اٹک: شادی خان میں خود کش حملے میں وزیر داخلہ پنجاب شجاع خانزادہ سمیت 16 افراد شہید جب کہ 28 سے زائد زخمی ہوگئے۔ 

وزیر داخلہ کرنل ریٹائرڈ شجاع خانزادہ اٹک میں اپنے گاؤں شادی خان میں اپنے گھر سے متصل ڈیرے پر علاقہ مکینوں کے مسائل سن رہے تھے کہ خود کش حملہ آور نے خود کو ان کے ڈیرے پر پہنچ کر اڑا دیا جس کے نتیجے میں پوری عمارت زمیں بوس ہو گئی۔ واقعے کے فوری بعد مقامی افراد نے اپنی مدد آپ کے تحت امدادی کارروائیاں شروع کردیں، زخمیوں کو ڈسٹرکٹ اسپتال اٹک اور تحصیل ہیڈکوارٹر اسپتال حضرو کے علاوہ راولپنڈی اور اسلام آباد کے مختلف اسپتالوں میں طبی امداد دی جارہی ہے۔ ریسکیو 1122 کے رضاکاروں نے شجاع خانزادہ سمیت 16 افراد کی لاشوں کو ملبے سے نکال لیا ہے جب کہ متعدد افراد اب بھی دبے ہوئے ہیں۔

وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار کا کہنا ہے کہ خودکش حملہ آور شجاع خانزادہ کے ڈیرے میں داخل نہیں ہوا بلکہ اس نے ڈیرے کی کی عقبی گلی میں خود کو دھماکا سے اڑایا۔ خود کش حملہ آور ممکنہ طور پر دو تھے، ایک خود کش حملہ آور کی نعش مل گئی ہے جب کہ دوسرے کے اعضاء ملنے کی بھی اطلاع ہے، جائے وقوعہ سے ملنے والی ایک لاش کی شناخت نہیں ہوسکی اس لئے اس کے اعضا شناخت کے لئے فوری طور پر نادرا کو بھجوائے جارہے ہیں۔ دوسری جانب وزیراعلی پنجاب شہبازشریف نے کرنل ریٹائرڈ شجاع خانزادہ کے ڈیرے پر دھماکے کا نوٹس لیتے ہوئے فوری طور پر رپورٹ طلب کرلی ہے۔

صدر ممنون حسین اور وزیراعظم نواز شریف نے وزیرداخلہ پنجاب کرنل ریٹائرڈ شجاع خانزادہ پر خود کش حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے شجاع خانزادہ کی شہادت کو ملک و قوم کے لئے بڑا المیہ قرار دیا ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کے چیرمین عمران خان کا کہنا ہے کہ شجاع خانزادہ پر خود کش حملے کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے، شجاع خانزادہ تحریک انصاف کے بانی ارکان میں شامل تھے۔ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین نے وزیرداخلہ پنجاب شجاع خانزادہ کی شہادت کو قومی سانحہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے اہل پنجاب ہی نہیں بلکہ پورے ملک کے امن پسندعوام کو شدید دکھ اورافسوس ہوا ہے۔

واضح رہے کہ وزیر داخلہ پنجاب شجاع خانزادہ جنوبی پنجاب میں کالعدم تنظیموں کے خلاف سرگرمیوں میں پیش پیش تھے اور حساس اداروں نے بھی اپنی رپورٹس میں ان پر حملے کا خدشہ ظاہر کیا تھا۔
Share To:

S Farooq

Post A Comment:

0 comments so far,add yours