چینی حکام نے شمالی شہر تیانجن میں ہونے والے دھماکے کے بعد کیمیکل پھیلنے کے خدشات کے پیش نظر جائے حادثہ کے تین کلو میٹر کے رقبے کے اندر سے لوگوں کے انخلا کا حکم جاری کیا ہے۔

چین کی سرکاری خبر رساں ایجنسی شن ہوا کے مطابق ’زہریلے مادے کے پھیلاؤ‘ کے خطرے کے پیشِ نظر تین کلو میٹر کے دائرے میں آنے والے رہائشیوں کو اپنے مکانات خالی کرنے کے لیے کہا گیا ہے۔

ایجنسی کے مطابق کیمیکل کے خلاف لڑنے والے فوجی حادثے والے علاقے میں داخل ہو گئے ہیں۔

مقامی حکام کے مطابق تیانجن کے بندرگاہ میں ہونے والے دو دھماکوں میں مرنے والے کی تعداد 85 ہوگئی ہے۔

حکام کے مطابق اس واقعے میں 21 فائر فائیٹرز بھی ہلاک ہوئے ہیں جبکہ 721 افراد زخمی ہیں۔ زخمی ہونے والوں میں 25 افراد کی حالت نازک بتائی جاتی ہے۔


دوسری جانب تیانجن کے سائٹ آپریٹرز پر حفاظتی ’قواعد کی واضح خلاف ورزی کرنے‘ کا الزام عائد کیا گیا ہے۔

ادھر چین کی حکومت نے ملک میں مہلک کیمیکلز اور دھماکہ خیز مواد کی موجودگی کو چیک کرنے کا حکم دیا ہے۔

چین کی کابینہ نے بھی حکام کو ’شہریوں کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے ایسی غیر قانونی سرگرمیوں کے خلاف کارروائی‘ کرنے کا حکم دیا ہے۔

چینی حکام نے تیانجن کے گودام میں کیلشیئم کاربائیڈ، پوٹیشیئم نائٹریٹ اور سوڈیم ناٹریٹ کی موجودگی کی تصدیق کی ہے۔

چین کی کیمونیسٹ پارٹی کے سرکاری روزنامے ’دی پیپلز ڈیلی‘ کا کہنا ہے کہ دھماکے کے وقت تیانجن کے گودام میں 700 ٹن سوڈیم سائنائیڈ کا ذخیرہ موجود تھا۔


چینی حکام نے یہ تسلیم کیا ہے کہ کمپنی کے بیان اور کسٹم کے بیان میں تضاد ہے اور کمپنی کے دفاتر کو ہونے والے نقصانات کے نتیجے میں کیمیکلز کی نشاندہی مشکل ہو گئی ہے۔

اطلاعات کے مطابق ملیٹری کے 200 سے زیادہ کیمیائي اور حیاتیاتی سائنسز کے ماہرین جائے حادثہ پر موجود ہیں تاہم حکومت کا کہنا ہے کہ تیانجن میں ہوا اور پانی کی کوالیٹی محفوظ سطح پر ہے۔

اخبار کا کہنا ہے کہ تیانجن فیسیلیٹی جو روئیہائی لوجسٹکس کے تحت کام کرتی ہے اس نے’حفاظتی ضوابط کی واضح طور پر خلاف ورزی‘ کی ہے کیونکہ خطرناک مادوں کو عوامی عمارتوں سے کم از کم ایک کلومیٹر دور رکھنا چاہیے۔

سرکاری میڈیا کا کہنا ہے کہ روئیہائی لوجسٹکس کے سائٹ منیجر کو حراست میں لے لیا گيا ہے۔
Share To:

S Farooq

Post A Comment:

0 comments so far,add yours