سے اچھا ہوگا تو وہ خود آپ کو نفسیاتی طور پر مضبوط بناتا ہے اور مشکلات جھیلنے کے لیے تیار کرتا ہے۔ تو اچھا رویہ اختیار کرنا خود آپ کی نشوونما کے لیے ضروری ہے۔

چاکلیٹ کھانے سے دماغی صلاحیتوں میں اضافہ ہوتا ہے، تحقیق

آسٹریلیا: نئی تحقیق سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ ہفتے میں ایک بار چاکلیٹ کا استعمال دماغ کی صلاحیتوں کو میں اضافے کے ساتھ یادداشت کو تیز کرتا ہے۔

آسٹریلیا میں ہونے والی تحقیق سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ چاکلیٹ کا استعمال دماغی صلاحیتوں کو نکھارنے میں مدد فراہم کرتاہے۔ تحقیق کاروں کا کہنا ہے کہ اگر ہفتے میں صرف ایک بار چاکلیٹ کا استعمال کیا جائے تو اس سے نہ صرف دماغی صلاحتیوں پر مثبت اثر پڑتا ہے بلکہ یادداشت بھی تیز ہوتی ہے۔

تحقیق میں کہا گیا ہے کہ چاکلیٹ میں شامل ’’فلیوانول‘‘ نامی کمپاؤنڈ ہوتا ہے جس کی وجہ سے دماغ کے کچھ سیلز جلدی متاثر نہیں ہوتے اور دماغی صلاحیتوں پر مثبت اثرات مرتب ہوتے ہیں۔
جلد انسان کی خوبصورتی  اور دلکشی کا بنیادی حصہ ہے اور اس کی حفاظت کے لیے انسان مہنگی سے مہنگی کریمیں اور لوشن استعمال کرتا ہے لیکن وہ اپنی معمولات میں چند ایسی غلطیاں کرتا ہے جو اس ساری محنت پر پانی پھیر دیتی ہیں ان میں غسل کے دوران کی جانے والی غلطیاں بھی ہیں جو جلد کو نقصان پہنچاتی ہیں اور جلد بھدی اور خشک لگنے لگتی ہے۔
ماہرین جلد نے ان غلطیوں کی نشانی دہی کرتے ہوئے ان سے بچنے کی تراکیب بتائی ہیں جن پر عمل کر کے آپ کی جلد خوبصورت اور دلکش بن سکتی ہے۔
اپنے چہرے کو دھونا:  اکثر لوگ جس نہاتے ہوئے شاور سے گرتے تیز پانی کو اپنے چہرے پر گراتے ہیں جس سے جلد کے خلیوں کو نقصان ہوتا ہے اور جلد خراب ہوجاتی ہے۔ ماہرین کا اسی لیے کہنا ہے کہ اپنے چہرے کو ٹھنڈے یا نل کے عام پانی سے دھویں اگرچہ کچھ لوگوں کا ماننا ہے کہ ٹھنڈا پانی جلد کے سوراخوں کو بند نہیں کرتا لیکن ایسا ہونا آپ کی جلد کے لیے بہتر ہے اسی لیے جلد ماہر اما ڈائن اسنارڈ کا کہنا ہے کہ آخر میں چہرے کو ٹھنڈے پانی سے دھونے سے جلد کے خلیوں کی حرکت کو بڑھا دیتا ہے جس سے چہرے پر ایک چمک آجاتی ہے۔
شاور سے نہانا زیادہ بہتر:  ماہرین کا کہنا ہے کہ شاور میں نہانا باتھ ٹب میں نہانے سے زیادہ بہتر ہے لیکن یہ اس بات پر منحصر ہے کہ آپ کا شاور کتنا تیز کام کرتا ہے۔ واٹر وائز کی جانب کی گئی ایک تحقیق میں کہا گیا ہے کہ شاور کے نیچے 5 منٹ تک ہی نہانا چاہئے جس س پانی کم ضائع ہوتا ہے لیکن کچھ لوگ 10 منت سے زیادہ نہاتے ہیں جس سے جلد متاثر ہوتی ہے اور پانی بھی ضائع ہوجاتا ہےکچھ لوگ پاور شاور کا استعمال کرتے ہیں لیکن اس کے نیچے 5 منٹ نہانے سے بھی پانی زیادہ ضائع ہوتا ہے۔
ضرورت سے زیادہ نہانے سے پرہیز کریں: ماہرین کاکہنا ہے پرانے زمانے میں روزانہ نہانے کا رواج نہ تھا تاہم  1927 میں ایسوسی ایشن آٖ امریکہ سوپ اینڈ گلیسرین پروڈیوسرز نے صابن کی تشہیر کے لیے ایک صفائی کا ادارہ بنایا اور جس میں سب زیادہ روازنہ نہانے کی پروموشن کی گئی۔ امریکی مصنفہ کیتھرین ایشن برگ اپنی کتاب میں لکھتی ہیں لوگوں کو ایسا کردیا کہ وہ ٹوائلٹ سے آنے کے بعد، کھانے سے قبل اور سونے کے بعد صبح اٹھتے وقت غسل کرنے لگے لیکن حقیقت یہ ہے کہ زیادہ نہانا بھی جلد کے اچھا نہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ جلد پر جمنے والے بیکٹریا کی اکثریت جلد کے لیے فائدہ مند ہوتی ہے اور یہ بیکٹریا جراثیم کے خلاف جلد کے لیے شیلڈ کا کام کرتے ہیں۔ ماہرین جلد کے نزیدک ضرورت سے زیادہ نہانا بعض اوقات جلد انفکیشن کا باعث بھی بن سکتا ہے۔
نہانے کے بعد جلد کو خشک نہ کریں: اکثر لوگ نہاتے ہی تولیے یا برش (لوفہ) سے جلد کو خشک کرلیتے ہیں لیکن یہ جلد کے لیے انتہئائی نقصان دہ ہے لوفہ کی وجہ سے جلد میں جراثیم آسانی سے داخل ہوجاتے ہیں جو کہ جلدی بیماریوں کا باعث بن سکتا ہے۔ نہانے کے بعد گیلی جلد صحت مند بیکٹریا کو پروان چڑھنے میں مدد دیتی ہے تاہم پھر بھی اگر لوگ تولیہ یا لوفہ استعمال کرنا چاہتے ہیں تو پھر اپنے تولیے کو ہفتے میں ایک بار ضرور دھوئیں۔
لندن: جدید تحقیق سے ثابت ہوا ہے کہ ہلدی اپنے اندر جادوئی خواص رکھتی ہے اور اس کا باقاعدہ استعمال حیرت انگیز فوائد سے بھرپورہے۔
ایک چمچہ ہلدی میں 24 کیلوری، چکنائی، فائبراور پروٹین پایا جاتا ہے اس کے علاوہ ہلدی میں معدنیات اور فولاد پائی جاتی ہے لیکن ان سب کے باوجود ہلدی میں سرکومن نامی عنصر جادوئی اثر رکھتا ہے جبکہ یہ طاقتور اینٹی آکسیڈنٹس سے بھرپور ہے۔ ماہرین کے مطابق سرکومن انتہائی اہم مرکب ہے جس کے خواص درج ذیل ہے۔
جلن اور سوزش میں کمی
5 اہم مطالعاتی تحقیق سے معلوم ہوا ہےکہ ہلدی جسم کے اندر سوزش اور جلن کو ختم کرتی ہے اور اس کا استعمال ذیابیطس ، جلدی امراض، ہڈیوں میں سوزش اور جلن کو دور کرتا ہے۔
ہلدی وزن بھی گھٹائے
ہلدی میں موجود سرکومن بدن کی ترکیب کو تبدیل کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ 2009 میں کی گئی تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ بدن میں چربی کو روکنے کے لیے ہلدی اہم کردارادا کرسکتی ہے۔
ہلدی درد دور کرے
اس بات کے وسیع ثبوت موجود ہیں کہ ہلدی درد دور کرنے میں بہت معاون ثابت ہوتی ہے اور درد اور چوٹ میں دودھ اور ہلدی ملاکر پلائی جاتی ہے۔ جوڑوں کےدرد، آپریشن کے بعد اور عام درد میں بھی ہلدی بہت مفید ثابت ہوتی ہے۔
کینسر کے خلاف مؤثر
یونیورسٹی آف میری لینڈ کے میڈیکل سینٹر نے ثابت کیا ہے کہ عام بیماریوں کے ساتھ ساتھ ہلدی کینسر بھگانے میں اہم کردار ادا کرسکتی ہے۔ اس میں موجود اینٹی آکسیڈنٹس آنتوں، چھاتی اور پروسٹیٹ کینسر میں بہت مفید ثابت ہوتے ہیں لیکن اس پر مزید تحقیق کی ضرورت ہے۔
ہلدی اور دل کے امراض
امریکہ میں سینٹر آف ڈیزیز کنٹرول (سی ڈی سی) کے مطابق ہلدی شریانوں کی بندش روکنے اور کولیسٹرول گھٹانے میں معاون ثابت ہوسکتی ہے۔
ہلدی اور ڈپریشن
ذہنی تناؤ، اداسی اور ڈپریشن جدید دور کا ایک بڑھتا ہوا عفریت ہے۔ تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ روزانہ 500 ملی گرام سرکومن ( جو دو چمچ ہلدی میں ہوتا ہے) کھانے سے عین وہی اثر ہوتا ہے جو مشہور دواؤں پروزیک اور فلوکسیٹائن کھانے سے ہوتا ہے۔ اس طرح ہلدی ڈپریشن کا قدرتی اور فطری علاج ہے۔
ہلدی اور حسن
ہلدی دانت صاف کرتی ہے اور جلد کو خوبصورت بنانے کے لیے ہزاروں سال سے استعمال ہورہی ہے۔ ہلدی جلد کو دھوپ کی مضرِ صحت الٹرا وائلٹ شعاعوں سے محفوظ رکھ کر اسے جھلسنے اور مزید تباہی سے دور رکھتی ہے۔
لاہور: سائنسدانوں نے اس بات کی تصدیق کر دی ہے کہ موبائل فونز سے نکلنے والی برقی مقناطیسی لہریں مردوں کو نقصان پہنچا سکتی ہیں۔ 
طبی ماہرین ایک عرصے سے خیال ظاہر کر رہے تھے کہ موبائل فونر کی برقی مقناطیسی لہریں مردوں کے مادہٴ تولید کے لئے نقصان ہوتی ہیں لیکن اب پہلی مرتبہ سائنسدانوں نے تحقیق سے ثابت کر دیا ہے کہ یہ خیال درست تھا۔ 
غیر ملکی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق اسرائیل کی حیفہ یونیورسٹی کے سائنسدانون نے موبائل فون استعمال کرنے والے مردوں کی ایسی عادات کا جائزہ لیا جن کے نتیجے میں ان کے مادہ تولید کی تعداد میں نمایاں کمی دیکھی گئی۔ سائنسدانوں نے خبردار کرتے ہوئے کہا کہ مردوں کو روزانہ ایک گھنٹے سے زیادہ موبائل فون استعمال کرنے سے پرہیز کرنا چاہیے کیونکہ موبائل فون اُس وقت بھی خطرناک ہوتے ہیں جب انہیں چارج کیا جا رہا ہوتا ہے۔ سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ موبائل فون استعمال کرنے کی عادات کے سبب مردوں میں مادہ تولید کی تعداد کم ہو سکتی ہے یا اس کا امکان بڑھ جاتا ہے۔
اگر آپ کسی بیماری کے خلاف کسی نئی اینٹی بایوٹک کی تلاش میں ہیں تو آغاز کہاں سے کریں گے؟ کسی دلدل سے؟ کسی ویران جزیرے سے؟

اپنی داڑھی میں کنگھی پھیرنے کے بارے میں کیا خیال ہے؟

بی بی سی کے پروگرام ’ٹرسٹ می آئی ایم اے ڈاکٹر میں ہم ایسے ہی کچھ تجربات کرتے ہیں جس میں بعض اوقات صحیح سائنس بھی سامنے آ جاتی ہے۔

مثال کے طور پر گذشتہ سیریز میں ہم نے یہ جانا کہ آپ پاستا پکانے، ٹھنڈا کرنے اور پھر دوبارہ گرم کرنے سے اس کے اندر موجود کیلوریز کم کر سکتے ہیں۔

یہ ایک خوشگوار نتیجہ تھا۔ لیکن ہماری حالیہ دریافت زیادہ اہم ہے، یعنی ایسے بیکٹریا کی دریافت جو اینٹی بایوٹک کا کام دیتے ہیں۔ اور اس سے بھی زیادہ اہم یہ ہے کہ یہ داڑھی میں پائے جاتے ہیں۔

آپ نے دیکھا ہوگا کہ داڑھیاں عموما کالی ہوتی ہیں۔ ٹھوڑی پر لکیر کی شکل میں، گلے پر داڑھی یا وین ڈائیک سٹائل کی۔

بعض لوگوں کا کہنا ہے کہ داڑھیوں سے رغبت نہ صرف پریشان کن ہو سکتی ہے بلکہ یہ نامناسب جراثیم کی منتقلی کا کام بھی دیتی ہیں۔

تو ایسے کیا شواہد ہیں جس سے ثابت ہوتا ہے کہ داڑھیوں کا صحت کو خطرہ لاحق ہو سکتا ہے؟ انگریزی زبان کا ایک لفظ ہے پوگونوفوبیا یعنی داڑھی سے ڈر لگنا۔

لیکن ایک امریکی ہسپتال کی جانب سے کی جانے والی سائنسی تحقیق میں اس کے برعکس نتائج سامنے آئے ہیں۔

جرنل آف ہاسپٹل انفیکشن میں شائع ہونے والی اس تحقیق میں داڑھی اور بغیر داڑھی کے ہسپتال کے 408 عملے کے ارکان کے چہروں کو پونچھ کر نمونے حاصل کیے گئے۔

ہم جانتے ہیں کہ ہسپتال سے انفیکشن کی منتقلی ہسپتالوں میں ہونے والی اموات کی بڑی وجہ ہے۔ بہت سارے افراد ہسپتال جا کر ان بیماریوں کا شکار ہو جاتے ہیں جن میں وہ ہسپتال جانے سے پہلے مبتلا نہیں ہوتے۔ ہاتھ، سفید کوٹ، ٹائیاں اور ساز و سامان ہی اسکا سبب بن سکتا ہے، تو پھر داڑھیوں کے بارے میں کیا خیال ہے؟

محققین کے لیے یہ امر حیران کن تھا کہ ڈارھی کے بغیر عملے کے چہروں پر داڑھی والے عملے کے چہروں کے مقابلے میں مضر جراثیم کی تعداد زیادہ تھی۔

اس مطالعے سے یہ واضح ہوا کہ داڑھی کے بغیر والے افراد پر میتھیسیلین ریزسٹنٹ سٹاف اوریوس (ایم آر ایس اے) نامی جراثیم داڑھی والوں کے مقابلے میں زیادہ تھے۔

ایم آر ایس اے عام طور پر ہسپتال سے منتقل ہونے والے انفیکشنوں میں سے ایک ہے کیونکہ یہ بہت سارے اینٹی بایوٹکس کے مقابلے میں قوت مدافعت رکھتا ہے۔

محققین کے خیال میں شیو کرنے سے جلد پر خراشیں لگتی رہتی ہیں ’جس سے بیکٹریا کی نشوونما میں مدد ملتی ہے۔‘

شاید اس کی وضاحت کچھ یوں کی جا سکتی ہے کہ داڑھیاں انفیکشن کے خلاف مزاحمت کرتی ہیں۔

اپنے اس تجسس کو جانچنے کے لیے ہم نے کچھ افراد کے چہرے پونچھ کر یونیورسٹی کالج لندن کے مائیکروبیالوجسٹ ڈاکٹر ایڈم رابرٹس کو بھیجے۔ڈاکٹر ایڈم داڑھیوں میں ایک سو سے زائد قسم کے بیکٹریا دریافت کرنے میں کامیاب ہوگئے جن میں ایک وہ قسم بھی شامل تھی جو عام طور پر چھوٹی آنت میں پائی جاتی ہے۔

لیکن وہ کہتے ہیں کہ اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ وہ انسانی فضلے سے آیا ہے۔ یہ ایک عام سی بات ہے اور پریشان کن امر نہیں۔

اس سے زیادہ دلچسپ بات یہ ہے کہ داڑھی میں موجود بعض جراثیم دوسرے بیکٹریا کے دشمن نکلے۔

ہم ان جراثیم کو اپنا دشمن سمجھتے ہیں لیکن وہ ہمیں ایسا نہیں سمجھتے۔ بیکٹیریا اور پھپوند کی سطح پر وہ ایک دوسرے کے خلاف محاذ آرا رہتے ہیں، وہ کھانے اور جگہ کے لیے ایک دوسرے کے خلاف سرگرم رہتے ہیں۔ اور اس کام کے دوران وہ اینٹی بایوٹک کی شکل اختیار کر لیتے ہیں۔

کیا ہمارے پراسرار جراثیم بھی کچھ ایسا ہی کر رہے ہیں، یعنی مضر بیکٹریا کو کسی زہر کے ذریعے مار دیتے ہیں؟

ڈاکٹر ایڈم کے مطابق ایسا ممکن ہے۔

ڈاکٹر ایڈم کے خیال میں یہ سٹیفائلوکوکس نامی جرثومے ہیں۔ جب انھوں نے اسے پیشاب کے انفیکشن کی ایک قسم کے ساتھ ٹیسٹ کیا تو دیکھا کہ انھوں نے مضر جرثوموں کا خاتمہ کر دیا۔

وہ کہتے ہیں کہ اینٹی بایوٹکس کی مزاحمت والے انفیکشن سالانہ سات لاکھ افراد کی موت کا سبب بنتے ہیں اور سنہ 2050 تک یہ تعداد ایک کروڑ تک پہنچ سکتی ہے۔

ڈاکٹر ایڈم کے مطابق گذشتہ 30 سالوں میں کوئی نئی اینٹی بایوٹک تیار نہیں کی گئی۔
ویسے تو لہسن پاکستان میں بیشتر کھانوں میں استعمال کیا جاتا ہے مگر کیا آپ اس کے فوائد جانتے ہیں؟

یقیناً بیشتر افراد کو اس جڑی بوٹی نما سبزی کے بیشتر فوائد کے بارے میں علم نہیں جیسے غیر متوقع طبی فوائد، خوبصورتی اور گھر کی مرمت وغیرہ کے لیے اس کا استعمال۔

اگر آپ بھی ان افراد میں سے ایک ہیں تو لہسن کے یہ چند حیران کن فوائد جاننا ہوسکتا ہے کسی موقع پر کام آجائے۔

بالوں کو اگائیں

لہسن آپ کے بالوں کے گرنے کے مسئلے کو ختم کرسکتا ہے جس کی وجہ اس میں شامل ایک جز الیسین کی بھرپور مقدار ہے، یہ سلفر کمپاﺅنڈ پیاز میں بھی پایا جاتا ہے اور ایک طبی تحقیق کے مطابق بالوں کے گرنے کی روک تھام کے لیے موثر ہے۔ لہسن کو کاٹ لیں اور اس کی پوتھیوں کو سر پر ملیں۔ آپ تیل میں بھی لہسن کو شامل کرکے مساج کے ذریعے یہ فائدہ حاصل کرسکتے ہیں۔

کیل مہاسوں کا خاتمہ

یہ کیل مہاسوں کے لیے ملنے والی ادویات کا مرکزی جز تو نہیں مگر لہسن ایک قدرتی علاج ضرور ہے جو کیل مہاسوں کو کاتمہ کرسکتا ہے۔ اس میں موجود اینٹی آکسائیڈنٹس بیکٹریا کو ختم کرتے ہیں تو لہسن کی پوتھی کو کیل مہاسے پر رگڑنا موثر ثابت ہوسکتا ہے۔

نزلہ زکام کی روک تھام

اینٹی آکسائیڈنٹس سے بھرپور ہونے کے باعث آپ کی غذا میں لہسن کی شمولیت جسم کے دفاعی نظام کو فائدہ پہنچاتی ہے۔ اگر نزلہ زکام کا شکار ہوجائیں تو دل مضبوط کرکے لہسن کی چائے پی لیں۔ اسے بنانے کے لیے لہسن کو پیس کر پانی مین کچھ منٹ تک ابالیں، اس کے بعد چھان کر پی لیں۔ آپ اس میں تھوڑا سا شہد یا ادرک بھی ذائقے کو بہتر کرنے کے لیے شامل کرسکتے ہیں۔

وزن کو کنٹرول کریں

لہسن جسمانی وزن کو کنٹرول کرنے میں مددگار ثابت ہوسکتا ہے۔ ایک تھقیق کے مطابق لہسن سے بھرپور غذا سے چربی کے ذخیرے اور وزن میں کمی ہوتی ہے۔ اس کا فائدہ اٹھانے کے لیے لہسن کو روزانہ اپنی غذا کا حصہ بنانے کی کوشش کریں۔

پاﺅں یا جسم میں پھنسی لکڑی کے ریشوں کو نکالیں

ادرک کے ایک ٹکڑے کو متاثرہ جگہ کے اوپر رکھ کر اسے بینڈیج یا ٹیپ سے کور کرلیں۔ اگر پاﺅں میں پھانس چبھی ہے تو جرابوں کو چڑھا لیں اور رات بھر آرام کریں اور صبح اسے ہٹا دیں۔ پھانس کے ساتھ ساتھ درد اور سوجن بھی ختم ہوجائیں گے۔

مچھروں کو دور بھگائیں

سائنسدان پریقین تو نہیں ایسا کیوں ہوتا ہے مگر ایسا نظر آتا ہے کہ مچھروں کو لہسن پسند نہیں۔ ایک تحقیق میں یہ بات سامنے آئی کہ جو لوگ لہسن کے پیسٹ کو اپنے ہاتھوں اور پیروں پر مل لیتے ہیں انہیں مچھروں کا ڈر نہیں رہتا۔ اس کے لیے آپ لہسن کے تیل، پیٹرولیم جیل اور موم کو ملا کر ایک سلوشن بنالیں جو مچھروں سے تحفظ دینے والا قدرتی نسخہ ثابت ہوگا۔

ہونٹوں پر زخم سے نجات

شدید ٹھنڈ میں ہونٹوں کا پھٹ جانا یا زخم ہوجاتا کافی عام ہوتا ہے تو اس کے علاج کے لیے پیسے ہوئے لہسن کو کچھ دیر تک متاثرہ جگہ پر لگائے رکھیں۔ اس میں شامل قدرتی سوجن کش خصوصیات درد اور سوجن کم کرنے میں مدد دیتی ہیں۔

لہسن قدرتی گلیو بھی

کیا آپ نے کبھی غور کیا کہ لہسن کو کاٹنے کے بعد انگلیاں کس طرح چپکنے لگتی ہیں ؟ اس کی یہ قدرتی خوبی اسے شیشے کے معمولی کریک کو ٹھیک کرنے میں مدد دیتی ہے۔ اس کے لیے لہسن کو پیس لیں اور اس کے عرق کو کریک پر رگڑیں اور اوپر نیچے کے حصے کو صاف کردیں۔

پودوں کو تحفظ فراہم کرے

باغات میں پائے جانے والے کیڑے لہسن کو پسند نہیں کرتے تو اس کی مدد سے ایک قدرتی پیسٹی سائیڈ تیار کرلیاں جس کے لیے لہسن، منرل آئل، پانی اور لیکوئیڈ صابن کو ایک اسپرے بوتل میں آپس میں ملالیں اور پودوں پر چھڑک دیں۔

خارش سے ریلیف

لہسن سوجن کش اجزاءسے بھرپور ہے اسی لیے یہ اچانک ہونے والی خارش سے ریلیف بھی دے سکتا ہے۔ لہسن کے تیل کی کچھ مقدار کو متاثرہ جگہ پر استعمال کریں تو وہاں خارش ختم ہوجائے گی۔
کئی بیماریاں ایسی ہوتی ہیں جنہیں عام طور پر نظر انداز کردیا جاتا ہے اور گھریلو نسخوں اور ٹوٹکوں سے کام چلانے کی کوشش کی جاتی ہے لیکن ڈاکٹرز کا کہنا ہے کہ کچھ ایسی بیماریاں ہیں جنہیں کسی صورت نظر انداز نہیں کرنا چاہیے کیونکہ ایسا کرنا بیماری اتنی خطرناک ہوجاتی ہے جو کبھی کبھی زندگی بھر کا روگ بھی بن جاتا ہے۔
غیر متوقع وزن میں کمی: کچھ لوگوں کا وزن تیزی سےکم ہونا شروع ہوجاتا ہے جو خطرے کی علامت ہے۔ ڈاکٹرزکا کہنا ہے کہ اس طرح اچانک وزن کا کم ہوجانا خطرے کا الارم ہے۔ یہ ممکن ہے کہ تھائی رائیڈ گلینڈ ضرورت سے زیادہ سرگرم ہوگئے ہیں یا پھر پیٹ کی کوئی خطرناک بیماری بڑھ رہی ہے اس لیے فوری طور پر ڈاکتڑ کے پاس جا کر اس کا علاج کرانا چاہیے۔
مسوڑوں کی خرابی: عام طور پر مسوڑوں کی بیماری دانت کے انفکیشن کی وجہ سے سامنے آتی ہے لیکن یہ ضروری نہیں بلکہ کبھی کبھار تو بدہضمی کی وجہ سے گلے میں تیزابیت پیدا ہوتی ہے جس سے مسوڑے درد کرتے ہیں یا پھر دل میں آکسیجن کی کمی بھی مسوڑوں یا سینے کے درد کا باعث بنتی ہے تو فوری طور پر ڈاکٹر کے پاس معائنے کے لیے جائیں۔
پیٹ کی سوجن: 40 سال سے کم افراد میں پیٹ میں سوجن کی وجہ پریشانی، غیر صحت مند غذائیں اور آنتوں کی خرابی ہوتی ہے، ڈاکٹرزکے مطابق عام طور پر قبض اور ہیضے کے دوران بھی انسان کو پیٹ پھولا ہوا محسوس ہوتا ہے لیکن اگر ان میں سے کوئی بھی علامت نہ ہوتو اور پھر بھی پیٹ میں سوجن ہو تو یہ خطرے کی علامت ہے اور یہ اوورین کینسر کی نشانی ہوسکتی ہے۔ اکثر ڈاکٹرز کا کہنا ہے کہ اس کینسر کا عام طور پر فوری پتا نہیں چلتا اور اس کو جاننے کی ایک بڑی علامت پیٹ کا پھولا ہونا ہے۔
تھکاوٹ محسوس ہونا: اگر آپ بغیر کسی کام کے بھی اکثر تھکا ہوا محسوس کریں تو یہ خطرناک ہے۔ ڈاکٹرز کا کہنا ہے کہ یہ تھکاوٹ آئرن کی کمی کی وجہ سے ہوتی ہے لیکن کبھی کبھی یہ پھیپھڑوں اور دل کی بیماریوں کی وجہ سے بھی رونما ہوتی ہے کیوں کہ جسم کے مختلف اعضا آکسیجن کی مطلوبہ مقدار حاصل نہیں کرپاتے اس لیے جسم معمول کے مطابق کام نہیں کرپاتا جب کہ اس کے علاوہ متلی، وٹامن کی کمی اور تھائی رائیڈ مسائل بھی اس کی وجہ ہو سکتے ہیں۔
سر کا چکرانا: اکثر لوگ سر کے چکرانے اور اونگھ کو نظر انداز کردیتے ہیں جو کہ انتہائی نقصان دہ ہے۔ سر چکرانا سانس لینے میں تکلیف کے ساتھ ہوتو دل کی بیماری کی علامت ہے یا پھر یہ گردن کی ہڈی میں تکلیف بھی اس کی وجہ ہوسکتی ہے۔ ایسی صورت میں فوری ڈاکٹر سے معائنہ ضروری ہے۔
جسم کے مختلف حصوں پر سوجن: عام طور پر لوگ اسے نظر اندا کردیتے ہیں جب کہ اس کی وجہ عام طور پر جسم کے مزاحمتی نظام کی خرابی یا پھر شوگر کی بیماریاں ہوتی ہیں جو جسم میں خون کی سپلائی کو متاثر کرتی ہیں۔ ڈاکٹرز کا کہنا ہے کہ اگر آپ شوگر یا پھر وزن کی زیادتی کا شکار ہیں اور جسم پر سوجن بالخصوص پاؤں پرسوجن کم نہیں ہو رہی تو ایسی صورت میں فوری ڈاکٹر سے رجوع کریں کیونکہ تاخیر کی صورت میں پاؤں سے ہاتھ دھونے پڑ سکتے ہیں۔
قبض کا دیر تک رہنا: بہت سے لوگ قبض کی صورت میں ڈاکٹر کے پاس جانے میں شرم محسوس کرتے ہیں اور اپنے طور پر ادویات کا استعمال کر لیتے ہیں جب کہ قبض کی بڑی وجہ لائف اسٹائل اور کھانے پینے کی غلط عادات اور اوقات ہیں لیکن کچھ کیسز میں اس کی وجہ کولون کینسر بھی ہو سکتا ہے اس لیے ضروری ہے کہ اپنے فیملی ڈاکٹر سے مشورہ کرلیا جائے۔
ناخن میں تبدیلی: آنکھوں کی طرح ناخن بھی انسانی صحت، غذا، وراثتی اور کچھ یقینی بیماریوں سے متعلق آگاہ کرتے ہیں اور یہ جسم میں خون کی کمی اور دیگر بیماریوں کا بھی پتہ دیتے ہیں جیسے مڑے ہوئے ناخن پھیپھپڑوں کی بیماریاں، ناخن کے نیچے خون کے دھبوں کا ہونا خون کے انفیکشن، ناخن پر کالے یا براؤن نشان جلدی کینسر کی علامت ہے۔
لندن: عام طورپر کھانسی کی بیماری میں کئی گھریلو نسخے تریاق کا کام کرتے ہیں لیکن ان میں شہد اور لیموں کو بہترین علاج قرار دیا جاتا ہے تاہم اب ایک تحقیق میں چاکلیٹ کو کھانسی کی بہترین دوا قرار دے دیا گیا ہے۔

برطانیہ میں کی جانے والی تحقیق کے سربراہ اور یونیورسٹی آف ہل میں دل اور سانس کی بیماریوں کے شعبہ کے سربراہ کا کہنا ہے کہ کھانسی میں چاکلیٹ کھانے سے کھانسی جاتی رہتی ہے اور وہ کھانسی پر کئی سال کی تحقیق کے بعد اس نتیجے پر پہنچے ہیں اور ان کے پاس اس کے ٹھوس ثبوت بھی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اس کا ایک اہم ثبوت یہ ہے کہ اس وقت برطانیہ میں کھانسی کا سب سے زیادہ مؤثر سمجھا جانے والے سیرپ میں کوکا شامل کیا گیا ہے۔ تحقیق کے دوران یہ بات سامنے آئی کہ جو مریض کھانسی کے دوران ایسی ادویات کا استعمال کرتے ہیں جن میں چاکلیٹ موجود ہوتی ہے وہ اس بیماری سے تیزی سے اور اکثر اوقات تو صرف دو دن میں چھٹکارا حاصل کرلیتے ہیں۔

تحقیق کے دوران 163 مریضوں کا جائزہ لیا گیا اور اس کے نئائج حیرت انگیز تھے تاہم ان نتائج کو آئندہ سال پیش کیا جائے گا۔ چاکلیٹ سے متعلق ایمپریل کالج آف لندن میں کی گئی تحقیق میں کہا گیا ہے کہ کوکا میں پائی جانے والی تھیوبرومائن ایسا عنصر ہے جو کھانسی کو فوری طور پر کم کرنے میں مدد گار ہوتا ہے اور اکثر کھانسی کی ادویات میں اسے دیگر اجزا کے ساتھ شامل کیا جاتا ہے۔ ریسرچرزکا کہنا ہے کہ کھانسی کی نئی ادویات میں چاکلیٹ کی بڑی مقدار موجود ہے اور لوگوں میں تیزی سے مقبول ہورہی ہیں اور صرف 2 دن میں کھانسی سے نجات مل جاتی ہے، یہ ادویات انسانی دماغ کی رگوں گلے تک آتی ہیں اور انہیں محفوظ بناتی ہیں تاہم گرم چاکلیٹ کو پینے سے اس کے مؤثر ہونے میں کمی آجاتی ہے کیوں کہ یہ مرکب گلے کی شریانوں پر ٹچ نہیں ہوتا۔ محققین کا کہنا ہے کہ چاکلیٹ کو کھانسی کے دوران رفتہ رفتہ کھانے سے بھی فرق پڑتا ہے تاہم چاکلیٹ دیگر اجزا کے ساتھ مل کر مزید مؤثر ہوجاتی ہے۔

ڈاکٹرز کا کہنا ہے کہ یہ سوچ اب پرانی ہو چکی کہ کھانسی خشک یا گیلی یا پھر کسی اور قسم کی ہوتی ہے بلکہ کھانسی کی ایک ہی قسم ہے اور یہ کھانسی سانس کی اوپری نالیوں کے متاثر ہونے سے جنم لیتی ہے اور اس کے ساتھ فلو اور نزلہ بھی ہوجاتا ہے جب کہ انفیکشن کے لحاظ سے خشک یا گیلی کھانسی میں کوئی فرق نہیں اور دونوں ہی فلگم خارج کرتی ہے۔ چاکلیٹ سے بنی ادویات ہر طرح کی کھانسی میں مؤثر اور مفید ہوتی ہیں۔
ڈرہم ، نارتھ کیرولینا: تہنا رہنا یا خود کو تنہا محسوس کرنا انسان کے لیے اس قدر خطرناک ہے کہ اس سے سرطان، فالج اور امراضِ قلب کا شکار ہونے کا بھی خدشہ ہوتا ہے۔

سائنسدانوں نے خبردار کیا ہے کہ تنہا رہنا یا خود کو تنہا محسوس کرنے ایسا ہی جیسے ذیابیطس کا شکار ہونا یا ورزش کو چھوڑدینا۔ یونیورسٹی آف نارتھ کیرولینا کے ماہرین کا کہنا ہےکہ نوجوانی میں اگر آپ الگ تھلگ اور تنہا رہتے ہیں تو آپ کے بدن میں سوزش کا خطرہ بڑھ جاتا ہے جب کہ بڑھاپے میں تنہائی سے بلڈ پریشر بلند ہوسکتا ہے۔

ماہرین کےمطابق تحقیق سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ نوجوانوں کو دوسروں سے گھلنا ملنا چاہیے اور سماجی رابطے بڑھانا چاہئیں ورنہ اس کے ایسے ہی مضر اثرات مرتب ہوسکتے ہیں جو خراب غذا کھانے یا ورزش چھوڑنے سے ہوتا ہے۔ ماہرین کے نزدیک اس سے قبل کئی مطالعات سے ثابت ہوچکا ہے کہ بوڑھے افراد اگر بہت سے لوگوں کے رابطے میں ہوں اور ان سے گفتگو کریں تو اس طرح وہ بیماریوں سے محفوظ رہتے ہیں اور طویل عمرپاتےہیں۔

ماہرین کا کہنا ہےکہ تحقیق یہ بتاتی ہے کہ عمر کے ہر مرحلے پر دوستوں کی محفل اور سماجی رابطے کتنے ضروری ہوتے ہیں اس لیے ماہرین زور دیتے ہیں کہ جوان خواتین و حضرات اپنے بزرگوں سے ضرور ملیں اور ان سے گفتگو کریں جس کے بہت مثبت اثرات مرتب ہوتے ہیں اور ان میں امراضِ قلب کا خطرہ بھی ٹل سکتا ہے۔ اسی طرح نوجوانوں کی دوستوں کے ساتھ زندگی انہیں اداسی اور موٹاپے سے بچاتی ہے۔

برطانیہ میں والدین کو اپنے موبائل فون میں ایک مفت ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کی ترغیب دی جارہی جس کے ذریعے وہ بازار میں دستیاب کھانے پینے کی اشیا میں موجود شکر کی مقدار جان سکتے ہیں۔

انگلینڈ پبلک ہیلتھ کی جانب سے متعارف کروائی گئی اس ایپ کو’شوگر سمارٹ ایپ‘ کا نام دیا گیا ہے، جو غذائی اشیا کی پیکنگ پر موجود بار کوڈ کو سکین کرنے کے بعد اس میں موجود شکر کی کل مقدار کو کیوبز یا گرام میں بتا دیتی ہے ۔

ادارے کے حکام کو امید ہے کہ اس ایپ کے ذریعے لوگوں میں صحت مند غذاؤں کے استعمال کا رجحان بڑھے گا اور وہ دانتوں کی بیماریوں، موٹاپے اور ٹائپ ٹو ذیابیطس کا مقابلہ کرسکیں گے۔

یہ ایپ ادارے کی نئی تشہیری مہم جینج فور لائف کا حصہ ہے۔

اس مہم کے ذریعے یہ بھی بتایا گیا ہے کہ چھوٹی عمر کے بچے اپنی غذاؤں میں حد سے تین گنا زیادہ شکر استعمال کررہے ہیں۔

مہم میں بتایا گیا ہےکہ چار سے دس سال کی عمر کے بچے ہر سال اوسطاً 22 کلو گرام زائد شکر کھا جاتے ہیں۔

اس زائد شکر کا وزن 5500 کیوبز بنتا ہے جو ایک پانچ سالہ بچےکے اوسط وزن سے بھی زیادہ ہے۔

اس ایپ کا مقصد لوگوں میں آگہی پیدا کرنا ہے کہ ان کی روزمرہ کی غذا میں کتنی شکر موجود ہے۔

یہ ایپ ملک میں دستیاب 75 ہزار سے زیادہ مصنوعات پر کام کرتی ہے جس سے والدین ان مصنوعات کو خریدنے سے قبل ہی ان میں موجود شکر کی مقدار کا اندازہ لگا کر یہ فیصلہ کرسکتے ہیں کہ ان کو خریدنا ان کے بچوں کی صحت کے لیے کتنا نقصان دہ ہوسکتاہے ۔

پبلک ہیلتھ انگلینڈ کی چیف غذائی ماہر ڈاکٹر ایلیسن ٹیڈ سٹون کا کہنا ہے کہ بچے اپنی غذاؤں میں شکر کا بہت زیادہ استعمال کررہے ہیں جس کی وجہ سے ان میں دانت سڑنے، وزن بڑھنےاور آگے جاکر کئی مزید خطرناک بیماریوں کے پیدا ہونے کا خدشہ ہے۔

زائد وزن اور موٹاپے کا شکار بالغ افراد میں دل کی پیماریوں، ٹائپ ٹو ذیابیطس اور کئی قسم کے سرطان پیدا ہونے کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے۔

ڈاکٹر ایلیسن کا کہنا ہے کہ ْ وہ ایک اقدام جس پر میں والدین کی بھرپور حوصلہ افزائی کروں گی، وہ یہ ہے کہ وہ اپنے بچوں کی غذاؤں میں چینی سے بھرپور مشروبات کو کم چینی والے مشروبات، پانی یا پھر کم چکنائی والے دودھ سے تبدیل کردیں۔ ْ

انھوں نے مزید کہا کہ اس ایپ کے ذریعے لوگوں کو یہ جان کر شاید حیرت ہوگی کچھ برانڈ کے دہی اور پھلوں کے مشروبات میں بھی شکر موجود ہوتی ہے۔

شوگر سمارٹ ایپ کو ایپ سٹور کے ذریعے موبائل میں با آسانی ڈاؤن لوڈ کیا جاسکتا ہے۔



شمال مشرقی چین میں ایک کمپنی کے اپنے سٹاف کو یہ کہنے کے بعد کہ وہ بچے پیدا کرنے کے لیے ’درخواست دیں‘ سوشل میڈیا پر ایک بحث چھڑ گئی ہے۔

ریاستی اخبار نیو کلچر کے مطابق جیلین صوبے کے چینگ چن شہر میں اب خواتین ایک سال پہلے کمپنی کے باسز کو بتائیں گی کہ ان کا بچہ پیدا کرنے کا منصوبہ ہے۔ رپورٹ کے مطابق اس نامعلوم فرم کے مینیجرز کا خیال ہے کہ زچگی کی چھٹیوں کا ’ٹائم ٹیبل‘ بنانے سے سٹاف میں کمی کا مسئلہ پیدا نہیں ہو گا۔ اس میں یہ نہیں کہا گیا کہ آیا باسز درخواست رد بھی کر سکتے ہیں۔

کمپنی کے ایچ آر کے ڈائریکٹر کہتے ہیں کہ چین کی نئی ’ایک بچے کی پالیسی‘ کی وجہ سے آنے والے ’بے بی بوم‘ کو دیکھتے ہوئے وہ بہت ’مجبور‘ ہو گئے ہیں۔

’ہمیں انٹرپرائز کا مجموعی فائدہ بھی دیکھنا ہے۔‘

کمپنی کے باس نے یہ بھی کہا کہ اقتصادی بحران کی وجہ سے زچگی کی چھٹیوں کو کور کرنے کے لیے نئے سٹاف کو رکھنا ناممکن ہو گیا ہے اور اس کی وجہ سے ملازمین کو زیادہ کام کرنا پڑا رہا ہے۔

سینا ویبو مائیکرو بلاگگنگ سائٹ پر سوشل میڈیا استعمال کرنے والے ہزاروں افراد نے اس مسئلے پر اپنے خیالات کا اظہار کیا ہے۔

ایک عورت کا کہنا ہے کہ کمپنی کے منصوبے کا ’کوئی فائدہ نہیں‘ ہے اور اس سے خواتین کو ملازمتیں دینے کے رجحان میں کمی آئے گی۔ اسی طرح کے خیالات کا اظہار مرد حضرات نے بھی کیا ہے۔ ایک کہتے ہیں کہ ’ہم نہیں چاہتے کہ ہم مالکین کو مجبور کریں کہ وہ خواتین کو ملازمتیں دیتے ہوئے ہچکچائیں۔‘

لیکن کئی یوزر ایسے بھی ہیں جو سمجھتے ہیں کہ یہ درست ہے اور کئی ایک نے اسے ایک ’پریکٹیکل‘ قدم کہا ہے۔ ایک خاتون لکھتی ہیں کہ ’میں کہنا چاہوں گی کہ جب سے دوسرے بچے کی پالیسی متعارف ہوئی ہے، ہمارے یونٹ میں ایک درجن سے زیادہ خوتین حاملہ ہو گئی ہیں۔‘

’حدود رکھنا اچھا ہو گا۔‘

برٹش کولمبیا، کینیڈا: نئی تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ اگرآپ 5 سال تک لوگوں کی مدد کریں، استطاعت کے مطابق خیرات کریں یا عزیزوں کو تحفے دیں تو مزید زندہ رہنے کے امکانات 44 فیصد بڑھ جاتے ہیں۔

کینیڈا کی یونیورسٹی آف برٹش کولمبیا میں کی گئی تحقیق میں معلوم ہوا ہے کہ ایسے افراد جو خیر کے کام یا اپنے عزیزوں کو تحفے تحائف دینے کو اپنی زندگی کا حصہ بنالیتے ہیں وہ بلڈپریشر سمیت ذہنی دباؤ اور دیگر اس جیسی بیماریوں سے دور رہتے ہیں اور ایسے افراد کے زندہ رہنے کے امکانات 44 فیصد تک بڑھ جاتے ہیں۔ اس سلسلے میں ایک سروے کیا گیا جس میں شریک رضاکاروں کا چار سال تک بلڈ پریشر نوٹ کیا گیا جب کہ تحقیق میں ہزاروں رضاکاروں نے پانچ سال تک حصہ لیا جس کے بعد انکشاف ہوا کہ جو افراد ہفتے میں چارگھنٹے رضاکارکے طور پرخیرکے کام کرتے رہے اورایک سال تک یہ سلسلہ جاری رکھتے رہے، چار سال بعد بھی ان کے بلڈ پریشر میں کوئی تبدیلی نہ ہوئی اور ان کی صحت کی سطح برقرار رہی ۔ ایک اور مطالعے سے معلوم ہوا کہ عوامی خدمت کے لیے وقت نکالنے والے افراد نہ صرف کم ذہنی دباؤ کے شکار ہوتے ہیں بلکہ انہیں چلنے میں آسانی اور جسمانی قوت بھی برقرار رہتی ہے۔

اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ خیرات اورخدمت کے جسم اور ذہانت پربہتر اثرات مرتب ہوتے ہیں لیکن یہ اب بھی حتمی طور پر نہیں کہا جاسکتا کہ اس کی وجہ صرف ہمدردی ہی ہے یا کوئی اور وجہ بھی ہے لیکن خدمت سے سکون اور ذہنی آرام کا تعلق ضرور دریافت ہوا ہے۔ دوسری جانب یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ جب بلڈ پریشرکے مریض افراد نے خیرات کرنا شروع کی تو چند روز میں ہی ان کا بلڈ پریشرمعمول پرآگیا۔
واشنگٹن: موسیقی سنانے، شور مچانے اور بولنے والے کھلونے جہاں مہنگے ہوتے ہیں وہیں وہ چھوٹے بچوں (ٹوڈلرز) میں زبان سیکھنے اور سمجھنے کے نازک عمل کو سست کرسکتے ہیں۔

جرنل آف امریکن میڈیکل ایسوسی ایشن میں 23 دسمبرکو شائع ہونے والی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ والدین مہنگے الیکٹرانک کھلونوں کو تعلیم میں مددگار سمجھ کرخریدتے ہیں لیکن اس کا نتیجہ بعض اوقات الٹا نکلتا ہے۔

اس سروے میں والدین کے 26 جوڑوں اوران کے بچوں کا جائزہ لیا گیا جس میں بچوں کی عمر10 سے 16 ماہ تھی۔ اس میں ماہرین نے گھروں میں آوازوں کو ریکارڈ کیا اور بچوں کے کھیلنے کے وقت کو نوٹ کیا لیکن اس سے پہلے ہرخاندان کو خاص کھلونوں کے سیٹ دیئے گئے جن میں ایک سیٹ میں بے بی لیپ ٹاپ، ٹاکنگ فارم اور بے بی سیل فون شام تھے جو سب الیکٹرانک کھلونے تھے۔ دوسرے سیٹ میں سادہ کھلونے تھے جن میں لکڑی کے پزل، تصاویراورربڑ بلاک شامل تھے۔

بولنے اور روشنی والے الیکٹرانک کھلونے بچوں کو زبان سکھانے میں بہت حد تک غیرمددگارثابت ہوئے۔جب کہ اس کے مقابلے میں سادہ کھلونوں سے بچوں کو الفاظ اور زبان سیکھنے میں مدد ملی اس کی وجہ یہ ہے کہ جب بولنے اور شور مچانے والے کھلونے چلتے ہیں تو والدین اوربچے خاموش رہتے ہیں اوران کے درمیان الفاظ کا تبادلہ نہیں ہوتا اوربچے نئے الفاظ نہیں سیکھتے۔ اس لیے ماہرین کا اصرار ہے کہ بچوں کو ایسے کھلونے دیئے جائیں جن سے وہ نئے الفاظ سیکھیں جن میں کتابیں بھی ہوسکتی ہیں، الفاظ کے بلاک اورتصویری معمے وغیرہ۔

ماہرین کا اصرار ہے کہ چھوٹے بچوں کو ویڈیو گیمز سے بھی دور رکھیں اور تھوڑی مشقت کرکے انہیں کسی کتاب سے کہانیاں پڑھ کر سنائیں۔ اس سے بچوں کا ذہن وسیع ہوتا ہے اور وہ نئے الفاظ سیکھتے ہیں اور بچوں کا تخیل بھی مضبوط ہوتا ہے۔ شورمچانے، بات کرنے اور موسیقی سنانے والے الیکٹرانک کھلونوں کا ایک فوری فائدہ تو یہ ہوتا ہے کہ بچہ اس کی آواز اور روشنی دیکھ کر فوری متوجہ ہوتا ہے لیکن وہ نئی باتیں نہیں سیکھ پاتا کیونکہ وہ آس پاس سے بے خبرہوجاتا ہے۔

انگلینڈ کے چیف میڈیکل آفیسر ڈیم سیلی ڈیویز کا کہنا ہے کہ سوزاک کے مرض کا لا علاج مرض بننے کا خطرہ موجود ہے۔

سوزاک کے مرض میں اضافے کے بعد ڈیم سیلی کی جانب سے ڈاکٹروں کو لکھے گئے خط میں کہا گیا ہے کے وہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ مریضوں کو صحیح ادویات دی جا رہی ہیں۔

ڈیم سیلی کی جانب سے یہ خط ان اطلاعات کے سامنے آنے کے بعد لکھا گیا ہے جن کے مطابق کچھ مریضوں کو ضرورت کے مطابق ادویات نہیں دی جا رہی ہیں۔

جنسی امراض کے ماہر ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ سوزاک کا مرض تیزی سے ادویات کے خلاف مدافعت پیدا کر رہا ہے۔

رواں برس مارچ میں انگلینڈ میں اس مرض کی ایک ایسی قسم دریافت ہوئی تھی جو ادویات کے خلاف انتہائی مدافعت رکھتی ہے۔

مرض کی اس قسم کے خلاف، علاج کے لیے استعمال کی جانے والی اینٹی بائیوٹکس کار آمد نہیں ہیں۔

ڈیم سیلی نےاپنے خط میں لکھا ہے کہ ’ ادویات کے خلاف مزاحمت بڑھنے سے اندیشہ ہے کہ سوزاک ایک لا علاج مرض بن جائے گا۔‘

خیال رہے کہ انگلینڈ میں جنسی مراسم کے نتیجے میں پھیلنے والی بیماریوں میں سوزاک سب سے پہلے نمبر پر ہے۔

سر کا درد ایک عام سی بیماری ہے لیکن کبھی کبھی یہ بیماری شدت اختیارکرکے مائیگرین کی شکل اختیار کرلیتی ہے جو انتہائی خطرناک ہے اس لیے معمولی سر درد کا علاج بھی ضروری ہے جب کہ سردرد کو دورکرنے کےلیے ہمیشہ گولیاں کھانے کی بجائے ایسے طریقے اختیار کیے جائیں جو درد سے نجات بھی دیں اورسائیڈ ایفکٹس سے بھی بچائیں۔

مہنگی دوائیں مت خریدیں: عام طور پر لوگ سر درد کا آسان حل گولیاں کھانے میں سمجھتے ہیں لیکن یہ انتہائی نقصان دہ ہے اس عادت کو فوری چھوڑ دینا چاہیے۔ سردرد کی گولیوں میں کیفین اور کوڈین موجود ہوتے ہیں جو سائیڈ ایفکٹس کا باعث بن سکتے ہیں۔

سیدھا ہوکربیٹھ جائیں: جب انسان سی شکل میں کرسی پر بیٹھتا ہے تو اس سے گردن کے پٹھے کھچتے ہیں جو سردرد کا باعث بن جاتا ہے اس لیے ضروری ہے کہ کام کے دوران کرسی پر اس طرح بیٹھیں کہ آپ کے پاؤں فرش پر فیلٹ ہوں، کمرکا نچلہ حصہ اور گھٹنے سیدھے ہوں اور سامنے کی طرف دیکھیں اس سے سر کا درد کم ہوجائے گا۔

سینڈوچ کھانے سے پرہیز کریں: سینڈوچز میں ٹائرامائن او نائٹریٹس موجود ہوتا ہے جو دماغ کی جانب دوران خون کو بڑھا دیتا ہے اور سر درد کا باعث بن جاتا ہے، ٹائرامائن ایسی غذاؤں میں بھی پایا جاتا ہے جنہیں محفوط کیا جاتا ہے، مثلاً اچار، بھونی ہوئی اشیا اور خمیر کی گئی اشیا جب کہ چیز، چاکلیٹ، پائن ایپل اور کیلوں میں بھی ٹائرامائن پایا جاتا ہے۔

خشک میوے اور بیج: ماہرین کا کہنا ہے کہ خشک پھل اور دیگر بیجوں میں میگنیشیم موجود ہوتا ہے جو ہمارے پٹھوں کو آرام دیتا ہے جب کہ دماغ کی جانب خون کے دورانیے کے لیول کو کم کرتا اور شوگرمیں کمی لاتا ہے۔ جن لوگوں میں میگنیشم کی کمی ہوجاتی ہے وہ لوگ شدید سر درد کا شکار رہتے ہیں۔ تازہ سبزیوں، ٹماٹر دالوں، مٹر اور دیگر بیجوں میں بھی میگنیشم بڑی مقدار میں موجود ہوتا ہے۔

ایئرفریشنر اور دیگر خوشبوؤں کا استعمال کم کردیں: کئی تحقیق میں کہا گیا ہے کہ پرفیوم، آفٹر شیو، زیادہ خوشبووالے صابن اور ایئر فریشنرز میں ایسا کیمیکل موجود ہوتا ہے جو ہمارے نرو سیل کو سرگرم کردیتا ہے جو دماغ کوسگنلز بھیجتا ہے جب کہ کچھ لوگوں میں یہ سگنلز بہت مضبوط ہوتے ہیں جو سر درد کا باعث بن جاتے ہیں اس لیے ایئر فریشنر کی جگہ اپنی کمرے کی کھڑکی کھول کر تازہ ہوا سے کمرے کو مہکائیں۔

ہر 20 منٹ بعد 20 فٹ دور دیکھیں: جب آپ کمپیوٹر اسکرین پر کام کرتے کرتے تھکاوٹ محسوس کریں اور سر میں درد ہونے لگے تو ہر 20 منٹ بعد 20 فٹ دور کسی جگہ پر خود کو فوکس کریں سر میں درد کم ہونے لگے گا۔

پانی کا زیادہ استعمال کریں: سردرد کے دوران بڑا پانی کا گلاس پیئیں اور دس منٹ تک انتظار کریں اور اس دوران اپنی گردن اور ماتھے کو پانچ منٹ تک مسلیں آپ کو جلد درد میں کمی محسوس ہوگی۔