اسپین بھر میں میلوں کے دوران گلیوں میں بھینسوں کے آگے دوڑنے کے خطرناک کھیل میں سات افراد جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔جولائی سے شروع ہونے والے فیسٹیول میں اب تک سات افراد ہلاک ہو چکے ہیں جس میں چار کی ہلاکتیں گزشتہ ایک ہفتے کے دوران ہوئیں اور اتنے کم عرصے میں ہونے والی ہلاکتوں کا یہ ایک غیر معمولی واقعہ ہے۔ان ہلاک ہونے والوں میں ایک کونسلر بھی شامل ہیں جو میڈرڈ کے شمال میں اقع علاقے ویلا ڈولڈ میں بھینسے کا سینگ گھسنے سے ہلاک ہوئے۔اس کے علاوہ نوارا کے علاقے میں بھینسے نے ایک 18 سالہ لڑکے کو پیٹ میں سینگ مار کر ہلاک کردیا۔اس کے ساتھ ساتھ ویلنشیا، مرشیا، تولیڈو، کیسٹیلون اور ایلی کینٹ کے علاقوں میں بھی فیسٹیول کے دوران ہلاکتیں ہوئیں۔گزشتہ سال بُل فائٹرز نے سات ہزار 200 سے زائد بھینسوں کو ہلاک کردیا تھا۔ابھی بھی ملک میں سالانہ بنیادوں پر تقریباً دو ہزار بل فائٹس ہوتی ہیں لیکن وقت گزرنے کے ساتھ اس تعداد میں کمی آتی جا رہی ہے۔2010 میں کیٹے لونیا میں بل فائٹنگ پر پابندی عائد کردی گئی تھی جس کے ساتھ ہی وہ اس پابندی کے زیر اثر آنے والا کینیری آئی لینڈ کے بعد اسپین کا دوسرا علاقہ تھا۔ناقدین بل فائٹنگ کو بربریت قرار دیتے ہوئے اس کی مذمت کرتے رہے ہیں لیکن ابھی بھی وزیر اعظم ماریانو راجوئے سمیت ملک میں اس کھیل کے ہزاروں شائقین ہیں۔2013 میں اسپین میں ایک قانون منظور کر کے بل فائٹنگ کو قومی ورثہ قرار دیا گیا اور اس کا دفاع کرتے ہوئے کہا گیا کہ یہ ریاست کی ذمے داری ہے کہ وہ اس کھیل کو محفوظ بناتے ہوئے اس کی مقبولیت میں کردار ادا کرے۔
Share To:

S Farooq

Post A Comment:

0 comments so far,add yours