کوئٹہ: بلوچستان میں حکومت کے خلاف سرگرم رہنے والے مزید 4 فراریوں نے ہتھیار ڈال دیئے۔

بلوچستان میں ملک دشمن کارروائیاں کرنے والے مزید 4 فراریوں نے کوئٹہ میں صوبائی وزیرداخلہ سرفراز بگٹی کے سامنے ہتھیار ڈال دیئے۔ ہتھیار ڈالنے والوں میں کالعدم بلوچ ریپبلکن آرمی سے تعلق رکھنے والا فراری کمانڈر عبدالستار بھی شامل ہے جو گزشتہ کئی سال سے افغانستان میں مقیم تھا جب کہ عبدالستار نے 2006 میں کالعدم بلوچ ریپبلکن آرمی میں شمولیت اختیار کی تھی اوراپنی تنظیم کے کیمپس کی نگرانی کرتا تھا۔ اس موقع پر فراری کمانڈر نے انکشاف کیا کہ افغانستان میں پاکستان کے خلاف سرگرمیوں کے لئے ہر قسم کی مدد دی جاتی ہے جس میں مالی اور عسکری امداد بھی شامل ہے۔ ہتھیار ڈالنے والے افراد نے اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ ریاست کے خلاف آئندہ کارروائیاں نہیں کریں گے اور ایک پاکستانی کی طرح ملک و ملت کی خدمت کریں گے۔

دوسری جانب وزیرداخلہ بلوچستان سرفرازبگٹی نے اس موقع پر پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ صوبے کے حالات خراب کرنے میں بھارتی خفیہ ایجنسی “را” ملوث ہے تاہم کسی دہشت گرد تنظیم کو محفوظ پناہ گاہ بنانے کی اجازت نہیں دیں گے۔ سرفراز بگٹی کا کہنا تھا کہ ہتھیار ڈالنے والوں کو سیکیورٹی ایجنسیز کی کلئیرنس کے بعد ہی حکومت کی جانب سے اعلان کردہ رقم فراہم کی جائے گی۔

واضح رہے کہ جشن آزادی کے موقع پر ہی تقریب کے دوران 400 فراریوں نے حکومت کے سامنے ہتھیار ڈالتے ہوئے ریاست کے خلاف آئندہ کارروائیاں نہ کرنے کا عزم کرتے ہوئے قومی دھارے میں شامل ہونے کا حلف لیا تھا۔
Share To:

S Farooq

Post A Comment:

0 comments so far,add yours